تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     06-03-2014

سرخیاں‘ متن اور ’’اسالیب‘‘ کا تازہ شمارہ

دہشت گرد امن کوششوں کو نقصان 
پہنچا رہے ہیں... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''دہشت گرد امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘‘ حالانکہ انہیں چاہیے کہ امن کوششوں کو فائدہ پہنچائیں جس طرح حکومت ہر کام فائدہ دیکھ کر ہی کرتی ہے اور جس میں فائدہ نظر نہ آ رہا ہو اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی اور شروع سے یہی ہمارا اصول بھی ہے اور ہم پر اللہ کا یہ سارا فضل اسی وجہ سے ہے۔ علاوہ ازیں دہشت گردوں کو کم از کم اس بات کا تو لحاظ کرنا چاہیے کہ ان کارروائیوں کا الزام طالبان پر لگ رہا ہے جبکہ وہ ان (دہشت گردوں) کے بھائی بندوں ہی میں شامل ہیں ۔اس لیے انہیں اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ حکومت کا کام تو سمجھانا ہی ہے اور اگر کوئی سمجھتا نہیں ہے تو خود ہی نقصان اٹھائے گا حالانکہ ہماری شہرۂ آفاق سمجھداری سے سب کو پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ ہیں جی؟ آپ اگلے روز ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ 
اسلام آباد کچہری پر حملے کی طالبان کو مذمت کرنی چاہیے تھی... خواجہ آصف 
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ''اسلام آباد کچہری پرحملے کی طالبان کو مذمت کرنی چاہیے تھی‘‘ کیونکہ یہ بہت زیادتی کی بات ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی حملے بھی کرتے رہیں اور ان کی مذمت بھی نہ کی جائے جبکہ یہ ان کا اخلاقی فریضہ بھی ہے‘ اس لیے انہیں چاہیے کہ آئندہ اس طرح کے یا ہر قسم کے حملے کے بعد اس کی رسمی مذمت ضرور کردیا کریں‘ اس سے ان کا کیا جاتا ہے بلکہ خوش اخلاقی کا مزید تقاضا تو یہ بھی ہے کہ وہ یہ اعلان بھی کریں کہ وہ حملہ آوروں کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کریں گے کیونکہ بندہ آخر کوشش ہی تو کر سکتا ہے جس طرح ہم کر رہے ہیں اور ہمارے کوششیں کرنے کا عزم کبھی متزلزل نہیں ہو سکتا؛ چنانچہ اس طرح طالبان کا کام بھی چلتا رہے گا اور ہمارا بھی۔ انہوں نے کہا کہ ''غیر مشروط مذاکرات آئین کے اندر ہونے چاہئیں‘‘ جیسا کہ ہر کام پہلے ہی آئین کے اندر ہو رہا ہے ماسوائے جمشید دستی کی کوششوں کے‘ جن کی وجہ سے آئین کو خواہ مخواہ ایک مشکل میں ڈالا جا رہا ہے حالانکہ عیب پر پردہ ڈالنے کا حکم ہے‘ اس کی تشہیر کرنے کا نہیں۔ آپ اگلے روز ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔ 
دہشت گردی کے خلاف قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے... سعد رفیق 
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ''دہشت گردی کے خلاف قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے‘‘ اور یہ سیسہ ہم نے بڑی مشکل سے اکٹھا کیا ہے جس میں چین کا حصہ بطور خاص شامل ہے جسے کہا گیا تھا کہ ناقص ریلوے انجنوں کی تلافی کے طور پر ہمیں کم از کم کافی سیسہ ہی سپلائی کردیا جائے‘ البتہ پولیس وغیرہ کو فی الحال سیسہ پلائی دیوار نہیں بنایا جا سکا جو وی آئی پی ڈیوٹی میں مصروف ہونے کی وجہ سے دستیاب ہی نہیں ہے اور کسی دہشت گردی کے واقعے کے بعد بیچاری کو وی آئی پی ڈیوٹی چھوڑ کر موقع پر پہنچنا پڑتا ہے‘ اسی لیے ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر بھی ہو جاتی ہے اور اسے مناسب کارروائی ڈال کر پھر اپنی ڈیوٹی پر پہنچنا ہوتا ہے اور اسی فرض شناسی کی توقع اس سے کی بھی جاتی ہے؛ چنانچہ پولیس کی گوناگوں مصروفیات کو دیکھتے ہوئے دہشت گرد حضرات کو خود ہی ہاتھ ذرا ہلکا رکھنا چاہیے‘ کیونکہ سارا کام باہمی تعاون ہی سے چلتا ہے جس طرح حکومت اپنے سارے کام غیر ملکی تعاون ہی سے چلا رہی ہے اور ملک ہر طرح کے بحران سے نکل چکا ہے اور اب پوری فراغت کے ساتھ پنجاب کے نوجوان مختلف ریکارڈ بنانے اور توڑنے اور سندھ میں فیسٹیول منانے میں مصروف ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں گارڈ آف آنر کے اہلکاروں سے خطاب کر رہے تھے۔ 
''اسالیب‘‘ 
کراچی سے پروفیسر سحر انصاری کی سرپرستی اور عنبرین حسیب عنبر کی ادارت میں شائع ہونے والے کتابی سلسلے ''اسالیب‘‘ کا تازہ اور چھٹا شمارہ چھپ کر منظر عام پر آ گیا ہے اور چھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس جریدے کی قیمت 400 روپے رکھی گئی ہے۔ اس کا حصۂ نثر اور بالخصوص مضامین نسبتاً زیادہ وقیع اور جاندار ہیں جن میں ڈاکٹر گوپی چند نے ''غالب اور بیدل: خاموشی بطور زبان اور شعریات‘‘ کے موضوع پر اپنا فاضلانہ مقالہ پیش کیا ہے جبکہ سید مظہر جمیل نے فیض کی انگریزی نظموں کو اپنا موضوع بنایا ہے جبکہ پروفیسر سحر انصاری نے ''سیکولر اقبال‘‘ کے عنوان سے اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل نے ''جاپانی ادب میں انسان دوستی‘‘ کے موضوع پر قلم اٹھایا ہے جبکہ زبیر رضوی نے ''جوش کا تخلیقی وفور‘‘ پر اپنے رشحاتِ قلم پیش کیے ہیں۔ اسی طرح رضی مجتبیٰ نے ''جدید نظریات اور ادب‘‘ ، مبین مرزا نے ''معاشرتی اقدار اور افسانے میں مصری حِسّیّت‘‘ آصف فرخی نے ''منٹو صدی کے ہنگام میں کرشن چندر‘‘ محمد حمید شاہد نے ''شاندار ماضی کی حکایت اور نیا اردو افسانہ‘‘ ڈاکٹر سیما صغیر نے ''شہریارؔ کے خواب کی نئی قرأت‘‘ اور عنبرین حسیب عنبر نے ''نئی عالمگیریت‘ انگریزیت اور ہماری زبان‘‘ کے موضوع پر لکھا ہے۔ 
افسانوں کے حصے میں اقبال مجید‘ رشید امجد‘ نجم الحسن رضوی‘ محمد حامد سراج‘ عباس رضوی‘ طاہرہ اقبال اور دیگران کی تحریریں ہیں۔ خاکے ستیہ پال آنند اور سلیم یزدانی نے تحریر کیے ہیں جبکہ ''گفتگو‘‘ کے عنوان سے عنبرین حسیب عنبر کا ڈاکٹر اسلم فرخی سے انٹرویو ہے۔ موسیقی کے موضوع پر کمار پرساد مکھرجی‘ سلیم صدیقی اور رحمن نشاط کی تحریریں ہیں جبکہ س م صولت اور انور شعور کے لیے گوشے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں مولانا سید محمد اصلح الحسینی‘ سحر انصاری اور مبین مرزا کے مضامین ہیں۔ شاہین مفتی پر گوشہ ان کے علاوہ ہے ۔ تبصرے ہیں‘ قارئین کے خطوط اور نظموں‘ غزلوں کا ایک پورا سلسلہ۔ حصۂ غزل میں سے اختر رضا سلیمی کی یہ غزل دیکھیے: 
خود اپنی سمت سفر کر کے دیکھیے صاحب 
کبھی یہ معرکہ سر کر کے دیکھیے صاحب 
پسِ جہان ہیں کچھ اور بھی جہاں آباد 
نظر سے صرفِ نظر کر کے دیکھیے صاحب 
بُرے سہی مگر اتنے بُرے نہیں ہیں ہم 
ہمارے ساتھ سفر کر کے دیکھیے صاحب 
مکاں بدلتے ہی سب کچھ بدلنے لگتا ہے 
کبھی اِدھر کو اُدھر کر کے دیکھیے صاحب 
یہ عشق زیست نہیں ہے کہ ایک بار ہی ہو 
یہ کام بارِ دگر کر کے دیکھیے صاحب 
رُکا ہوا ہے جو عمرِ رواں کی اُس جانب 
کبھی وہ لمحہ بسر کر کے دیکھیے صاحب 
آج کا مطلع 
وہی مرے خس و خاشاک سے نکلتا ہے 
جو رنگ سا تری پوشاک سے نکلتا ہے 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved