تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     18-06-2014

آخری معرکہ

جماعت اسلامی نے آج وہی کیا جو سات عشرے پہلے جمعیت علمائے ہند نے کیاتھا۔ اس خطے میں بسنے والی ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی شعور کی مخالفت۔ مولانا حسین احمد مدنی اپنی جلالتِ علم اور روحانی فیوض کے باوصف، آج بھی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ علامہ اقبال نے، ممکن ہے اپنا قطعہ کتاب سے حذف کر دیا ہو لیکن مسلمانوں کی اجتماعی یادداشت اسے بھلانے پرآمادہ نہیں۔ آئے دن اس کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔ آج ایک بار پھر اس ملت کے اجتماعی وجود کو اپنی بقا کا معرکہ درپیش ہے۔جمعیت علمائے اسلام نے اسمبلی میں اگر قرارداد کی مخالفت کی تو وہ قابلِ فہم ہے۔ جب دیوبند کے فرزند معرکے میں فریق ہوں تو مولانا فضل الرحمن، مولانا مدنی کی یاد تازہ کرنے کے سوا کیا کرتے؟ویسے بھی، ان کے نزدیک دیوبند ایک سیاسی تحریک کا عنوان ہے،فہمِ دین کے کسی منہج کا نہیں۔تو کیا سراج الحق بھی مو لانا مدنی بننا چاہتے ہیں؟
جناب شاہداﷲ شاہد نے تحریکِ طالبان کا مؤقف بغیر کسی ابہام کے بیان کردیا: ''فوج کے خلاف اعلانِ جنگ۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے تمام معاہدے منسوخ کر دیں۔ قومی تنصیبات ان کا ہدف ہوں گی۔‘‘سوال بالکل سادہ ہے۔اس مؤقف کی موجودگی میں ایک عام پاکستانی کو کیا کرنا چاہیے؟ فوج کا ساتھ دینا چاہیے؟ طالبان کی مددکرنی چاہیے یا پھر غیر جانبدار رہنا چاہیے؟ ایک سادہ اور عام پاکستانی مسلمان کو فیصلہ کرنے میں کسی دقت کا سامنا نہیں ہوگا،جیسے تحریکِ پاکستان کے وقت بھی وہ کسی ابہام کا شکار نہیں ہوا۔ بلاشبہ وہ پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اس خطے کے مذہبی ذہن کا معاملہ البتہ دوسرا ہے۔ یہ ذہنی سانچہ عجوبۂ روزگار ہے۔ بوسنیا، فلسطین، چیچنیا، کشمیر...دنیا کے ہر خطے کی اُسے فکر ہے،اگر نہیں تو پاکستان کی۔ دنیا میں کہیں مسلمان کا لہو بہے، وہ بے چین ہو جاتا ہے لیکن اُس کا خون اس وقت جوش میں نہیں آتا جب معاملہ پاکستانی مسلمان کا ہو۔ پچاس ہزار پاکستانی مارڈالے گئے۔پاکستان کا امن برباد ہو گیا۔ خوف نے ہمارے درودیوار کا حصار کر لیا۔معیشت کی چولیںہل گئیں۔ اس کے باوجود ، اس ذہن نے شہادت کا تمغہ سجایا تو کس کے سینے پر؟
عمران خان مگر سیاستدان نکلے۔ اتنا تو وہ بھی جانتے ہیںکہ اجتماعی شعور کیا ہوتا ہے اور اس کی مخالفت کی کیا قیمت ہے؟ مولانا ابوالکلام آزاد جیسا نابغۂ عصر، اگر اس کی تاب نہ لا سکاتو اور کون لائے گا؟عمران خان یہ سمجھتے ہیںکہ اگر آج وہ فوج اور عوام کی نظر میں راندۂ درگاہ ہوگئے تو پھر طاقت کے دونوںمراکز کی تائید سے محروم ہو جائیں گے۔ اگر مگر انہوں نے بھی کی، مگر آخری فیصلہ پاکستان کے حق میں دیا۔ طالبان کی طرف ان کا جھکاؤ ہمیشہ واضح رہا۔اس کے باوصف انہوں نے جان لیا کہ اس فیصلہ کن معرکے میں غیر جانبداری یا طالبان کا ساتھ سیاسی خودکشی ہے۔ یوں انہوں نے حکومت کی تعریف سے تو گریز کیا لیکن فوج کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اچھا ہوتا اگر وہ ا س معاملے کو پوری طرح شفاف رکھتے۔ تاہم اسے بھی غنیمت سمجھنا چاہیے کہ اس نازک موڑپر انہو ں نے درست فیصلہ کیا۔
پاکستان عوامی تحریک نے دودھ تو دیامگر مینگنیاں ڈال کر۔میں جب یہ سطور لکھنے بیٹھاہوں تو ٹیلی ویژن سکرین پر طاہرالقادری صاحب کے مریدوں کو پولیس سے برسرِ پیکار دیکھ رہا ہوں۔ انہیں شکایت ہے ان کے قائد کی رہائش گاہ کے قریب موجود رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔تادمِ تحریرآٹھ افراد کی جان چلی گئی۔میں دکھ کی کیفیت میںہوںکہ قیادت کی بصیرت کا ماتم کروں یا پھر ان جانوں کا، جواس بے بصیرتی کی نذر ہو گئیں۔جب قوم عسکریت پسندوں کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے جا رہی ہے، توکیا اس موقع پر اِس اسلوبِ سیاست کی داد دی جا سکتی ہے؟ کیا اس وقت یہ انقلاب کافی نہیں کہ پاکستان کی زمین اہلِ فتنہ سے پاک ہوجائے؟
آج جب پوری قوم یک سو ہے تو یہ حکومت کی نااہلی ہوگی، اگر وہ معرکے کو حتمی فتح پر منتج نہ کر سکے۔ حتمی فتح کیا ہے؟ پاکستان کی سرزمین سے تشدد کا خاتمہ اورایک پرامن معاشرے کا احیا جہاں لوگوںکے جان و مال کو کسی سے خطرہ نہ ہو۔ ایک ایسا سماج جس میں شائستہ اور پُر استدلال علمی و فکری اختلاف کی راہیں کھلی رہیں تاکہ قوم ذہنی و فکری ارتقا سے گزرتی رہے۔ یہ نتیجہ صرف ضربِ عضب سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس ضرب کی کامیابی بھی چند امور کے ادراک سے مشروط ہے۔
٭ اچھے اور برے طالبان کی تقسیم ایک دھوکا ہے، اس سے بچنا ہوگا۔ ایک مہذب معاشرے میں ہتھیار اُٹھانااور طاقت کا استعمال،صرف اور صرف ریاست کا حق ہے ۔ کسی مقصد کے لیے وہ اچھا ہو یا برا، کسی فرد یا گروہ کے ہاتھ میںبندوق برداشت نہیں کرنی چاہیے، الا یہ کہ ریاست اس کی اجازت دے۔ جیسے نجی تحفظ کے لیے حکومت کسی کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ اگرریاست نے طالبان میں یہ تفریق روا رکھی تو یہ اس معرکے کی کامیابی کو مشکوک بنا دے گی۔
٭افغانستان کے باب میں ایک واضح پالیسی کا تعین بھی نا گزیر ہے جو سابق تجربات کی روشنی میں مرتب کی جائے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی معرکہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتاجب تک افغانستان میں ان کی پناہ گاہیں موجودہیں۔ یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتیں جب تک مطلوب افراد کو ایک دوسرے کے ہاں پناہ میسر ہے۔ افغانستان میں عدم مداخلت کی پالیسی کے بغیر یہ معرکہ نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔
٭طالبان محض عسکریت پسند گروہ نہیں، ایک نقطۂ نظر بھی ہے جس کے حق میں دینی استدلال پیش کیا جاتا ہے۔ اسے مخاطب کیے بغیر بھی، یہ تحریک پوری طرح ختم نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ ملک میں جاری مذہبی تعلیم، مذہبی اداروں اور تنظیموںکے قیام اور ان کے پھیلاؤ کوریاستی نظم کے تابع کیا جائے اور اس کے لیے ایک واضح حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے مذہبی طبقات کو شریک مشاورت کرنا چاہیے۔قومی سلامتی کی داخلی پالیسی میں ایک قومی نقطہ نظر(National Narrative) کے خدوخال واضح کیے گئے تھے۔وہ نقطہ نظر کہاں ہے؟
٭طالبان میں سے جو پرامن زندگی کی طرف لوٹنا چاہیں، ان کے لیے راہیں کھلی رہیں۔اس کے لیے واضح حکمت عملی بنائی جائے کہ کیسے وہ سماج میں ایک تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں۔ان کی ذہنی اور عملی تربیت کے لیے فوری طور پر مراکز قائم کیے جائیں۔یہ کام سول سو سائٹی کی معاونت سے آسان ہو سکتا ہے۔
٭ قبائلی علاقوں سے جو لوگ بے گھر ہوں، اُن کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ہنگامی پروگرام ترتیب دیا جائے۔سوات آپریشن کے دوران میں جس حسنِ انتظام کا مظاہرہ ہوا تھا،اسی جذبے اور صلاحیت کو زندہ کیا جائے۔
میرا احساس ہے کہ ریاست یکسو ہو جائے تو انشا اللہ امن زیادہ دور نہیں۔یہ محض دنوں کا معاملہ ہے۔پوری قوم فوج اور حکومت کے لیے دست بدعا ہے اورتعاون پر آمادہ بھی۔ اس جذبے کا زادِ راہ بنا کر آگے بڑھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ پاکستان اور اس کے عوام کو اپنی امان کی چادر میں رکھے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved