تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     04-05-2014

دورۂ برطانیہ …(1)

میں پہلی بارگیارہ برس کی عمر میں اپنے والدگرامی کے ہمراہ برطانیہ گیا جہاںانہوں نے مختلف شہروںمیں تقاریر کیں۔ میں سامعین میں شامل رہااور تقاریرکے بعدمنعقدہونے والی مجالس کا بھی حصہ رہا۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد طویل عرصہ مجھے برطانیہ آنے کا موقع نہ ملا۔2007ء میںمجھے برمنگھم میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کاموقعہ ملا۔اپریل 2011ء میں برطانوی تہذیب، ثقافت اور تمدن کا گہرائی سے مشاہدہ کرنے کا موقع میسر آیا۔ میں نے برطانیہ کے مختلف شہروں میں جلسوں سے خطاب کیااوراس دوران میری ملاقات اسلام کی تبلیغ میںمصروف بہت سے نمایاں لوگوں سے ہوئی جن میں عبدالرحیم گرین، یوسف چیمبرز، حمزہ اینڈریاس اور عدنان رشید شامل تھے۔اس کے بعد مجھے ہر سال ایک یا دوباربرطانیہ میں اجتماعات سے خطاب کی دعوت ملتی رہی اوراس طرح سماجی تعلقات میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔
اس باردوستوں کی دعوت پر 24 اپریل کی صبح برطانیہ کے لیے روانہ ہوا۔ ایئرپورٹ پربورڈنگ کارڈحاصل کرکے ڈیپارچر لاؤنج میں داخل ہوا۔ فلائٹ ساڑھے دس بجے روانہ ہونی تھی۔لائونج میںکچھ نوجوان محبت سے ملاقات کرتے رہے۔ ایک شخص نے آگے بڑھ کر تعارف کروایاکہ ان کا نام آصف ہاشمی ہے اور1998ء میں مَیں نے ان کا نکاح پڑھایا تھا۔ جہاز میں اتفاقاً میری نشست آصف صاحب کے ساتھ تھی ۔
آصف صاحب برطانوی شہریت حاصل کر چکے ہیںاور وہ ''لیوٹن‘‘میں گاڑیوںکا وسیع پیمانے پر کام کرتے ہیں۔ انہوںنے مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی، میں نے ان کی محبت اور خلوص دیکھتے ہوئے ارادہ کر لیاکہ اگر موقع میسر آیا تو لازماً ان کے گھر جائوں گا۔ دوران پرواز مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی موضوعات پرگفتگو ہوتی رہی۔آصف صاحب نے برطانیہ میں موجودپاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے بتایاکہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ملک میں جاری بدامنی کی وجہ سے انتہائی پریشان ہے اورتارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعدادامن وا مان کی صورت حال بہتر ہونے کی صورت میں اپنا سرمایہ پاکستان منتقل کرنے کے لئے تیارہے۔دلچسپ بات چیت کرتے ہوئے سفرتیزی سے گزرتا رہا۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے فلائٹ کئی مرتبہ نا ہموار بھی ہوئی،اس دوران اپنی کمزوری اوراللہ تعالیٰ کی کبریائی کا بڑی شدت سے احساس ہوتا رہا۔ زندگی کے نشیب وفرازمیںانسان یقیناً اللہ کی مدد کا محتاج رہتاہے اور جب تک اللہ رب العزت انسان کی ڈھارس نہ بندھائیں‘ انسان حالات کے مدوجزرکامقابلہ نہیں کر سکتا۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ہر مشکل مقام پرانسان اپنی اصلاح کا ارادہ کرتا ہے لیکن مشکل سے نکلتے ہی دوبارہ اللہ تعالی کی نافرمانی پرآمادہ ہوجاتا ہے۔ یہی معاملہ پروازکے ناہموار ہونے کے دوران بھی ہوتا ہے۔ انسان پختہ ارادہ کرتا ہے کہ اگر میں بحفاظت منزل تک پہنچ گیا تو میں اللہ رب العزت کا تابع فرمان بن کر زندگی گزاروں گا مگر منزل پرپہنچتے ہی وہ دوبارہ بغاوت پرآمادہ ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحیمی اور کریمی ہے کہ وہ پھر بھی انسان کومہلت دیتا رہتا ہے تاکہ وہ اصلاح کر لے۔ 
اللہ کے فضل سے پرواز بحفاظت ایئرپورٹ پراتری اور تمام مسافرجہاز سے نکل کرامیگریشن کاؤنٹرکی طرف روانہ ہوگئے۔ 
ایک وقت تھاکہ پاکستانیوں کو برطانوی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اور ہیتھرو ایئر پورٹ پر اترتے ہی چھ ماہ کی انٹری ہوجایا کرتی تھی۔ مگر بتدریج پاکستانیوں کا برطانیہ میں داخلہ مشکل ہوتا چلاگیااور فی زمانہ برطانیہ کا ویزہ حاصل کرناایک چیلنج بن گیاہے۔ اس کی کچھ ذمہ داری برطانیہ اور یورپی ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں پرعائد ہوتی ہے اور بہت سی ذمہ داری ہمارے حکمرانوں پرکہ انہوں نے پاکستانیوں کے لئے ویزے کی سہولتیں بہتربنانے کے لئے اپنی سفارتی ذمہ داریاںاور پیشہ ورانہ مہارت استعمال نہیںکی۔ برطانیہ کی امیگریشن بھی وقت گزرنے کے ساتھ سخت ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ پاکستان سے جانے والے تمام مسافروں کی اچھی طرح پڑتال کی جاتی ہے اورکبھی کبھار ویزہ ہونے کے باوجودامیگریشن حکام مسافروںکو برطانیہ میں داخل نہیں ہونے دیتے۔
میں نے امیگریشن کاؤنٹر سے اپنا پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد اپنا سفری بیگ اٹھایااور ایئر پورٹ سے باہر نکل آیا۔ ایئرپورٹ سے مجھے لینے کے لئے ریڈنگ کے میرے دوست محمد نبیل آئے ہوئے تھے ۔آٹھ گھنٹوں کی فلائٹ نے جہاںبراعظم عبورکروا دیئے تھے، وہاں وقت بھی پاکستان کے مقابلے میں چارگھنٹے پیچھے جا چکا تھا۔ میں نے چونکہ ظہر وعصرکی نمازیں جہاز اترنے سے پہلے ادا کر لی تھیں،اس لئے تسلی سے ر یڈنگ پہنچاجہاںمیرے استقبال کے لئے برادر محمد ندیم موجود تھے۔
کھاناکھانے کے بعد بستر پرلیٹتے ہی محوخواب ہوگیا،جب آنکھ کھلی تو سورج غروب ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں اداکرنے کے بعد کچھ وقت مطالعے میں صرف ہوا اور کچھ وقت ملاقاتیوں سے بات چیت میںگزرگیا۔ اگلے دن تھکاوٹ کی وجہ سے جمعہ پڑھانے سے معذرت کی اورخطبہ سننے کے لیے سامعین میں شامل ہو گیا۔ نوجوان خطیب نے پاکیزگی اور طہارت کے موضوع پر بہت ہی اثرانگیز خطاب کیا جسے سن کر روح کِھل اٹھی۔نمازجمعہ کی ادائیگی کے بعد طبیعت ہشاش بشاش ہو چکی تھی۔ اسی دوران لندن میں رہنے والے انتہائی فعال دوست اورہیٹن انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ عدنان رشیدکا فون آیا۔ انہوں نے3 تاریخ کو مانچسٹر میں اپنے پروگرام میں آنے کی یاد دہانی کروائی ۔اتوار کی شام تک دوستوں سے ملاقات ہوتی رہی ۔شام کے وقت برادر آصف ہاشمی مجھے لیوٹن لے گئے ۔ رات کولیوٹن میں ہی قیام ہوا اور اگلے دن ان کی گاڑیوںکا شوروم اور ورک شاپ دیکھنے کا موقع ملا۔ پیر کی شام عدنان رشید مجھے لینے کے لئے ریڈنگ پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ 'ہیرو‘کی ایک مسجد میںمسلمان نوجوانوں کے ہمراہ ایک نشست ہوئی ۔ نوجوانوں میں تمام قومیتوں کے لوگ شامل تھے۔انہوں نے بہت زیادہ پیاراور محبت کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر علاقائی پہچان مٹ چکی تھی اور مذہب کا تعلق باقی رہ گیا تھا۔ اللہ تعالی نے مذہب اسلام کے ماننے والوں پر یہ خصوصی کرم کیا ہے کہ یہ دنیاکسی بھی مقام پر ہوں‘ مذہب کے تعلق کی وجہ سے ایک دوسرے سے یوں مانوس ہو جاتے ہیں جیسے ایک مدت سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔'ہیرو‘ کی مسجد میں عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد برادرعدنان رشیدمجھے اپنے گھر لے آئے۔ عدنان رشیدکو دین کی دعوت دینے کا جنون کی حد تک شوق ہے۔ پاکستانی پس منظر سے تعلق رکھنے والے اس برطانوی نوجوان سے میری پہلی ملاقات2007 ء میں اس وقت ہوئی جب میںاپنے والد صاحب کی وفات کے بعد پہلی مرتبہ برطانیہ گیا تھا۔ پر عزم نوجوان دین کی دعوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتا تھا، انگریزی زبان پرکامل عبور حاصل کر چکا تھااور یورپی مسلمانوں کی تاریخ پر بہت زیادہ کتابیں جمع کر کے اپنی ذاتی لائبریری قائم کر چکا تھا۔ اس کا عزم بتا رہا تھا کہ وہ آنے والے برسوں میں کچھ نہ کچھ کرکے چھوڑے گا۔ جب میں 2011ء میں برطانیہ آیا توعدنان رشید بطور مبلغ برطانوی معاشرے میں ابھرناشروع ہو چکے تھے اورآیرہ نامی معروف تبلیغی تنظیم کے مقرربن چکے تھے۔وہ مجھے اپنے ہمراہ آیرہ کے ہیڈ آفس میں لے کرگئے ۔انہوںنے میری ملاقات مشہوربرطانوی مبلغ عبدالرحیم گرین سے کروائی۔ عبدالرحیم گرین سے ہونے والی یہ ملاقات تاریخی ثابت ہوئی اور ہم دیرتک اسلام ،امت مسلمہ اورمسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں گفتگوکرتے رہے۔ 
عدنان رشید کے گھر رات گئے تک ہم محو گفتگو رہے۔اس دوران میں نے ''احساسات‘‘ کے نام سے لکھی گئی اپنی نظموںکے مجموعے پر بھی ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ نظمیں پڑھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے کہنے لگے کہ آپ کو اپنی شاعری کے سفر کو بھی جاری رکھنا چاہیے اور خطاب اور قلم کاری کے ساتھ ساتھ اس میدان کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ برادر عدنان رشید بھی پاکستان کے سیاسی خلفشاراور بدامنی پر بہت پریشان تھے۔ ہم دونوں بھائیوں نے رات کے پچھلے پہر خلوص دل سے پاکستان کی بقاء اور استحکام کے لئے دعا مانگی اور اس کے بعد ہم محو آرام ہوگئے۔ (جاری) 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved