تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     20-08-2014

حکمت

فرمایا: حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے ۔ کیا کپتان پلٹ کر آئے گا اور اپنی متاع کی حفاظت کرپائے گا؟ 
ایک آدھ نہیں ، عمران خاں نے کئی غلطیاں کی ہیں اور اب اسے قیمت چکانی ہے ۔ آخری موقع یہ تھا کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں کے ایک وفد کو ثالث مان لیتا ۔ اب بھی بہت سے راستے باقی تھے۔ وزیراعظم کی درخواست کے باوجود سپریم کورٹ نے ابھی تک عدالتی کمیشن قائم نہیں کیا۔ نوّے دن سے کم کر کے اس کی مدت تیس دن کی جا سکتی تھی ۔ پابند کر دیا جاتاکہ دھاندلی کے باب میں وہ حتمی فیصلہ صادر کرے ۔ مثلاً یہ کہ نقب زنی اگر پندرہ بیس فیصد سیٹوں تک محدود رہی تو ضمنی الیکشن ہوں ،اگر اس سے زیادہ تو نئے الیکشن کرا دیے جائیں۔ 
سپین کے آمر سے پوچھا گیا کہ وہ تین عشرے تک اپنی حکمرانی قائم رکھنے میں کیسے کامیاب رہا۔ اس کا جواب یہ تھا : ہاں میں ہاں ملانے والے کسی شخص کو میں نے قریب پھٹکنے نہ دیا۔ ہمیشہ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ، جو مجھ سے اختلاف کر سکتے ہوں ۔روس پر نپولین کے حملے سے قبل اس کا قریبی دوست اصرار کرتا رہا کہ وہ اس غلطی کا ارتکاب نہ کرے ۔ فرانسیسی فاتح نے اس کامذاق اڑایا ۔ کبھی یہ کہا کہ وہ زارِ روس سے مرعوب ہے اور کبھی یہ کہ وہ اس کے ساتھ ساز باز میں شریک ہے ۔باقی تاریخ ہے ۔ 
کپتان نے اپنی جماعت ان لوگوں کے حوالے کر دی تھی ، جو اپنے ادنیٰ مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچ ہی نہیں سکتے ۔ ان میں سے ایک نے قومی اسمبلی کے ایک امیدوار سے ایک کروڑ تیس لاکھ روپے طلب کیے ۔ایک ایسے شخص سے ، جو عوامی خدمات کے شاندار ریکارڈ کا حامل تھا۔ وہ ایسا کیوں کرتا؟ لندن سے آنے والے ایک نو آموز کو ٹکٹ دے دیا گیا ، جو اپنے شہر سے صرف ساڑھے تین ہزار ووٹ ہی لے سکا۔ درجنوں شکایات تھیں اور کسی پر بھی کارروائی نہ کی گئی ۔ 
الیکشن کے فوراً بعد عمران خاں نے چوہدری شجاعت حسین سے رابطہ کیا ۔ ان کا مشورہ یہ تھا : اپنے کامیاب امیدواروں کے ساتھ قومی اسمبلی کے سامنے سینہ کوبی کرتے رہو ۔اندر جانا ہی پڑے تو ایوان میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھو۔ لاہور میں ایک احتجاجی تحریک برپا تھی لیکن پھر اسے موقوف کر دیا گیا۔ منتخب ارکان ایوان میں داخل ہونے کے لیے بے تاب تھے اور ہارنے والے شکست خوردگی کا شکار۔ سب سے بڑی غلطی کا ارتکاب عمران خاں نے خود کیا۔ کارکنوں سے رابطہ کرنے کی بجائے، وہ بد دلی میں مبتلا ہوئے۔ انہوں نے پارٹی کو وقت دینے سے انکار کر دیا اور زیادہ وقت گھر پہ گزارنے لگے ۔ ان دوستوں کے درمیان ، جن میں ہر قماش کے لوگ شامل تھے ۔ ناراض ساتھیوں کو منانے کا خیال انہیں تاخیر سے آیا ۔یہ کام کیا بھی تو بد دلی سے ؎ 
اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ 
دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی 
اس اثنا میں پارٹی کے مفاد پرستوں نے ایک بار پھر لیڈر کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ انتخابی نتائج تسلیم کر لینے کے بعد اب بہترین لائحۂ عمل یہ ہوتا کہ پارٹی کی تنظیمِ نو کریں ۔ باقاعدہ الیکشن کے انعقاد سے پہلے ، جماعت کی جنرل کونسل سے وہ عہدیدار نامزد کرنے کا اختیار حاصل کر سکتے تھے ۔ نہایت آسانی کے ساتھ وہ صداقت عباسی ایسے عہدیداروں سے نجات پالیتے۔ ہوا اس کے برعکس ، احتجاجی تحریک کی ذمہ داری صداقت عباسیوں کے سرپرست سیف اللہ نیازی کو سونپ دی گئی ۔ مخلص کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد انہیں مالی بے قاعدگیوں کا مرتکب سمجھتی ہے ۔ ایسا آدمی ایک فیصلہ کن جنگ کے سپاہیوں کو متحرک کرنے کا کارنامہ کیونکر انجام دے سکتا؟ایسے میں کون آسانی سے عطیہ کرتا؟دو ارب کے اخراجات محض ایک افسانہ ہیں ؟زیادہ تر بوجھ علیم خاں نے اٹھایا۔
اسلام آباد، راولپنڈی اور ٹیکسلا میں کارکنوں کو منظم کرنے اور گھر گھر بھیجنے کا کوئی بندوبست نہ کیا گیا۔ غلام سرورخان، شیخ رشید اور اسد عمر اپنے اور کپتان کے حلقوں میں اجتماعات کا اہتمام کرتے تو کیا صرف جڑواں شہروں اور نواحی علاقوں سے تیس پینتیس ہزار مظاہرین امنڈ نہ آتے ؟ وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک بھی کچھ زیادہ پُرجوش نہ تھے۔ مرکزی حکومت بھی ان کے ساتھ رابطے میں تھی۔ 11مئی کی احتجاجی ریلی کے برعکس اس بار وہ کارکنوں کی قابلِ ذکر تعداد اسلام آباد نہ لا سکے ۔ پختون خوا اسمبلی برطرف نہ کرنے پر اپنا موقف ابتدا ہی میں انہوں نے واضح کر دیا تھا۔ زندگی میں پہلی اور شاید آخری بار وہ وزیرِاعلیٰ بنے ہیں ۔ اس اعزاز سے محروم ہو کر وہ تاریخ کی گرد میں گم ہو نا کیوں پسند کریں ۔ صوبے میں اسمبلی ارکان کی ایک قابلِ ذکر تعداد ایسی ہے ، جو شاید دوسری بار ٹکٹ حاصل نہ کر سکے ۔ کر پائے تو شاید جیت نہ سکے ۔ عمران خان خوش فہمی کا شکار رہنا پسند کریں تو ان کی اپنی مرضی۔ شکست و ریخت کا سلسلہ جاری رہا تو ان میں سے بعض استعفوں سے لا تعلق ہو کر ایوان میں براجمان رہنا پسندکریں گے ۔ پختون خوا اسمبلی کی فوری تحلیل کا خطرہ تو اس لیے ٹل چکا کہ عدم اعتماد کی تحریک ایوان میں پیش کر دی گئی ہے۔ جماعتِ اسلامی اور صوابی کی عوامی تحریک اوّل دن سے اسمبلی توڑ ڈالنے کی مخالف ہیں۔ مسلسل ایک ہفتے تک کپتان کی ممکنہ وکالت کرنے کے بعد سراج الحق نے آج ان سے مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ 
تھوڑا سا وقت اب بھی باقی ہے ۔ تحریکِ انصاف کی بقا کا تمام تر انحصار اب اس پر ہے کہ اپوزیشن کے توسط سے وہ ایک آبرو مندانہ معاہدہ کر لے ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے کھل کر ان کی مخالفت کر دی ہے ۔ تاجروں نے اس سے آگے بڑھ کر ۔ جہاں تک عسکری قیادت کا تعلق ہے ، ہرگز وہ عمران خان کی مدد نہیں کر سکتی۔ ان سے اپنا فاصلہ وہ بڑھا لے گی ۔ واقعہ یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے اظہارِ خیال میں احتیاط اور ان کے نائبین نے جنرل راحیل شریف کے علاوہ اپوزیشن سے رابطے کی جو حکمتِ عملی اختیار کی، اس نے تحریکِ انصاف کے امکانات محدود کر دیے۔ 
جیسا کہ بار بار عرض کیا، عمران خان کا موقف درست اور حکمتِ عملی ناقص تھی ۔ وزیراعظم سے مستعفی ہو نے کی بجائے، اگر وہ انتخابی اصلاحات ، نئے الیکشن کمیشن ، بائیو میٹرک سسٹم اور دھاندلی کے ذمہ د اروں کو سزا دینے کا علم اٹھائے ہوتے تو ان کی پوزیشن کتنی مضبوط ہوتی ۔ ا فسوس کہ ایک سنہری موقعہ انہوں نے گنوا دیا اور اس لیے گنوا دیا کہ ہر اچھے مشیر کی طرف انہوں نے پیٹھ کر لی اور خوشامدیوں میں گھر گئے ۔ معلوم نہیں وہ کون احمق تھا، جس نے سول نافرمانی کا انہیں مشورہ دیا۔ ایک بچہ بھی جانتا تھا کہ ایسی کسی تحریک کی کامیابی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ۔ 
ناکامی ایسی خطرناک نہیں ہوتی ، جتنا کہ ابتلا کی گھڑی میں ژولیدہ فکری اور اس میں کوئی کلا م نہیں کہ کپتان اس میں مبتلا ہے۔ اس کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ پلٹ جائے اور صبر و تحمل کے ساتھ پارٹی کی تنظیمِ نو کرے ۔ ابن الوقتوں سے نجات پائے وگرنہ وہ سنبھل نہ پائے گا ؎ 
مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں 
میں تسبیحِ روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ 
روزِ ازل پروردگار نے عقل کو تخلیق کیا تو فرمایا کہ جو کچھ کسی کو دوں گا، تیرے طفیل دوں گا، جو لوں گا ، تیری وجہ سے لوں گا۔ حکمت جس نے ہار دی ، اس نے جنگ ہار دی ۔ 
فرمایا: حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے ۔ کیا کپتان پلٹ کر آئے گا اور اپنی متاع کی حفاظت کرپائے گا؟ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved