تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     31-08-2014

بے جا تکرار

فوج کو ثالث ‘ ضامن یا سہولت کاربنایا جائے۔ فرق کیا ہے؟ فوج کی ذمہ داریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بنیادی طور پر یہ ادارہ ملکی سلامتی کا ذمہ دار ہے۔ سرحدوں کادفاع کرتا ہے۔ اندرون ملک سلامتی اور یکجہتی کو لاحق خطرات میں خدمات انجام دیتا ہے۔ سیلاب‘ زلزلے اور دیگر قدرتی آفات میں عوام کی مدد کرتا ہے۔ اس کے یہی فرائض انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ فوج کو جہاں بھی پکارا جائے‘ اسے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر ‘ خدمات فراہم کرنے کا عمل شروع کرنا پڑتا ہے۔ جنگ ‘ سیلاب‘ زلزلہ یا بدامنی ‘کسی بھی حالت میں فوج کے پاس مہلت نہیں ہوتی۔اسے ہر ممکن تیزرفتاری کے ساتھ جاب پر پہنچنا پڑتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی ‘ ہر لمحے ڈیوٹی پر مستعد رہتا ہے۔ ڈیوٹی کہیں بھی ہو‘ فوجی کی جان ہمیشہ خطرے میں ہوتی ہے۔ جنگ ہو‘ تو دشمن کی گولیوں‘ راکٹوں یا بموں کا نشانہ۔ سیلاب ہو‘ تو طوفانی لہروں کا ہدف۔ زلزلہ ہو‘ تو گرتی ہوئی عمارتوں اور چٹانوں کے خطرات۔ ہمہ وقت تیاری سے لے کر‘ زندگی قربان کرنے کی ہمہ وقت تیاری تک‘ فوجی کی زندگی کبھی محفوظ نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال اور فضا میں رہنے کے لئے‘ جس خاص ذہنی اور جسمانی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس میں سماجی برائیوں کے لئے فرصت ہی نہیں ہوتی۔ فوجی کی زندگی میں ریشہ دوانی‘ سازش‘ جوڑتوڑ‘ دھوکہ‘ فریب کاری اور دروغ جیسی چیزوں کا گزر ہی نہیں۔ اسی لئے وہ سیاست نہیں جانتا۔ہمارے ملک میں جتنے بھی فوجی حکمران آئے ‘ ان کا عرصہ اقتدار کتنا ہی طویل رہا ہو‘ وہ کامیاب سیاستدان ہرگز نہیں تھے۔ سب کے سب حتمی نتیجے میں سیاستدانوں سے مات کھاتے رہے۔ سب نے کسی نہ کسی انداز میں‘ معاشرے اور ملک کی دفاعی صلاحیت کونقصان پہنچایا۔ ایوب خان اور یحییٰ نے کشمیر اور مشرقی پاکستان میں جنگیں ہاریں۔ ضیاالحق اور پرویزمشرف نے‘ افغانستان کی جنگوں میں الجھ کر‘ پاکستان کی سٹریٹجک اور دفاعی طاقت کو نقصان پہنچانے کے علاوہ‘ پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو بھی درہم برہم کر دیا۔ ملک کا کوئی حصہ دہشت گردوں سے محفوظ نہ رہا۔ اپنے پروفیشن پر یقین رکھنے اور فخر کرنے والے فوجی‘ اس ریکارڈ پر رشک نہیں کر سکتے۔ اکثر وہ آمروں کے دفاع سے گریزاں رہتے ہیں اور جو اس بیکارمشق میں پڑتے ہیں‘آخر میں انہیں لاجواب ہونا پڑتا ہے۔ 
میں نے کل کے کالم میں ان فوجی سربراہوں کا ذکر کیا تھا‘جنہیں اپنے منصب کے دوران اقتدار پر قابض ہونے کے مواقع ملے اور بعض کو تو پلیٹ میں رکھ کر اقتدار پیش کیا گیا‘ لیکن وہ ترغیب میں نہیں آئے۔ اقتدار وہ چیز ہے‘ جس کے لئے سیاستدان اپنی جان‘ عزت اور شہرت ہرچیز قربان کر دیتا ہے۔ قومی تاریخ میں‘ ایسا سیاستدان شاید ہی کوئی ہو‘ جسے اقتدار پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا ہو اور اس نے انکار کر دیا ہو‘ لیکن فوج میں جتنی مثالیں اقتدار پر قبضے کی ہیں‘ اس سے زیادہ یا برابر مثالیں‘ اقتدار کو ٹھکرانے کی ہیں۔ ایک فوجی کی تربیت اور فطرت ثانیہ میں‘ وطن کو جو تقدس اور مقام حاصل ہوتا ہے‘ اس کا عام شہری تصور نہیں کر سکتا اور جو فوجی پس منظررکھنے والے خاندانوں میں پیدا ہو کر‘ فوج کا حصہ بنتے ہیں‘ ان کی شخصیت کی ساخت ہی مختلف ہوتی ہے۔ سپاہ گری‘ ان کے خون اور پرورش میں شامل ہو جاتی ہے۔ ان کی مائیں اور خاندان کے بزرگ ‘ جنوں اور پریوں کی کہانیاں نہیں سناتے‘ آبائو اجداد کے جنگی کارنامے بتاتے ہیں۔ وہ خود بھی فوج اور اپنے خاندان کے برگزیدہ افراد سے متاثر ہوتے ہیں اور ان میں ایک منفرد جذبہ اور عزم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی شہرت اور وقار پر دھبہ نہیںلگنے دیں گے۔عام شہریوں اور خصوصاً سیاستدانوں کو فوجیوں کے ساتھ معاملات کرتے وقت‘ ان باتوں کا بطور خاص خیال رکھنا چاہیے اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہر فوجی ایک طرح کا نہیں ہوتا۔ بعض اپنی ترکیب میں مختلف اور منفرد ہوتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف‘ جنرل راحیل شریف انہی میں شامل ہیں۔گزشتہ چند روز میں انہیں جس تجربے سے گزرنا پڑا‘ میں صرف تصور کر سکتا ہوں کہ ان پر کیا گزری ہو گی؟ سیاستدان پر جھوٹ یا غلط بیانی کا الزام لگ جائے‘ تو یہ ان کے لئے روزمرہ کی بات ہوتی ہے اور ایک فخرمند فوجی کی سچائی پر ذرا سا شک بھی کر لیا جائے‘ تو یہ اس کے لئے کاری زخم کی طرح ہوتا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں نے‘ جنرل راحیل شریف کے ساتھ گزشتہ چند روز میں جو کھیل کھیلا ہے‘ وہ اس فخرمند جنرل کی شایان شان نہیں۔ جنرل راحیل سے بات کرتے وقت‘ یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ان کا تعلق پیشہ سپاہ گری میں‘ امتیازی مقام رکھنے والے کس خاندان کے ساتھ ہے۔ نشان حیدر وہ اعزاز ہے‘ جو صرف وطن پر جان قربان کرنے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ جس خاندان میں ایک نشان حیدر آ جائے‘ اس کی فخرمندی کا عالم ہی اور ہوتا ہے۔ ایسے خاندان سے دور کا تعلق رکھنے والے بھی باعزت اور قابل احترام سمجھے جاتے ہیں۔ ان سے بات کرتے وقت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ ہمارے لوگوں اور ہمارے میڈیا نے‘ جنرل راحیل شریف کو جس گندی بحث کا موضوع بنایا‘ وہ نشان حیدر سے نسبت رکھنے والے خاندان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کس طرح۔ 
جنرل راحیل شریف کے حوالے سے‘ میڈیا میں ایک خبر آئی کہ وزیراعظم نے جنرل راحیل شریف کے ساتھ ایک ملاقات میں‘ فوج سے درخواست کی ہے کہ وہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ثالث اور ضامن کا کردار ادا کرے۔ حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز اراکین نے لگی لپٹی رکھے بغیر اس خبر کو غلط قرار دیا۔ یہ خبر وزیراعظم اور پاک فوج دونوں کے ذرائع سے ‘میڈیا میں بھیجی گئی۔ دونوں میں الفاظ مختلف تھے‘ لیکن حقیقت یہی تھی کہ وزیراعظم نے فوج سے کوئی کام کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس ''کہنے کو‘‘ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ حکم‘ درخواست‘ خواہش‘ فرمائش۔ مدعا یہی رہتا ہے کہ وزیراعظم نے‘ فوج سے کوئی کام کرنے کے لئے کہا۔ اس کام کی نوعیت فوج کے مقررہ پیشہ ورانہ فرائض کے دائرے میں نہیں آتی۔ فوج کی کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ حکومت جب اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کشمکش یا محاذ آرائی کی کیفیت میں پھنس جائے‘ تو فوج کسی بھی طرح اس کی مدد کرنے کی پابند ہے۔ یہ معاملات حکومتوں کو خود نمٹاناہوتے ہیں اور اگر اپوزیشن کے ساتھ حکومت کا کوئی تنازعہ مذاکرات میں حل نہ ہو سکے‘ تو حکومت کے لئے دو ہی راستے ہوتے ہیں۔ یا اپوزیشن کو اپنی بات طاقت کے زور سے منوا لے یا دلائل سے قائل کر لے۔ تیسرا راستہ یعنی فوج سے مدد لینا کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں۔ جب کوئی حکومت ایسی صورت حال میں پھنس جائے کہ مخالفین ‘ دلیل سے قائل نہ ہوں اور احتجاجی تحریک کے ذریعے دبائو بڑھاتے جا رہے ہوں‘ تو حکومت کے پاس واحد راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ عوام کی طرف رجوع کر کے‘ فیصلے کا اختیار ان کے ہاتھ میں دے دے‘ کیونکہ جمہوریت میں عوام ہی حکمرانی کے فیصلوں میں حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے فوج کو سہولت کاری کے لئے کہا ہو؟ مدد کے لئے کہا ہو؟ معاونت کے لئے کہا ہو؟ یا ساتھ دینے کے لئے؟ حقیقت یہی ہے کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کے ساتھ جھگڑے میں فوج سے مدد کے لئے کہا۔ فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے‘ آئی ایس پی آر نے ایک پریس ریلیز میں یہ خبر جاری کر دی۔ اس میں کچھ بھی لکھا گیا ہو‘ مدعا یہی تھا کہ وزیراعظم نے فوج کو ایسے کام کے لئے کہا‘ جو اپوزیشن سے‘ ان کے تنازعے کا حل نکالنے کے لئے مددگار ثابت ہو۔ حکومت سیاسی طور پر فوج سے کی گئی اس فرمائش کو کچھ بھی کہہ لے‘ ثالثی‘ ضامنی یا سہولت کاری۔ حکومت نے بہرطور فوج سے کچھ مانگا ہے۔ یہی بات فوج نے اپنی پریس ریلیز میں کہی ہے۔ جب وزیرداخلہ اور وزیراعظم نے اس حقیقت کی بھاری بھرکم تردید کی‘ توآئی ایس پی آر کے سربراہ‘ میجرجنرل عاصم باجوہ نے اس ملاقات کے حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھا :ـ"COAS was asked by the Govt to play facilitative role for resolution of current impasse, in yesterday's meeting, at #PM House." 
لفظ"Impasse" کا مطلب پیچیدگی۔ وہ صورتحال جس سے بچناممکن نہ ہو۔ تعطل۔سخت مشکل۔بند گلی ہے۔گویا وزیراعظم نے یہ کہا کہ فوج‘ ان کی حکومت کو بندگلی ‘ تعطل یا پیچیدگی سے نکالنے کے لئے سہولت کاری کرے۔ان الفاظ کو آپ جتنا بھی توڑمروڑ لیں‘ مفہوم ایک ہی نکلتا ہے کہ وزیراعظم نے اپنی حکومت کو مشکل‘ پیچیدگی یا بند گلی سے نکالنے کی خاطر‘ سہولت کاری کے لئے کہا۔ خدالگتی کہیے کہ حکومت اور فوج کے سربراہوں کے مابین دوطرفہ کمیونیکیشن میں اس سطح کی تکرارمناسب ہے؟ جو وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کے درمیان ہو رہی ہے؟ اگر جواب میں معذرت کے ساتھ کہہ دیا جائے کہ''سوری سر! اس بحث میں پڑنا ہمارے فرائض میں شامل نہیں۔‘‘ تو صورتحال کیا ہو گی؟

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved