تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     14-08-2014

فرمایا

نزدیک و دور کیا ہے 
غلمان و حور کیا ہے 
سب جانتا ہوں‘ پھر بھی 
میرا قصور کیا ہے 
......... 
اتنی چاہت کا خاتمہ کرنا 
اس شباہت کا خاتمہ کرنا 
للوئوں پنجوئوں کے بس میں نہیں 
بادشاہت کا خاتمہ کرنا 
......... 
سب مجھ سے رختہ ہی سہی 
یہ سارا وختہ ہی سہی 
اپنی ہٹ کا پکا ہوں 
تخت نہیں‘ تختہ ہی سہی 
......... 
بیٹے کی یا باپ کی ہے 
جس جس کے بھی ناپ کی ہے 
یہ جو ترقی ہے‘ دراصل 
میری نہیں ہے آپ کی ہے 
......... 
لازم ہیں یا لادم ہیں 
تھوڑے تھوڑے نادم ہیں 
جیسے بھی ہیں بُرے بھلے 
آخر قوم کے خادم ہیں 
......... 
سب نے‘ ہر نے اٹھا رکھا ہے 
خشک و تر نے اٹھا رکھا ہے 
اتنا بوجھ حکومت کا 
سارے گھر نے اٹھا رکھا ہے 
......... 
دولت آنی جانی ہے 
یہ دنیائے فانی ہے 
مال بنایا ہے جتنا 
یہ بھی اک قربانی ہے 
......... 
پائوں نہیں یا ہاتھ نہیں 
سڑکیں ہیں‘ فٹ پاتھ نہیں 
ساتھ ہمارے ہو کہ نہ ہو 
فوج تمہارے ساتھ نہیں 
......... 
پائوں دھرنے کو تیار ہوں 
رنگ بھرنے کو تیار ہوں 
بے نتیجہ تو رہ جائے گی 
بات کرنے کو تیار ہوں 
......... 
دیکھ کر بلند و پست 
ہر طرح کا بود و ہست 
مارچ کرنے والوں کا 
کر لیا ہے بندوبست 
......... 
سننا کہنا بھی سیکھو 
رو میں بہنا بھی سیکھو 
رستے بند ہوئے تو کیا 
گھر میں رہنا بھی سیکھو 
......... 
بدھ کو منگل نہیں بننے دیں گے 
کوئی دنگل نہیں بننے دیں گے 
ہر طرف شیر دھاڑے گا 
مگر ملک جنگل نہیں بننے دیں گے 
......... 
کوئی چپل نہیں‘ کوئی سینڈل نہیں 
یعنی خودکار ہیں کوئی ہینڈل نہیں 
اندر اندر کیا تو ہے سارا ہی کچھ 
پر کرپشن کا کوئی سکینڈل نہیں 
......... 
جو بھی ہم نے دکھایا کام 
تھا بس اپنا اتنا کام 
بن جائے گا کمیشن‘ پھر 
وہ جانے اور ان کا کام 
......... 
گلو بٹوں کا راج ہے جس جگہ جایئے 
وہ وہ رکاوٹیں ہیں کہ بس کیا بتایئے 
جو بھی مطالبات وہاں کیجیے گا پیش 
اسلام آباد پہلے پہنچ کر دکھایئے 
آج کا مقطع 
ہاتھ آنکھوں پر رکھے گھر سے نکلتا ہوں‘ ظفرؔ 
کیا بتائوں کوچہ و بازار کا کیا رنگ ہے 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved