تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     21-04-2014

ادھورا اقبال

اقبال ایک پھر زیرِ بحث ہیں۔وہ کب زیرِ بحث نہیں رہتے مگر اس بار باندازِ دگر۔
اقبال ایک بڑے آ دمی ہیں۔بڑے لوگوں کے کچھ مسائل ہو تے ہیں۔اُن کے گرد عقیدت یا پھر عصبیت کا ایک حصاربن جا تا ہے۔ یہ حصار ان کی حریمِ ذات تک رسائی میں رکاوٹ ہو تا ہے۔عقیدت چاہتی ہے کہ کوئی انسانی کمزوری ان سے منسوب نہ ہونے پائے۔عصبیت منفی ہو تو کیڑے تلاش کر تی رہتی ہے۔وہ خرابی بھی دریافت کر لیتی ہے جو پائی نہیں جاتی۔یوں اپنی رسوائی کا سامان کر تی ہے۔ایک مسئلہ اور بھی ہو تا ہے۔بڑے آ دمی کا حوالہ کسی موقف کی تائید میں پیش کر دیا جائے تو قولِ فیصل قرار پاتا ہے۔یوں مناظرانہ طبیعتیں،ایسی شخصیات کو اپنی تائید میں لاکھڑا کر تی ہیں۔منظر دلچسپ ہو جا تا ہے جب متضاد آرا رکھنے والے ایک ہی شخصیت کا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں۔اقبال پھر جمہوریت دشمن ہوتے ہیں اور جمہوریت کے حامی بھی۔ قومی ریاست کے علم بردار بھی اور عالمی خلافت کے نقیب بھی۔اب یہ زحمت کون اٹھائے کہ اپنے خیالات کو ایک طرف رکھے اوریہ جانے کہ ان کی رائے در اصل ہے کیا؟کلامِ اقبال تو خیر انسانی کلام ہے جس میں تضاد کا پایا جانا، امکانی سطح پر قابلِ قبول ہے۔لوگ اللہ کی کتاب کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔وہ کتاب جو اپنے الہامی ہونے کی یہ دلیل دیتی ہے کہ تم اس میں کوئی تضاد نہیں ڈھونڈ سکتے۔اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو تم اس میں تضاد دیکھتے۔لوگ اس کتاب سے بھی دو متضاد آرا کے لیے دلیل ڈھونڈ لاتے ہیں۔
فہمِ اقبال کے باب میں چند باتیں بنیادی ہیں۔ایک تو یہ کہ ان کا ایک نظامِ فکر ہے۔اس کو جانے بغیر ان کی تفہیم نہیں ہو سکتی۔وہ مسلم تہذیب کے نمائندہ ہیں۔ ان کا فکر اس روایت سے پھوٹا ہے جو چودہ سو سال پر محیط ہے۔اگر کوئی اسلامی علوم اور اس روایت میں جنم لینے والے رجحانات کو نہیں جانتا ہے تو وہ اقبال شناسی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔علمِ تفسیر،علمِ حدیث اور فقہ اسلامی علوم ہیں۔اس کے ساتھ منطق،کلام، تصوف اور فلسفہ بھی اس تہذیب میں پروان چڑھے۔بایں ہمہ اس تہذیب میں موسیقی،شاعری، ادب، تعمیر اور دیگر فنونِ لطیفہ نے بھی ایک خاص وضع اختیار کی۔ اقبال کو مغرب کی تہذیب سے بھی براہ راست آگاہی ہوئی۔اس نے ان میں ایک خاص تنقیدی شعور پیدا کیا۔اس کی روشنی میں انہوں نے یہ جا نا کہ مسلمانوں کو درپیش علمی، سیاسی اور نظری مسائل کیا ہیں۔اسلامی اور مغربی روایات کی آ میزش سے جس نظام ِ فکر نے جنم لیا، اس کا سب سے بڑا مظہر ان کا مجموعۂ خطبات ہے۔ جو اس تما م پس منظر سے واقف نہیں،وہ فکرِاقبال کی تنقید کا حق نہیں ادا کر سکتا۔
دوسرا یہ کہ اقبال نے صرف شاعری نہیں کی،نثر میں بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ان دونوں کا آپس میں گہراتعلق ہے۔میرے نزدیک دونوں توام ہیں۔ ایک میں اجمال ہے دوسرے میں تفصیل۔ایک میں تصور ہے‘ دوسرے میں اطلاق۔لوگ تصور(Ideal)کو لیتے ہیں اورا س کا اطلاق چاہتے ہیں۔ پھر اس کا انتساب اقبال کی طرف کرتے ہیں۔ایک مثال عرض کرتا ہوں۔اقبال کا شعر ہے ؎
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
اس سے عالمی خلافت مراد لی جاتی ہے۔گویا اقبال قومی ریاست کی نفی کرتے ہوئے ایک نظامِ خلافت کی بات کر رہے ہیں۔اگر لوگوں کی نگاہ اقبال کی نثر پر ہوتی تو انہیں معلوم ہو تا کہ اقبال اُس خلافت سے کتنے بد دل تھے جو ترکی میں پائی جاتی تھی اور جس کی بقا کے لیے یہاں تحریکِ خلافت برپا تھی۔ اقبال نے شعر میں مو جود تصور کی اطلاقی صورت، نثر میں یہ بتائی ہے کہ ہر مسلمان ریاست ساری توجہ اپنی انفرادی ترقی پر دے۔خود کو مستحکم کرے۔ اس کے بعدیہ ریاستیں لیگ آف نیشنز کی طرز پر خود کو ایک دوسرے سے مربوط بھی کر سکتی ہیں۔مسلمانوںکی سیاسی وحدت کی یہ اطلاقی صورت عصری حقائق سے پوری طرح مربوط ہے اور یہی قابلِ عمل بھی۔تاہم میرے نزدیک کوئی اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو وہ اس کا حق رکھتاہے لیکن اسے اقبال سے منسوب کرنا کم فہمی ہے۔
جو لوگ ان دونوں باتوں سے واقف ہیں،ان میں سے چندلوگوں نے اقبال پر تنقید کی ہے اور علم کی دنیا میں ان کی رائے کو اہمیت دی گئی ہے۔مثال کے طور پربعض اوقات اقبال نے ثانوی ذرائع پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک بات کہہ دی جو درست نہیں تھی۔اہلِ علم نے اس جانب تو جہ دلا دی۔اسی طرح کچھ اہلِ علم کا خیال ہے کہ خطبات میں بعض مقامات پر انہوں نے قرآن مجید سے جو استدلال کیا،وہ درست نہیں۔بعض اہلِ علم کے نزدیک 'جاوید نامہ ‘ میں علی محمد باب کی تحریک کو مسلمانوں کی تجدید ی تاریخ کا ایک باب قرار دینا بھی محلِ نظر ہے۔خطبات میں جنت دوزخ کے بارے میں اقبال نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، اسے بھی مو ضوع بنایا گیا ہے۔ یہ علمی مباحث ہیں جن میں ایک سے زیادہ آراء کی گنجائش ہو تی ہے۔تاہم یہ وہ لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ اقبال کون تھے اور فکرِ اقبال پر تبصرہ کرنے کے لوازم کیا ہیں؛ تاہم عقیدت کا حصار اس طرح کی علمی تنقیدمیںمانع ہو تا ہے۔ 
اقبال کے ناقدین کو شکوہ ہے کہ انہوں نے سر کا خطاب کیوں لیا‘ یا ہرسیاسی واقعے پر عملاً کوئی ردِ عمل کیوں نہیں دیا۔یہ بھی اقبال کی شخصیت سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔یہ بات کتنی درست ہے اور کتنی خلافِ واقعہ، اس کی تفصیل ماہرینِ اقبالیات نے بیان کر دی ہے۔ اس کو دہراناتحصیلِ حاصل ہے۔ایک شاعر اور فلسفی سے یہ تو قع رکھنا میرے نزدیک کوئی خوش ذوقی نہیں ہے کہ وہ جلسے جلوسوں میں کیوں شریک نہیں ہوتا۔اقبال نے خود وضاحت بھی کردی کہ کھلی جنگ ان کی فطرت کے خلاف ہے۔گویا یہ ان کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔ایسے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔علم کے مزاج میں خلوت پسندی ہے۔ ایک علمی آ دمی عملی سیاست کے لیے کبھی موزوں نہیں ہو تا کہ سیاست جلوت پسندہے۔ہمارے ہاں عالم نے جب سیاست کرنے کی کوشش کی، اس کی خلوت پسندی، اس کی سیاست میں حائل ہو گئی ۔اس کی ایک مثال مو لانا مو دودی ہیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ انہوں نے اپنی طبیعت کے بر خلاف عملی سیاست بھی کی‘ لیکن جس آ دمی کا معاملہ یہ ہوکہ وزیر اعظم نہرو بھی وقت لیے بغیر نہ مل سکے، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مزاج عملی سیاست سے کتنا ہم آہنگ ہے۔اقبال کا معاملہ بھی یہی تھا۔کچھ عرصہ احباب کے اصرار پر انہوں نے عملی سیاست کی لیکن بہت جلد انہیں اندازہ ہو گیا کہ وہ اس دنیا کے آ دمی نہیں ہیں۔ 
اقبال کا اصل فکری کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے امت مسلمہ کو درپیش سب سے اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ یہ مسئلہ شریعت اور فقہ کا اختلاط ہے۔انہوں نے بتایا کہ فقہ تفہیمِ شریعت ہے اور یہ انسانی کام ہے جو مستقل نہیں ہو سکتا۔ ہر عہد میں مسلمانوں کو نئی فقہ کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے اجماع کے تصور کی بھی تعبیرِ نو کی۔اقبال کا یہ کام بھی ان کے کارہائے نمایاں کے بیان میں جگہ نہیں پاسکا۔اس لیے ہم ادھورے اقبال سے ملتے ہیں،وہ اقبال جو ہمارے تصورات کو دلیل فراہم کر سکے۔اقبال جیسے بڑے آ دمی کے ساتھ یہ حادثہ ہو جا تا ہے۔کبھی عقیدت کے نام پر اور کبھی عصبیت کے باعث۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved