تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     26-02-2014

میاں بیوی کی محبت اور ’’اوراقِ ادب‘‘

اخباری اطلاع کے مطابق سعودی عرب کی ایک خاتون نے اپنے شوہر کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہوئے شادی کی سالگرہ پر بیش قیمت کار تحفے میں دیدی۔ تفصیلات کے مصداق سعودی عرب کے ضلع القریات کے علاقے جوف سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے حال ہی میں ایک گراں قیمت کار خریدی۔پیشے کے اعتبار سے سکول ٹیچر اس خاتون نے اپنے شوہر کو سرپرائز دینے کے لیے کار اپنے گھر کے باہر کھڑی کی اور اسے گفٹ شیٹس میں پیک کر دیا۔اس کے بعد وہ اپنے شوہر کا انتظار کرنے لگی۔شوہر سے محبت کا ایک ایسا ہی واقعہ رواں سال سعودی عرب ہی میں منظر عام پر آیا جس میں ایک سعودی خاتون نے اپنے شوہر کو دوسری شادی سے روکنے کے لیے 90ہزار ریال کی بھاری رقم دی تھی۔
یہ صورتحال کوئی سعودی عرب ہی سے مخصوص نہیں بلکہ ہمارے ہاں بھی بیویاں شوہروں سے شدید محبت کرتی ہیں لیکن شوہر حضرات اس پر یقین نہیں کرتے اور وہ بیچاری یہی کہتی رہ جاتی ہیں کہ ؎
کبھی تو میری محبت کا تم یقیں کر لو
یہ عمر ہی نہ گزر جائے آزمانے میں
ہو سکتا ہے اس کے پیچھے شوہر حضرات کی دور اندیشی اور حقیقت شناسی ہی ہو‘ جیسا کہ خواتین کے ایک کلب میں موجود عورتوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے شوہر کو ایس ایم ایس کر کے کہیں کہ وہ ان سے بے پناہ محبت کرتی ہیں‘اور‘شوہر کی طرف سے آئے ہوئے جواب سے بھی مطلع کریں۔ ان خواتین کو جو جواب موصول ہوئے وہ کچھ اس طرح سے تھے کہ ایک شوہر نے جواب دیا‘تمہارا دماغ تو صحیح ہے؟دوسرے نے کہا‘کس کو کہہ رہی ہو؟ایک اور کا جواب تھا کہ آج تمہیں دینے کے لیے میرے پاس اور کوئی پیسہ نہیں ہے‘ایک اور کا جواب تھا کہ معلوم ہوتا ہے کہیں گاڑی ٹھوک بیٹھی ہو جبکہ ایک کا جواب تھا کہ تمہیں کئی دفعہ منع کیا ہے کہ شراب پی کر ڈرائیونگ نہ کیا کرو!
البتہ جہاں تک مذکورہ بالا سعودی خواتین کا تعلق ہے تو ہمیں وہاں بھی دال میں کالا کالا نظر آتا ہے کیونکہ جس خاتون نے اپنے شوہر کو کسی اور خاتون کا نہ ہونے کے بدلے 90ہزار ریال کی رقم دی وہ اس کے ساتھ اپنی گہری محبت کی وجہ سے نہیں‘ بلکہ رشوت کے طور پر تھی جبکہ دوسری مثال میں بھی ہمیں خاتون کی چالاکی ہی نظر آتی ہے اور اس نے اپنے شوہر کو بیوقوف ہی بنایا ہے کیونکہ اوّل تو گاڑی اس نے شوہر کے پیسوں سے ہی خریدی ہو گی کہ ایک سکول ٹیچر کے پاس اتنی رقم ہو ہی نہیں سکتی۔اور ‘اگر وہ رقم خاتون کی اپنی ہی تھی تو بھی اس نے کوئی خاص تیر نہیں مارا کیونکہ گاڑی میں اکیلے شوہر نے نہیں بلکہ اس نے بھی سوار ہونا ہے۔بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شوہر کو اس سے استفادے کا موقع کم ہی ملے اور وہ زیادہ اُسی کے استعمال میں رہے کیونکہ اب سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ سے پابندی اُٹھا لی گئی ہے‘ اور انگلی پر خون لگا کر شہید کہلانا شاید اسی کو کہتے ہیں بلکہ ایک ہی تیر سے دو شکار کرنا بھی۔اس صورتِ حال کے مطابق محاورے تو اور بھی بہت ہیں لیکن وہ کسی اور موقع کے لیے سہی۔
ہمارے ہاں بھی میاں بیوی کی آپسی محبت کی کہانیاں اتنی ہیں کہ کتابیں بھری پڑی ہیں‘مثلاً بیوی بازار سے بہت مہنگا کپڑا خرید کر لائی تو میاں نے اس پر حیران اور پریشان ہو کر کہا کہ اتنا مہنگا کپڑا خریدنے کی کیا ضرورت تھی تو بیوی نے جواب دیا : ''تمہار ے رُومال کے لیے خریدا ہے‘ اس سے میرا سُوٹ بھی نکل آئے گا!‘‘
اسی طرح بیوی سے محبت کی داستانیں بھی بے شمار ہیں‘اگرچہ ایک مقولے کے مطابق اپنی بیوی سے اظہارِ محبت کرنا ایسا ہی ہے جیسے آپ اُس جگہ کُھجلا رہے ہوں جہاں کُھجلی نہ ہو رہی ہو۔ ایسے ہی ایک رُوح پرور واقعہ کے مطابق بیوی کی بیماری جب طوالت اختیار کر گئی تو وہ اپنے میاں سے بولی۔''میں سوچتی ہوں کہ اگر میں مر گئی تو تمہارا کیا بنے گا؟‘‘جس پر میاں نے جواب دیا‘''میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر تم نہ مریں تو پھر میرا کیا بنے گا!‘‘
اوراقِ ادب
یہ اُس کتابی سلسلے کا پہلا شمارہ ہے جو ڈاکٹر محبوب عالم اور رابعہ خالد کی ادارت میں ڈیرہ غازی خاں اور لاہور سے شائع ہوا ہے اور جس کی قیمت 200روپے رکھی گئی ہے اور جس میں معمول کے مطابق ہر صنفِ ادب کو نمائندگی دی گئی ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ 350صفحات پر مشتمل اس پرچے میں پوری 202غزلیں شائع کی گئی ہیں جن میں سے بمشکل یہ 14شعر نکالے جا سکے ہیں:
وہی ہم ہیں‘ وہی دُنیا ‘وہی دل 
وہی جو ہو رہا تھا ‘ہو رہا ہے
ہوائیں گرد اُڑاتی پھر رہی ہیں
زمیں کا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے
(کاشف حسین غائر)
ہمیں وہ جو اک دوسرے سے نہیں
محبت سمجھ لو وہی چیز ہے
(ادریس باہر)
اس جہاں سے نکل کے دیکھ ذرا 
یہ جہاں کس جہاں کا حصہ ہے
کوئی گٹھڑی نہیں رکھی ہوئی ہے
میرے سر پر زمیں رکھی ہوئی ہے
تُو آ کر دیکھ لے‘ ہر چیز تیری
جہاں پر تھی‘ وہیں رکھی ہوئی ہے
(آفاق)
یاد ہیں دل کو محبت کے شب و روز حسن
گائوں جیسے کوئی سیلاب میں آیا ہوا تھا
(حسن عباسی)
بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو
بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی
ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان تھا کیا
محبت ایک تھی اور ایک بھی ہوتی نہیں تھی
جو خواب اپنے اپنے نہیں دیکھتے تھے
وہ آنکھیں تو دیکھیں ذرا اپنی اپنی 
(شاہین عباس)
ہر بار پرندے نہیں آتے ہیں پلٹ کر
ہر بار پرندوں کو رہائی نہ دیا کر
اب تیری وضاحت میں صداقت نہیں لگتی
اب اپنی محبت کی صفائی نہ دیا کر
بیچا ہوا دل پیش نہ کر سادہ دلوں کو
اپنوں کو کوئی چیز پرائی نہ دیا کر
ہر وقت دکھائی نہیں دے سکتا اگر تُو
ہر وقت مجھے مجھ میں سُنائی نہ دیا کر
(شگفتہ الطاف)
آج کا مطلع
یہ نہ کہو وہ چہرہ بُھول گیا ہوں
آدھا یاد ہے‘ آدھا بُھول گیا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved