تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     27-03-2014

’’بھارتی‘‘ حسینہ

حسینہ واجدکی حکومت نے بنگلہ دیش میں ہونے والے ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ میں ڈھاکہ کے میر پور سٹیڈیم میں تماشائیوں کی جانب سے پاکستانی جھنڈا لہرانے اور اپنے جسم پر پاکستانی پرچم اوراس سے ملتا جلتا رنگ لگانے پر پا بندی عائدکردی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیشی عوام کے دلوں میں بڑھتی ہوئی قربت نے حسینہ واجدکو اس قدر بوکھلا دیا کہ اس نے اپنی دلی نفرت کا اظہارکرنے کے لیے میر پور سٹیڈیم میں بنگلہ دیش کے سواکسی بھی دوسرے ملک کا پرچم لے کر داخل ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔ شاید حسینہ واجدکو خوف محسوس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ پاکستان کانام لینے والوں کو پھانسیاں دینے ،انہیں لمبی لمبی سزائیں سنانے اور میڈیا پر پاکستان کے بارے میں نفرت انگیز مہم چلانے کے با وجود پاکستان سے بنگلہ دیشی عوام کی محبت میں کمی نہیں آرہی اور یہ سلسلہ اسی طرح بڑھتا رہا تو شیخ مجیب اور بھارت کی طرف سے جوکیاگیااس پر پانی پھر جائے گا۔
در اصل حسینہ واجد کی پریشانی بڑھنے کی تازہ وجہ یہ ہوئی کہ بھارت کے ساتھ افتتاحی میچ کے آغاز میں جب پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جا رہا تھا تو بنگلہ دیشی عوام کی بہت بڑی تعداد قومی ترانے کی دھن کے ساتھ پاکستانی پرچم فضا میں لہرا رہی تھی جو حسینہ واجد اور بھارت کی برداشت سے باہر ہوگیا۔اندازہ کیجیے کہ حسینہ واجد جو کھیل کے میدان میں تماشائیوں کے ہاتھوں اور چہروں پر پینٹ کیے گئے پاکستانی جھنڈے کو برادشت نہیں کر سکتیں وہ خود پاکستان سے کتنی نفرت کرتی ہوںگی؟ 
آئی سی سی نے حسینہ واجدکے اس حکم کا نوٹس تو لے لیا ہے لیکن بنگلہ دیش کے عوام اس وقت حسینہ آمریت کے خوفناک طوفان میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔اگر یہ چنگیز خانی حکم واپس ہو بھی گیا تب بھی کوئی تماشائی پاکستانی پرچم اپنے ساتھ لانے کی ہمت اور جرأت نہیں کر سکے گا کیونکہ اس وقت بنگلہ دیش میں جگہ جگہ پاکستان کا نام لینے والوں کے لیے پھانسی گھاٹ کے تختے کھینچے جا رہے ہیں۔ 
عوامی لیگی کارکنوں پر مشتمل خصوصی عدالتیں ہر ضلعے میں قائم ہیں جو بات کا بتنگڑ بناکر من پسند فیصلے سنا رہی ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ یکم اپریل2004 ء کوبیگم خالدہ ضیاء کی وزارت عظمیٰ کے دور میں کرنا فلی جیٹی میں اسلحہ سمگلنگ کے دس ٹرک پکڑے گئے جس کا الزام بھارت کی نیوی پر لگ رہا تھا،ابھی اس کی تفتیش جاری تھی کہ خالدہ ضیاء کی حکومت ختم ہوگئی اور عوامی لیگ نے اقتدار میں آنے کے بعد اس کا الزام بنگلہ دیش نیشنل پارٹی پر لگا دیا اور پھر دس سال بعد 29 جنوری2014ء کو چٹاگانگ میں قائم کی گئی ایک خصوصی عدالت کے جج مجیب الرحمان کے ذریعے 14افرادکو سزائے موت کا حکم سنا دیا جن میں فوج کے دو میجر جنرل ایک بریگیڈیئر اوربھارت کے صوبے آسام کی یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ کے سربراہ کا نام بھی شامل ہے۔حسینہ واجد شاید' پاکستان فوبیا‘کا شکار ہو چکی ہیں اوراب تو بنگلہ دیشی عوام یہ بھی کہنا شروع ہو گئے ہیںکہ حسینہ بنگلہ دیش کی نہیں بلکہ بھارت کی وزیر اعظم کے طور پرکام کر رہی ہیں۔
بعض مبصرین کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حسینہ واجد اپنے ہوش وحواس کھوتی جا رہی ہیں۔ 4 فروری کو بنگلہ دیش کی نئی پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیاکہ 1971ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران'عوام پر ظلم کرنے والے‘ پاکستانی فوج کے195 اعلیٰ فوجی افسران پرانٹرنیشنل کریمنل ٹربیونل میں مقدمہ دائرکیا
جائے گا۔بین الاقوامی آئین کے تحت یہ مقدمہ دائر ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ افسران بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان 1974ء میں ہونے والے سہ فریقی معاہدے کے تحت واپس پاکستان آئے تھے۔دنیا جانتی ہے کہ حسینہ آمریت نے اس وقت بنگلہ دیشی عوام پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیںاور بنگلہ دیشی عوام کی واضح اکثریت کی مرضی کے خلاف وہ ایک بار پھرمسند اقتدار پر براجمان ہو چکی ہیں۔ حسینہ واجد نے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے نگران حکومت کا تصور ہی ختم کردیا ہے،اب وہ خود ہی نگران بن کر اپنی مر ضی کے الیکشن کراتی ہیں۔ 5جنوری 2014ء کوبنگلہ دیش میں ہونے والے یہ انتخابات کیسے ہوئے؟ اس کے 'نتائج‘ کیسے تیار ہوئے؟ یہ حقائق کسی سے پوشیدہ نہیں۔اس وقت بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والا ایک بھی رکن نہیں ،تمام ارکان کا تعلق عوامی لیگ سے ہے۔ بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات کی ساکھ جاننے کے لیے اگر صرف وزیر اعظم کاحلف اٹھانے والی حسینہ واجدکے اپنے انتخابی حلقے کے نتائج کو سامنے رکھاجائے توانتہائی ناقابل یقین تصویر سامنے آتی ہے اور ان انتخابات کی ہنڈیاکی سیا ہی عوامی لیگ کا دامن سیاہ کرتی نظر آتی ہے۔ حسینہ واجدکاانتخابی حلقہ گوپال گنج ہے،اس کے نتائج جو بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے، ان کے مطابق حسینہ واجد 187185 ووٹ لے کر''منتخب‘‘ قرار پائی ہیں۔ انتخابات کی ذرا سی بھی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے لیے مضحکہ خیز خبر یہ ہے کہ گوپال گنج کے اس انتخابی حلقے کے ووٹروں کی کل تعداد 211839 ہے،اس طرح حسینہ واجد کے حاصل کردہ ووٹوں کا تناسب 88.36 فیصد بنتا ہے جوگنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے کے لائق ہے۔ اگر اس انتخابی حلقے کی حقیقت جاننے میں دشواری پیش آرہی ہو تو آسان لفظوں میں یہ سمجھ لیں کہ حسینہ واجدکے انتخابی حلقے میں درج ہردس ووٹوں میں سے نو ووٹروں نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے، یہ شاید دنیاکی انتخابی تاریخ کا سب سے بڑاٹرن آئوٹ بنتا ہے جواس لیے بھی حیران کن ہے کہ بنگلہ دیش کی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے ان انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کر رکھا تھا اور پولنگ اسٹیشنوں کے باہر عوام اور پولیس باہم دست وگریبان تھے۔کہیں گولیوںکی بوچھاڑ تھی توکہیں آگ کے شعلے دکھائی دے رہے تھے۔ نیویارک ٹائمزکے نمائندے سمیت دنیا بھرکے میڈیا نے بنگلہ دیش میں ہونے والے ان انتخابات کا آنکھوں دیکھا حال یہ لکھاکہ ملک میں پولنگ اسٹیشنوں پر سارا دن اکا دکا ووٹر ہی دکھائی دیے اورکئی پولنگ اسٹیشنوں پر تو ہُوکا عالم تھا۔ عالمی میڈیا نے لکھا کہ یہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے کم ٹرن آئوٹ تھا۔ بنگلہ دیش کے یہ نام نہاد انتخابات تو ہوگئے جسے نہ جانے کس مصلحت کے تحت یورپی یونین،دولت مشترکہ اور اقوام متحدہ نے تسلیم بھی کر لیا،لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا کی جمہوری تاریخ اور بنگلہ دیش کی تاریخ کی یہ واحد پارلیمنٹ ہے جس کے ایوان میں حزب اختلاف کا کوئی وجود ہی نہیں جو اپوزیشن بنچوںکی نمائندگی کر سکے۔بنگلہ دیش کے آئین کا آرٹیکل56(2) کہتا ہے: 
''Parliament must be elected through popular votes, not by in house selection'' اس کا اگر پاکستان میں ہونے والے انتخابات کی طرزپر تبصرہ کیا جائے تو یہ کہنازیادہ مناسب ہو گا کہ جمہوریت ' پنکچروں‘ کے ذریعے نہیں آنی چاہئے۔۔۔۔۔!!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved