تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     06-08-2014

بچگانہ سیاست

لیڈر اور افواج نہیں‘ یہ اقوام اور معاشرے ہیں‘ جو خود آگے بڑھ کر اپنی حفاظت کیا کرتے ہیں۔ اقبال نے یہ کہا تھا ؎ 
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم 
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب 
ایک کے بعد دوسرا لیڈر اٹھتا ہے اور قوم کو الّو بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ کیوں نہ ہو جو معاشرہ خود کو لیڈروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے‘ اس کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ خورشید شاہ صاحب نے اعلان کیا ہے کہ اگر دفعہ 245 نافذ رہی تو ان کی جماعت اور اپوزیشن کی دوسری پارٹیاں عمران خان سے بڑھ کر احتجاج کریں گی۔ کیا احتجاج کریں گی؟ کم از کم پیپلز پارٹی تو کچھ کرنے سے رہی۔ سندھ اور مرکز کی حکمران جماعتوں میں سمجھوتہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے معاملے میں ممکن حد تک صرفِ نظر سے کام لیں گی۔ پیپلز پارٹی نے چھ ارب روپے سے ازکار رفتہ قسم کا اسلحہ خریدنے کے لیے‘ آئی جی سندھ کو الگ کردیا تو نون لیگ نے کیا کیا؟ عمران خان کو احمق اور غیر ذمہ دار حتیٰ کہ غیر محبِ وطن ثابت کرنے کے لیے نون لیگ کے لیڈروں کی قوت متخیلہ بڑی خوبی سے بروئے کار آتی ہے۔ یہاں تک ارشاد کیا جاتا ہے کہ انتخابی دھاندلی پر ا ن کا احتجاج دراصل ضرب عضب کو ناکام بنا دینے کی حکمت عملی ہے۔ ایک درجن سے زیادہ لاشیں اٹھانے والے طاہرالقادری کو ٹیکس چور اور غدار بنانے کے لیے نون لیگ کی پروپیگنڈا مشینری شب و روز سرگرم ہے۔ اس کے برعکس کراچی کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اسلحہ کی خریداری میں غبن اور فراڈ کے کھلے امکانات پر ان کا دل کیوں نہیں دکھتا ہے؟ 
کراچی سے کل ایک مجرم گرفتار کر لیا گیا‘ دوسروں کے علاوہ‘ مبینہ طور پر جو تین پولیس والوں کے قتل کا مرتکب ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس پر کیوں چپ سادھ لی۔ یہ مؤقف کیوں اختیار نہ کیا کہ فوراً اور تیزی سے اس معاملے کی تحقیقات کی جانی 
چاہیے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ واقعی وہ گھنائونے جرم کا ارتکاب کرتا رہا ہے تو اسے نمونۂ عبرت بنا دیا جائے تاکہ ملک کے معاشی دارالحکومت کو قرار پکڑنے کے مواقع ارزاں ہو سکیں۔ پیر کا پورا دن پیپلز پارٹی کے لیڈر گانا گاتے رہے کہ جمہوریت کو وہ پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے۔ بجا ارشاد‘ قوموں کی ذہنی‘ معاشی اور علمی ترقی واقعی جمہوریت کے ساتھ وابستہ ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بہترین انسانی صلاحیت آزادی میں بروئے کار آتی ہے۔ پے در پے فوجی حکومتوں نے ذہنی طور پر معاشرے کو اپاہج بنا کے رکھ دیا ہے۔ ایک بار پھر فوج اگر حکومت میں آتی ہے تو ابن الوقتوں کے ٹولے‘ اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ اندیشہ ہے کہ ملک کا ایک اور عشرہ ضائع ہو جائے گا۔ اس وقت جب کہ دہشت گردی کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ جب چین کے تعاون سے بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری سے‘ گوادر اور کراچی سے سنکیانگ تک سڑک اور ریل کے رابطے کا امکان تخلیق ہوا ہے۔ کسی طرح یہ مرحلہ ا گر سر ہو گیا تو معاشی نمو کے امکانات حیرت انگیز حد تک وسیع ہو جائیں گے۔ اس لیے کہ چین کو اپنے مغربی صوبوں کے لیے پٹرول اور دیگر اشیاء پہنچانے کے لیے پانچ سے سات ہزار کلومیٹر کم فاصلہ طے کرنا ہوگا۔ وسطی ایشیا کا دروازہ بھی کھلے گا۔ سمندر تک ان ریاستوں کی مسافت نصف سے دو تہائی تک رہ جائے گی۔ اس پورے خطۂ ارض کی تقدیر میں تغیر پیدا ہوگا۔ صدیوں کے بعد ایک بار پھر تجارت کا رُخ مغرب سے زیادہ مشرق کی طرف ہو جائے گا۔ 
نوازشریف کا منصوبہ قابل داد ہے مگر ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے معرکے سر کرنے کے لیے ملکوں اور قوموں کو ایک کم از کم اتفاق رائے اور سیاسی استحکام درکار ہوتا ہے۔ سیاسی قرار کے راستے میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کو بڑے پیمانے پر ا نتخابی دھاندلی کی شکایت ہے۔ عمران خان کے اس طرزِ عمل سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ سال بھر کے بعد ہی حکومت کو چلتا کیا جائے؛ تاہم کیا یہ ان کا حق نہیں کہ انتخابی عمل کے معاملے میں انہیں مطمئن کیا جائے۔ آغاز کار میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ جو ہوا سو ہوا‘ وہ آئندہ کے لیے ایک بے عیب نظام کی ضمانت چاہتے ہیں۔ خوش دلی سے انہوں نے حکومت کو تسلیم کر لیا حالانکہ ان کے کارکن اس پر ناخوش تھے۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ چار کیا‘ چالیس حلقے کھولے جا سکتے ہیں۔ اب کیا ہوا؟ اب یہ دعویٰ کیوں ہے کہ حکومت نہیں یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے؟ عجیب لوگ ہیں‘ کسی بھی اہم معاملے میں وہ مخمصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ دراصل وہ کیا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کے مطالبوں پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔ دوسری طرف رانا ثناء اللہ‘ رانا مشہود اور پرویز رشید ہیں‘ جو طنز کرنے اور تمسخر اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پرویز رشید نے فرمایا: عمران خان کی جلسیوں سے ہم نہیں ڈرتے۔ رانا مشہود نے‘ جنہیں خبط ہو گیا ہے کہ خود کو رانا ثناء اللہ کا متبادل ثابت کریں‘ یہ کہا کہ طاہرالقادری پر غداری کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن‘ بلوچ لیڈر اور عبدالولی خان کے ساتھیوں پر غداری کے مقدمات سے آج تک اس ملک نے کیا حاصل کیا ہے؟ سیاسی معاملات سے سیاسی طور پر نمٹا جاتا ہے۔ اختلاف رائے کو بُغض و عناد تک لے جانا اور اسے برقرار رکھنا احمقوں کا شیوہ ہے۔ بھارت سمیت ساری دنیا میں الیکشن ہوتے ہیں اور ان کے نتائج تسلیم کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں۔ تحریک انصاف سمیت کیوں اپوزیشن اور حکومت کے رہنما اور قانونی ماہرین یکجا نہیں ہوتے کہ ایک لائحہ عمل طے کریں۔ عجیب لوگ ہیں۔ بلوچستان‘ فاٹا اور کراچی میں قومی بقا کی جنگ لڑی جا رہی ہے اور وہ کن چیزوں میں الجھے ہیں۔ فلسطین میں قیامتِ صغریٰ برپا ہوئی تو راجا ظفرالحق نے ایک بڑا ہی دلچسپ بیان جاری کیا۔ نوازشریف کو اگر تنگ نہ کیا جائے تو وہ عالم اسلام کو متحد کر سکتے ہیں۔ سبحان اللہ‘ سبحان اللہ۔ اس طرح کی احمقانہ داد تو مشاعروں میں بھی نہیں دی جاتی‘ جیسی ہماری پارٹیوں کے اپنے عظیم قائدوں پر انحصار کرنے والے دریوزہ گر دیتے ہیں۔ نون لیگ نے اب ایک نیا لیڈر چنا ہے‘ طلال چودھری۔ کل اس نے کہا‘ ہم اگر چاہیں تو اسلام آباد میں تحریک انصاف سے کئی گنا زیادہ لوگ جمع کر سکتے ہیں۔ ہم اگر چاہیں تو ان کے حامیوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیں۔ کیا کہنے‘ کیا کہنے۔ پچھلے تین برس میں تحریک انصاف ایسا ایک جلسہ نون لیگ کر نہیں سکی۔ وہ لیڈروں کی پارٹی ہے‘ کارکنوں کی نہیں۔ قوت کا مظاہرہ وہ کر سکتی تو یقینا کرتی۔ ارکان اسمبلی اس کے روتے ہیں کہ خاندان اور خوشامدیوں کے سوا دربار میں کسی کی رسائی نہیں۔ کیسی حسرت کے ساتھ یہ خیال آتا ہے کہ وزیراعظم کاش فلسطین کے معاملے میں ترکی‘ ایران‘ سعودی عرب اور دوسرے مسلم ممالک سے رابطہ کرتے۔ انہیں مگر فرصت کہاں۔ ہفتے میں دو دن لاہور میں‘ وگرنہ کوہ مری یا غیر ملکی دورہ۔ پارلیمنٹ کے لیے وقت ہے اور نہ اپنی پارٹی کے لیے۔ صاحبزادوں کو البتہ ساری دنیا میں لیے پھرتے ہیں۔ صاحبزادی کے سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے۔ کسی شام اپنے ہاں لیڈروں کو جمع کرتے کہ کچھ اور نہیں تو کل غزہ کی تعمیر نو کے لیے قوم کو متحرک کریں‘ جہاں یتیموں اور بیوائوں کی لہولہان فصلیں اگ رہی ہیں۔ جماعت اسلامی اور جماعت الدعوۃ کے سوا کسی کو فکر ہی نہیں۔ خدمت خلق میں عمران خان کا ریکارڈ شاندار ہے مگر اب احتجاج کی رو میں انہوں نے فلسطینیوں کو بھلا دیا اور وزیرستان کے مہاجرین کو بھی۔ 
نون لیگ اور تحریک انصاف کے مذاکرات تو بالآخر ہو کر ہی رہیں گے۔ عمران خان حکومت کو گھر نہیں بھیج سکتے اور نون لیگ شعبدہ بازی سے احتجاج کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ آگ اب کے نہ بھڑکی تو اگلے برس پھر بھڑکے گی۔ 
پاکستانی عوام کے لیے حالات میں ایک سبق ہے۔ بحیثیت مجموعی اخلاقی طور پر کوئی معاشرہ کبھی اتنا بلند نہیں ہوتا کہ احتساب سے بے نیاز ہو سکے۔ بچگانہ سیاست کرنے والے ان لیڈروں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ بچگانہ سیاست کا سلسلہ وگرنہ جاری رہے گا۔ طلال چودھری اور خورشید شاہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ 
دنیا بھر میں سیاسی لیڈر اس لیے محتاط رہتے ہیں کہ مستقل انہیں عوامی دبائو کا سامنا ہوتا ہے۔ ہمارے موٹی کھال والے رہنما‘ اس سے آزاد ہیں۔ لیڈر اور افواج نہیں‘ یہ اقوام اور معاشرے ہیں‘ جو آگے بڑھ کر خود اپنی حفاظت کیا کرتے ہیں۔ اقبال نے یہ کہا تھا ؎ 
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم 
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved