تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     26-04-2014

بھارتی انتخابات اور اس کے رجحانات

بھارت کے مرحلہ وار پارلیمانی انتخابات جاری ہیں۔7اپریل کو شروع ہونے والے یہ انتخابات 12مئی کو اختتام پذیر ہوں گے۔ گنتی مکمل ہونے کے بعد 15مئی کو نتائج کااعلان کردیاجائے گا۔ اگرچہ ان انتخابات میں بہت سی چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں اور گروپ حصہ لے رہے ہیں لیکن اصل مقابلہ دو سیاسی دھڑوں کے درمیان ہے جن کی قیادت انڈین نیشنل کانگرس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کررہی ہے۔ یہ انتخابات 9مرحلوں میں مکمل ہوں گے اور اب تک (یعنی25اپریل) چھ مرحلے مکمل ہوچکے ہیں جن میں بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے 349نشستوں کے لیے ووٹ پڑچکے ہیں۔ ان چھ مرحلوں کے انتخابی عمل پر نظر دوڑائی جائے تو مندرجہ ذیل نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بھارت میں نمائندہ انتخابی جمہوریت جڑ پکڑ رہی ہے اور وہ ادارے‘ جن کی ذمہ داری اس عمل کو پرامن طریقے سے اور قواعد و ضوابط کے ذریعے چلانا ہے‘ مضبوط ہورہے ہیں۔ اس ضمن میں بھارت کے الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو سراہا جارہا ہے جس نے 80کروڑ کے لگ بھگ ووٹ بھگتانے کے لیے ملک کے طول و عرض میں پولنگ سٹیشنوں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا نہ صرف اہتمام کیا بلکہ امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں سے انتخابی کوڈ پر سختی سے پابندی بھی کروائی۔ بی جے پی کے رہنما امیت شاہ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے اعظم خان کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری کیے گئے کیونکہ ان دونوں رہنمائوں نے اپنی انتخابی تقریروں میں فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔ انضباطی کارروائی کے طور پر الیکشن کمیشن نے ان دونوں رہنمائوں کو انتخابی جلسوں سے خطاب کرنے سے روک دیا۔ اسی طرح کا ایک نوٹس کانگرس کے امیدوار بینی پرشاد ورما کے خلاف جو کہ مرکزی حکومت میں وزیر مملکت بھی ہیں‘ جاری کیاگیا۔ 
اطلاعات کے مطابق تشدد کے اکا دکا واقعات کے سوا پورے ملک میں ووٹ پرامن طور پر ڈالے گئے ہیں۔ تشدد کا سب سے بڑا واقعہ بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ہوا جہاں مائو پرست باغیوں کی طرف سے بچھائی گئی ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے انتخابی عملے کے پانچ ارکان اور دو ڈرائیور ہلاک ہوگئے۔ اڑیسہ میں مشتعل ووٹروں کے ایک گروہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو نقصان پہنچایا اور مدھیہ پردیش میں دو پولنگ بوتھوں پر زبردستی قبضہ کرنے کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ بہار میں سابق وزیراعلیٰ اور کانگرس کی حامی راشٹریہ جنتادل کے رہنما لالو پرشاد کی بیٹی پر الزام لگایا گیا کہ اس نے ایک پولنگ سٹیشن میں گھس کر ہنگامہ آرائی کی جس پر اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا۔
ان انتخابات کا دوسرا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں کئی ریکارڈ قائم کیے جارہے ہیں‘ مثلاً80کروڑ ووٹرز کی تعداد بذات خود ایک ریکارڈ ہے۔ ان میں سے تقریباً 12کروڑ ووٹرز کا تعلق نوجوان طبقے سے ہے۔ ان انتخابات میں ریکارڈ ٹرن آئوٹ سامنے آرہا ہے جو کہ مجموعی طور پر67.28 فیصد ہے۔گزشتہ چار دہائیوں میں ہونے والے انتخابات میں یہ سب سے زیادہ ٹرن آئوٹ ہے۔ گزشتہ یعنی 2009ء کے انتخابات میں ووٹرز ٹرن آئوٹ کی شرح 58.78تھی جبکہ حالیہ انتخابات کے پہلے پانچ مرحلوں میں بعض مقامات پر یعنی مغربی بنگال اور ہریانہ میں ووٹرز ٹرن آئوٹ 80فیصد کے قریب رہا۔ سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس دفعہ خواتین ووٹرز ٹرن آئوٹ بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ڈالے جانے والے ووٹوں میں 65.81خواتین کے ووٹ ہیں۔ جبکہ پچھلے انتخابات یعنی 2009ء میں یہ شرح 56.62تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں میں بھی بھارت کے سیاسی جمہوری عمل میں حصہ لینے کا جذبہ بڑھ رہا ہے۔ لیکن اس عمل کا سب سے تاریک پہلو جو سرمایہ دارانہ جمہوریت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے‘ پیسے کا بے دریغ استعمال ہے۔ عام آدمی پارٹی کی طرف سے باقاعدہ الزام عائد کیاگیا ہے کہ بھارت کے بڑے بڑے سرمایہ دار‘ صنعتکار اور 
تاجر بی جے پی‘ خصوصاً نریندر مودی کی تشہیر پر اربوں روپیہ خرچ کررہے ہیں۔ دیگر کثیر الجماعتی ملکوں کی طرح بھارت میں بھی امیدواروں کی جانب سے دوران انتخاب پیسے کا بے دریغ استعمال ایک بڑا مسئلہ رہا ہے‘ جس سے نمٹنے کے لیے بھارت میں 1951ء میں ایک قانون بنایا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت ہر سیاسی پارٹی اور امیدوار کو اپنے انتخابی اخراجات کی تفصیل ایک مقررہ مدت میں الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرانا لازمی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے وقتاً فوقتاً مقرر کردہ اخراجات کی حد سے زائد اخراجات پر پابندی ہے۔ لیکن اس پابندی پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ 2009ء کے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ہر امیدوار کو ایک پارلیمانی (لوک سبھا) سیٹ کیلئے 25لاکھ روپے خرچ کرنے کی اجازت تھی۔ 2011ء میں اس رقم میں اضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ حد 40لاکھ روپے مقرر کی گئی؛ تاہم 2014ء کے انتخابات میں ہر امیدوار70لاکھ روپے تک کی رقم خرچ کرسکتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھارت کاہر باشندہ واقف ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور امیدوار اس سے کہیں زیادہ رقم ووٹ حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ موجودہ انتخابات میں پیسے کی ریل پیل اس کی واضح مثال ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کانگرس نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ انتخابات میں بی جے پی اپنی تشہیری مہم اور خاص طور پر نریندر مودی کے امیج 
بلڈنگ پر جتنا پیسہ خرچ کررہی ہے‘ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ کانگرس کے دعویٰ کے مطابق بی جے پی اور مودی نے اس مقصد کے لیے ایک کھرب روپے کا فنڈ جمع کررکھا ہے جس میں 90فیصد بلیک منی شامل ہے۔ کانگرسی حلقوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر انتخابات سے قبل نریندر مودی ناجائز طریقے سے اکٹھی ہونے والی اس رقم کو اس پیمانے پرخرچ کرنا جائز سمجھتا ہے تو انتخابات میں کامیاب ہوکر وہ عوام کو کیسی صاف ستھری اورایماندارانہ حکومت مہیا کرے گا؟ انتخابات میں دولت کے بے تحاشا استعمال کا ثبوت اس امر سے بھی حاصل ہوتا ہے کہ ابھی تقریباً آدھے انتخابات مکمل ہوئے ہیں اور الیکشن کمیشن کے کارندے 260کروڑ روپے نقد اور 15کروڑ روپے کا سونا ضبط کرچکے ہیں‘ جسے انتخابی مہم میں ووٹ خریدنے کے لیے خرچ کیاجانا تھا۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے 500کے قریب لوک سبھا کے امیدواروں کا سرکاری خرچ پورا ہوسکتا ہے۔ لیکن مبصرین کے مطابق یہ رقم تو اس رقم کا عشرعشیر بھی نہیں‘ جو سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں نے مختلف ہتھکنڈوں سے ووٹ خریدنے کے لیے مختص کررکھی ہے۔
اس کے باوجود مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق کوئی بھی پارٹی انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں نہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ اس دفعہ بھی لوک سبھا کے انتخابات کے بعد مخلوط حکومت تشکیل پائے گی۔ اس حکومت کی سربراہی کس کے ہاتھ میں ہوگی اس سوال کا جواب بھی ابھی پورے یقین کے ساتھ نہیں دیاجاسکتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved