تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     08-08-2014

سرخیاں اُن کی‘ متن ہمارے

سری لنکا سے تجارت بڑھانے کے لیے
رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''سری لنکا سے تجارت بڑھانے کے لیے رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا‘‘ کیونکہ تاجر ہی ہمارے پیٹی بھائی ہیں‘ اگرچہ وہ عام طریقے سے تجارت کرتے ہیں اور ہمارا طریقہ ذرا خاص ہے جبکہ ویسے بھی ملک کو صرف اور صرف تجارت کی ضرورت ہے اور خاکسار بھی اکثر ملکوں کا چکر اپنے صاحبزادے کے ہمراہ اسی لیے لگاتا رہتا ہے جبکہ یہ طبقہ طاہرالقادری اور عمران خان کے مقابلے میں حکومت کے حق میں ریلیاں نکالنے کا مبارک ارادہ بھی رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کامیابی دے‘ آمین۔ انہوں نے کہا کہ ''سری لنکا کے ساتھ باہمی اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کی ضرورت ہے‘‘ کیونکہ آج کل کے مخدوش حالات میں اگر حکومت نہیں رہتی تو کم از کم تجارت کا میدان تو کھلا رہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستان اور سری لنکا میں باہمی تجارت کی بہت زیادہ صلاحیت پائی جاتی ہے‘‘ اور کوئی تاجرانہ حکومت ہی اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہے‘ ہیں جی؟ آپ اگلے روز سری لنکا کے سیکرٹری خارجہ سے ملاقات کر رہے تھے۔ 
سیاست میں بال ٹمپرنگ نہیں 
چلے گی... شہباز شریف 
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''سیاست میں بال ٹمپرنگ نہیں چلے گی‘‘ اور اس میں صرف مرضی کا امپائر رکھنے کا طریقِ کار ہی چل سکتا ہے جو کہ بھائی صاحب کا باغِ جناح میں کرکٹ مقابلوں کے دوران وتیرہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں‘‘ اور امید ہے کہ وزراء اور معزز ارکان اسمبلی سے ملاقات کے دروازے بھی بہت جلد کھل جائیں گے جو اِدھر اُدھر ناک منہ بسورتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''خود عمران کے گھر جانے کو تیار ہوں‘‘ پیشتر اس کے کہ اسی رولے گولے میں اپنے ہی گھر چلا جائوں۔ انہوں نے کہا کہ ''مارشل لاء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘ کیونکہ ہمارا چھابہ الٹانے کے لیے مارشل لاء کے علاوہ بھی ان مہربانوں کے پاس کئی طریقے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''قادری صاحب نے سیاست کرنی ہے تو سیاسی طور پر میدان میں آئیں‘‘ جس کا ہم نے پورا پورا انتظام کر رکھا ہے کیونکہ سیاست میں جھوٹے سچے مقدمات بھی قائم کیے جاتے ہیں اور ہر طرف سے ناکہ بندی بھی کی جایا کرتی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک انٹرویو دے رہے تھے۔ 
عمران خان کو اپنے رویے میں 
لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے...گیلانی 
سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ''عمران خان کو اپنے رویے میں لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘‘ تاکہ حکومت میرے بارے بھی لچک کا مظاہرہ کر سکے جو میرے پیچھے لٹھ لے کر پڑی ہوئی ہے حالانکہ میں نے جنرل مشرف کی طرح ہر کام ملکی مفاد میں کیا تھا اور اگر اس سے مجھے بھی کچھ فوائد حاصل ہوئے تو دراصل یہ بھی ملکی مفاد ہی کی ایک صورت تھی کیونکہ جیسے ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں ہوتا ہے اسی طرح وزیراعظم کے پائوں میں بھی سب کا پائوں ہونا چاہیے لیکن سابق چیف جسٹس نے اُلٹا میرا پائوں ہی اپنے پائوں میں گھسیڑ لیا جس کے خلاف رانا اعجاز صاحب چارہ جوئی کر رہے ہیں اور نوٹس بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''سیاست میں کوئی طے شدہ قواعد و ضوابط نہیں ہوتے‘‘ جیسا کہ میں نے سارے قواعد و ضوابط اپنے لیے خود ہی طے کر لیے تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی طے ہو گئے تھے اور جس کے نتائج اب ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 
نوازشریف ملکی خوشحالی کے لیے سب
کچھ قربان کر دیں گے... عابد شیر علی 
وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ ''نوازشریف ملکی خوشحالی کے لیے سب کچھ قربان کر دیں گے‘‘ حتیٰ کہ ایک وقت کا کھانا بھی قربان کر سکتے ہیں کیونکہ جب وہ اپنی آئی پر آ جائیں تو ان سے کسی بھی کام کی توقع کی جا سکتی ہے جیسا کہ انہوں نے جنرل مشرف کے بارے میں دو بار انہیں باہر بھیجنے کا وعدہ کر کے اب ان وعدوں کی قربانی دی ہے اور اس وجہ سے فوج کے ساتھ اِٹ کھڑکا لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ن لیگ اور پیپلز پارٹی اختلافات کے باوجود ملک اور جمہوریت کے لیے ایک ساتھ ہیں‘‘ جبکہ ن لیگ تو یقینی طور پر ساتھ ہے‘ البتہ پیپلز پارٹی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کسی وقت ان فسادیوں کے ساتھ مل کر دھوبی پٹڑہ مار دیتی ہے اور دراصل مناسب وقت ہی کا انتظار کر رہی ہے اور جو ان دنوں کسی وقت بھی آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان کس کے ساتھ ہیں‘‘ اور میرا اندازہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ تو بالکل نہیں ہیں۔ آپ اگلے روز میپکو ہیڈ کوارٹر ملتان کی تقریب پرچم کشائی سے خطاب کر رہے تھے۔ 
جھوٹ بولنے کا سوچوں بھی تو لگتا ہے
جیسے سانس رُک جائے گا... طاہرالقادری 
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ''جھوٹ بولنے کا سوچوں بھی تو ایسے لگتا ہے جیسے سانس رُک جائے گا‘‘ جبکہ پہلے تو میری سمجھ ہی میں نہ آتا تھا کہ میرا سانس ہر وقت کیوں رُکا رہتا ہے؛ چنانچہ اب پتہ چلنے پر میں ہر وقت اِن ہیلر اپنے پاس رکھتا ہوں اور اس بات کا بھی خیال رکھتا ہوں کہ جھوٹ بولنے کے لیے سوچنا بھی چھوڑ دوں کیونکہ اس کام کے لیے سوچنا ویسے بھی کوئی خاص ضروری نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ''میں واقعی جھوٹ نہیں بولتا‘‘ اور اگر میری کہی ہوئی کوئی بات جھوٹ ثابت ہو جاتی ہے تو وہ اس بات کا قصور ہے‘ میرا نہیں۔ انہوں نے ایک صحافی کے اس سوال پر کہ آپ عمران خان سے ملنے گئے یا نہیں‘ کہا کہ ''آپ نے سوال ہی ایسا کردیا ہے کہ میں اس کا جواب نہیں دے سکتا‘‘ کیونکہ میں جواب دینے کے بارے میں ابھی سوچنے ہی لگا تھا کہ میرا سانس بند ہونے لگا ہے اور فوری طور پر اِن ہیلر استعمال کرنے لگا ہوں؛ چنانچہ کبھی اچھی طرح سے سانس بحال ہو گیا تو آپ کے سوال کا جواب دے دوں گا۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ 
آج کا مقطع 
ظفرؔ، لگے ہوئے تھے چور خانۂ دل میں 
میں اور کچھ نہ سہی شور ہی مچا سکتا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved