تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     08-06-2014

تھینک یو

برطانیہ سے میرے کالم ''پرابلم کس کے ساتھ ہے‘‘ کے حوالے سے عبدالحکیم صاحب‘ جو 1950ء کی دہائی میں پاکستان سے گئے تھے، کی ای میل مجھے 2007ء میں لے گئی ۔ 
لندن کے گولڈ اسمتھ کالج میں پڑھتے ہوئے مجھے برٹش کونسل اسلام آباد کی ای میل ملی کہ آپ کو سکالرشپ پر پڑھتے ہوئے تین ماہ گزر گئے‘ ہم جاننا چاہتے ہیں آپ نے اب تک کیا سیکھا ہے۔ میں ہنس پڑا‘ بھولے بادشاہو ہم تو ماں باپ کے خرچے پر سولہ برس پڑھ کر کچھ نہ سیکھ سکے اور آپ فرماتے ہیں ہم آپ کے مفت کے پیسوں پر تین ماہ پڑھ کے ہی یہ بتائیں کہ ہم نے کون سی دنیا فتح کر لی ہے۔ میں سوچتا رہا کہ برٹش کونسل کی خاتون افسر مجھ سے کیا توقع رکھتی تھی۔ اس کے نزدیک میں نے اب تک کیا سیکھا ہوگا؟ اس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ سوال سب پاکستانیوں سے کیا تھا‘ جنہیں اس سال سکالرشپ ملے تھے اور ان میں سے اچھے جواب والا مضمون ان کے میگزین میں چھپے گا ۔ 
ایک تو دل چاہا کہ ایسی جھوٹی کہانی لکھ کر بھیجوں جسے پڑھ کر برٹش کونسل میں بیٹھے لوگ اشک بار ہوجائیں اور میرا ہی مضمون اٹھا کر چھاپ دیں‘ پھر پتہ نہیں دل میں کیا آئی کہ میں نے اس خاتون کو لکھ بھیجا: اپنے یورپین کلاس فیلوز کی وجہ سے میں نے تھینک یو اور سوری کرنا سیکھ لیا ہے۔ ہاں اب میں مسکرانا بھی سیکھ رہا ہوں ۔ سب مسکراتے رہتے ہیں تو مجھے بھی مجبوراً مسکرانا پڑتا ہے۔ شروع میں ڈر لگتا تھاکہیں کوئی لڑکی مسکراتے دیکھ کر کھڑے کھڑے بے عزتی ہی نہ کردے اور اگر کوئی زیادہ حساس نکل آئی تو سب کے سامنے منہ پر تھپڑ مار کر‘ فون کر کے بھائی کو ہی نہ بلا لے؛ تاہم جب ایک لڑکی کو مسکرا کر دیکھا تو وہ بھی آگے سے مسکرا دی۔ اس سے کچھ دل کو تسلی ہوئی۔ اب اعتماد اتنا بڑھ گیا ہے کہ آتے جاتے خوبصورت لڑکیوں کو دیکھ کر مسکرا دیتا ہوں اور وہ بے چاریاں بھی میری نیت سے بے خبر آگے سے مسکرا دیتی ہیں کیونکہ یہ ان کی بچپن کی تربیت کا حصہ ہے یا پھر اس عادت کا‘ جس کا فائدہ میں مسلسل اٹھاتا رہتا ہوں۔ اور ہاں‘ اس کے علاوہ میں نے ایک اور بات سیکھی ہے کہ جب آپ کسی دروازے سے گزر رہے ہوں تو تھوڑا سا مڑ کر پیچھے دیکھیں‘ کوئی اور تو نہیں آرہا؟ اگر آرہا ہو تو آپ نے اس کے لیے دروازہ پکڑ کر رکھنا ہے تاکہ وہ بھی گزر جائے۔ ایک اور بات بھی سیکھی ہے ۔ کلاس پروفیسر کو پہلے نام سے پکارنا ہے۔ اسے 'سر‘ نہیں کہنا۔ ایک پروفیسر کو 'سر‘ کہہ دیا تو وہ اتنا ناراض ہوئے کہ مجھے کلاس کے بعداپنے دفتر بلایا اور آدھا گھنٹہ اس پر صرف کیا کہ کلاس میں آئندہ 'سر‘ کیوں نہیں کہنا۔ اس ڈانٹ کے بعد میں نے کہا کہ اگر میں پاکستان میں 'سر‘ نہ کہتا تو نہ صرف ڈانٹ پڑتی بلکہ بدتمیز کہہ کر کلاس سے باہر نکال دیا جاتا۔ 
پہلے دن کلاس روم گیا تھا تو ہر کلاس فیلو کے ہاتھ میں کافی کا کپ، سینڈوچ، برگر اور ناشتہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ دل ہی دل میں کہا کہ آج تو ان سب کی خیر نہیں۔ سر کلاس میں آئیں گے اور سب کو ڈانٹ پلائیں گے کہ یہ کیا بدتمیزی ہے‘ کلاس میں کھانا پینا چل رہا ہے؟ اکیلا میں ہی سمجھدار نکلا تھا جو کلاس میں کافی یا چائے لے کر نہیں آیا تھا۔ میری ساری خوشی اس وقت ادھوری رہ گئی جب کلاس کے انچارج ٹیچر خود کافی کا ایک لارج مگ اٹھائے کلاس میں داخل ہوئے۔ کلاس کے ساتھ ساتھ ناشتہ بھی ہورہا تھا۔ ان سب کو کھاتے اور کافی پیتے دیکھ کر مجھے بھوک لگ گئی اور میرا دھیان اب کلاس سے زیادہ اس بات کی طرف تھا کہ کب کلاس ختم ہو اور میں کینٹین پر جا کر کافی پیوں۔ 
مجھے برٹش کونس اسلام آباد سے جواباً ای میل آئی‘ جس میں میری ان باتوں پر بڑی حیرانی ظاہر کی گئی تھی۔ لکھا تھا‘ یہ لندن جا کر سیکھنے والی باتیں تو نہیں تھیں کہ دوسروں کو تھینک یو یا سوری بولنا ہے یا پھر مسکراہٹ دینی ہے یا پھر دوسرے کے لیے دروازہ کھولنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان عام باتوں کا تو سب کو علم ہونا چاہیے اور یہ تو بچپن سے ہی سب سیکھ جاتے ہیں۔ ہم دونوں اپنی اپنی جگہ حیران تھے۔ ای میل بھیجنے والا میری کم عقلی پر حیران کہ سکالرشپ پر جا کر کیا سیکھ رہا تھا‘ جب کہ میں اس پر حیران کہ اس کے خیال میں مجھے لندن جانے سے پہلے ہی یہ سب باتیں سیکھ لینی چاہیے تھیں۔ 
یہی بات میں نے لیوس میں ہارٹ سپیشلسٹ ڈاکٹر احتشام قریشی کو بتائی تو وہ گھر کے اندر سے ایک کتاب اٹھا لائے اور میرے ہاتھ میں تھما کر کہا شاہ جی ذرا اسے پڑھو۔ یہ کتاب آج کل امریکہ میں خاصی پڑھی جاتی ہے‘ جس کا عنوان اور تھیم یہی ہے کہ ہم جو کچھ پہلی کلاس میں پڑھتے ہیں وہ ماسٹرز تک ہماری مدد کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر ہی تربیت ہوتی ہے۔ بیٹھے بیٹھے کچھ صفحات پڑھے تو احساس ہوا کہ جو چیزیں یہاں امریکن اپنے بچوں کو پہلی کلاس میں پڑھاتے ہیں وہ تو میں نے آج تک نہیں پڑھی تھیں۔ اور برٹش کونسل کی ایک خاتون مجھے کہہ رہی تھی کہ یہ باتیں ہم سب کو بچپن میں ہی سیکھ لینی چاہیے تھیں۔ 
پچھلے دنوں واشنگٹن کے دوست اکبر چوہدری کے ساتھ بک شاپ پر گیا ۔ ہم دونوں سے پہلے ایک امریکن اپنے بارہ سالہ بیٹے کے ساتھ داخل ہورہا تھا۔ امریکن نے ہم دونوں کے لیے دروازہ کھولا اور ہمیں گزرنے کا اشارہ کیا ۔ اس کا بیٹا جس کی عمر بارہ برس ہوگی ہم سے پہلے گزر گیا تھا ۔ مین گیٹ کے بعد ایک اور چھوٹا دروازہ تھا ۔ وہ بچہ ہمیں اپنے پیچھے محسوس کر کے فوراً ایک طرف ہوا۔ ہم دونوں کے لیے دروازہ کھول کر احترام سے کہا... پلیز۔ وہ باپ بیٹا میرے اور اکبر چوہدری کے بعد اندر داخل ہوئے۔ ہو سکتا ہے یہ بات آپ کو چھوٹی لگے لیکن اندازہ کریں باپ کو یہ بات اپنے بارہ سالہ بیٹے کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑی کہ وہ ایک دروازے سے ہم سے پہلے گزر گیا تھا لیکن اس نے دوسرے دروازے کو کھول کر ہم دونوں کو وہاں سے گزرنے دیا اور دروازہ پکڑے رکھا۔ اکبر چوہدری اور میں نے دل کی گہرائیوں سے باپ بیٹے کا شکریہ ادا کیا ۔ اس واقعہ کو ایک ماہ سے زائد ہوگیا ہے لیکن اس باپ بیٹے کی تربیت کا اثر مجھ پر ابھی تک ہے۔ یہی بات برطانیہ سے عبدالحکیم صاحب نے ای میل میں یاد دلائی ہے کہ ہماری زندگیوں میں سوری اور تھینک یو کا کتنا عمل دخل ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ''آپ کا کالم پڑھا ۔ آخرکار آپ نے ہمت کر کے یہ بات لکھ ہی دی کہ قصور کس کا ہے۔ جب میں 1953ء میں لندن ہیتھرو ائرپورٹ پر اترا تھا تو پہلی آواز جو میرے کانوں میں پڑی تھی وہ تھینک یو کی تھی۔ ٹرین میں بیٹھا تو ہر طرف ایک ہی آواز سنتا گیا‘ تھینک یو ، تھینک یو۔ مجھے یہ سب کچھ اچھا لگا کہ ہر کوئی چھوٹی چھوٹی بات پر تھینک یو کہہ رہا تھا ۔ چند دنوں 
میں مجھے علم ہوگیا کہ انگریز ماں اپنے بچے کو پہلا سبق تھینک یو کہنے کا دیتی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ پوری انگریز قوم تھینک یو تھینک یو کہتی پھرتی ہے۔ ایسا کرنے سے ماحول خوشگوار ہوجاتا ہے اور ایک دوسرے کا احترام اور جذبہ خدمت پیدا ہوتا ہے۔ 
اب برطانیہ کے ہر شہر میں پاکستانی بستیاں آباد ہوچکی ہیں۔ ہماری تیسری نسل بھی جوان ہورہی ہے اور لڈو جلیبی، تکا کباب، شلوار قمیض، مسجد مدرسہ اور پاکستان کا ہر قسم کا رنگ اور ہر چیز آپ کو ملے گی لیکن نہیں ملے گا تو آپ کو ان پاکستانیوں کے ہاں تھینک یو نہیں ملے گا۔ میں نے انگریزوں کے درمیان کافی مشکل وقت بھی دیکھا ہے لیکن بڑے فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے محنت اور لگن سے اپنی زندگی کو بہترین تعلیم سے آراستہ کیا اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزاری جس کے لیے میں ان انگریزوں کا شکر گزار ہوں مگر ہمارے لوگوں نے یہاں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ اب انگریز لوگ ہم سے بیزار ہیں۔ دوسری طرف شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب میں اپنے ملک کے حالات سے پریشان نہ ہوتا ہوں۔ میں نے ''لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کی تحریک میں اپنا حصہ ڈالا تھا جس وجہ سے پاکستان کے حالات دیکھ کر دکھ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ ہماری غریب قوم کو بہت اچھا موقع ملا تھا کہ وہ یہاں برطانیہ میں علم و دانش حاصل کریں‘ یہ نہیں تو محنت مزدوری کر کے اپنے مالی حالات ہی بہتر بنائیں۔ برطانیہ میں سیکھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے‘ لیکن میں نے دیکھا ہے پاکستان سے جتھے کے جتھے مسلسل یہاں چلے آرہے ہیں اور کچھ سیکھنے کے لیے نہیں بلکہ انگریزوں کو سکھانے کے لیے آتے ہیں۔ مجھے آپ بتائیں ہم ان انگریزوں کو کیا سکھا سکتے ہیں؟ ماسوائے جھوٹ، منافقت اور فریب کے ؟
دعاگو: عبدالحکیم ‘برطانیہ‘‘ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved