تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     18-06-2014

لات کھاؤ، مال پاؤ!

ایک طرف شدید گرمی اور دوسری طرف قیامت خیز لوڈشیڈنگ۔ اہلِ وطن کا حال بُرا ہے۔ جہاں بارشیں ہوئی ہیں وہاں بجلی کی بندش مزید سِتم ڈھا رہی ہے۔ کیا پنجاب اور کیا سندھ، کیا لاہور اور کیا کراچی۔ موسم کی سختی اور ستم بالائے ستم کا کردار ادا کرنے والی لوڈ شیڈنگ نے محمود و ایاز کو ایک صف میں کھڑا کردیا ہے۔ من و تو کا بھید مٹ گیا ہے۔ سبھی مضمحل، افسردہ اور پژمُردہ سے ہیں۔ ایسے میں کراچی کا علاقہ لیاری دوبارہ زندگی کی طرف لَوٹ آیا ہے۔ بات حیرت انگیز ہے مگر ناقابل فہم نہیں۔ 
فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہوتے ہی لیاری کے زندہ دل لوگوں نے اپنے سارے غم بُھلا دیئے۔ سارے دُکھڑے بھول کر وہ اب فٹ بال کا راگ الاپ رہے ہیں۔ گولیوں کی تڑتڑ کی جگہ تالیوں اور داد و تحسین پر مبنی نعروں نے لے لی ہے۔ ایک نشہ ہے جو چھایا ہوا ہے، ایک مستی ہے جو فٹ بال پریمیوں کے رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ اِس وقت لیاری میں صرف فٹ بال کی بات ہو رہی ہے۔ لیاری کے باشندے دُنیا و مافیہا (اور ہر مافیا) سے بے خبر و لاتعلق ہوکر چائے کے ہوٹلوں پر، چبوتروں پر اور میدانوں میں صرف فٹ بال کے ذکر سے زبان کو تر و تازہ رکھے ہوئے ہیں۔ 
جب بھی فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد ہوتا ہے، لیاری کا یہی رنگ ہوتا ہے۔ سارے غم، تمام الجھنیں بھلاکر لوگ ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اِس کے بعد 90 منٹ تک زندگی کسی اور ہی رنگ میں رنگی ہوئی ہوتی ہے۔ فٹ بال اسٹیمنا کا کھیل ہے۔ لیاری والے فٹ بال کھیلنے کی طرح دیکھنے کے معاملے میں بھی غیر معمولی اسٹیمنا رکھتے ہیں۔ 
زندہ دِلی سیکھنی ہے تو اہلِ لیاری کو دیکھیے۔ اُن سے زیادہ اسٹیمنا کس کا ہوسکتا ہے؟ عشروں سے وہ خدا جانے کیا کیا جھیلتے آئے ہیں۔ وہ فٹ بال کے دلدادہ کیوں نہ ہوں؟ اُنہیں ہر دور میں فٹ بال سمجھا گیا ہے! جھوٹے وعدے کرنے اور طرح طرح کی یقین دہانیاں کرانے والوں کے حافظے کی سانس پھول سکتی ہے، لیاری کے لوگوں کا اسٹیمنا جواب نہیں دے سکتا۔ اہلِِ لیاری ہر الیکشن میں ٹاس ہار جاتے ہیں، اور پھر میچ بھی۔ مگر اس کے باوجود زندہ دِلی دیکھیے کہ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی وہ تازہ دم ہوکر انتخابی میدان میں نکل آتے ہیں۔ 
لگتا ہے لیاری میں فٹ بال ورلڈ کپ نے گول کردیا ہے۔ بہت سے مسائل لیاری کی ''ڈی‘‘ میں تھے مگر اب اُنہیں تقریباً مہینے کے لیے دیس نکالا دیا جاچکا ہے۔ انتظامیہ قدم قدم پر آف سائڈ ہوجاتی تھی۔ اور دہشت گرد فری کِک کے مزے لیتے تھے۔ معاملہ زیادہ خراب ہوجاتا یعنی کوئی بڑا فاؤل ہو جاتا تو نوبت پنالٹی کِک یعنی آپریشن تک پہنچ جاتی! 
لیاری والوں کی طرح دیگر پاکستانیوں کو بھی فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد پر خوش ہی نہیں ہونا چاہیے، فخر بھی کرنا چاہیے۔ پاکستان بھی فٹ بال ورلڈ کپ میں شریک ہے۔ جس فٹ بال سے میچ کھیلے جارہے ہیں وہ ہمی نے تو بنائی ہے۔ سیالکوٹ کے اُستادانِ فن کی محنت کا صدقہ ہے کہ پاکستانی ساختہ فٹ بال سے ورلڈ کپ کھیلا جارہا ہے۔ مگر ذرا وقت کی سِتم ظریفی تو ملاحظہ فرمائیے کہ ہمارا فٹ بال دُنیا بھر کے میدانوں میں جلوہ افروز ہے اور ہمارے ہاں فٹ بال کا کھیل ہے کہ کونوں کُھدروں میں مُنہ چُھپائے بیٹھا ہے۔ رہی قومی فٹ بال ٹیم تو جناب! صدرِ مملکت کی طرح وہ بھی خاصے ''لو پروفائل‘‘ میں رہتی ہے! اُس کا بھی معاملہ یہ ہے کہ ؎ 
نشاں بھی کوئی نہ چھوڑا کہ دِل کو سمجھائیں 
تِری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں! 
سیالکوٹ نے اسلام آباد پر برتری پالی۔ اسلام آباد کے ایوان ہائے اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ سیاسی کھیل، بلکہ کِھلواڑ ہی سے بلند نہ ہوسکے اور سیالکوٹ والوں نے کھیلوں کے سامان کی برآمد کے ذریعے وطن کو بلند کردیا۔ اسلام آباد کے یخ بستہ کمروں میں بیٹھے ہوئے نا عاقبت اندیشوں نے مُلک کو فٹ بال بنا دیا ہے۔ بڑی طاقتیں میچ طے کرتی ہیں اور پھر ہمیں فٹ بال بناکر کِک مارتی جاتی ہیں۔ اِدھر سے، اُدھر سے لاتیں کھا کھاکر بھی ہم بے مزا نہیں ہوتے بلکہ مزیدکا راگ الاپ کر ''ہائی اسٹیمنا‘‘ کا ثبوت دیتے ہیں! دُنیا حیران ہے کہ یہ کیسی قوم ہے کہ سب کچھ برداشت کرتی ہے اور پھر تازہ دم ہوکر سامنے آ جاتی ہے۔ اور ہم نے بھی جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ دُنیا کو حیرت ہی میں مُبتلا رکھیں گے۔ مگر اِس انتہائے ذِلّت کا صِلا؟ 
ہم وہ فٹ بال ہیں جسے لوگ تقریباً مفت کے دام خریدتے ہیں اور کِکس لگا لگاکر مزے لیتے ہیں۔ ہمارے لیے تو یہ معاملہ ''مفت ہوئے بدنام، کسی سے ہائے دِل کو لگاکے‘‘ والا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے ہمارے ساتھ قدم قدم پر یہی تو کیا ہے‘ اور کر رہے ہیں۔ ہمارے بے مثال پالیسی ساز خدا جانے کہا\\ں کا ''ذہنِ رسا‘‘ لائے ہیں کہ قوم کو مار بھی پڑواتے ہیں اور پورا مال بھی نہیں دِلواتے۔ اور جو تھوڑا بہت مل جائے وہ بھی اُڑس لیتے ہیں! 
سیالکوٹ ہی سے کچھ سبق سیکھا جائے جس نے ایسی مضبوط اور معیاری چیز بنائی ہے کہ دنیا لات بھی مارتی ہے اور مال بھی دیتی ہے! اے کاش ہماری پالیسیاں بھی ایسی ہی مضبوط اور معیاری ہوں کہ جتنی لاتیں پڑیں اُتنا مال بھی ملے! اب تک تو ہم فٹ بال بنے لاتیں ہی کھاتے آئے ہیں۔ ہمارے پالیسی ساز کیا نہیں جانتے کہ بڑی طاقتوں کے میچ میں ہمارا فٹ بال کی حیثیت سے شامل ہونا لازم ہے؟ ہر چیز کے دام کھرے کئے جارہے ہیں مگر مُلک کو فٹ بال کی حیثیت سے استعمال کروانے یعنی لاتیں پڑوانے کا معاوضہ وصول نہیں کیا جارہا! 
کھیل اِس طور تو جاری نہیں رہ سکتا۔ جس گیند کے دم سے کھیل جاری و ساری رہتا ہے وہی صِلے سے محروم رہے، یہ تو پرلے درجے کی نا انصافی ہے۔ اے چارہ گراں! اِس عارضے کا بھی کچھ علاج ہے کہ نہیں! 
اور سچ پوچھیے تو اِس سے بھی ایک قدم آگے جانے کی ضرورت ہے۔ آپ کو نمرود کی کہانی یاد ہے؟ جب اُس نے خدائی کا دعویٰ کیا تو خَلّاقِ ازل نے ناک کے ذریعے اُس کے دماغ میں ایک مَچّھر داخل کیا۔ جب وہ مَچّھر حرکت پذیر ہوتا تھا تو نمرود کی جان پر بن آتی تھی۔ پھر لازم ہو جاتا تھا کہ مَچّھر کو کنٹرول کیا جائے۔ ایک خادم کی ڈیوٹی ہی یہ تھی کہ جب بھی مَچّھر تنگ کرے تو خدا کے اِس دعویدار کو ''آرام‘‘ پہنچانے غرض سے ماتھے پر جوتیاں رسید کی جائیں! 
اگر ہمارے پالیسی ساز واقعی اُتنے قابل ہیں جتنے قابل ہونے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں تو پھر لازم ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں تیار کریں کہ وقت کے نمرودوں کے ماتھے پر جوتیاں رسید کرنے کا بھی معاوضہ ملے! محض بے دام کا فٹ بال بن کر کِک کھاتے رہنا کب تک اِس قوم کا مُقدّر رہے گا؟ اِس کی کوئی حد بھی تو ہونی ہی چاہیے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved