تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     27-08-2014

قبیلہ

قبیلہ دو دھڑوں میں بٹ گیا۔ معمولی سا جھگڑا تھا۔ پھیلتے پھیلتے لڑائی میں تبدیل ہو گیا۔ مارپیٹ ہوئی۔ سر پھٹول ہوا۔ لاٹھیاں چلیں۔ پھر بندوقوں کی نوبت آ گئی۔ کچھ مارے گئے۔ چند زخمی ہوئے۔ آپس میں بول چال بند ہو گئی۔ یہ حالات تھے جب ایک اور قبیلے نے دو دھڑوں میں بٹے ہوئے اس قبیلے پر حملہ کردیا۔حملہ کرنے کی دیر تھی کہ دونوں دھڑے اکٹھے ہو گئے۔ سارے جھگڑے بھلا دیے گئے۔ قتل تک معاف ہو گئے۔ اب مسئلہ دھڑوں کا نہیں‘ پورے قبیلے کا تھا۔ متحد ہو کر دوسرے قبیلے کا مقابلہ کیا گیا۔ وہی قبیلہ جو آپس میں لڑ رہا تھا‘ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہو گیا۔ کوئی رخنہ رہا نہ جھگڑا۔ 
یہ جو میاں نوازشریف وزیراعظم پاکستان سابق صدر آصف زرداری کو ہیلی پیڈ سے خود ڈرائیو کر کے رائے ونڈ محل میں لے گئے‘ یہ جو ان کا ایسا استقبال ہوا جیسا بادشاہوں کا ہوتا ہے‘ یہ جو ان کے اعزاز میں فش کباب‘ مٹن کباب‘ چکن اچاری‘ آلو گوشت‘ آلو کی بھجیا‘ چاول ‘ملائی بوٹی‘ مٹن قورمہ‘ مٹن بریانی‘ سری پائے‘ پالک پنیر بھرے ٹینڈے‘ چار پانچ قسم کی سبزیاں‘ ہرن کا گوشت‘ قیمہ بھرے کریلے‘ بھنے بٹیر‘ افغانی پلائو‘ سندھی بریانی‘ سندھی بھنڈی‘ مٹن نہاری‘ حیدرآبادی کوفتے‘ کشمیری کلچے‘ چھ اقسام کی سلاد‘ کھیر‘ رس ملائی‘ پیٹھے کا حلوہ‘ رس گلے‘ بے نظیر قلفہ‘ قصوری فالودہ‘ شہد‘ فروٹ ٹرائفل اور چاٹی کی لسی پیش کی گئی‘ یہ جو گیارہ جماعتیں اکٹھی ہو گئی ہیں‘ تو یہ ایک قبیلہ متحد ہوا ہے جس پر ایک اور قبیلے نے حملہ کردیا ہے۔ اب مسئلہ دھڑوں کا نہیں۔ مسئلہ پورے قبیلے کا ہے۔ نون لیگ ہو یا پیپلز پارٹی‘ اے این پی ہو یا جے یو آئی‘ ضیا لیگ ہو یا پگاڑا لیگ‘ یہ سارا ایک قبیلہ ہے اور وہ جو بوریاں بچھا کر دھرنے میں بیٹھے ہیں‘ وہ ایک اور قبیلہ ہے۔ اسے عامی قبیلہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ عامی قبیلہ خواص کے قبیلے پر اپنی دانست میں حملہ آور ہوا ہے۔ 
مسئلہ عمران خان کا نہیں‘ نہ ہی ڈاکٹر طاہرالقادری کا ہے۔ مسئلہ اُن لوگوں کا ہے جو ان کی آواز پر لبیک کہہ کر اکٹھے ہوئے ہیں‘ اپنے اپنے گھروں میں ٹیلی ویژن سکرین کے ساتھ لگ کر بیٹھے ہیں اور صبح صبح اخبار کی جانب لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سی این جی کی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔ آدھا کلو امرود خرید کر گھر میں پہنچتے ہی بچوں کو مژدہ سناتے ہیں کہ پھل آ گئے ہیں۔ پانچ مرلے کا گھر بنانے کے لیے دو پوری نسلیں پلاننگ کرتے کرتے قبر میں پہنچ جاتی ہیں‘ بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں‘ ''فارغ التحصیل‘‘ ہو کر الیکٹریشن یا ویلڈر بنتے ہیں اور اگر بی اے کر لیں تو علاقے کے ایم این اے کے سامنے گھٹنے ٹیک ٹیک کر چھوٹی موٹی نوکری حاصل کرتے ہیں۔ 
یہ جو قبیلہ رائے ونڈ سے لے کر اسمبلی کی راہداریوں اور ایوانِ وزیراعظم کے دالانوں تک متحد کھڑا ہے‘ یہ طاقت کا سرچشمہ ہے۔ آپس میں یہ رشتہ داریوں میں بندھے ہیں۔ ایک بھائی نون میں ہے تو دوسرا کسی اور لیگ میں۔ سسرال پیپلز پارٹی میں ہے تو میکہ کسی نہ کسی لیگ میں۔ اسمبلیوں میں ان کی خاندانی نشستیں نسلوں تک محفوظ ہیں۔ نوکری کے لیے انہیں کسی مقابلے کے امتحان میں بیٹھنا ہے نہ کچھ اور کرنا ہے۔ ارسلان افتخار‘ تاریخ میں پہلی بار‘ سی ایس ایس کی چکی میں پسے بغیر پولیس میں اے ایس پی لگ گئے حالانکہ اے ایس پی ہمیشہ وہ لگتا ہے جو دو سال سی ایس ایس کے مراحل میں گزار کر آیا ہو‘ جناب امین فہیم کی صاحبزادی مقابلے کا امتحان دیئے بغیر پاکستانی سفارت خانے میں افسراعلیٰ تعینات ہو گئی‘ ایسی بیسیوں نہیں‘ سینکڑوں مثالیں ہیں۔ ایک پارٹی کے وزیر کا بھائی قانون کی گرفت سے بچنا چاہتا ہے تو دوسری پارٹی کا سیاست دان اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ ان میں لاتعداد چیزیں مشترک ہیں‘ ٹیکس نہیں دیتے‘ کروڑوں اربوں کے قرضے بیک جنبشِ قلم معاف کرا لیتے ہیں۔ فیکٹریاں اور کارخانے لگاتے ہیں۔ بجلی کے بل نہیں دیتے۔ ابھی تو چند سال پہلے کی بات ہے کہ ایک کارخانہ دار نے واپڈا والوں کو قتل کی دھمکی دے دی۔ اسلحہ ان کے پاس بے شمار ہے‘ ایک ایک کے پاس درجنوں گارڈ ہیں۔ بیرون ملک اپارٹمنٹ‘ محلات‘ کارخانے اور کاروبار ہیں‘ ڈیروں پر مفرور بیٹھے ہیں۔ اشارہ کریں تو علاقے کا ایس ایچ او بھی تبدیل ہو جاتا ہے اور تحصیل دار بھی بلکہ ایس پی اور ڈپٹی کمشنر بھی! 
آپ نہیں دیکھتے کہ اسمبلی میں جب مراعات کا بل پیش ہوتا ہے یا زراعت کے سیکٹر پر ٹیکس کی بات ہوتی ہے تو یہ قبیلہ‘ ایک ساعت میں متحد ہو جاتا ہے! 
ایف آئی آر؟ کون سی ایف آئی آر؟ آج تک کون سی ایف آئی آر کٹی ہے؟ جب بلوچستان کے صحرا میں لڑکیوں کو گولی مار کر ریت میں دفن کردیا گیا تھا تو کابینہ میں کون بیٹھا ہوا تھا؟ پنچایتیں حکم دیتی ہیں کہ ملزم کی بہن کو پکڑ لائو تو آج تک کس پنچایت کا کون سا رکن پکڑا گیا ہے؟ یہ تو دو ہفتے پہلے کی بات ہے کہ ایک عورت پر کتے چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ قانون نہ جانے اُس وقت کس سیاست دان کی خدمت میں مصروف تھا اور رُول آف لا نہ جانے کس وڈیرے کے گُھٹنے چھُو رہا تھا! 
ایک ہی استاد کے شاگرد ''استاد بھائی‘‘ کہلاتے ہیں۔ ایک ہی بزرگ کے مرید ''پیر بھائی‘‘ کہلاتے ہیں۔ یہ جو متحد ہیں‘ یہ ''سٹیٹس کو بھائی‘‘ ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ قانون کا ہاتھ ان تک پہنچ سکے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان کے سامنے بس ہے۔ یہ حصار نہیں توڑا جا سکتا۔ یہ قلعہ جس کی بنیاد پنجاب کی یونینسٹ پارٹی نے رکھی تھی‘ اب اس قلعے کی دیواریں اونچی کرنے میں صنعت کار بھی شامل ہو چکے ہیں اور تو اور اگر کوئی اِکا دُکا جماعت اپنے اندر الیکشن کراتی ہے اور عام لوگوں پر مشتمل ہے‘ وہ بھی ان وڈیروں اور کروڑ پتی صنعت کاروں سے پوچھے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتی! ۔
حافظے کمزور ہیں۔ کسے یاد نہ ہوگا‘ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے ابتدائی تین سالوں میں ایک انقلابی قدم اٹھایا تھا۔ اس نے قانون بنایا تھا کہ گریڈ سولہ سے نیچے کی نوکریاں بھی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ملیں گی۔ اس کا مطلب تھا کہ ڈرائیور ہو یا نائب قاصد‘ کلرک ہو یا ایل ڈی سی‘ یُو ڈی سی یا جونیئر آڈیٹر یا اسسٹنٹ‘ سب ملازمتیں فیڈرل پبلک سروس کمیشن دے گا یعنی میرٹ پر‘ سفارش کے بغیر ملیں گی! تین سال کے بعد جرنیل پر دبائو بڑھا کہ دنیا کو جمہوریت کا چہرہ دکھائو۔ ظفر اللہ جمالی وزیراعظم بنے۔ طاقت ور قبیلے کا روایتی نمائندہ! جمالی صاحب نے وزیراعظم بننے کے بعد یہ قانون ختم کر ڈالا۔ اگر ڈرائیور‘ نائب قاصد‘ جونیئر کلرک اور اسسٹنٹ‘ میرٹ پر لگنے لگے تو ایم این اے اور وڈیرے کے پاس کیا رہ جائے گا؟ اس کے گھٹنے کون چھوئے گا‘ کس کا باپ اس کا حقہ تازہ کرے گا اور پارلیمنٹ لاجز کے سامنے قطاروں میں کون کھڑا ہوگا؟ ان کا بس نہیں چلا ورنہ یہ مقابلے کا اعلیٰ امتحان بھی ختم کرا دیتے۔ ہاں‘ مقابلے کے ا متحان پاس کر کے جو آتے ہیں‘ انہیں اگر کوئی اچھی تعیناتی بالخصوص بیرون ملک تعیناتی چاہیے تو وہ مکمل طور پر اس طاقت ور کلاس کے قبضے میں ہے۔ میرٹ یہاں کلی طور پر عنقا ہے! 
آپ کا کیا خیال ہے‘ ایک صوبیدار کا بیٹا‘ ایک امام مسجد کا فرزند فور سٹار جرنیل کیوں بن جاتا ہے؟ مسلح افواج میں دو سال یا تین سال کا مقررہ عرصہ پورا کیے بغیر کسی افسر کا تبادلہ کیوں نہیں ہوتا؟ ہر ریٹائر ہونے والے فوجی افسر کو اپنی باری پر‘ کسی سفارش کے بغیر‘ گھر کیوں مل جاتا ہے؟ پوری رقم دے کر بھی سول سرونٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد پلاٹ کیوں نہیں ملتا‘ دارالحکومت کے سیکٹر جی چودہ میں آٹھ سال گزرنے کے باوجود کسی سول سرونٹ کو قبضہ کیوں نہیں ملا جب کہ کئی ریٹائرڈ سول سرونٹ قبروں میں جا سوئے ہیں؟ اس لیے کہ پاکستان کی خوش قسمتی سے مسلح افواج کے پروموشن بورڈوں میں ابھی تک وزیر اور عوامی نمائندے نہیں بیٹھ سکتے! فوجی افسروں کے تبادلے تعیناتیاں کرنے والی ملٹری سیکرٹری برانچ کو وزیراعظم کا سیکرٹری دن میں کئی بار فون پر احکام نہیں دیتا! ورنہ بریگیڈیئر اور جرنیل بھی بھانجے بھتیجے لگتے! 
دھرنے؟ احتجاج؟ تقریریں؟ اللہ کے بندو! یہ قبیلہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا ہے۔ اس دیوار میں کوئی کھڑکی ہے نہ دروازہ! اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved