تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     21-07-2014

اقتدار جاوید کی تازہ نظمیں

ذات باہر 
میں نے اپنی شخصیت خود سے جدا کی 
اور الف ننگا ہوا 
جو آہنی پردہ تھا میرے اور میری شخصیت کے درمیاں 
آخر ہٹا‘ جس اجنبیت نے مجھے 
خود سے بھی اوجھل کر رکھا تھا‘ وہ اُڑی 
میں خود پہ سارا آشکارا ہو گیا 
خود سے سوالوں کا میں جویا، گنگ تھا 
مجھ سے جدا اک بے حیا تن کر کھڑا تھا 
میں سوالوں کے پرانے مستقل آزار سے آزاد 
لب بستہ کھڑا تھا 
خود سے کیا میں پوچھتا‘ اک شرم تھی 
میں جس میں لحظہ لحظہ ڈوبتا جاتا تھا 
جیسے سوچتا تھا کیسے اپنی شخصیت کو کھینچ کر لائوں 
کہیں سے اور اس میں اپنا ننگا پن چھپا دوں 
کیسی بخت آور گھڑی تھی 
دست بستہ جس کے آگے میں کھڑا تھا‘ کہہ رہا تھا 
منکشف ہونا خود اپنے آپ پر 
اک ننگے پن پر منحصر ہے؟ شخصیت محتاج ہے 
اک ننگے پن کی‘ ڈوب مرنے کی گھڑی ہے 
دست بستہ جس کے آگے میں کھڑا ہوں 
کیسی بخت آور گھڑی ہے! 
آدمی رقص کر سکتا ہے 
تیری مخروطی ہیروں سے جھلمل بھری انگلیوں نے 
ذرا تار چھیڑے تو دکھ کیسے رِس رِس کے 
تاروں سے بہنے لگا‘ اک ترے ساتھ رہنے سے 
مجھ پر کھُلا کس طرح صبح ابھرنے سے پہلے 
کہیں خود کو دھوتی ہے‘ دُھل کے تری سمت 
کیسے لپکتی ہے! جب فصل پکتی ہے 
بوڑھے کسانوں کے مجمع پہ کس رنگ کے پھول گرتے ہیں 
کیسے بھلا آدمی اپنی تفہیم کرتا ہے 
کیا چیز ایسی چمکتی ہے‘ وہ اپنی تعظیم کرتا ہے 
جو کچھ فلک کے علاقوں میں پوشیدہ ہوتا ہے 
ان پر وہ ایمان لاتا ہے‘ اک سینہ افگار 
حلّاف ہنس ہنس کے حالت بتاتا ہے 
آپے سے باہر نکل جاتا ہے، باغ میں 
باغ کی پاک راہداریوں میں بھٹکتا ہے 
پھولوں کی جانب نکلتا ہے، پتّوں کی گہری لکیروں کو 
تکتا ہے، جھیلوں پہ جاتا ہے، گہری دوپہروں میں 
جب پانی جلتا ہے‘ تب آدمی اپنے ہاتھوں سے 
جھیلوں کو ڈھکتا ہے، اس کی نظر 
پانی میں عکس پر پڑتی ہے، اور وہ جان لیتا ہے 
پانی کے سیّال آئینے میں آدمی رقص کر سکتا ہے!! 
صبح 
صبحِ ماہ رُو، دھیرے دھیرے اک دلہن کی طرح 
سج کے آ گئی اور اپنے ساتھ کتنے رنگ روپ لے کے آ گئی 
فضا کو بھی دلہن بنا گئی، کہاں پہ تھی یہ سُرخ رو 
ماہتاب کی عزیز رشتے دار ہے جو اتنی گلزار ہے 
کہاں پہ اس کا رنگ سے لدا پھندا دیار ہے 
یہ لاڈلی نشوں بھری ہوا کے ساتھ آئی ہے 
نشوں بھری کی تھپکیوں سے پھول بے سکون ہیں مری طرح 
عجیب ان کے بھی بطون ہیں 
دلہن نقاب اتارنے لگی تو سڑے دھوئیں کی طرح 
اپنا آپ کھولتی ہوا، زبانِ یار بولتی ہوا 
معاً، ہلا، ہزار شاخچوں نے جھرجھری سی لی 
تو پیڑ میں طیور جاگنے لگے 
طیور مذہبی الاپ پیڑ کی کنشت میں 
الاپنے لگے 
ہوا جو پیڑ کے قریب آئی تو ہزار 
شاخچوں سے برگِ سبز سے نفیس اوس 
اک ادائے خاص سے ٹپک پڑی 
ہوا نے پھول کو چھوا تو پھول 
ایک سے ہزار ہو گیا، کنوئیں میں ڈول 
اک جھپاک سے گرا، کنوئیں کی تہہ پھٹی 
تو میں نثار ہو گیا!! 
آج کا مطلع 
بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا 
پھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایہ تھا 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved