تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     01-04-2014

کرنسی نوٹ بنانے والی مشین

لالچ انسان کی عقل کو کیسے نگلتا ہے‘ یہ جاننے کے لیے آپ چونڈہ کے ایک بزنس مین کی کہانی سن لیجئے۔ سیالکوٹ میں چونڈہ کا محاذ انتہائی اہمیت کاحامل ہے‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ چونڈہ کے مقام پر لڑی گئی اور پینسٹھ کی جنگ میں پاک فوج نے بھارت کے بڑی تعداد میں ٹینک تباہ کرکے اسے دُم دبا کربھاگنے پرمجبورکردیا ۔ا س کے بعد چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بھی کہا جانے لگا۔یہی چونڈہ آج نوسربازوں اور فراڈیوں کے نرغے میں ہے جو اپنی شاطرانہ چالوں کے ذریعے لوگوں کو جمع پونجی سے محروم کر رہے ہیں۔ چونڈہ میں اکرم کی موبائل فون کی دکان ہے ۔ چند ماہ قبل اس کا ایک عزیز کئی ہفتے ہسپتال داخل رہا۔ اکرم اور اس کی فیملی نے کئی دن اور راتیں وہاںگزاریں۔ اس دوران ان کی وارڈ میں موجود ایک اور مریض کے تیمارداروں سے علیک سلیک ہو گئی۔ ان میں سے ایک خاتون نے اکرم کی بہن سے کہا کہ وہ گھبرائے نہیں‘ وہ علاج کی رقم اُدھار دلا سکتی ہے۔ انہوں نے اکرم سے کہا کہ وہ فلاں روز فلاں جگہ آ جائیں ‘ انہیں رقم مل جائے گی۔ انہوں نے اکرم کی بہن کو ساتھ آنے کی تاکید کی۔اکرم اور اس کی بہن بتائی گئی جگہ پر پہنچے تو وہاں دو مرد اور ایک خاتون موجود تھے۔ کچھ دیر بعد وہاں ایک اور شخص آ گیا۔ وہ کافی گھبرایا ہوا تھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے تو وہ بولا‘ میں رکشے سے اترا تو میرا 
قیمتی سامان اس میں رہ گیا۔رکشے کا نمبر بھی نوٹ نہیں کیا اب پریشان ہوں کہ کیا کروں۔ یہ گھر قریب تھا سو یہاں چلا آیا کہ شاید میری مدد ہو جائے۔ انہوں نے اس کے قیمتی سامان کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے بتانے سے انکار کر دیا۔ زور دینے پر کہا کہ ایک شرط پر بتائے گا کہ اسے خفیہ رکھا جائے۔ سب نے شرط مان لی۔ اس نے کہا کہ وہ کرنسی نوٹ بنانے والی مشین تھی جو رکشے میں رہ گئی۔ اس کے پاس ایسی ایک اور مشین گھر پر موجود ہے لیکن اس کی سیاہی ختم ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ نوٹ بنانے پر کتنا خرچ آتا ہے۔ وہ بولا‘ کرنسی نوٹ کے لیے خاص قسم کا کاغذ استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے پاس سو سو کے نوٹوں والے ایک کروڑ روپے بنانے کا کاغذ موجود ہے لیکن مشین کی سیاہی ختم ہے جو آٹھ لاکھ کی آئے گی۔ وہاں موجود مالک مکان بولا اگر ہم سیاہی کا انتظام کر دیں تو ہمیں کیا ملے گا۔ اس نے کہا سب کو ففٹی ففٹی۔ اکرم اور اس کی بہن یہ ماجرا دیکھ رہے تھے۔ انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ راتوں رات امیر بن سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے اکرم کو ادھار دینے کے لیے بلایا تھا انہوں نے اکرم سے کہا کہ اگر وہ حصہ ڈالے تو اسے ادھار لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے گی بلکہ وہ دنوں میں امیر ہو جائے گا۔ اکرم نے کہا مجھے یقین تب آئے گا جب میں خود نوٹ بنتا دیکھوں۔ مالک مکان نے اس شخص سے کہا کہ کیا وہ انہیں نوٹ بنا کر دکھا سکتا ہے۔ اس نے کہا گھر میں موجود مشین میں تھوڑی سی سیاہی موجود ہے۔ انہوں نے کہا وہ مشین لے کر یہاں آئے اور نوٹ بنا کر دکھائے۔ اس کے ساتھ ایک شخص کو بھیجا گیا اور کچھ دیر بعد وہ ایک ڈائی نما مشین لے کر آ گئے۔ اس نے کاغذ ڈالا‘ مشین آن کی اور چند ہی لمحوں میں مشین نے سو کا کڑکتا نوٹ اُگل دیا۔ ہوبہو اصل جیسا نوٹ دیکھ کر سب کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اب اکرم کو بھی یقین آ چکا تھا ۔ وہ مشین کی سیاہی کے لیے دو لاکھ روپے دینے کو تیار ہو گیا۔ وہاں موجود تین اور لوگوں نے بھی دولاکھ فی کس حصہ ڈالنے کی ہامی بھر لی۔ اکرم فوراً واپس گیا اور دو 
جگہ سے ایک ‘ ایک لاکھ روپے لا کر دے دئیے۔ یہ پیسے اس نے سود پر ادھار پکڑے تھے۔ مشین والے نے کہا کہ اس نے تین چار روز بعد کیمیکل لینے جانا ہے۔ واپسی پر وہ کال کرے گا تو سب لوگ فلاں مکان میں آ جائیں اور اپنے تیار نوٹ لے جائیں۔چار روز بعد وہ لوگ اس کے پاس پہنچ گئے۔ ان سب کو اس نے دوسرے کمرے میں بٹھا دیا اور خود مشین لے کر ایک چھوٹے کمرے میں چلا گیا۔ چند منٹ بعد کسی بھاری چیز کے گرنے کی آواز آئی۔ وہ مالک مکان جس نے ہسپتال سے اکرم کو قرض دینے کے لیے بلایا تھا‘ وہ بھی وہاں موجود تھا۔ وہ اندر گیا اور باہر آ کر شور ڈال دیا کہ ڈائی مشین پھٹ گئی ہے اور مشین مین بے ہوش ہے۔ کچھ دیر بعد مشین مین ہوش میں آیا تو اس نے کہا میرا لاکھوںکا نقصان ہو گیا‘ میری پچاس لاکھ کی مشین تباہ ہو گئی‘ اب میرا کیا بنے گا۔ سب لوگوں نے اسے دلاسہ دیا تو وہ بولا‘ اس کا ایک ریٹائرڈ افسر دوست کراچی میں مقیم ہے‘ اور اس کے پاس پانچ سو کے علاوہ سو کے نوٹ بنانے والی ڈائی بھی موجود ہے‘ لیکن اس کی گیس ختم ہے۔ گیس دس لاکھ روپے کی پڑے گی۔ یہ مشین مجھے چند دن کے لیے مل سکتی ہے لیکن اس کے لیے مجھے کراچی جانا پڑے گا۔ اکرم نے کہا وہ اسے کرایہ وغیرہ دینے کو تیار ہے جس کے بعد اکرم نے اسے مزید تیس ہزار روپے دئیے ۔ اس کے بعد سب لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ چند روز انتظار کے بعد جب کوئی جواب نہ آیا تو اکرم کو تشویش 
ہوئی۔ اس نے مشین مین کے نمبر پر فون کیا تو وہ بند ملا۔ وہ اس شخص کے گھر گیا جس نے قرض کے لیے اسے بلایا تھا‘ تو اس شخص کے گھر کو تالا لگا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں تو وہ صاحب رہتے ہی نہیں بلکہ یہ مکان تو عرصے سے بند پڑا ہے۔ یہ دیکھ کر اکرم کو غش آ گیا‘ ہوش آیا تو معلوم ہوا‘ اس کے ساتھ فراڈ ہو چکا ہے۔
میں نے فیس بک سے متعلق فراڈ کے حوالے سے کالم لکھے تو کئی لوگوں کے زخم ہرے ہو گئے‘ جن لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا ان میں چونڈہ کا یہ کاروباری بھی تھا۔یہ شخص پولیس کے پاس بھی گیا لیکن اسے معلوم ہوا کہ مذکورہ گروہ بہت طاقتور ہے اور اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔یہ گروہ زبردست منصوبہ ساز ہے اور درجنوں لوگوں کو چونا لگا چکا ہے ۔اب ایف آئی اے اس گروہ کے خلاف کارروائی کرتی ہے یا نہیں‘ یہ تو خدا جانتا ہے لیکن اس واقعے سے اتنا معلوم ہو گیا ہے کہ ہمارے عوام بھی بادشاہ ہیں‘یہ شکل سے اتنے بیوقوف نظر نہیں آتے جتنے اندر سے ہیں اور یہ ہر لمحہ لٹنے کا عزم کئے ہوئے ہیں‘ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے جعلی پیروں اور عاملوں کا کاروبار چل رہا ہے اور ایسے ہی عوام کی وجہ سے باریاں لگانے والے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی چاندی ہو رہی ہے۔ کتنے شاندار عوام ہیں ہمارے کہ جو ڈاکوئوں کا استقبال سرخ قالین بچھا کر کرتے ہیں لیکن ان کا سگا غریب رشتہ دار‘ ان سے ضرورت کے لیے دس روپے بھی مانگ لے تو یہ اسے دھکے مار کر نکال دیتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved