تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     09-06-2014

پرانی محفلیں یاد آ رہی ہیں

گزرے دنوں کے دوست یاد آتے ہیں اور دل سے اک ہوک سی اٹھتی ہے ؎ 
پرانی محفلیں یاد آ رہی ہیں 
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے 
ذہن پہ زور دیتا ہوں اور یاد نہیں آتا کہ فاروق حیدر سے پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔ جی ہاں وہی آزاد کشمیرکے سابق وزیر اعظم۔ کھلنڈرے اور لااُبالی مگر دیانت دار اور صداقت شعار۔ کیا سردار سکندر حیات سے تحفے میں ملے تھے یا اچانک کوئی آمنا سامنا۔ بہرحال دوستی اور بہت بے تکلف دوستی۔ اقتدار ملا تو کہا: روپیہ بنائوں گا اور نہ بنانے دوں گا۔ کھل کر بات کرتے، بعض اوقات تو خطرناک راز بھی بیان کر دیتے۔ سگریٹ پہ سگریٹ سلگاتا، خوش گفتار آدمی۔ اقتدار سے رخصت ہوئے تو معلوم نہیں، کیوں احباب کی زندگی سے بھی نکل بھاگے ؎ 
وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے 
گئے تو کیا تری بزمِ خیال سے بھی گئے؟ 
زمانہ گزرا، سردار سکندر حیات کا حال پوچھا تو کہا: وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا ارادہ ہے۔ ایجنسیوں والے سنتے ہیں اور نہ افسر لوگ۔ عرض کیا، توقف فرمائیے۔ کل شام اگر آپ میرے ہاں تشریف لا سکیں تو اس پر بات کریں گے کہ کیا کوئی حل موجود ہیں۔ اس طرح زچ ہو کر اگر آپ پیچھے ہٹے تو حریف کے مقاصد پورے کرنے کے سوا کیا کارنامہ آپ انجام دیں گے۔ خاموش وہ میری بات سنتے رہے۔ اگلی صبح عارف کے ہاں میں انہیں لے گیا۔ کہا: مسئلہ گھر میں ہے، پارلیمانی پارٹی میں نہیں۔ ثانیاً اپنے دل کی خبر لیجیے۔ بولے: پہلی بات تو آپ کی ٹھیک ہے۔ دل مگر سلامت 
ہے۔ معالج سے ملنے کا مشورہ دیا۔ ہفتے بھر کے بعد آپریشن ہوا۔ پندرہ دن کے بعد ان کا فون آیا، جب بہت دور میں رحیم یار خان میں تھا۔ صحرائی شہر کا خوشگوار موسم اور ڈھلتا آفتاب۔ صحن میں والدہ ماجدہ کے پاس میں بیٹھا تھا۔ پوچھا: کیا پابندی کے ساتھ دعائیں آپ پڑھتے ہیں؟ بولے: اسی نے بچا لیا۔ سردار عتیق کو اکثریت کی حمایت حاصل ہو گئی۔ متعلقہ لوگوں نے ہر بار مگر یہ کہا: ارکانِ اسمبلی کو لے کر آئیے۔ وہ آمادہ نہ ہوئے۔ سردار صاحب نے اپنی مدّت پوری کی اور ٹھاٹ سے۔ یہ الگ بات کہ ایک آدھ مجبور افسر کے تبادلے کو کہا تو سن کر نہ دیا۔ بے نیاز آدمی ہیں اور لیڈروں کے باب میں اپنا حال بھی یہ ہے کہ ؎
اس بھری دنیا میں صنم تو اکیلا تو نہیں 
تو نہیں اور سہی‘ اور نہیں اور سہی
اگلی بار سردار عتیق جیت گئے کہ سردار عبدالقیوم خان کی صحت برقرار تھی اور آزاد کشمیر نے ان سے بہتر سیاستدان پیدا نہیں کیا؛ اگرچہ اولاد نے بالآخر عاجز کر دیا۔ عتیق وزیر اعظم ہوئے تو بچگانہ باتیں کرتے، حرکتیں بھی۔ ایک بار فرمایا: اب تو پیشاب سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ فاروق حیدر موجود تھے: بولے شروع کیجیے۔ ایک بار یہ کہا: مظفر آباد سے میرپور تک براہِ راست سڑک بنائوں گا۔ فاروق حیدر کو ایسا موقع اللہ دے۔ کہا: ایک شہر بہت بلندی پر واقع ہے۔ ایک طرف کا پٹرول بھی بچ رہے گا۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے 550 ڈیم بنانے کا سردار صاحب نے اعلان کیا۔ ایک عدد ہی 
بنا سکے اور اس کا افتتاح جنریٹر کی روشنی میں ہوا۔ 
آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کا سب سے بڑا مسئلہ خود اس کی پارلیمانی پارٹی ہوا کرتی ہے۔ ہر کشمیری سیاستدان، ہر ایک وزیر بننے پر تلا ہوا۔ ادھر کسی نے اکسایا، ادھر وہ انقلاب پر آمادہ۔ انقلاب نہیں تو تفریح۔ سردار عتیق کے خلاف بغاوت کا ڈول فاروق حیدر نے ڈالا۔ آخر کو کسی نے ان سے یہ کہا: اگر بغاوت کے سرغنہ آپ ہیں تو وزیر اعظم کیوں نہیں بن جاتے۔ یہ بات انہیں خوش آئی۔ پارلیمانی پارٹی کو بھی۔ ایک دن برسرِ اقتدار آ گئے۔ ''حیدر زدہ‘‘ ارکان بھی چین سے نہ بیٹھے۔ خفیہ والوں نے ساز باز شروع کر دی کہ فاروق حیدر سنتے کسی کی کم ہی تھے۔ انہی دنوں مجھ سے مفصل ملاقات ہوئی۔ میں اسی دیار میں انہیں لے گیا اور مصیبت ٹل گئی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے اسلام آباد کے وی آئی پی لائونج میں ان کی ملاقات ہوئی۔ اب وہ چیف آف آرمی سٹاف ہو چکے تھے۔ فاروق حیدرنے کہا: جناب انصاف ہونا چاہیے۔ جواب میں جنرل نے صرف یہ کہا: جی ہاں، انصاف ہو گا۔ 
یہی زمانہ تھا، جب ان سے گاڑھی چھننے لگی۔ میری فرمائش پر مظفر آباد سے دیسی مرغیاں لے کر آتے۔ کشمیر ہائوس میں پکائی جاتیں۔ پھر آئس کریم کا دور چلتا اور لطائف اور حکایات کا۔ انہی دنوں ایک بار مجھ سے پوچھا: تین لاکھ روپے میں کیا مکان بن سکتا ہے۔ عرض کیا: بہ آسانی۔ نواحِ شہر میں میری کچھ زمین ہے، کچّی اینٹیں منگوا لیجیے۔ 
اب ان کا جھگڑا چیف جسٹس سے ہوا اور اس وقت پاکستان میں جب افتخار محمد چوہدری بازی جیت گئے تھے۔ ایک عجیب سا چیف جسٹس، ایجنسیاں اور سیاستدان تو چھوڑیے، ریڑھی والوں کی یونین کے ساتھ بھی جس کی راہ و رسم تھی۔ رام کہانی سنی تو چیف جسٹس کے خلاف لکھنے کا فیصلہ کیا کہ قصوروار وہی تھے۔ خفیہ ایجنسی نے زور بہت لگایا۔ صاف ظاہر تھا کہ کیوں۔ روتے دھوتے وہ میرے مربّی کے پاس پہنچے۔ وہ مگر ایسے انصاف پسند کہ دخل دینے سے انکار کر دیا؛ اگرچہ بہت بعد میں مجھ سے کہا: دل جوئی کے لیے کسی وقت ان کے ہاں جائیں گے کہ اب وہ منصب پر نہیں۔ بڑا ہی سخت معرکہ تھا۔ دانتوں پسینہ آیا مگر فاروق حیدر ڈٹے رہے اور سرخرو ہوئے۔ 
آخری بغاوت کامیاب رہی۔ وہ اسلام آباد کے قہرمانوں کی سنتے اور نہ اپنے ان لوگوں کی، سرکاری دستر خوان سے ریزہ چینی کے جو عادی تھے۔ خواہ کسی بھی پارٹی سے تعلق ہو، آزاد کشمیر کے اکثر سیاستدان روکھی سوکھی نہیں کھا سکتے اور آرام سے بیٹھ نہیں سکتے۔ میاں محمد بخش کے بقول، اسی لیے تنکوں سے ہلکے ہو گئے ؎ 
ہوسِ لقمۂ تر کھا گئی لہجے کا جلال
اب کسی حرف کو حرمت نہیں ملنے والی 
میاں محمد کا نام آتا ہے تو بھولے بسرے پرانے دوست گلوکار شوکت علی بہت یاد آتے ہیں۔ شوکت علی! کیا وہ محفلیں تمہیں بھی یاد ہیں۔ اسلام آباد سے لاہور کے سفر میں، تمہاری گائی ہوئی سیف الملوک سنتے ہی، کتنی ہی بار آنکھیں چھلک اٹھی ہیں ؎ 
خس خس جتنا قدر نہ میرا صاحب نوں وڈیائیاں 
میں گلیاں دا روڑا کوڑا محل چڑھایا سائیاں 
میرپور کے دوست کیا ہمیں بھول گئے؟ میاں صاحب کا مزار، دریائے جہلم کے پانی اور چھتنار درختوں کے سائے یاد آتے ہیں۔ چھائونی کے باہر بوگن ویلیا کی ہزارہا شاخوں پر دہکتے کروڑوں سرخ پھول ؎ 
گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گل سے میرؔ
بلبل پکاری دیکھ کے صاحب پرے پرے 
فاروق حیدر ایوانِ اقتدار سے کیا رخصت ہوئے، دوستوں کو بھول کر بھی یاد نہیں کرتے۔ غلطی ہم سے ہوئی کہ چار عدد دیسی مرغیوں کی شرط عائد کر دی۔ اس اثنا میں ایک بار پھر ان کے سوکھے دھان ہرے ہوئے کہ نون لیگ آزاد کشمیر کے صدر ہو گئے۔ مرغیوں کا بندوبست پھر بھی نہ ہو سکا۔ کچھ دن ہوئے کہ ڈھونڈ نکالا۔ پھر سے وعدہ کیا، پھر سے غائب۔ لو بھائی، مرغیوں کی شرط ہم نے واپس لی۔ لوٹ آئو، ضیافت ہم کریں گے۔ 
گزرے دنوں کے دوست یاد آتے ہیں اور دل سے اک ہوک سی اٹھتی ہے ؎ 
پرانی محفلیں یاد آ رہی ہیں 
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved