تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     13-06-2014

برصغیر پاک و ہند کے بحران اور تنازعات

8 جون کو کراچی ایئرپورٹ پر پاکستانی طالبان کے حملے کے تانے بانے ریڈکلف لائن کے اس پار سے جوڑے جا رہے ہیں۔ برصغیر میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس خونی لکیر کے دونوں اطراف ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں اور قدرتی آفات کا دوش ایک دوسرے کو دینے کا عمل چھ دہائیوں سے جاری ہے۔ الزام تراشی کا آغاز انتہائی دائیں بازو کے مذہبی عناصر کرتے ہیں‘ جس کے بعد ریاست کے کچھ حصے اس عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ریاست سے گرین سگنل ملنے پر میڈیا پر کھلم کھلا لعن طعن اور پروپیگنڈا کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ ''سرد جنگ‘‘ کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے جس میں قومی شائونزم اور مذہبی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے ''دشمن‘‘ کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا ہے۔ ہر نیوز بلیٹن اور ٹاک شو میں سرحد کے اس پار قائم ریاست کو ازلی اور ابدی حریف قرار دیتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کا عزم ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ دونوں میں سے کون سی ریاست اور میڈیا جنگی جنون اور نفرت پیدا کرنے کے فن میں زیادہ ماہر ہے۔ 
المیہ یہ ہے کہ الزام تراشیاں بالکل جھوٹ پر مبنی نہیں ہوتیں۔ دنیا کی ہر Myth میں سچ کی تھوڑی سی آمیزش ضرور ہوتی ہے‘ لیکن سچ اور مبالغہ آرائی دو الگ چیزیں ہیں اور دونوں اطراف سے اپنے سیاسی اور سماجی مقاصد کے لیے مبالغہ آرائی کا خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاستیں نام نہاد ''نان سٹیٹ ایکٹرز‘‘ کی کارروائیوں کے لئے مذہب اور شہریت کی بنیاد پر ان عوام کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں جو خود غربت اور محرومی کی چکی میں پس رہے ہیں اور جن کا اس ساری دشمن داری سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے حکمران طبقات کا باہمی تعلق ہمیشہ سے ڈانواڈول اور متضاد رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ''ساڑھے تین‘‘ جنگیں ہو چکی ہیں اور ''دوستی‘‘ کے مختصر ادوار کے درمیان تلخی کے طویل وقفے اب معمول بن چکے ہیں۔ 
بے دلانہ مصافحوں اور ادھوری جنگوں کا یہ تسلسل بالکل بے ترتیب نہیں ہے۔ اس ظاہری انتشار کے اندر بھی قاعدہ موجود ہے۔ خارجہ پالیسیوں کا یہ اتار چڑھائو آخری تجزیے میں داخلی حالات اور واقعات کی پیداوار ہے۔ رعایا کو نفسیاتی طور پر مغلوب رکھنے کے لیے بیرونی دشمن کا خوف ناگزیر ہوتا ہے۔ استحصال اور محرومی کے خلاف عوام کی نفرت کا رخ موڑنے کے لیے بھی قومی شائونزم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ حکمران طبقے کی ہزاروں سال پرانی وارداتیں ہیں۔ برصغیر کے حکمران بھی ان آزمودہ ٹوٹکوں کا استعمال گزشتہ 67 سال سے کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام میں ویزوں کے حصول اور سرحد پار سفر کرنے کی خواہش موجود ہے۔ یہ خواہش پوری ہونے کی امید ابھی پوری طرح قائم نہیں ہوتی کہ اس پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔
آج کے عہد کی ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے حکمران نہ تو معاشی اور عسکری طور پر ایک کھلی جنگ کے متحمل ہو سکتے، نہ ہی دیرپا اور پائیدار امن قائم کر سکتے ہیں۔ ان حکمرانوں کے رجعتی سیاسی کردار اور معاشی نااہلی کی جڑیں اس خطے کے تاریخی ارتقا میں پیوست ہیں۔ آج سے صرف 350 سال پہلے برصغیر کے عوام معاشی اور سماجی اعتبار سے یورپ کی نسبت کہیں زیادہ آسودہ تھے۔ اپنی مشہور کتاب ''ہندوستان کی نئی تاریخ‘‘ میں سٹینلے وولپرٹ مغل سلطنت کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ''یہاں کئی ثقافتیں بیک وقت پنپ رہی تھیں اور لوگ خوشحال تھے۔ آنے والی تمام نسلوں کے مقابلے میں 1577ء میں ایک اوسط ہندوستانی کسان کی آمدن زیادہ اور ٹیکس کم تھا۔‘‘
اسی عہد میں برطانیہ کے کل 25 لاکھ باشندوں کی اکثریت انتہائی پسماندگی اور غربت میں زندگی گزار رہی تھی۔ 90 فیصد آبادی دیہات میں مقیم تھی جہاں قحط اور غذائی قلت معمول کا حصہ تھے۔ چیچک اور طاعون کی وبائوں سے بڑی تعداد میں اموات واقع ہوتی تھیں۔ اوسط عمر صرف 33 سال تھی۔ 1500ء میں عالمی سطح پر برصغیر کی معیشت چین کے بعد دوسرے نمبر پر جبکہ 1700ء میں پہلے نمبر پر تھی اور دنیا کی 25 فیصد پیداوار اس خطے میں ہوتی تھی۔ 1600ء میں ہندوستان کی کل آمدن 17.5 ملین پائونڈ تھی‘ جو برطانیہ کی 1800ء کی کل آمدن سے بھی 1.5 ملین پائونڈ زیادہ تھی۔ معاشی تاریخ دان اینگس میڈیسن نے اپنی کتاب ''عالمی معیشت: ہزار سالہ جائزہ‘‘ میں لکھا ہے: ''سترہویں صدی عیسوی تک ہندوستان دنیا کا امیر ترین خطہ تھا جس کی معیشت دنیا میں سب سے بڑی تھی‘‘۔
اٹھارہویں صدی کے وسط میں شروع ہونے والے صنعتی انقلاب نے یورپ کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا اور دو سو سال کے اندر برطانیہ دنیا کا ترقی یافتہ ترین ملک بن گیا۔ برطانیہ کی تیز رفتار صنعت کاری میں نوآبادیات سے لوٹی جانے والی قدر زائد نے اہم کردار ادا کیا۔ ایک اندازے کے مطابق برصغیر پر گرفت مضبوط کر لینے کے بعد یہاں کے جی ڈی پی کا 70 سے 80 فیصد برطانیہ منتقل کر دیا جاتا تھا۔ صنعتی انقلاب برپا کرنے اور جدید سماج کی تعمیر میں مغل حکمرانوں کی ناکامی پر مقامی اور مغربی مورخین، معیشت دانوں اور ماہرین عمرانیات نے بہت کچھ تحریر کیا؛ تاہم مغلیہ سلطنت کے زوال، تاریخی فرائض کو پورا کرنے میں ہندوستان کے حکمران طبقے کی نااہلی اور بعد ازاں برطانوی نو آباد کاروں کے ہاتھوں شکست کا سب سے مفصل اور عمیق تجزیہ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی تصانیف میں ملتا ہے۔ ''ایشیائی طرز پیداوار‘‘ کی تھیوری اور ''ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں چھپنے والے مضامین میں اس سارے عمل کا جائزہ سائنسی نقطہ نظر اور باریک بینی سے لیا گیا ہے۔
1947ء میں برطانوی راج سے ملنے والی ادھوری آزادی کی قیمت مذہبی فسادات اور بربریت میں ذبح ہونے والے 27 لاکھ افراد نے چکائی۔ یہ قتل عام تقسیم کرکے حکمرانی کرنے کی سامراجی پالیسی کا ناگزیر نتیجہ تھا‘ جس کے لگائے گئے گھائو آج تک نہیں بھر سکے۔ برطانوی سامراج نے جانے سے پہلے یقینی بنایا کہ براہ راست اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی ان کا قائم کیا گیا معاشی، سماجی اور سیاسی نظام برقرار رہے۔ یہ نو آبادیاتی ڈھانچہ ڈیزائن ہی بدترین استحصال، جبر اور عوام کو نفسیاتی طور پر مجروح رکھنے کے لیے کیا گیا تھا جس پر انگریزوں کے بعد انہی کے پیدا کیے گئے مقامی حکمران براجمان ہو گئے۔
مقامی اشرافیہ کے اہم سیاسی نمائندوں میں سے ایک، جواہر لال نہرو تسلیم کرتا ہے کہ ہندوستان کے بالادست طبقے کی سیاسی و نظریاتی تربیت ہی سامراجی نظام کو قائم اور جاری رکھنے کے لیے کی گئی تھی۔ یہ سیاسی رہنما ایٹن اور ونچسٹر جیسے برطانوی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل تھے اور شعوری یا لاشعوری طور پر ہندوستانیوں کو انگریزوں کے مقابلے میں دوسرے درجے کا انسان سمجھتے تھے۔ نہرو لکھتا ہے: ''یہ حقیقت حیران کن نہ تھی کہ انگریز حکومت نے یہ نظام ہم پر مسلط کیا تھا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ہم یا ہماری اکثریت نے انگریز کے اس ڈھانچے کو قدرتی اور ناگزیر طور پر اپنی زندگی کا طریقہ کار اور قسمت تسلیم کر لیا۔ ہندوستان میں برطانوی راج کی یہ نفسیاتی فتح دنیا کی کسی بھی فوج یا سفارتکاری کی کامیابی سے بڑھ کر تھی‘‘۔ (ایک خودنوشت، صفحہ: 147)
نہرو کا یہ اعتراف دراصل مقامی حکمران طبقے کی رجعتی اور غلامانہ سوچ کو بے نقاب کرتا ہے‘ جسے آج کے برصغیر میں قائم قومی ریاستوں کا ''بانی‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ آزادی کے 67 سال بعد اس خطے کے عوام کی حالت اپنے پانچ سو سال پہلے کے آبائواجداد سے بدتر ہے۔ محرومی، ناخواندگی، غربت، بیروزگاری کی تاریکی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سماجی اور معاشی تفریق دنیا میں سب سے گہری ہے۔ ایک ہی خطے اور ملک میں رہنے والے امرا اور غریبوں کی دنیا الگ الگ ہے۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved