تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     21-03-2014

کیا کہنے ‘کیا کہنے!

اللہ کی آخری کتاب یہ ہی کہتی ہے ''عسٰی ان تکرھو شیئاًو ھوخیرلکم۔ تم ایک چیز کونا پسند کرتے ہو مگر اس میں تمہارے لیے خیر ہوتا ہے‘‘ افسوس کہ کم ہی لوگ غور کیا کرتے ہیں۔ 
نیویارک ٹائمز کی افسانہ نگاری کے کیا کہنے اور ان پاکستانیوں کے کیا کہنے ،جو امریکی انتظامیہ‘ سی آئی آے اور پینٹاگان کے لیے خوش دلی سے برتے جانے والے اخبار کو آسمانی صحیفہ سمجھتے ہیں،دنیا میںکوئی اور ملک ہے اور نہ کبھی تھا جہاں ایسے احمق پائے جاتے ہوں۔ وہی خود شکنی، وہی مرعوبیت، وہی خود رحمی جو غلامی سے جنم لیتی ہے ۔جس کے بعض اخبار نویس اپنے وطن سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیںجتنی کہ اس کا دشمن۔
ترتیب وار اب دلائل کو دیکھ لیجئے ۔ایک شہادت تو جنرل ضیاء الدین بٹ کی ہے ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ آئی بی کے سربراہ اعجاز شاہ کی مدد سے ، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو محفوظ ٹھکانہ فراہم ہوا۔ دوسری ایک ایسے برگزیدہ بریگیڈیئر کی ، جو پاکستان سے ہجرت کرکے امریکہ میں آباد ہوچکا۔ اس افسر کا نام لکھنے میں کیا چیز مانع ہے ؟۔جہاں تک جنرل بٹ کا تعلق ہے تو وہ پرویز مشرف سے نفرت کرتے ہیں اور وجہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح کے نازک معاملات میں،کیاایک نفرت کرنے والے کی گواہی قابل قبول ہوسکتی ہے ؟۔ اگر کل کلاں‘ پرویز مشرف میاں محمد نواز شریف پر یا نواز شریف، پرویز مشرف کے بارے میںایسی ہی سنگین بات کہیں تو کیا اس پر اعتبار کرلیا جائے گا؟۔کیا میثاق جمہوریت پر دستخط کے ہنگام‘ میاںصاحب نے لندن میں بھارتی اخبار نویس کلدیپ نائر سے یہ نہ کہا تھا کہ پرویز مشرف تو دراصل دہشت گردوں کے مخالف ہی نہیں، فقط ڈرامہ سا رچارکھا ہے؟۔ طالبان کے لیے نرم گوشہ کس کے دل میں ہے ؟۔
پھر کیا یہ ایک بنیادی تضاد نہیں کہ جنرل بٹ کے مطابق تو 
معاملہ تمام تر آئی بی کے ہاتھ میں تھا اور نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے سپرد‘ حتیٰ کہ اس کے بقول ایبٹ آباد کا کمپائونڈ بھی آئی ایس آئی نے تعمیر کرایا تھا۔ سامنے کا سوال ہے کہ ایسے ایک منصوبے کو جسے مکمل طور پر خفیہ رکھنا تھا‘جس کے آشکار ہوجانے پر ملک کے لیے ہولناک خطرات پیداہوتے کیونکر بیک وقت دو خفیہ ایجنسیوں کے سپرد کیا جاسکتا؟۔ ایک اورنکتہ یہ ہے‘ جنرل بٹ کی بات اگر مان لی جائے، یعنی اگر یہ صرف انٹیلی جنس بیوروتھا تو فطری طور پر ایک سوال جنم لیتا ہے... اس کے پاس کون سا قابل اعتماد نظام موجود تھا کہ اس قدر خطرناک اور نازک ذمے داری اسے سونپی جاسکتی؟
جی نہیں‘واقعات کچھ اور طرح سے پیش آئے۔ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے ذاتی طور پر اس ناچیز کو فون کیا تھاکہ ایبٹ آباد جائزہ کمیشن کے سامنے وہ پیش ہو۔ بجا طور پر انہیں اندازہ تھا کہ میں ان چند لوگوںمیں سے ایک ہوں‘ کہانی کا بڑا حصہ جنہیں معلوم ہے۔ میں نے گریز کیا۔ اس لیے نہیں کہ حقائق بیان نہ کیے جائیں۔ اس لیے کہ ایک آدھ دن نہیں ،یہ کئی ہفتوں کا کام تھا۔ کمیشن تو خیر اس قدر فرصت پاہی نہ سکتا، خود اس اخبار نویس کے لیے بھی ممکن نہ تھا کہ وہ دفتر سے طویل رخصت لے کر‘ داستان کے باقی ماندہ حصے معلوم کرے ۔
اسامہ بن لادن کا سراغ، امریکہ کے ایما پر پاکستان سے ہجرت کرجانے والے کسی بریگیڈیئر یا جنرل بٹ نے نہیں‘ بلکہ خود آئی ایس آئی نے لگایا تھا۔جی ہاں! میں دہراتا ہوں آئی ایس آئی نے اور اس نے امریکیوں کو اطلاع دی تھی‘ باضابطہ طور پر۔
یہ نہیں کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن‘ اپنے خاندان کے ہمراہ تشریف فرما ہیں۔کھجور کھاتے ہیں۔ گاہے قاری سیف اللہ اختر سے ملاقات کے لیے قبائلی خطے میں تشریف لے جاتے ہیں اوردونوں بیویوں کی باہمی چخ چخ سے نالاں رہتے ہیں‘ بلکہ یہ کہ ایبٹ آباد سے ایک عرب کی مشکوک کالیں سنی گئیں ۔ عربی زبان میں ہونے والی گفتگو سے‘ جس کا ترجمہ کرایا گیا‘ صرف اتنا معلوم ہوسکا کہ روپے منتقل کرنے کی درخواست ہے ۔کتنا سرمایہ‘ یہ بھی معلوم نہ ہوسکا۔ممکن ہے‘ صرف ذاتی اخراجات کے لیے یا اس کے سوا بھی۔
ایسی صورتحال میں مل جل کر کام کرنے والی خفیہ ایجنسیاں‘ ایک دوسرے کو جب معلومات فراہم کرتی ہیں تو یہ باہمی اعتماد کا اظہار ہوتا ہے ۔توقع یہ رکھی جاتی ہے کہ اگر دوسری ایجنسی کو ڈھنگ کی کوئی اطلاع ملے تو اس کا کم از کم اسی فیصد حصہ خبر دینے والی پہلی ایجنسی تک بھی پہنچے گا۔یہ پیشہ ورانہ اصول ہے اور میدان جنگ میں اس طرح کے اصولوں سے انحراف اگر بے ہودگی نہیں تو آخری درجے کا گنوار پن ضرور ہے ۔مدعا اس کا یہ ہوتا ہے کہ ہر قیمت پر مطلوبہ مقصد حاصل کیا جائے‘ وگرنہ خفیہ ایجنسیوں میں تعاون کی ضرورت ہی کیوں تھی۔ سی آئی اے نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ کوئی خاص بات ہے ہی نہیں۔ ادھر امریکیوں نے پاکستان کو دھوکہ دینے کا فیصلہ کیا۔وہ ایک منصوبے پر کام کرتے رہے ۔ ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ امریکہ میں بھیک مانگنے ، غیر ملکیوں کے لیے کام کرنے یا اپنے آپ سے نفرت کرنے والے اخبار نویس نہیں پائے جاتے ۔آئی ایس آئی اگر ملوث ہوتی تو کمپائونڈ کے ارد گرد اس کے لوگ کیا موجود نہ ہوتے ؟۔آئی ایس آئی اس قدر نااہل بہرحال نہیں کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی جیسا کوئی شخص اسے غچہ دے سکے ۔
واقعے کی تفصیل ایک سے زیادہ بار میں نے جنرل کیانی سے خودسنی اور ظاہر ہے کہ اسے یاد رکھنے کی کوشش کی۔ہیر رانجھے کا قصہ بھی اگر اتنی بار سنا جائے تو بھولتا نہیں۔ ان سے پوچھا گیاکہ اس وقت یعنی شب ڈیڑھ بجے آپ کہاں تھے‘ کیا کررہے تھے؟۔ حسبِ معمول جنرل جاگ رہا تھا، رات ساڑھے تین یا پونے چار بجے وہ بستر پہ لیٹتا ہے اور تین گھنٹے کے بعد اٹھ بیٹھتا ہے ۔ انہیں اندیشہ ہوا کہ ایٹمی پروگرام ہدف ہے ۔توجہ ہٹانے کے لیے ایبٹ آباد کے اس غیر اہم مقام کا انتخاب کیا گیا‘ چنانچہ فوراً ہی انہوں نے ایٹمی تنصیبات سے متعلق اہم ترین لوگوں سے رابطہ کیا۔ انہیں محفوظ پایا تو گمان ہوا کہ ہماری اپنی ہی فوج سے وابستہ کچھ لوگ شاید ہوں‘ جوکسی خفیہ مشن کے لیے ایبٹ آباد کی بلال کالونی میں اترے ۔اب انہوں نے ادھر ادھر فون کرنا شروع کیے ۔ ظاہر ہے کہ کچھ وقت اس میں صرف ہوا۔ تب نگاہ دشمن کی طرف گئی۔ اب معلوم ہوا کہ وہ غیر ملکی ہیں۔ رد عمل کے لیے وقت کافی نہ تھا۔ ایف 16طیارے سرگودھا سے اڑتے اور امکان کم تھا کہ ایبٹ آباد سے پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹر کو طور خم کی سرحد سے ادھر جا لیتے۔ دوسری مصلحتیں بھی ظاہر ہے کہ کارفرما رہی ہوں گی۔رہی بار بار دہرائی جانے والی یہ احمقانہ ''دلیل‘‘ کہ ایبٹ آباد فوج کا شہر ہے‘ تو حضور‘ سبھی شہر فوج کے ہیںاور سبھی دوسری شہریوں کے بھی اتنے ہی۔ شہر چھوٹا ہو یا بڑا‘ فوج کب سے ہر گھر کے اندر جھانکنے کی ذمہ دار ہو گئی۔ یہ پولیس کا کام ہے اور حادثے کے بعد جو پہلا شخص وہاں پہنچا‘ آئی ایس آئی یا آئی بی نہیں‘ اس کا تعلق پولیس سے تھا۔ وہ موٹر سائیکل پر سوار تھا۔
بدگمانی کا شکار‘ عقل کے اندھے‘ اس بات پر غور کیوں نہیں کرتے کہ آئی ایس آئی اگر ملوث ہوتی تو پاک فوج کے سربراہ کی اجازت کے بغیرآخر کس طرح؟ جنرل کیانی کو اگر معلوم ہوتا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ہے تو گھنٹہ بھر وہ ایٹمی تنصیبات اور دوسرے مقامات پر ٹیلی فون کیوں کرتے رہے ؟ اداکاری؟ کس کے لیے اداکاری؟ اس وقت وہ گھر میں بنے اپنے دفتر یا لائبریری میں تھے ۔ کس کے لیے وہ یہ دکھاوا کرتے؟ تین یا چار دن گزرے ہوں گے جب جنرل کیانی کی موجودگی میں جنرل پاشا کو میں نے کہتے سنا :امریکی اگر ہمیں شامل کرتے تو دس سال تک ریاست ہائے متحدہ میں کوئی ہم پر انگلی نہ اٹھا سکتا ۔
پاکستانی فوج اور حکومت اگر ملوث ہوتی تو ممکن ہے کہ وہ ہوجاتا جواگلی صبح جنرل کیانی نے مائیکل ملن سے کہا تھا: ایسا ایک واقعہ اگر اور ہوگیاتو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکتے ہیں۔فوج قیادت نے سوچا بھی کہ بساط الٹا ہی دی جائے ۔قصہ ختم ہی کردیا جائے وہ مگر طالبان نہیں‘ جواری نہیں۔ وہ ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں۔ غلطی کر سکتے ہیں‘ جھَک نہیں مارا کرتے۔ 
اللہ کی آخری کتاب یہ ہی کہتی ہے ''عسٰی ان تکرھو شیئاًو ھوخیرلکم۔ تم ایک چیز کونا پسند کرتے ہو مگر اس میں تمہارے لیے خیر ہوتا ہے‘‘ افسوس کہ کم ہی لوگ غور کیا کرتے ہیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved