تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     02-07-2014

سرخیاں اُن کی‘ متن ہمارے

جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت
کسی کو نہیں دیں گے... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''کسی کو جمہوریت غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘ کیونکہ ہم نے بڑی مشکل سے اسے بادشاہت میں تبدیل کر کے جمہوریت کو مستحکم کیا ہے؛ تاہم جن لوگوں نے اسے غیر مستحکم کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دی ہے‘ ہم نے اسے مسترد نہیں کیا ہے بلکہ اسے زیر غور رکھا ہوا ہے اور اسے کسی بھی وقت منظور کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر کسی کو اس ملک کی خدمت کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ ہم اپنے حصے کی خدمت پہلے ہی کافی حد تک کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''کچھ لوگ ملک میں افراتفری کی سیاست کر رہے ہیں‘‘ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو ہماری سیاست کا نتیجہ بھی بالآخر ایسا ہی نکلتا ہے‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں یکجہتی کی ضرورت ہے‘‘ کیونکہ حکومت کے اندر بھی اس کا فقدان ہے اور چودھری نثار جیسے حضرات گھر میں اٹوانٹی کھٹوانٹی ڈال کر پڑے ہوئے ہیں۔ آپ اگلے روز میاں شہباز شریف سے ملاقات کر رہے تھے۔ 
پنجاب کو ترقی کے لحاظ سے مثالی صوبہ
بنانا ہمارا عزم ہے... شہباز شریف 
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''پنجاب کو ترقی کے لحاظ سے مثالی صوبہ بنانا ہماراعزم ہے‘‘ جس کا آغاز لاہور سے کردیا گیا ہے کیونکہ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں‘ اور‘ اگر اس نیک مقصد کے حصول کے بعد کچھ فنڈز بچ رہے تو دیگر علاقوں پر بھی توجہ دی جائے گی جبکہ فی الحال تو دوسرے شہروں کا روپیہ بھی یہاں لا کر لاہور پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ہمیں جوڈیشل ٹربیونل پر اعتماد ہے‘‘ کیونکہ یہ ہم نے غورو غوض کے بعد بنایا ہے‘ اس لیے اس پر اعتماد نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ''پارٹی کے ساتھ بطور کارکن کام کرنے کے لیے تیار ہوں‘‘ اور‘ اگر جوڈیشل ٹربیونل نے کوئی الٹا سیدھا فیصلہ دے دیا تو پھر فراغت ہی فراغت ہوگی اور ویسے بھی محض کارکن ہو کر ہی رہ جائوں گا ورنہ فی الحال تو ارکان اسمبلی چھوڑ‘ کابینہ کے ارکان بھی کئی کئی ماہ تک ملاقات کو ترستے رہتے ہیں کیونکہ بادشاہی نظام کی اپنی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ 
حکومت امن کے قیام کے لیے 
مذاکرات کا دروازہ کھولے... فضل الرحمن 
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''حکومت امن کے قیام کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھولے‘‘ جو اس نے محض کم عقلی کی بناء پر بند کر کے بیچارے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے جبکہ ہو سکتا ہے کہ ان مذاکرات کے طفیل ہمارے لیے کوئی ایک آدھ وزارت ہی اور نکل آئے۔ انہوں نے کہ ''پارٹی عہدیداران متاثرین کے ساتھ کھلے دل سے تعاون کریں‘‘ اور خاکسار کو بھی فراموش نہ کریں جو بجا طور پر اپنے آپ کو متاثرین میں سے ہی سمجھتا ہے کیونکہ آپریشن نے میرے جذبات کو مجروح کر کے رکھ دیا ہے اور کوئی بھی افاقہ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ ''مخیر حضرات بھی میدان میں اُتریں‘‘ بلکہ یہ نیک کام خاکسار سے ہی شروع کریں تو انہیں ثوابِ دارین حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ''سرِعام کھانے پینے والوں کے خلاف قانون کو حرکت میں لایا جائے‘‘ ماسوائے کمیشن کھانے کے‘ کیونکہ اس سے پیٹ نہیں بھرتا بلکہ ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے لیکن بہرحال اتنا سکون نہیں جتنا پیٹ بھرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں پارٹی رہنمائوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ 
پارٹی کا ہر رہنما ایک متاثرہ خاندان 
کی کفالت کرے گا... خورشید شاہ 
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ''پارٹی کا ہر رہنما ایک متاثرہ خاندان کی کفالت کرے گا‘‘ ماسوائے ہر دو سابق وزرائے اعظم‘ امین فہیم‘ رحمن ملک اور منظور وٹو متعدد و دیگر حضرات کے جن کی مالی حالت ہمارے دورِ حکومت میں مزید کمزور ہو گئی ہے بلکہ پارٹی کی طرف سے ان کے لیے وظیفہ مقرر کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے‘ نیز حکومت سے استدعا کی جائے گی کہ انہیں بینظیر سپورٹ فنڈ سے بھی امداد دی جایا کرے تاکہ ان بیچاروں کی دو وقت کی روٹی تو چلتی رہے ورنہ ان کے چولہے کسی وقت بھی ٹھنڈے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''بلاول نے تمام پارٹی رہنمائوں کو آئی ڈی پیز کی مکمل امداد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں‘‘ جس کے ساتھ مذکورہ بالا رہنمائوں کا خیال رکھنے کی بھی خصوصی ہدایات شامل ہیں کیونکہ پارٹی ان کی قربانیاں رائگاں نہیں جانے دینا چاہتی کہ اس سے رہنمائوں میں قربانی کا مزید جذبہ پیدا ہوگا اور پارٹی اپنی سنہری روایات بھی برقرار رکھ سکے گی۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ 
حکومت کو مدت پوری کرنے کے لیے
مطالبات ماننا ہوں گے... عمران خان 
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ''حکومت کو مدت پوری کرنے کے لیے مطالبات ماننا ہوں گے‘‘ ورنہ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ میں قادری صاحب سے مل کر اسے ناکوں چنے چبوا دوں گا‘ اگرچہ حکومت‘ جو کھانے پینے کی شوقین ہے‘ یہ چنے بھی خوشی سے چبا جائے گی۔ البتہ قادری صاحب سے خطرہ ہے کہ عین آخر وقت پر حسبِ معمول جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے اور ساتھ مجھے بھی خراب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ''شریف برادران کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں‘‘ جبکہ خاکسار نے صرف جمہوریت کی بحالی کے لیے ریفرنڈم میں پرویز مشرف کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم جمہوریت کو ڈی ریل کرنا نہیں چاہتے‘‘ بلکہ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں خود نہیں پتہ کہ ہم کس چیز کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''تحریک انصاف کا لانگ مارچ شریف برادران کو اقتدار کے ایوانوں سے رخصت کردے گا‘‘ اور امید ہے کہ اس سلسلے میں ہماری مدد کی جائے گی ۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک انٹرویو دے رہے تھے۔ 
آج کا مطلع 
وہی دریا تھا مگر اور ہی گہرائی میں تھا 
فرق اب کے جو وہاں اپنی پذیرائی میں تھا 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved