تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     07-03-2014

کراچی کی حالتِ زار

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی کے صحیح اعدادوشمار حکومت کے پاس بھی نہیں ہیں، کیونکہ ڈیڑھ عشرے سے پاکستان میں مردم شماری نہیں ہوئی؛ تاہم ڈیڑھ تا دو کروڑ کے درمیان اس کی آبادی کا تخمینہ بتایا جاتا ہے۔ کراچی پاکستان کی معیشت کی رگِ جاں ہے۔ کراچی رواں دواں رہے تو پاکستان کی معیشت کی رگوں میں تازہ خون کی روانی ہوتی ہے۔ کراچی جامدوساکت ہو جائے تو پاکستان کی معیشت پر جمود طاری ہو جاتا ہے۔ بلوچستان کے غیریقینی حالات کے سبب گوادر کی بندرگاہ پوری طرح بروئے کار (Operational) نہیں لائی جا سکی لہٰذا پاکستان کی تمام درآمدات و برآمدات کا انحصار کراچی پر ہے۔ 
آج میرا موضوع کراچی کا امن و امان، آپریشن اور اس کے نتائج، سیاسی و سماجی آمیزش اور بدامنی اور فساد کے مسائل نہیں ہیں۔ صحافی حضرات کراچی کے کچھ علاقوں کا چند گھنٹوں کا دورہ کرکے بزعمِ خویش اس شہر کے مسائل کے ماہر بننے کا دعویٰ کر بیٹھتے ہیں‘ ایک طبیبِ حاذق کی طرح مرض کی تشخیص بھی کر ڈالتے ہیں اور شرطیہ کامیاب علاج بھی تجویز کر دیتے ہیں۔ میں 19 دسمبر 1964ء سے کراچی میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہوں اور میٹرک کے بعد میرے تمام تعلیمی مراحل یہیں تکمیل کو پہنچے۔ میں نے اپنی ساری عملی زندگی اسی شہر میں گزاری۔ دسمبر 1965ء سے میری رہائش فیڈرل 'بی‘ ایریا میں نائن زیرو سے تھوڑے ہی فاصلے پر رہی۔ کراچی کے مسائل اور مصائب پر ایک مبسوط کتاب لکھی جا سکتی ہے، لیکن بارہا اپنے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ پورا سچ بولنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہے اور اس کی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔ 
اندرونِ سندھ کے تقریباً سارے وڈیرے، میروپیر اور اہلِ ثروت و سیاست دان مستقل طور پر کراچی ہی میں رہتے ہیں۔ زیادہ تر کی رہائش گاہیں ڈی ایچ اے کراچی میں ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کے بیشتر قبائلی سرداروں اور سیاست دانوں کا قیام بھی کراچی بالخصوص ڈی ایچ اے میں ہے۔ اپنے آبائی علاقوں سے ان سب کا تعلق حکمرانی اور مفادات سمیٹنے کی حد تک ہے۔ 
اکیسویں صدی کے شروع میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا جو نیا نظام متعارف ہوا اور نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ سٹی ناظم بنے، تو انہوں نے کراچی شہر کے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure)کی ترقی کے لئے ایک بہتر شعور (Vision) سے کام لیا اور اس وقت کے صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کو قائل کیا کہ وہ بڑے ادارے‘ جو اس شہر کے انفرااسٹرکچر کو استعمال کرتے ہیں، وہ اس کی ترقی میں حصہ لیں؛ چنانچہ فلائی اوور پل، فری ایکسپریس وے اور بہت سے مقامات پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں دور کرنے کے سلسلے کا آغاز ہوا۔ بعدازاں مصطفیٰ کمال سٹی ناظم بنے۔ ان کی خوش قسمتی کہ صوبائی حکومت بھی ایک طرح سے ان کے گورنر کے کنٹرول میں تھی۔ صدرِ پاکستان کی بھی ان کو حمایت حاصل تھی، اس لئے انہوں نے اس کام کو بہت تیزی سے آگے بڑھایا اور کسی حد تک کراچی ایک جدید شہر کی صورت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ سڑکیں بنتی تھیں اور ایک ہی بارش میں نیست ونابود ہو جاتی تھیں۔ مصطفیٰ کمال صاحب نے سڑک کے ساتھ نئی سیوریج لائن ڈالنے کا بھی انتظام کیا جس کے نتیجے میں وہ سڑکیں کافی حد تک محفوظ رہیں۔ 
جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے زمام اقتدار سنبھالی، کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا، نئے ترقیاتی منصوبے بنانا تو درکنار جو سڑکوں اور سیوریج لائن کا انفراسٹرکچر بنا تھا، اس کی تعمیرومرمت پر بھی توجہ نہ دی۔ آج حال یہ ہے کہ کراچی کا حلیہ بگڑ چکا ہے، سڑکیں دوبارہ کھنڈر بن رہی ہیں، واٹر لائن اور سیوریج لائن جگہ جگہ سے ٹوٹی پڑی ہیں، سیوریج کا پانی واٹرلائن میں مکس ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں، یہ شہرِ ناپرساں ہے، صوبائی حکومت کو اس شہر سے کوئی غرض نہیں۔ 
لیاری ایکسپریس وے‘ جس پر قومی خزانے سے بہت بڑی رقم خرچ ہوئی، وہ اب بھی نامکمل ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اگر اس کو اسی طرح سے نامکمل و ناتمام چھوڑنا تھا تو لوگوں کو دربدر کرنے اور قومی خزانے کو تباہی کی نذر کرنے کا جواز کیا تھا۔ 
وزیراعظم پاکستان نے جہاں کراچی کے لا اینڈ آرڈر پر توجہ دی ہے، ان کی ذمے داری ہے کہ کراچی کی سڑکوں کی بربادی اور حالتِ زار کو بھی دیکھیں اور اس کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے ہنگامی پروگرام ترتیب دیں، جس میں بڑا حصہ صوبائی حکومت ڈالے، لیکن ایک معتدبہ حصہ وفاقی حکومت کو بھی ڈالنا چاہئے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی بجٹ میں کراچی کی بحالی اور ترقی کے لئے ایک مناسب حصہ مختص کیا جائے۔ 
کراچی کی ٹریفک کی صورتحال اس سے بھی ابتر اور بدتر ہے۔ ساری ٹریفک انتہائی بے ہنگم اور غیرمنظم انداز میں چل رہی ہوتی ہے، گھنٹوں ٹریفک جام ہوتا ہے اور اسی صورتحال میں ڈکیتیاں ہوتی ہیں، گن پوائنٹ پر لوگوں سے نقد رقوم اور پرس چھین لیے جاتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کا دور دور تک پتا نہیں ہوتا اور عوام کا مزاج یہ بن چکا ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کی ہدایات کی پروا نہیں کرتے۔ اس کے برعکس جب سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے تحت سویلین سٹی وارڈنز ٹریفک کنٹرول کرنے کے لئے مقرر کئے گئے، تو ان کے ایک ادنیٰ اشارے سے پوری ٹریفک رک جاتی تھی اور کسی کو ان کے حکم سے سرتابی کی مجال نہ تھی۔ پس ایک اہم مسئلہ لاقانونیت کا ہے، قانون کی بے توقیری کا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عمّال کے رعب داب کے نہ ہونے کا ہے۔
آئے دن شہر میں رونما ہونے والے واقعات کے نتیجے میں بسیں جلا دی جاتی ہیں اور پھر ستر کی دہائی کی بوسیدہ بسیں جن کا انگ انگ فریاد کر رہا ہوتا ہے، کوئی چیز سلامت نہیں ہوتی، لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح ان کے اندر ٹھس کر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ بسیں جہاں چاہتی ہیں، مسافروں کو بٹھانے اور اُتارنے کے لئے رُک جاتی ہیں حتیٰ کہ انڈر پاسز اور فلائی اوورز کے ابتدا اور انتہا پر بھی رُک جاتی ہیں، انسانی جانوں کے ممکنہ نقصان یا ٹریفک کی روانی میں خَلل ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہی حال کراچی کی سڑکوں پر چلنے والے رکشوں اور ٹیکسیوں کا ہے۔ بیشتر گاڑیاں غیررجسٹرڈ ہیں‘ اس لئے ان کا کوئی منظم ریکارڈ یا اعدادوشمار کسی حکومتی ادارے کے پاس نہیں۔ چنگ چی رکشے خود رو گھاس کی طرح شہر کی سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ 
ایمپریس مارکیٹ‘ جو کبھی کراچی کے سیاحوں کے لئے توجہ کا مرکز ہوا کرتی تھی، آج سڑکیں چوڑی ہونے کے باوجود کوئی شریف آدمی وہاں سے گزر نہیں سکتا۔ پرائیویٹ ٹریفک میں اضافہ ہو رہا ہے اور منظم باوقار شہری ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے اپنی گاڑیوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی وجہ سے ٹریفک کا رش ناقابلِ کنٹرول اور شہر کی آلودگی میں بے انتہا اضافہ ہوگیا ہے۔ شاہراہ پاکستان جس پر پہلے ڈبلیو11کی شہرت دور دور تک پہنچ رہی تھی، اب اس پر چنگ چی اور رکشوں کا راج ہے اور پرائیویٹ کاروں والے اپنے گاڑیوں کے تحفظ کے لئے دعائیں کرتے ہوئے جاتے ہیں۔ 
ساحل سمندر‘ جو کراچی کے شہریوں کے لئے ہفتے بھر کی مشغول زندگی کے بعد راحت کا سامان فراہم کرتا تھا اور اندرونِ ملک وبیرونِ ملک سے سیاح بڑے شوق سے اس کا رخ کرتے تھے‘ اب وہ اوباشوں اور لٹیروں کی آماجگاہ ہے، جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سبب ڈی ایچ اے نے دو دریا جانے والا راستہ بند کردیا ہے۔ بہت سے دہشت گرد بھی ان معزز آبادیوں میں اپنی پناہ گاہیں اور کمین گاہیں بنا لیتے ہیں۔ قائدِ اعظم کے مزار کے تقدس کو جس طرح پامال کیا جاتا ہے، اس کی داستان میں میڈیا پر آچکی ہے۔ پس میرا عاجزانہ سوال ہے کہ اس شہر کا کوئی والی وارث ہے تو سامنے آئے اور یہاں کے رہنے والوں کو ان گوناگوں اذیتوں سے نجات دلانے کا سامان کرے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved