تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     28-04-2014

ہمالیہ کی گود سے پھوٹتی تحریک

گلگت بلتستان میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک اپنے فوری مطالبات سے آگے بڑھ کرسول نافرمانی اور انقلابی بغاوت کی جانب بڑھ رہی ہے۔گلگت کے گڑی باغ چوک اور سکردوکے یادگار چوک ( جسے مظاہرین نے تحریر اسکوائرکا نام دیا ہے ) میں ہزاروں افراد گزشتہ دو ہفتوں سے گندم کی سبسڈی میں خاتمے کے ساتھ ساتھ مہنگائی، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ، ریاستی جبر اور استحصال کے خلاف دھرنا دیے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ اس دھرنے میں شامل ہو رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام نے تمام تر فرقہ وارانہ اور لسانی اختلافات کو بھلا کر اپنے حقیقی مسائل کے حل کے لئے طبقاتی بنیادوں پر متحد ہوکر پورے ملک کے عوام کے لئے سنہری مثال قائم کی ہے۔ 
گلگت بلتستان میں گندم میں سبسڈی دینے کا آغاز پہلی بارذوالفقار علی بھٹوکے دور حکومت میں ہوا تھا ۔ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ریاست پاکستان متنازع علاقوں کے عوام کو سبسڈی دینے کی پابند تھی۔ یہ سلسلہ پرویز مشرف کے دورحکومت تک جاری رہا مگر 2008ء میں برسراقتدارآنے والی پیپلز پارٹی حکومت نے اپنے بنیادی منشور اور '' روٹی، کپڑا، مکان ‘‘ کے نعرے کو فراموش کرتے ہوئے سبسڈی میںبتدریج کمی کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ فی من گندم کی قیمت جو مشرف دور میں 850 روپے تھی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 1100روپے تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ سبسڈی کی مد میں مختص کی جانے والی رقم کا بڑا حصہ ریاستی افسرشاہی اور حکومتی عہدیداروں کی لوٹ مارکی نذر بھی ہوتا رہا۔ نواز لیگ نے برسر اقتدار آتے ہی رہی سہی سبسڈی بھی ختم کر دی جس کی وجہ سے گندم کی قیمت 1400روپے فی من سے تجاوزکرگئی۔ 
اس معاشی جارحیت کے رد عمل میں اس سال کے آغاز میں 20 سے زائد مذہبی، قوم پرست اور دوسری سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور سماجی کارکنان پر مشتمل ''عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ وجود میں آئی اور مہنگائی میں مسلسل اضافے کوگلگت بلتستان کے عوام نے مستردکرتے ہوئے احتجاجی مظاہروںکا سلسلہ شروع کیا ۔27 فروری کو گلگت، دیامر، گذر، سکردو، استور، ہنزہ نگر میں پہیہ جام اور شٹرڈائون ہڑتال کی گئی۔ مظاہرین نے آٹے اور ہوائی سفر پرسے سبسڈی کے خاتمے کو مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کی فراہمی، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے، وفاق میں گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندگی، علاج کی مفت فراہمی،گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواکے سرحدی تنازعات کو ختم کرنے، ڈیموں کی رائلٹی دینے، حکمرانوں کے لیے بجلی کی فراہمی کے لیے قائم کی گئی خصوصی برقی لائن اورگلگت بلتستان کی معدنیات اور ذخائرکی لوٹ مار کے خاتمے کے مطالبات حکومت کے سامنے رکھتے ہوئے دس مارچ تک کی ڈیڈ لائن دی۔ مطالبات ماننے کی بجائے حکومت نے علاقے میںدفعہ144نافذ کردی۔ دس مارچ کو عوام نے دفعہ 144کو پیروں تلے روندتے ہوئے ایک بار پھر بڑے مظاہرے کئے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ رویہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ مطالبات منظور نہ کئے جانے پر 15اپریل سے گلگت ، دیامر،گذر، استور، ہنزہ نگر اور سکردو میں بیک وقت احتجاجی دھرنوں کا آغاز کر دیا گیا جو دو ہفتے سے مسلسل جاری ہیں ۔ دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے علاوہ گزشتہ کئی ہفتوں سے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ہڑتالوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
گلگت بلتستان سے شائع ہونے والے معروف اخبار '' کے ٹو ‘‘ نے 24 اپریل کو شائع ہونے والے اداریے میں لکھا ہے کہ ''احتجاجی مظاہروں کے دسویں روز میں داخل ہونے کے باوجود جوش و خروش میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو رہا ہے، حکومت گلگت بلتستان کی تاریخ کے اس طویل ترین احتجاج کو معمول کا احتجاج تصور کر رہی ہے، مذاکرات میں بھی سنجیدگی نظر نہیں آئی، حکومت کی نگاہیں وفاق کی جانب مرکوز ہیں اور وہ کسی معجزے کی منتظر نظر آرہی ہے‘‘۔ گلگت بلتستان کے ایک مقامی جریدے میں چھپنے والے ایک تجزیے کے مطابق '' کئی دہائیوں بعد گلگت بلتستان کے عوام تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر سڑکوں پر آئے ہیں، اب عوام کا مسئلہ گندم نہیں بلکہ وہ حکمرانوں اور ان کے نظام سے عاجز آچکے ہیں‘‘۔ تجزیہ نگار مزید لکھتا ہے کہ ''فرقہ واریت کے تعصبات سے عبارت کئے جانے والے اس خطے میں گزشتہ دس دنوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں نظر آئی ہیں۔ کئی عشروں کے بعدشیعہ اور سنی ایک جگہ پر اکٹھے ہیں، منگل کے روز احتجاجی دھرنے میں کئی بزرگ شہریوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ایسے مناظر دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی تھیں‘‘۔
حکمران طبقہ فرقہ وارانہ منافرت کا روایتی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔21 اپریل کو شیعہ علماء کونسل کے رہنما اور گلگت بلتستان کے وزیر پانی و بجلی دیدار علی شاہ اور متحدہ قومی موومنٹ کے وزیر ترقیات و منصوبہ بندی راجہ اعظم خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ '' شیعہ مسلک اور متحدہ قومی موومنٹ کا عوامی ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد ان احتجاجی دھرنوں میں شریک نہیںہوگا‘‘۔ منگل کے روز شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے دھرنے میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اسٹیج سے وزراء کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کی شدید مذمت بھی کی۔ لوگوں کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لئے کئی دوسرے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے جارہے ہیں۔اخبارات میں حکومتی اشتہار شائع کروا کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ دھرنوں میں شریک کئی سرکاری ملازمین کی معطلی کے نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں۔ ملازمین نے ریاستی دھمکیوں اور برطرفیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر یہ عمل بند نہ کیا گیا تو نتائج کے ذمہ دار حکمران خود ہوں گے۔ یاد رہے کہ ماضی قریب میں واپڈا کے محنت کشوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر پورے بلتستان میں گرڈ سٹیشنوں سے بجلی کی فراہمی منقطع کرکے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکردیا تھا۔
تحریک کا کردار واضح طور پر طبقاتی اور اس کی قیادت تاحال عوام کے اجتماعی کنٹرول میں ہے۔ تحریک کے دبائو کے تحت حکمران طبقے کی کئی پارٹیاں اورنمائندے اپنی ساکھ بچانے کے لیے مظاہرین کے ساتھ '' اظہاریکجہتی‘‘ کرنے پر مجبور ہیں اور ماضی میں مخالف فرقے کے خلاف قتل کے فتوے جاری کرنے والے ملا بھی فی الوقت خاموش ہو کر تحریک کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میںحکمران طبقات جھوٹے وعدوں اور اعلانات کے ذریعے عوامی ایکشن کمیٹی کو احتجاجی دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ ایکشن کمیٹی میں شریک مختلف جماعتوں کے ساتھ ساز باز کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ یہ تحریک کے لئے کڑی آزمائش کا وقت ہوگا۔ گلگت بلتستان کے محنت کش عوام اور نوجوانوں کو کسی سیاسی یا مذہبی جماعت پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی قیادت خود تراشنی ہوگی۔ اس مقصد کے لئے ہر علاقے میں عوامی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے جن میں طلبہ، سرکاری اداروں کے عام ملازمین اور محنت کشوں کی خصوصی نمائندگی موجود ہو۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی بالائی قیادت ان ذیلی کمیٹیوں سے منتخب کی جائے۔ 
ریاست، حکمران اور تحریک میں شامل ان کے ایجنٹ معاملے کو طول دینے کی کوشش کریں گے تاکہ سڑکوں پر موجود عوام تھک ہارکرگھروں کو واپس لوٹ جائیں۔گلگت بلتستان کے محنت کش عوام کو اپنی تحریک کو پاکستان بھر کے استحصال زدہ عوام اور مظلوم قومیتوں کی جدوجہد کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جوڑنا ہوگا اور اس صورت حال میں ملک بھر کے بائیں بازو کے انقلابی کارکنوں کا یہ تاریخی فریضہ ہے کہ وہ اس جڑت کی تخلیق میں اپنا کردار ادا کریں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved