تحریر : وصی شاہ تاریخ اشاعت     15-05-2014

لیاری

لیاری گینگ وار کے اہم کردار بابا لاڈلا کے پاک ایران سرحد پہ مارے جانے کی متضاد اطلاعات آنا شروع ہوئیںتومجھے کچھ عرصہ قبل اپنا لیاری کا وہ سفر یاد آگیا جو اس علاقے کو اندر سے دیکھنے ، اس کے معاملات ومسائل کو سمجھنے کی غرض سے کیاگیا تھا۔ 
میں اپنے ایک دوست صحافی فواد احمد اور اُن کے ''سورس‘‘ کے ہمراہ لیاری میں داخل ہوا تو یہ شام کے تقریباً 5بجے کا وقت تھا۔اندھیرے نے اُجالے کو ہلکاہلکا اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہی تھا۔ فواد احمد مجھے لیاری کی تنگ گلیوں اور لیاری کے محل وقوع کے بارے میں بتاتے جا رہے تھے۔ تنگ وتاریک، ٹوٹی پھوٹی گلیوں جیسی سڑکیں، جگہ جگہ سے اُکھڑی ہوئی اور ہر پندرہ بیس قدم کے فاصلے پر تقریباً نو، نو انچ اونچے سپیڈ بریکر۔لیاری کے حالات سے آگاہی رکھنے والوں کیلئے ان سپیڈ بریکرز کے ''مقصد ‘‘کو سمجھنا مشکل نہیں۔ گنجان آباد گلیوں میں تجاوزات اتنی ہیں کہ بعض گلیوں میں سے گاڑی کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے اور اگر گاڑی موڑنی پڑ جائے تو بغیر آگے کسی چوک تک پہنچے گلی کی تنگی کے باعث وہاں سے گاڑی موڑنا ناممکن...
زندگی رواں دواں تھی۔ مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے جوان آجا رہے تھے مگر ہر چہرے پر جیسے کچھ سوالات تھے جن کے جوابات شاید کسی کے پاس نہیں۔ خوف کا عالم تھا جو لیاری کے لوگوں کو اپنی جکڑ میں لیے ہوئے تھا ۔ہماری گاڑی ایک چوک میں مدرسے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی، میں نے محسوس کیا کہ گاڑی کے اندر بیٹھے لوگوں کی آنکھوں میں بھی خوف کے سائے تیر رہے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ کب کہاں سے کوئی بے نام گولی آجائے۔ تھوڑی دیر بعد ''سورس‘‘ نے کسی اور جگہ آنے کو کہا ۔ہماری گاڑی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گئی۔ اس دوران شدت سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ ہماری لمحہ لمحہ کی حرکت ''واچ‘‘ اور ''نوٹ‘‘ ہو رہی ہے۔ کچھ دیر ہم بتائی ہوئی جگہ پر کھڑے رہے جس کے بعد ہمیں فواد کے ''سورس‘‘ کا آدمی آکر ایک گھر لے گیا، یہ بہ مشکل ڈیڑھ مرلے کا ہو گا جس میں بچیوں کا سکول بھی قائم تھا۔ ہمیں اندر والے کمرے سے گزر کر اوپر جانے کا کہا گیا۔ اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں اتنی تنگ تھیں کہ اگر کسی شخص کا وزن 80 یا 90 کلو سے زیادہ ہو تو شاید وہ ان سیڑھیوں سے گزر کر اوپر نہ جا سکے... ہم اوپر پہنچ کر زمین پر بچھی دریوں پر بیٹھ گئے، میں نے فواد سے آنکھوں آنکھوں میں سوال کیا، اور فواد نے میرا سوال سمجھتے ہوئے اپنے ''سورس‘‘ سے پوچھا ''عزیر بلوچ سے کب تک ملاقات ہو گی...؟‘‘ ''بس کچھ دیر اور۔۔۔ میں رابطہ کر رہا ہوں۔ لائن کلیئر ہو جائے تو آپ لوگوں کو لے جائوں گا ۔بے فکر رہیں۔ ملاقات طے ہے لیکن کچھ معاملات کلیئر کرنا ضروری ہیں‘‘عزیر بلوچ کے قریبی آدمی اور ''سورس‘‘ نے جواب دیا اور پھر پر اسرار انداز میں فون پر مصروف ہو گیا۔ چھوٹے سے کمرے میں ایک پراسرار سی خاموشی تھی جو رگوں میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ ہمارے ساتھ آیا ہوا ایک اور نوجوان رپورٹر خاصا گھبرایا ہوا ہے۔ میں اس کی پیشانی پر چمکتے ہوئے پسینے کے قطرے واضح محسوس کر سکتا تھا... اتنی دیر میں مشروب آگئے، میں نے مشروب کی چُسکیاں لیتے ہوئے ''سورس‘‘ سے لیاری کے بارے میں سوالات شروع کر دیے۔میں نے محسوس کیا کہ ہمارا سورس میرے سوالات کے جوابات تو دے رہا ہے مگر اس کا دھیان مستقل موبائل فون پر ہے۔ کبھی وہ کسی سے دو تین لفظوں پر مبنی مختصر سی سے بات کرتا اور کبھی جلدی جلدی فون پر میسیج لکھنے اور فون پر آیا ہوا میسیج پڑھنے میں مصروف ہو جاتا، اس دوران دونوجوان کمرے میں آئے اور گئے اور ہمارے سورس کی ان سے بلوچی زبان میں کوئی بات بھی ہوئی پھر اچانک ہی ہمارا سورس میرے سوالات کے جوابات دیتے دیتے اٹھ کھڑا ہوااور بولا ''بھائی‘‘ اس وقت ایک کارکن کی برسی میں شریک ہیں وہیں چلنا ہو گا‘‘ ہم سب تنگ زینے سے نیچے اُترنے لگے۔ جب ''سورس‘‘ کے گھر سے باہر نکلے تو گلیوں میں رات اُتر چکی تھی۔ اندھیرا ہو چکا تھا۔ سورس اور اس کے ساتھ کے کچھ لڑکے جو جدید آتشیں اسلحے سے لیس تھے ،ہمیں لے کر مختلف گلیوں سے گزرنے لگے اور اس گلی کی طرف بڑھنے لگے جدھر لیاری گینگ وار کا اہم ترین کردار عزیر بلوچ اپنے کسی کارکن کی برسی میں شریک تھا۔ 
کئی گلیوں سے گزرنے اور کئی موڑ مڑنے کے بعد ہمیں گاڑی سے اُتار دیا گیا اور بتایا گیا کہ اس جگہ سے آگے پیدل جانا ہو گا۔ گاڑی کو مزید آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس گلی سے آگے دور دور تک عزیر بلوچ گینگ کے لڑکے اسلحہ تھامے کھڑے تھے۔ ان کی تعداد بلاشبہ 40 سے پچاس کے قریب ہو گی زیادہ تر شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ البتہ کچھ نے پینٹ شرٹ بھی پہن رکھی تھی، اور تقریباً سب کے پاس جدید ترین اسلحہ تھا ،لباس کے اوپر میگزینز والی جیکٹس پہن رکھی تھیں جن میں بھرے ہوئے میگزینز نمایاں تھے۔
جوں جوں ہم گلیوں سے گزر کے متعلقہ گلی کی طرف بڑھ رہے تھے، ہمارے کانوں میں وعظ کی آواز بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ کوئی مولانا، کارکن کی برسی پر خطاب فرما رہے تھے ۔بالآخر ہم اس گلی میں داخل ہوئے جدھر دور گلی کے آخر میں مولانا وعظ کر رہے تھے۔ یہ ایک پتلی مگر بہت لمبی گلی تھی جس میں تقریباً دو ہزار کے قریب لوگ دریوں پر بیٹھے مولانا کاوعظ سن رہے تھے۔مولانا چھوٹے سے سٹیج پر کرسی کے اوپر بیٹھے تھے جب کہ باقی لوگ کچھ بزرگوں کے ساتھ سٹیج پر بچھی ہوئی دری پر بیٹھے تھے۔ ہم لوگوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے سٹیج کے پاس پہنچ گئے۔ سٹیج پر بیٹھے کسی گن مین نے سٹیج پر بیٹھے ایک شخص کے کان میں کچھ کہا اور مجھے قریب جانے کا اشارہ کیا۔ میں اس شخص کے بالکل پاس پہنچا ۔درمیانے قد کے بظاہر عام سے نظر آنے والے اس شخص نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور میں اس کے بالکل ساتھ بیٹھ گیا، وعظ جاری تھا اور میں اس دوران بار بار اس کی شخصیت کا جائزہ لے رہا تھا جس نے پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں بیٹھ کر ان دنوں صدر زرداری کو للکارا تھا اور سارے کراچی کیلئے دہشت کی علامت بنتا جا رہا تھا۔ اور وہ تھا عزیر بلوچ...! 
(آخری حصہ اگلے کالم میں)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved