تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     10-05-2014

خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاست

کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی حکومت کو فی الحال خارجہ پالیسی کے پیچیدہ مسائل میں اْلجھنے کے بجائے ملک کے اندرونی محاذ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ یہ مشورہ دو وجوہ کی بنا پر پیش کیا جارہا ہے۔ایک یہ کہ اس وقت اندرونی محاذ پر قوم کو درپیش مسائل زیادہ شدید نوعیت کے ہیں اور فوری حل کے مستحق ہیں۔ان مسائل کے حل میں تاخیر سیاسی عدمِ استحکام کا باعث بن سکتی ہے، مثلاً بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور معیشت کی بحالی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے ، اس کے باوجود ابھی تک عام آدمی کو کسی واضح شکل میں ریلیف نہیں مل سکا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کے شعبے میں خصوصاً دو ہمسایہ ممالک یعنی بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو ایک نیا موڑ دینے سے کچھ ایسے حلقوں سے چپقلش کا خطرہ ہے جنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے ان معاملات کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔جناب نوازشریف نے انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے بعد بھی بھارت اور افغانستان کے ساتھ حقیقت پسندی پر مبنی دوستانہ اور پْرامن تعلقات کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا تھا ان حلقوں کے مطابق ابھی اْس پر عمل درآمد کا وقت نہیں آیا۔
میری نظر میں یہ رائے صائب نہیں اور اسے پیش کرنے والوں نے یاتو کسی ملک کی خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاست میں اہم ربط کو پیش نظر نہیں رکھا یا پھرملک کی سیاسی اور عسکری قیادت میں اس وقت جاری مبینہ تنائو کو مبالغہ آمیز حد تک تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔ خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاست کا ہمیشہ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اور دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔خصوصاًآج کی 
دنیا میں جو گلوبلائیزیشن کی وجہ سے سمٹ کر ایک گائوں کی شکل اختیار کر چکی ہے،پاکستان کے معاملے میںتو صورتِ حال اور بھی واضح ہے۔معیشت کی بحالی کا مسئلہ ہی لے لیجیے اس کیلئے درکار بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ بین الاقوامی برادری کے تعاون خصوصاً ترقی یافتہ ممالک کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی شرح میں کمی کی وجہ ملک کی لاء اینڈ آرڈر اور سکیورٹی کی خراب صورتِ حال ہے لیکن اس کے لیے علاقائی امن بھی بہت ضروری ہے۔اس کے بغیر پاکستان میں نہ تو پوری طرح امن قائم ہوسکتا ہے اور نہ ہی ملک میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوسکتی ہے۔اس کا اعتراف ہماری قومی قیادت ہی نہیں ،بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھی کیا جارہاہے۔ایک ایسا ملک جس کی معیشت کا انحصار کلیتاًبرآمدات پر ہو،اپنے پڑوس میں محاذ آرائی اور کشیدگی یا جنگ کے خطرے کا متحمل نہیںہوسکتا۔''ایڈنہیں، ٹریڈ‘‘کے موقف کو تسلیم کرانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اْن ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کریں جن کے ساتھ تجارت بڑھانے سے ہماری معیشت مضبوط ہوسکتی ہے۔اس وقت جنوبی ایشیا پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے ،صرف دہشت گردی کے حوالے سے نہیں بلکہ اْن بے شمار مواقع کی وجہ سے بھی جو سوا کھرب آبادی والا خطہ تجارت،سرمایہ کاری اور مشترکہ کاروبار کے شعبوں میں پیش کرتا ہے۔امریکہ،برطانیہ،رْوس،یورپی 
یونین،چین اور جاپان جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ،جن میں پاکستان بھی شامل ہے،قریبی اقتصادی تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔اس مقصد کے لیے ان ممالک نے خطے کے ممالک کے ساتھ دوطرفہ بنیادوں پر معاہدوں پر دستخط کیے اور''سارک ‘‘میں ابزرور سٹیٹس(Observer Status)بھی حاصل کر رکھا ہے۔ان معاہدوں کے تحت عملی اقدامات کے لیے ضروری ہے کہ خطہ کشیدگی اور جنگ کے خطرات سے پاک ہو۔
اس وقت دومسائل ایسے ہیں جن سے نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے بلکہ وہ پاکستان کے لیے اہم چیلنجوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔ان میں سے ایک بھارت اور پاکستان کے درمیان ڈائیلاگ کی عدم موجودگی کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال ہے۔اس کشیدگی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اْمیدوار برائے وزارت عظمیٰ نریندرمودی کے جارحانہ بیانات اور لائن آف کنٹرول پر حالیہ جھڑپوں نے اضافہ کر دیا ہے۔
دوسرا مسئلہ افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال ہے۔امریکہ نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مبنی مفاہمت کی جس کوشش کا آغاز کیا تھا،وہ اب تتر بتر ہوچکی ہے۔اپریل میں صدارتی انتخابات پْر امن طریقے سے ہوئے لیکن افغان نیشنل آرمی اورنیٹو افواج کے ٹھکانوں پر افغان طالبان کے حملوں نے تیزی اختیار کرلی ہے۔سبکدوش ہونے والے افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں امن اور مصالحت کی کوششوں کی ناکامی کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔اب افغانستان میں طالبان کے حملوں کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈالی جارہی ہے۔اس سلسلے میں28اپریل کو مشرقی افغانستان میں افغان نیشنل آرمی کے ایک اڈے پر طالبان کے ایک حملے کا خاص طور پر ذکر کیا جارہا ہے۔افغان فوجی ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ500حملہ آوروں میںسے 300کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے تھا جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اْنہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں،لیکن سب سے تشویشناک افغانستان اور پاکستان کے لیے صدر اوبامہ کے خصوصی نمائندے جیمزڈوبنزکا بیان ہے جس میں اْنہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کوششوں کو پروان چڑھانے میں ناکام رہا ہے۔مسٹرڈوبنز نے گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں اْنہوں نے پاک افغان سرحدی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔ واپسی پر واشنگٹن میں امریکی کانگرس کے رو برو بیان دیتے ہوئے اْنہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان اپنے ہاں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف ضروری اقدامات میں ناکام رہا ہے اور''فاٹا ‘‘ اور بلوچستان میں مقیم دہشت گرد نہ صرف افغانستان بلکہ بھارت میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔دوسری طرف برطانوی پارلیمنٹ کے بھی کچھ ارکان نے پاکستان کے لیے برطانوی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے حق میں اْنہوں نے یہ دلیل دی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں دی جانے والی برطانوی امداد پاکستان کسی اور مد میں خرچ کر رہا ہے۔انہی معاملات پر بات چیت کرنے کے لیے امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لائڈجے آسٹن اس ماہ کے آغاز میں اسلام آباد پہنچے تھے، جہاں اْنہوں نے دیگر افسران کے علاوہ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی ۔
ان تمام معاملات کا تعلق خارجہ پالیسی سے ہے۔ انہیں نہ تو نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان سے نمٹنے میں تاخیر یا سْست روی کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔ایک اچھی خبر یہ ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف اس ماہ افغانستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں تعینات پاکستانی سفیروں کی کانفرنس بلا کر بھی ایک اہم اور بروقت اقدام کیا گیا ہے۔لیکن خارجہ پالیسی کے شعبے میں جمہوری طریقے اور بھاری اکثریت سے منتخب حکومت سے جن جرأت مندانہ اقدامات کی توقع کی جارہی تھی،وہ فی الحال نظروں سے اوجھل ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved