تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     04-03-2014

اور کرکٹ جیت گئی!

ایسا لگتا ہے جنگ بندی ہمارے مقدر میں لکھی ہی نہیں گئی۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو دِلوں کے لیے کچھ راحت و مسرت کا سامان ہوا مگر کس کو اندازہ تھا کہ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی آفریدی قبیلے کا جوان سینہ تان کر میدان میں کھڑا ہوجائے گا اور ایسی گولہ باری کرے گا کہ دشمنوں کو دُم دباتے ہی بنے گی۔ میدان کشت و خون کا ہو یا گیند بَلّے کا، ہر طرف معاملہ مار دھاڑ کا ہے، اُٹھا پٹخ کا ہے۔ 
کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ چاروں طرف چھایا ہوا مایوسی کا اندھیرا یوں چھٹے گا کہ فتح و کامرانی کا مہرِ درخشاں آنکھوں کو چُندھیانے پر مجبور کردے گا۔ ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے مقابل کیا ہوئے، ایک اور میدانِ جنگ سج گیا۔ میڈیا نے بھی مورچے سنبھالے اور خوب دادِ شجاعت دی۔ کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اُس کی طرف سے کوئی کسر رہ جائے۔ رہتی بھی کیسے؟ کھیل کے میدان میں بھی جذبہ تو جنگی ہی تھا۔ ہمارے ہاں اب سب کچھ جنگی بُنیاد ہی پر ہوتا ہے۔ حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان بھی کرتی ہے تو جنگی بُنیاد پر اقدامات کے ذریعے۔ شاید اِس کا ایک سبب یہ ہے کہ ہمارا ہر بحران اب اِس قدر تگڑا ہوگیا ہے کہ اُس سے کما حقہ نپٹنے کے لیے جنگ کی سی تیاریوں کے ساتھ ہی میدان میں اُترنا پڑتا ہے! 
بنگلہ دیشی دارالحکومت کے نواح میں میرپور کے مقام پر شیرِ بنگلہ اسٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں تو ایک بار پھر وہی ماحول پیدا ہوگیا جو ہائی ٹینشن ٹرانسمیشن لائن میں پایا جاتا ہے۔ گویا ع 
دونوں طرف ''تھی‘‘ آگ برابر لگی ہوئی! 
دونوں کی بجائے تینوں طرف کہنا زیادہ درست ہوگا کیونکہ بنگلہ دیشی بھی غیر جانب دار نہ رہ سکے۔ سٹیڈیم میں بہت سے بنگلہ دیشی اپنے جذبات کو پاکستانیوں کے احساسات سے ہم آہنگ کرتے نظر آئے۔ میچ کیا تھا، تصادم تھا۔ کچھ دن پہلے اتنا کچھ ہوا تھا کہ دونوں ممالک کو اپنا آپ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوڑی کا زور لگانا ہی تھا۔ 
بھارت نے آسٹریلیا اور انگلینڈ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ''بگ تھری‘‘ کے زیر عنوان مثلث تیار کی جو شاید کرکٹ کو مُربّے کی طرح چٹ کر جانا چاہتی ہے۔ مالی اعتبار سے انتہائی مضبوط قرار پانے والے تینوں کرکٹ بورڈز کرکٹ کے معاملات کو اپنی مرضی کے تابع رکھنا چاہتے ہیں مگر خود کرکٹ شاید کسی کی غلامی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ میر پور کے شیرِ بنگلہ کرکٹ اسٹیڈیم میں یہی ثابت ہوا۔ اور کیوں نہ ہوتا؟ جب کرکٹ یعنی واقعی کرکٹ کھیلی جاتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے! کھیل کا انداز صرف بتا دیتا ہے کہ جیت ٹیم کی ہوئی ہے یا کھیل کی۔ اور یہ بھی کہ جیتنے والی ٹیم جیتی ہے یا اُسے جتوایا گیا ہے۔ 
چند روز قبل یو اے ای میں تکمیل سے ہم کنار ہونے والے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ سے بگ تھری یعنی کرکٹ کے تینوں ہی چودھریوں کو ٹُھڈّے مار کر نکالا گیا۔ اُن کی عبرت ناک شکست نے اور کچھ نہ سہی، زخمی دِلوں پر کچھ مرہم تو رکھا۔ آئی سی سی میں من مانی پر تُلے ہوئے یہ تینوں چودھری حقیقی کرکٹ کے میدان میں بڑی طمطراق سے اُترے اور اپنے سے مُنہ لیکر باہر نکلے۔ 
ایشیا کپ کے انتہائی اہم میچ میں بھی یہی ہوا۔ انڈر 19 ورلڈ کپ میں ملنے والی ذِلّت شاید کماحقہ نہ تھی اِس لیے قدرت نے بنگلہ دیش کی سرزمین پر پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی باضابطہ کرکٹ ٹیم کے سَر پر مزید ذِلّت کا ٹوکرا دَھر دیا۔ 
کرکٹ کے معاملات کی پچ پر اپنی مرضی سے یعنی فکسڈ چوکے اور چَھکّے لگانے والی ٹیم شاہد آفریدی کے ہاتھوں محض دو چَھکّوں کی مار نہ سہ پائی۔ 18 اپریل 1986 کو جاوید میاں داد نے شارجہ میں آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے چیتن شرما کو میچ کی آخری (فُل ٹاس) گیند پر چَھکّا لگاکر بھارتی شائقین کرکٹ کے دِلوں میں کیل، بلکہ کِلّا گاڑ دیا تھا۔ شاہد آفریدی نے آخری اوور میں دو چَھکّے لگاکر رہی سہی کسر پوری ہی نہیں کی بلکہ لطف دو بالا کردیا، میچ کے نتیجے کو سہ آتشہ بنا ڈالا۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ بھارت نے 28 سال قبل شارجہ میں 245 رنز کا ہدف دیا تھا۔ اور اِس بار بھی ہدف 245 رنز ہی کا تھا۔ تب بھی چَھکّے کی مار پڑی تھی اور اب بھی چَھکّے ہی مار پڑی ہے۔ 
کئی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے مقابل جیتا ہوا میچ آسانی سے ہارا ہے اور دیکھنے والوں کے دِلوں میں شکوک پیدا ہوئے ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی ایسی ہلچل دکھائی دیتی رہی ہے کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ کہیں معاملات طے تو نہیں کرلیے گئے۔ ہر بار پردۂ زنگاری میں کسی نہ کسی معشوق کے بارے میں سوچا جاتا رہا ہے۔ 
اتوار کو بھی پاکستان نے خاصے آسان میچ کو انتہائی عرق ریزی سے مشکل مقابلے میں تبدیل کیا۔ گویا ع 
یہ ''ہمارا مزاج‘‘ ہے پیارے! 
مقابلہ پل پل کروٹ اور راستہ بدلتا رہا۔ کبھی ایسا لگتا تھا کہ بھارت تو کوئی ٹیم ہی نہیں ہے۔ پھر یہ محسوس ہونے لگتا تھا کہ ہم ایک بار پھر شکست کے گڑھے میں گرنے والے ہیں۔ کبھی اُمیدیں توانا ہوجاتی تھیں اور کبھی شائقین اچانک فضائے یاس میں سانس لینے لگتے تھے۔ اُمید و بیم کی یہ کیفیت ایسی بڑھی کہ کرکٹ کے میدان کا مقابلہ ہائی وولٹیج ایموشنل ڈرامے میں تبدیل ہوگیا۔ آخر آخر تک تو معاملہ ایسی حد کو چُھوگیا کہ بھارت کے بہت سے شائقین نے شاہد آفریدی کو ہارٹ اٹیک اسپیشلسٹ قرار دے دیا! شاہد آفریدی جس کام کے لیے شہرت رکھتے ہیں وہی کام اُنہوں نے کر دکھایا۔ 
قوم کو بر وقت فتح ملی ہے۔ اندرونی شدت پسندوں کے خلاف نہ سہی، بیرونی شدت پسندوں کے خلاف ہی سہی۔ ہر معاملے میں خود کو بند گلی میں پانے والی قوم نے محض دو چَھکّوں کی بدولت خود کو کھلے میدان میں پایا اور کامرانی کے بھرپور احساس سے سرشار ہوئی۔ یہ ایسی عجیب و غریب فتح تھی کہ بھارت کے شائقین بھی پاکستانی کرکٹرز کو دِل کی گہرائیوں سے داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ ویب سائٹس پر پوسٹ کئے جانے والے کمنٹس میں کئی شائقین نے کہا کہ بھارتی کرکٹ نے دم توڑ دیا۔ کرکٹ کی ایک ویب سائٹ پر پربھاش نے لکھا کہ پاکستان کے بغیر کرکٹ کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ ونود کمار نے لکھا کہ پاکستانی طلسماتی قوم ہے، کچھ بھی کرسکتی ہے۔ 
بھارت کے خلاف فتح نے صرف شاہد آفریدی کے کیریئر کو نئی زندگی نہیں بخشی بلکہ پاکستان کو کرکٹ کی دنیا میں بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ ہر فورم پر پاکستان کی مخالفت میں سینہ تان کر سامنے آنے والے اب سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ کسی بڑی ٹیم کی راہ روکنا فطرت کے خلاف جانا ہے۔ اِس ایک فتح نے بگ تھری کا غرور مٹی میں ملا دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بگ تھری کو ''کِک تھری‘‘ جیسی صورت حال سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ پاکستان کا بنگلہ دیش کی سرزمین پر کھیلنا شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے مُنہ پر بھی زنّاٹے دار تھپّڑ ہے جس نے اپنی کرکٹ ٹیم کو سیکیورٹی رِسک کا بہانہ گھڑ کر پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔ راستہ صلاحیت کا روکا جاسکتا ہے نہ جذبے کا۔ اگر کسی کو فطری اظہار سے روکا جائے تو معاملہ ''ہائپ‘‘ میں تبدیل ہوتا ہے۔ غالبؔ نے خوب کہا ہے ؎ 
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے 
رکتی ہے مِری طبع تو ہوتی ہے رواں اور! 
ایشیا کپ میں بھارت کی درگت اور مجموعی طور پر بگ تھری کا کھیل کے میدان میں بُرا حشر اِس بات کی دلیل ہے کہ معاملہ کھیل کا ہو تو پانسہ کسی بھی وقت پلٹ سکتا ہے۔ پاکستان کی شاندار فتح کرکٹ کھیلنے والی تمام چھوٹی اقوام کے حوصلے بلند کرے گی۔ قوم و سرخوشی کے یہ حسین لمحات مبارک! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved