تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     16-03-2014

سرخیاں اُن کی‘ متن ہمارے

طالبان کا کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں
مانا جائے گا... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''طالبان کا کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں مانا جائے گا‘‘ البتہ اگر انہوں نے شریعت کے صحیح نفاذ کے سلسلے میں صدر اور وزیراعظم کی جگہ امیرالمومنین کے تقرر پر زور دیا تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے کیونکہ خاکسار پہلے بھی اس سلسلے میں کوششں کر کے ثابت کر چکا ہے کہ میں شروع سے ہی اسلامی ذہن کا مالک ہوں جبکہ محسن جنرل ضیاء الحق بھی ایسے ہی نیک عزائم رکھتے تھے لیکن عمر نے انہیں مہلت نہ دی جس کی تلافی بہرحال اب ہو سکتی ہے اور اس عاجز کی شکل میں ان کے خواب کی تعبیر حاصل کی جا سکتی ہے اور جس پر طالبان بھی برملا کہہ اٹھیں گے کہ ع 
قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں 
اگرچہ یہ حضرات پہلے بھی مجھ سے کچھ ایسے دور نہیں تھے جبکہ عزیزی چودھری نثار کے مسلسل اور خفیہ رابطوں نے بھی خاصا کردار ادا کیا ہے۔ آپ اگلے روز مولانا طاہر اشرفی کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔ 
مذاکرات سے حکومتی رٹ
قائم کرنا چاہتے ہیں... سرتاج عزیز 
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ''ہم مذاکرات سے حکومتی رٹ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ طالبان حضرات کی منت سماجت سے اگر ہم مذاکرات شروع کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو وہاں اسی معجزنما طریقے سے حکومتی رٹ بھی قائم کر لیں گے کیونکہ ترلے اور منت سماجت میں بہرحال بڑی طاقت ہے‘ یا کم از کم یہ ہو سکتا ہے کہ چونکہ طالبان بھی ہماری طرح محب وطن پاکستانی ہیں‘ اس لیے اگر ہمارے ساتھ ساتھ ان کی رٹ بھی چلتی رہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جبکہ ان کے مطالبے پر شمالی وزیرستان میں فوج کو ذرا اِدھر اُدھر کر دیا گیا ہے تاکہ اس مشترکہ رٹ کا وہ بھی مزہ لے سکیں اور جس پر ان معززین نے خوشی اور اطمینان کا بھی اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ضروری ہوا تو کارروائی کریں گے‘‘ اور منت سماجت پر زیادہ زور دیں گے کیونکہ اس سے بڑی کارروائی اور کوئی نہیں ہو سکتی‘ یعنی محاورے کے مطابق اگر کوئی گُڑ دینے سے مرتا ہو تو اُسے زہر دینے کی کیا ضرورت ہے؛ چنانچہ ان صاحبان کے لیے گڑ کافی مقدار میں اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ آپ اگلے روز لندن میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ 
پاکستان بھارت بڑے دل کے ساتھ 
مذاکرات کی میز پر بیٹھیں... حمزہ شہباز 
نوازلیگ کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ''پاکستان بھارت بڑے دل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں‘‘ اور‘ میز پر بیٹھنے کا مطلب یہ نہیں کہ میز پر چڑھ کر بیٹھ جائیں بلکہ یہ کہ میز کے اردگرد کُرسیاں رکھ کر اُن پر بیٹھیں جیسا کہ ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جس میں دوسرے فریق نے جنگ بندی بھی کر رکھی ہے اور اپنی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جیسا کہ اُدھر طالبان کی قائم کردہ کمیٹی مشوروں کے لیے شمالی وزیرستان گئی ہوئی ہے اور اِدھر پشاور میں ایک بڑا دھماکہ بھی کردیا گیا ہے۔ اسی طرح بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں شدید بارشوں کے بعد پاکستان میں پانی چھوڑ دیا ہے اور ساتھ ہی اوم پوری صاحب یہاں آ کر پیار محبت کے سنگیت بھی سنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''دونوں ممالک کو معاشی میدان میں آگے بڑھنا چاہیے‘‘ تاکہ تاجر طبقے کو فائدہ پہنچ سکے ا ور یہی کچھ ہم بھی اپنے ملک میں کر رہے ہیں کیونکہ تاجر بھائیوں کی فلاح و بہبود ہماری پہلی ترجیح ہے۔ آپ اگلے روز بھارتی اداکار اوم پوری سے ملاقات کر رہے تھے۔ 
تھر کی خشک سالی پر سیاست چمکانا
باعثِ افسوس ہے... منظور وٹو 
پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد خاں وٹو نے کہا ہے کہ ''تھر کی خشک سالی پر سیاست چمکانا باعثِ افسوس ہے‘‘ کیونکہ سندھ میں ہماری حکومت وہی کچھ کر رہی ہے جو ہم گزشتہ دور میں کرتے رہے ہیں لہٰذا سیاست جمع پونجی اکٹھا کرنے اور اسے آخری حدوں تک لے جانے کا نام ہے‘ پھوکا چمکانے سے اس کے اغراض و مقاصد پورے نہیں ہوتے جبکہ سندھ میں صوبائی وزیراعلیٰ اور مخدوم امین فہیم کے درمیان جھگڑے کی نوعیت بھی ایسی ہے۔ ان کے مداح چار چار کروڑ چپکے سے ان کے اکائونٹ میں جمع کرا جاتے ہیں اور انہیں خبر تک نہیں ہوتی‘ ایسے درویش اور لاغرض سیاستدان روز روز پیدا نہیں ہوتے جبکہ روز روز پیدا ہونا آدمی کے لیے ویسے بھی ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''نرسوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے‘‘ کیونکہ ہمارے وقت میں تو یہ موقع ہی نہ آتا اور کچھ مال دے دلا کر یہ کب کی بحال ہو چکی ہوتیں‘ اگرچہ یہ اب بھی ناممکن نہیں ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 
عسکریت پسندوں کو مہلت دینے
کا کوئی فائدہ نہیں ہوا... بلاول 
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''عسکریت پسندوں کو مہلت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا‘‘ حالانکہ آدمی ہر کام فائدے کے لیے ہی کرتا ہے جیسا کہ ہمارے گزشتہ سنہری دور میں ہر شخص ملک کو بھی فائدہ پہنچانے میں مگن تھا اور معمولی فائدہ خود بھی اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا جس میں اگرچہ کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی‘ اس لیے اس کارِ خیر کے لیے بہت بے صبری سے اپنی اگلی باری کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ ملک کو فائدے کی بہت ضرورت ہے جس میں دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں ہی اپنا بھی فائدہ ہے۔ جیسا کہ سندھ میں ڈیڑھ ہزار اسامیوں پر کم و بیش 27 ہزار بھرتیاں کر لی گئیں اور ملک کو فی اسامی ایک لاکھ سے لے کر 18 لاکھ تک کا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ''بہت سا وقت ضائع کیا جا چکا ہے‘‘ ورنہ اگر آپریشن شروع کردیا جاتا تو کراچی سے خیبرپختونخوا تک ایک رونق لگی ہوتی اور ملک کی آبادی ایک مناسب سائز پر آ جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ''اب لکیر کھینچنے کا وقت آ گیا ہے‘‘ اور‘ یہ لکیر ناک سے کھینچنے کا تو کچھ اور ہی مزہ ہے‘ آزمائش شرط ہے۔ آپ حسبِ معمول ٹویٹر پر ایک پیغام جاری کر رہے تھے۔ 
آج کا مقطع 
ظفرؔ، یہ دشتِ سخن کی مسافری ہے عجب 
میں کارواں میں ہوں اور کارواں کے ساتھ نہیں 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved