تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     01-06-2014

سزا

وہ کافرہ تھی؟ نہیں! اہل کتاب میں سے تھی؟ نہیں! ہندو تھی؟ نہیں! پارسی تھی؟ نہیں! وہ مسلمان تھی۔ نبی آخرالزمانﷺ کی اُمت میں سے تھی۔ 
اسے مارنے والے امریکی تھے؟ نہیں! بھارتی تھے؟ نہیں! غیر مسلم تھے؟ نہیں! وہ سب مسلمان تھے! 
اسے کہاں مارا گیا؟ مقبوضہ کشمیر میں؟ نہیں! اسرائیل میں؟ نہیں! بھارتی گجرات میں؟ نہیں! مشرقی پنجاب میں؟ نہیں! غزہ کی پٹی میں؟ نہیں! برما میں؟ نہیں۔ اسے اس ملک میں مارا گیا جسے اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے‘ جس کے بارے میں تواتر سے کہا جاتا ہے کہ ستائیسویں رمضان المبارک کو وجود میں آیا تھا۔ جس کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ واحد مسلم ملک ہے جو نظریاتی بنیادوں پر تخلیق ہوا۔ جہاں اسلامی نظام کے بارے میں آئے دن تحریکیں چلتی ہیں‘ جلوس نکلتے ہیں‘ شاہراہیں بند ہو جاتی ہیں۔ 
محمد رسول اللہﷺ کی یہ امتی کیا تنہا ماری گئی؟ نہیں! اس کے بطن میں اس کا جائز بچہ تھا‘ جو ذی روح تھا! اُسے بھی ساتھ ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 
اس مسلمان خاتون کو دنیا کی واحد اسلامی نظریاتی مملکت میں کس طرح قتل کیا گیا؟ کیا اُسے گولی ماری گئی؟ نہیں! کیا تلوار سے سر قلم کیا گیا؟ نہیں! کیا اُسے تختۂ دار پر لٹکایا گیا؟ نہیں! کیا اُسے برقی کرسی پر بٹھا کر بٹن آن کر دیا گیا؟ نہیں! کیا اُسے زہرکا ٹیکہ لگا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سلا دیا گیا؟ نہیں! کیا اُسے دیوار میں چنوا دیا گیا؟ نہیں! کیا اسے مینار سے نیچے پھینکا گیا؟ نہیں! اُسے اینٹوں اور پتھروں سے مارا گیا۔ مسلسل مارا جاتا رہا، یہاں تک کہ اس کا سر ریزہ ریزہ ہو گیا‘ اس کا حمل ضائع ہو گیا اور وہ زندگی کی سرحد سے گزر گئی! 
جب اسے سنگ باری کا نشانہ بنایا جا رہا تھا‘ کیا وہ اس وقت تنہا تھی؟ نہیں! کیا یہ واقعہ کسی دور افتادہ ویرانے میں پیش آیا؟ نہیں! کیا یہ سانحہ کسی چھوٹے قصبے یا قریے میں واقع ہوا؟ نہیں! یہ سب سے بڑے صوبے کے سب سے بڑے شہر کے سب سے زیادہ پُررونق اور پُرہجوم حصے میں پیش آیا۔ اس وقت وہاں بہت سے لوگ موجود تھے۔ یہاں تک کہ پولیس کے افراد بھی وہیں تھے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا۔ کسی نے بھی مسلمان خاتون کو بچانے کی کوشش نہیں کی! 
کیا اس مسلمان خاتون نے کوئی جرم کیا تھا؟ نہیں! کیا یہ زنا کی مرتکب ہوئی تھی؟ نہیں! کیا یہ چوری ڈاکے یا قتل کی مجرم تھی؟ نہیں! اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی جس کی اس کے مذہب‘ اس کے قانون نے اسے اجازت دی ہوئی تھی! 
کیا اس وحشیانہ قتل پر کسی مذہبی رہنما نے احتجاج کیا؟ کیا کسی مذہبی جماعت نے اس سانحہ پر کوئی ردِعمل ظاہر کیا؟ نہیں! کیا میڈیا کے وہ ملازم جو بزعمِ خود مذہب کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں‘ جن کی آنکھوں کو ہر شے میں فحاشی نظر آتی ہے اور جن کے ایک ایک کالم میں بیس بیس مرتبہ ''میں‘‘ کا لفظ ہوتا ہے‘ اس بربریت پر کچھ بولے یا انہوں نے کچھ لکھا؟ نہیں! 
کیا ان مذہبی جماعتوں نے‘ جو چیچنیا سے لے کر برما تک اور فلسطین سے لے کر افغانستان تک‘ ہر خطۂ زمین کے مسلمانوں کے قتل پر ہڑتالیں کرتی ہیں‘ احتجاج کرتی ہیں‘ جلسے برپا کرتی ہیں اور دھرنے دیتی ہیں‘ اس پاکستانی خاتون کے بہیمانہ قتل پر کوئی احتجاج کیا‘ کوئی جلسہ کیا‘ کوئی جلوس نکالا‘ کوئی قراردادِ مذمت پیش کی؟ نہیں! ان مذہبی رہنمائوں نے اور ان دینی جماعتوں نے خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف کبھی ایک لفظ نہیں کہا۔ اس ملک میں آئے دن کم سن بچیوں کے نکاح ونی اور سوارہ کی رسموں کے تحت عمر رسیدہ مردوں سے کر دیے جاتے ہیں‘ کاروکاری میں عورتوں کو ہلاک کیا جاتا ہے‘ یہاں تک کہ عورتوں کو کتوں کے ذریعے بھی مارا گیا اور صحرا میں جنازے کے بغیر دفن کیا گیا‘ زمیندار اور ان کے کارندے اکثر عورتوں کو برہنہ کر کے گلیوں میں پھراتے ہیں، لیکن کسی مذہبی رہنما‘ کسی عالم دین‘ کسی دینی جماعت نے ان غیر شرعی جرائم کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ 
کیا کم سن بچیوں کے نکاح کو جائز قرار دینے اور دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کو حرفِ غلط کی طرح منسوخ کرنے والوں نے اس گھنائونے جرم پر کسی قسم کی کوئی رائے دی؟ نہیں! عورتوں کے ساتھ ناانصافی کا مسئلہ ان کے دائرہ کار سے باہر ہے! 
کیا اس بات کا امکان ہے کہ منتخب اداروں میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی کی جائے؟ نہیں! ماضی میں کوشش کی گئی لیکن اکثریت اس قانون سازی کے خلاف متحد ہو گئی! 
کیا حضرت مولانا مفتی عمران خان مد ظلہم العالی نے اس دلگداز واقعہ پر کسی افسوس کا اظہار کیا؟ نہیں! وجہ ظاہر ہے‘ چونکہ اس خاتون کو قتل کرنے والے امریکی نہیں تھے‘ نہ ہی یہ کسی ڈرون حملے کا نشانہ بنی‘ نہ ہی اس کا قبائلی علاقے سے تعلق تھا‘ اس لیے آپ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا! حضرت مولانا مفتی عمران خان مدظلہ‘ جو اہلِ مدرسہ کے دستِ راست ہیں اور عنقریب تحریک انصاف کو جے یو آئی میں ضم کر دیں گے‘ کسی پاکستانی فوجی یا پاکستانی مرد یا پاکستانی عورت یا پاکستانی بچے کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار نہیں کرتے! ابھی مئی کے پہلے ہفتے کے اختتام پر نو پاکستانی فوجی بم دھماکے میں شہید کیے گئے، عمران خان نے اُف تک نہ کی۔ لیکن جیسے ہی دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی عساکر حرکت میں آئے‘ خان صاحب نے واویلا مچا دیا اور اپنے ملک کی فوج پر گھنائونا‘ شرم ناک اور بے بنیاد الزام لگایا کہ وہ امریکہ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ فرماتے ہیں کہ شمالی وزیرستان کو الگ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ وہ صاحب کہہ رہے ہیں جنہوں نے کبھی قبائلی علاقوں کو مین سٹریم میں ضم کرنے کی بات کی‘ نہ وہاں کی زراعت، تعلیم یا صنعت و حرفت کے بارے میں کبھی کوئی منصوبہ پیش کیا۔ رشتہ داری کی وجہ سے جذباتی تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ وہاں کے جرگہ سسٹم کو‘ جس کا شریعت سے تعلق ہے نہ قانون سے‘ آئیڈیل بنائے ہوئے ہیں۔ قیاس کہتا ہے کہ وزیر اعظم بننے پر پورے ملک میں عدالتوں کے بجائے جرگہ سسٹم نافذ کر دیں گے خاص طور پر وہ شق جس کے تحت ''مجرموں‘‘ کے رہائشی مکانات بلڈوزروں سے مسمار کیے جاتے ہیں! 
کیا اسلام کے اس قلعے کو‘ جہاں نبی آخرالزمانﷺ کی امت کی بیٹیاں‘ بہنیں اور مائیں وحشیانہ ظلم کا رات دن شکار ہو رہی ہیں‘ جہاں ان کے حقوق ہیں نہ ان کی حفاظت‘ جہاں وہ بوڑھوں سے بِن پوچھے باندھ دی جاتی ہیں‘ جنازوں کے بغیر صحرا میں دفن کر دی جاتی ہیں‘ گلیوں میں برہنہ پھرائی جاتی ہیں‘ زبردستی زیادتی کا شکار ہونے کے باوجود‘ جیل میں پھینک دی جاتی ہیں اور جہاں کسی جرم کے بغیر اینٹوں سے کچل دی جاتی ہیں، یہاں تک کہ ان کے پیٹوں میں سانس لینے والے بچے بھی موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں‘ کیا اس ملک کے بے حس باشندوں کو‘ ان قاتلوں کو، ان قاتلوں کے محافظوں کو کوئی سزا نہیں ملے گی؟ ضرور ملے گی! کیا یہ بُش اور اوباما اپنی قوت سے حکمران بنے تھے؟ کیا وہ طاقت جو قبر میں بچھو سانپ اور آگ پیدا کر سکتی ہے‘ قبر سے باہر مودی کو اقتدار نہیں دے سکتی؟ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved