تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     25-07-2014

کاک ٹیل

نمونے کی وضاحت 
ہرگاہ پارٹی قیادت نے مجھ سے جو وضاحت طلب کی ہے کہ میں نے این آر او اور جناب آصف علی زرداری کے دورۂ امریکہ کے مقاصد کے بارے میں بیان کیوں دیا ہے تو میں نے اصل بات تو بتائی ہی نہیں کہ صاحبِ موصوف کو وہاں انہوں نے ہی بھیجا ہے جو اپنی مستقل مزاجی کی وجہ سے جنرل مشرف کے بارے میں اپنے موقف پر قائم رہنا چاہتے ہیں اور اس وجہ سے انہیں مارشل لاء کا خطرہ بھی درپیش ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انہوں نے دوسری بار بھی وعدہ کر لیا ہے کہ جنرل مذکور کو بیرون ملک بھجوانے کے لیے کوئی راستہ تلاش کر لیا جائے گا لیکن انہیں ایک بار پھر مکرنا پڑ رہا ہے جس پر زرداری صاحب کو امریکہ بھجوانا ضروری ہو گیا تھا؛ چنانچہ وہ صاحب موصوف کے مشن پر ہی امریکہ گئے ہیں اور اسی لیے انہیں وہاں پروٹوکول بھی دیا گیا اور سفیر پاکستان نے ان کا استقبال بھی کیا جبکہ پہلے کسی سابق صدر کو اس طرح کا پروٹوکول کبھی نہیں دیا گیا۔ لہٰذا وضاحت عرض ہے۔ 
خاکسار...ش۔ ر، عفی عنہ 
قوم کو بے گھر متاثرین کی امداد کے لیے
متحرک نہیں کر سکے... عبدالقادر بلوچ 
وزیر سیفرون لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ ''ہم قوم کو بے گھر متاثرین کی امداد کے لیے متحرک نہیں کر سکے‘‘ لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ خود وزیراعظم ہی اس قدر متحرک ہیں کہ ہر تیسرے دن کسی غیر ملکی دورے پر رواں ہوئے ہوتے ہیں‘ اس لیے پوری قوم کے کسی فرد کو بھی متحرک ہونے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ سرمایہ دار طبقہ جو وزیراعظم کے پیٹی بھائی واقع ہوئے ہیں اور خود کو بھی حکمران ہی سمجھتے ہیں‘ صاحب موصوف کی ہی طرح قومی مفاد میں اپنی جمع پونجی میں اضافہ کرنے میں مصروف ہیں کہ برا وقت کسی وقت بھی آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''آئی ڈی پیز کی ناراضی مسئلہ ہوگا‘‘ تاہم لوڈشیڈنگ وغیرہ کی وجہ سے جو پوری قوم ناراض ہے تو اس نے حکومت کا کیا بگاڑ لیا ہے‘ اس لیے ان مساکین سے خوفزدہ ہونے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''امید ہے کہ نئی افغان حکومت مولوی فضل اللہ کو ہمارے حوالے کردے گی‘‘ اگرچہ باہمی حالات تو اس طرح کے ہیں کہ ہمیں لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ 
وزیراعظم مشکل وقت میں باہر
چلے گئے ہیں... عمران خان 
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ''وزیراعظم مشکل وقت میں باہر چلے گئے ہیں‘‘ بالکل اسی طرح جیسے میں باہر چلا جایا کرتا ہوں اور جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موصوف میری ہی پالیسیوں کی نقل اتارا کرتے ہیں حالانکہ انہیں کوئی اپنی پالیسی بھی وضع کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ''یوم آزادی کو ملک بادشاہت سے آزاد کرائیں گے‘‘ جبکہ اس کا طریقِ کار ابھی طے کرنا ہے کیونکہ صرف اسلام آباد پہنچنے اور واپس آجانے سے بادشاہت ختم نہیں ہو سکتی البتہ اگر اس دوران قادری صاحب کا انقلاب آ گیا تو میرا کام بھی آسان ہو جائے گا‘ اگرچہ وہ خود بھی نہیں جانتے کہ انقلاب کہاں سے اور کس راستے سے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''ہو سکتا ہے کہ اگلی باری جلد آ جائے‘‘ اور دونوں شرفاء اسی کے لیے ساری بھاگ دوڑ کر رہے ہیں‘ البتہ اگر انقلاب پہلے آ گیا تو باری بھی قادری صاحب ہی کے حصے میں آئے گی اور ان سے جان خلاصی کے لیے مجھے ایک اور مارچ کرنا پڑے گا۔ آپ اگلے روز پشاور میں سستا آٹا سکیم کا افتتاح کر رہے تھے۔ 
بدمعاشوں کو انقلاب میں رکاوٹ
نہیں بننے دیں گے... طاہر القادری 
پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ''بدمعاشوں کو انقلاب میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے‘‘ البتہ اگر انقلاب نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے خود ہی آنے سے معذرت کر لی تو اور بات ہے کیونکہ انقلاب بھی میری طرح فارغ نہیں ہے کہ جب جی چاہے آنا جانا شروع کردے‘ جس صورت میں بدمعاش اپنا سا منہ لے کر رہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ''انقلاب کے بعد ہٹلر اور مسولینی کو بھاگنے نہیں دیا جائے گا‘‘ اس لیے ان کے لیے بہتر ہے کہ اگر وہ بھاگنا چاہیں تو انقلاب آنے سے پہلے پہلے ہی بھاگ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ''وقت کے فرعونوں اور یزیدوں کے خاتمہ کا وقت قریب آ گیا ہے‘‘ تاہم یہ بھی وقت کی مرضی پر منحصر ہے اور وہ حسبِ معمول یزیدوں اور فرعونوں کے ساتھ سازباز بھی کر سکتا ہے جو کہ بہت بُری بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ''انقلاب کے بعد ملک میں حقیقی جمہوریت لائیں گے‘‘ جو میں کینیڈا سے ساتھ ہی لے کر آیا ہوں‘ بس انقلاب آنے کی دیر ہے‘ اسے بھی نافذ کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''انتخابی عمل کا نام جمہوریت نہیں ہے‘‘ بلکہ یہ انتخابی عمل سے بہت بلند و بالا چیز ہے جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ جائیں گے۔ آپ اگلے روز لاہور میں جھنگ اور چنیوٹ سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداران کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ 
گمراہ کُن 
ہرگاہ بذریعہ اشتہار ہٰذا دلی اظہارِ افسوس سے اعلان کیا جاتا ہے کہ محترمہ شہلا رضا کے بیان سے جو کہ انتہائی گمراہ کن تھا‘ پارٹی مکمل طور پر گمراہ ہو گئی ہے جسے راہِ راست پر لانے کے لیے مختلف تجاویز پر سوچ بچار کیا جا رہا ہے اور جس میں وزیراعظم صاحب سے بھی مدد کی درخواست کی جائے گی کیونکہ وہ سوچ بچار کے ماہر کی حیثیت سے ایک امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ نیز سابق وزرائے اعظم سمیت جناب امین فہیم اور میاں منظور خاں وٹو سے بھی اس سلسلے میں تعاون کی درخواست کی جائے گی جو سابقہ دور میں اپنی راست روی کے جھنڈے ایک دوسرے سے بڑھ کر گاڑ چکے ہیں۔ سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ اس بیان سے خود زرداری صاحب بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں اور گمراہ ہو کر بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں اور جن کے نارمل ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ 
المشتہر:سیاسی جماعت 
آج کا مطلع 
بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا 
پھر اُس کے بعد نہ میں تھا، نہ میرا سایا تھا 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved