تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     15-07-2014

یادیں

آج کچھ مختلف ہو جائے۔ کیوں نہ یہاں سے شروع کریں کہ نوازشریف صاحب کو جب میاں لکھا جاتا تھا‘ تو وہ برا مناتے تھے۔ جس زمانے میں ان کے لئے میں بیانات تیار کرتا اور ان میں میاں نوازشریف لکھا ہوتا‘ تو وہ منع کیا کرتے کہ نوازشریف لکھا کریں۔ یہ میاں کیا ہوتا ہے؟ قارئین نے نوٹ کیا ہو گا کہ میں ابھی تک وزیراعظم کا نام اکثر نوازشریف لکھتا ہوں۔ میڈیا میں لفظ ''میاں‘‘ کے کثرت استعمال کی وجہ سے ‘ میں بھی میاں نوازشریف لکھ جاتا ہوں۔ میرا خیال ہے خود میاں صاحب نے بھی میڈیا کے اس ''جبر‘‘ کو تسلیم کر لیا ہے۔ چند روز پہلے میں نے اپنے کالم میں نوازشریف کی دردمندی اور انسان دوستی کا حوالہ دیا تھا۔ آج میں چاہتا ہوں کہ واقعہ بھی لکھ دوں۔ ایک دن صبح نوازشریف نے مجھے ناشتے پر بلایا۔ رسمی گفتگو ہوئی۔ ناشتے کی ٹرالی آ گئی۔ ٹرالی میںسب کچھ تھا۔ لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ 90ء کے عشرے میں میاں صاحب کا ناشتہ کیا تھا؟ وہ ایک ہاف بوائل انڈے کو‘ ایک کپ میں ڈالتے اور چمچ سے کھا لیتے۔ (ساتھ کچھ اور بھی لیا کرتے۔مجھے یاد نہیں۔)نوازشریف کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اصل بات شروع کرنے سے پہلے‘ کافی تکلفات کرتے ہیں۔ جب وہ تکلفات فرما چکے‘ تو کہا ''آج میں نے ایک دردناک اشتہار پڑھا ہے۔ہم میاں بیوی دیر تک سوچتے رہے کہ ہم کیا کریں؟‘‘ یہ بات کرنے سے پہلے ہم ''نوائے وقت ‘‘ پڑھ چکے تھے۔ ''جس میں ایک اپیل تھی کہ ایک بچہ کینسر کا مریض ہے۔ اس کی کیفیت پڑھ کر میں اور کلثوم دونوں رات بھر بے چین رہے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اس بچے کو زندگی دینے کی کوشش کریں گے۔ ‘‘میں اس کالم نویس کا پول نہیں کھولنا چاہتا‘ جس نے بعد میں لکھا کہ وزیراعظم نے میرا کالم پڑھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ موصوف کا کالم اس اشتہار سے کئی روز بعد شائع ہوا۔ حقیقت یہی ہے۔ مجھے لکھنا نہیں چاہیے تھا۔ میرا گھٹیا پن سمجھ لیجئے کہ مجھے سچائی چھپانا اچھا نہیں لگا۔ یہ بڑے آدمیوں کی عظمت ہوتی ہے کہ ایک کالم نویس مسلسل دعوے کرتا رہا کہ وزیراعظم نے میری اپیل پڑھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ حقیقت بیگم کلثوم نواز اور نوازشریف کو معلوم ہے۔ میاں صاحب نے اس بچے کی حالت بتاتے ہوئے کہا ''اس بچے کی حالت اخبار میں پڑھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے فیصلہ کیا ہے‘ اسے بچانے کی ہر حالت میں کوشش کریں گے۔ میری بیوی نے اپنے زیورات نکال کر مجھے دے دیئے ہیں اور کہا ہے کہ اس بچے کی جان بچانے کے لئے اپناسارا زیور آپ کے حوالے کر رہی ہوں۔‘‘ اس کے بعد میاں صاحب نے کہا ''میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ میرے پاس جتنا بھی پیسہ ہے‘ میں اس بچے کی زندگی بچانے پر لگا دوں گا۔‘‘(مراد ذاتی پیسہ ہے)
کئی دنوں کے بعد نوازشریف کو ایک ٹیلیفون کرتے سنا۔ وہ کسی کی صحت کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ کال ختم ہونے پر انہوں نے بتایا کہ جس بچے کی بات میں نے آپ سے کی تھی‘ یہ اسی کے والدین کا ٹیلیفون تھا۔ میرے دریافت کرنے پر نوازشریف نے بتایا کہ ''آپ کو یاد ہے؟ میں نے آپ سے ایک بچے کی بات کی تھی‘ جو کینسر کا مریض تھا۔ یہ ٹیلیفون اسی کے والدین کا تھا۔‘‘یہ کہہ کے نوازشریف خاموش ہو گئے۔ مجھے تجسس تھا ‘ بچہ کس حالت میں ہے؟ اس پر نوازشریف نے بتایا کہ ''ہم میاں بیوی نے مل کر اسے لندن کے بہترین ہسپتال میں داخل کیا ہے۔ ہمارے لوگ اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ میں روزانہ اس بچے کی حالت پوچھتا ہوں۔ اس کے والدین کو لندن میں رہائش کے لئے فلیٹ دے رکھا ہے اور جس دن مجھے ان کا حال پوچھنے کی فرصت نہیں ملتی‘ اس دن بیگم صاحبہ اس کے بارے میں پوچھتی رہتی ہیں۔‘‘ یہ ہے اندر کا نوازشریف۔ 
وٹو چیف منسٹر تھا۔ سابق وزیراعظم اور سابق وزیراعلیٰ کی رہائش گاہوں کے سامنے سکیورٹی بیریئرز لگے ہوئے تھے۔ تاریخ یاد نہیں۔ مئی کا مہینہ تھا۔ وٹو کے کارندے بے رحمی سے گھر کی دیواریں توڑ رہے تھے‘ میں کسی طرح دھکم پیل کرتا ہوا‘ گھر کے اندر چلا گیا۔عجیب منظر تھا۔ نوازشریف ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ گھر کے اندر دھول اور مٹی کا طوفان تھا۔ بجلی اور گیس کٹ چکی تھی۔ نوازشریف کے خوبصورت چہرے پر پسینے کی بھرمار تھی۔ مجھے دیکھ کر ان کے منہ سے ایک ہی جملہ نکلا''آپ دیکھ رہے ہیں؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ میں کیا عرض کرتا؟ ایک ہی خیال آیا اور عرض کیا ''یہ آپ اور آپ کی فیملی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ پورے خاندان کو لے کر کسی فائیوسٹار ہوٹل میں منتقل ہو جائیں۔‘‘ جواب ملا''یہ تو میں نہیں کروں گا۔‘‘ شام ڈھلی۔ رات ہوئی۔ نوازشریف نے کہا ''آپ گھر جائیں۔‘‘ میرا جواب تھا کہ ''جس حالت میں پاکستان کا وزیراعظم رات گزارے گا‘ میں بھی اسی حالت میں گزاروں گا۔‘‘ رات وزیراعظم پاکستان نے اپنے گھر میں بجلی اور گیس کے بغیر گزاری۔ کھانا باہر سے منگوایا گیا۔ جو سہیل ضیا بٹ لایا۔ ہم سب نے وہی کھانا کھایا۔وزیراعظم اپنے بیڈ روم میں چلے گئے۔ مئی کا مہینہ تھا۔ بجلی نہیں تھی۔ وزیراعظم نے رات کیسے گزاری؟ مجھے پتہ نہیں۔ میں اور سہیل ضیابٹ دونوں نے رات ڈرائنگ روم میں گزاری۔ 
نوازشریف کے ساتھ بے شمار مظاہروں میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ جن میں ہنگامہ خیز دورہ‘ ڈیرہ غازی خان کا تھا۔ ہم لوگ ملتان ایئرپورٹ پر اترے اور جب وہاں سے گاڑیوں میں بیٹھ کر ڈیرہ غازی خان کے لئے روانہ ہوئے‘ توعوام کا جم غفیر دیکھ کر خود نوازشریف حیران تھے۔ ہم ایک بس میں بیٹھے تھے۔ نوازشریف ڈرائیور کے دوسری طرف فرنٹ سیٹ پر‘وہ یہ منظر دیکھ کر خود حیران ہو گئے کہ ملتان سے لے کر ڈیرہ غازی خان تک ‘جو معمول کے مطابق تین گھنٹے کا سفر تھا‘ ہم نے 12 گھنٹے میں طے کیا۔ ایک جگہ سردار فاروق لغاری کے مسلح افراد ناکہ لگائے کھڑے تھے۔ ہمارے ساتھ کوئی حفاظتی دستہ نہیں تھا۔ انہوں نے ٹریکٹر کھڑے کر کے راستہ بند کر رکھا تھا۔ اچانک نوازشریف کے چندفدائی نعرے لگاتے اور گولیاں چلاتے ہوئے سڑک پر آئے ‘ جن کی قیادت انعام اللہ خان نیازی کر رہا تھا۔ یہ منظر میں کبھی نہ بھولوں گا۔ راستہ کھول دیا گیا۔ ٹارگٹ یہ تھا کہ اس زمانے کے صدر فاروق لغاری کی جعلسازی کا مشاہدہ ‘موقع پر کرایا جائے۔ نوازشریف نے ہمیں خود بنجر زمینیں دکھائیں۔ جعلسازی کی تفصیل بتائی۔ سب کچھ جان لینے کے بعد‘ ہم ڈیرہ غازی خان کی طرف واپس آئے۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے گھر چائے نوشی کی۔ اس کے بعد ہم لوگ ملتان کی طرف روانہ ہوئے۔ نوازشریف کی اپنی گاڑیاں تھیں۔ ملتان میں ان کی رہائش کا انتظام تھا۔میرے لئے اقبال خاکوانی کے گھر قیام کا انتظام کیا گیا۔ جب میری کار‘ ڈیرہ غازی خان سے نکلی‘ توایک خاتون نے ہاتھ دے کر روکا۔ یہ تہمینہ دولتانہ تھیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اتنی گہری نیند سوئیں کہ مجھے بھی نیند آنے لگی۔ مسلم لیگیوں کو مظاہرے تو کرنا آتے ہیں۔ خبر بنانا نہیں آتی۔اس کے ماہر دو ہی ہیں۔ ایک جاوید ہاشمی دوسری تہمینہ دولتانہ۔ آپ ماضی میں مسلم لیگ (ن)کے جتنے بھی مظاہروں کو یاد کریں گے‘ ان میں جاوید ہاشمی پولیس کے ساتھ ٹکراتے‘ لاٹھیاں کھاتے اور خون بہاتے نظر آئیںگے یا تہمینہ دولتانہ۔ جاوید ہاشمی بور ہو کے‘ چلے گئے ہیں۔ سنا ہے‘ خوش تہمینہ بھی نہیں۔ لیکن تہمینہ کی مردانگی‘ صبر‘ حوصلے اور ڈھٹائی کی داد دینا پڑے گی کہ وہ آج تک ڈٹی ہوئی ہیں۔ لیکن نوازشریف کی اپنی ادائیں ہیں۔وہ لوگوں کا کئی کئی سال امتحان لیتے ہیں۔ تہمینہ اور سعید مہدی نے بہت انتظار کیا۔ سعید مہدی کی سنی گئی۔ تہمینہ کی بھی سنی جائے گی۔ یہ نوازشریف کا سٹائل ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved