تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     09-09-2014

پارٹ 2 ‘ رہ گیا

ہر انسان میں ‘ہر وقت‘ حیران کر دینے کی صلاحیت موجود رہتی ہے۔ گزشتہ روز چوہدری نثار علی خاں نے مجھے ہی نہیں‘ میڈیا اور سیاسی حلقوں کو حیران کر کے رکھ دیا۔ جس دن چوہدری اعتزاز احسن نے ‘پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چوہدری نثار علی خاں پر لفظوں کی سنگ باری کی‘ وہ منظر میں نے ٹی وی پر دیکھا تھا اور چوہدری نثار کی وہ بے تابیاں بھی‘ دیکھیں‘ جن کا اظہار چوہدری اعتزاز کی تقریر کے دوران بار بار ہوتا رہا۔ وہ چوہدری اعتزاز کی تقریر میں مداخلت کے لئے بیتاب تھے۔ بار بار مائیک کی طرف لپکتے۔ وزیراعظم خود انہیں روکتے رہے۔ ایک دو بار پچھلی نشست پر آ کر خواجہ سعد رفیق نے بھی انہیں دونوں کندھوں سے پکڑ کر‘ کھڑے ہونے سے روکا۔جب چوہدری صاحب سے برداشت نہ ہوا‘ تو وہ غصے میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے‘ خاموشی سے باہر چلے گئے۔ فوراً ہی چوہدری اعتزاز کی تقریر ختم ہو گئی۔ سپیکر نے اجلاس ختم کر دیا۔ وزیراعظم‘ چوہدری نثار کے پیچھے گئے۔ گھنٹوں انہیں سمجھاتے رہے کہ صبر سے کام لیں۔ چوہدری نثار بضد تھے کہ حملہ ان کی ذات پر کیا گیا ہے۔ وہ اپنی پوزیشن واضح کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کا اصرار تھا کہ وہ ایوان میں تقریر کریں گے۔ وزیراعظم مسلسل روکتے رہے ۔چوہدری نثار یہ کہہ کر رخصت ہوئے ''میں پریس کانفرنس تو ضرور کروں گا۔‘‘ میڈیا میں یہی قیاس آرائی ہو رہی تھی کہ چوہدری نثار اپنی جوابی تقریر میں‘ چوہدری اعتزاز احسن کی زبردست کردار کشی کریں گے۔ پریس کانفرنس کا وقت آیا۔ میڈیا کا ہجوم ‘ وقت سے پہلے جمع ہو چکا تھا۔ چوہدری صاحب خود بھی وقت پر آ گئے۔ پریس کانفرنس کے شروع میں انہوں نے بتا دیا کہ ''میں نے یہ پریس کانفرنس‘ کچھ نہ کہنے کے لئے بلائی ہے۔‘‘ پھر انہوں نے تمہید باندھی کہ ایسی الزام تراشی کے بعد‘ خاموش رہنا ان کے مزاج کے خلاف ہے۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے۔ وزیراعظم نے انہیں خاموش رہنے کے لئے کہا ہے۔ وہ پریس کانفرنس کااعلان کر چکے تھے۔ اس لئے آ گئے ہیں۔ جو چند الفاظ وہ کہیں گے‘ انہی پر پریس کانفرنس ختم کر دی جائے گی۔ وہ کسی سوال کاجواب نہیں دیں گے۔ 
انہوں نے مختصر طور پر بتایا کہ اس وقت ملک اور جمہوریت جس نازک دور سے گزر رہے ہیں‘ اس میں ذاتی معاملات کو زیربحث لانا درست نہیں۔ جس طرح ایوان کے اندر میری ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا‘ اسے برداشت کرنا میری عادت اور مزاج کے خلاف ہے۔ جواب دینا میرا حق ہے اور چونکہ مجھ پر الزامات پارلیمنٹ کے مشترکہ ایوان میں لگائے گئے۔ اس لئے مجھے بھی اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے ایوان کے اندر جواب دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ وزیراعظم نے مجھے کہا ہے کہ میں ذاتی سوال پر‘ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے سے گریز کروں۔ ہو سکتا ہے چوہدری اعتزاز احسن کو میرا جواب ‘ مزید تلخیاں پیدا کر دے۔ جس طرح آج تمام جماعتیں متحد ہو کر جمہوریت کا دفاع کر رہی ہیں‘شاید اس اتحاد کو‘ نقصان پہنچ جائے۔ پارلیمانی اتحاد باقی نہ رہے اور بحران میں اضافہ ہو جائے۔ چوہدری نثار نے کہا ‘میں اپنے ذاتی معاملے کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ اس لئے درگزر سے کام لوں گا اور جواب دینے کے اپنے حق سے ‘دستبردار ہونے کا اعلان کر رہا ہوں۔ظاہر ہے صحافیوں نے فوری طور پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ لیکن چوہدری صاحب سختی سے انکار کرتے رہے اور خلاف عادت صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے سے انکار کیا۔ ورنہ وہ صحافیوں کے ہر سوال کا جواب دینا پسند کرتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے اراکین اور صحافیوں کے پسندیدہ مقرر ہیں۔ خیال کیا جا رہا تھا‘ وہ اپنی ذات پر لگائے گئے الزامات کا زوردار جواب دیں گے۔ لیکن وہی کیفیت ہو گئی ؎
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
دیگر ساتھیوں کی طرح مجھے بھی چوہدری صاحب سے بڑے سخت جواب کی توقع تھی۔ اسی لئے میں نے ان پر پارلیمنٹ کے اندر کئے گئے دہرے حملے کی تھوڑی سی تفصیل بیان کر کے‘ سوچا تھا چوہدری صاحب کا جواب یقینی طور پر تفصیلی اور دلچسپ ہو گا۔ تفصیل کالم کے دوسرے حصے میں لکھوں گا۔یہی سبب تھا کہ میں نے کالم کے پہلے حصے کو‘ پارٹ 1 قرار دیا اور اگلے کالم کو پارٹ2 ۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیاکہ ''ہر انسان میں ‘ہر وقت‘ حیران کر دینے کی صلاحیت موجود رہتی ہے۔ ‘‘ اس روز چوہدری صاحب نے بھی حیران کر دینے والی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ یہ تو اندازہ نہیں کہ انہیں الزامات کے جواب کی اجازت مل جاتی‘ تو وہ کیا کچھ کہہ گزرتے؟ توقعات بہرحال بہت زیادہ تھیں۔ وہ توقعات کے مطابق اظہار خیال کر دیتے‘ تو ہو سکتا ہے کہ ان کی ذاتی صفائی اور جوابی الزامات زیادہ زوردار ہوتے۔ لیکن یہ سب کچھ کر کے بھی‘ وہ چوہدری اعتزاز احسن کی برابری نہ کرتے‘ تو دوچار پوائنٹ زیادہ لے سکتے تھے۔ ''درگزر‘‘ کر کے‘ انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا کر لیا۔ ایسے مواقع ہوتے ہیں‘ جب انسان ذاتی خواہشات اور تمنائوں کو پورا کرنے کی لذت سے دستبردار ہو کر‘ اپنے قدوقامت میں غیرمعمولی اضافہ کر لیتا ہے۔ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ چوہدری اعتزاز صاحب کو وزیراعظم کی معافی کے جواب میں خاموش ہو جانا چاہیے تھا۔ تب‘ وہ اپنے دل کی بھڑاس بھی نکال چکے تھے اور جس مقصد کے لئے چوہدری صاحب نے تقریر کی تھی‘ وزیراعظم کی طرف سے معافی کے بعد‘ وہ مقصد بھی پورا ہو چکا تھا۔ انہوں نے بلا ضرورت غیظ وغضب کا اظہار کر کے‘ وہ کھاتہ پھر کھول دیا‘ جسے وزیراعظم نے عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے‘ بند کر دیا تھا۔ قدرت کو اپنی ادا دکھانا تھی۔ چوہدری صاحب نے انتہائی پراثر تقریرکر کے‘ چوہدری نثار علی خاں کو موقع فراہم کر دیا۔ جواب میں چوہدری نثار نے‘ چوہدری اعتزاز احسن کی عزت پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے‘ غیرمتوقع طور پر اپنی عزت میں اتنا اضافہ کر لیا‘ جو برسوں میں بھی نہیں کمائی جا سکتی۔ میں نے گزشتہ کالم میں جاٹ چوہدری اور راجپوت چوہدری کی تکرار کی تھی۔ ان دونوں قوموں کے مزاج اور کرداری خصوصیات کی روشنی میں دیکھا جائے‘ تو جاٹ واقعی جاٹ ثابت ہوااور راجپوت واقعی راجپوت نکلا۔ 
ایک خبر مجھے کئی دنوں سے تنگ کر رہی ہے۔ آج جے یو آئی لاہور کے کچھ لیڈروں کا مشترکہ بیان پڑھ کے ‘ مجھ سے رہا نہیں جا رہا۔ خبر یہ ہے کہ مذکورہ علمائے کرام نے ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان کے دھرنوں میں خواتین کی ''مردانہ وار‘‘ شرکت پر شرم و حیا کا مظاہرہ کرتے ہوئے ‘ اعتراضات اٹھائے ہیں۔اس سے پہلے بھی مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوںنے ‘ دھرنوںمیں خواتین کی موجودگی پر ‘پیچ و تاب کھاتے ہوئے‘ مذمتی بیانات جاری کئے۔ بلکہ اب بھی موقع بہ موقع کرتے رہتے ہیں۔ ان دونوں لیڈروں کے جلسوں کو دنیا بھر کے عوام‘ ٹی وی چینلز پر پہروںدیکھتے ہیں۔ کیمرہ عموماً مقررین پر رہتا ہے۔ حاضرین کی سرسری سی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں۔ لوگ عموماً مقررین پر توجہ دیتے ہیں اور حاضرین کے جو پاسنگ شاٹس آتے ہیں‘ ان پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔جھلکیاں سی آتی ہیں اور گزر جاتی ہیں۔ مگر آفرین ہے‘ مولانا صاحبان پرکہ وہ نہ تو ڈاکٹر قادری پر توجہ دیتے ہیں اور نہ عمران خان پر۔حالانکہ دونوں بہت اچھے مقررین ہیں۔ عمران خان تو ایک وجیہہ و شکیل انسان بھی ہیں۔ داد دینا پڑتی ہے مولانا حضرات کو‘ کہ ان کی نظر مجموعی طور پر 2گھنٹے سکرین پر رہنے والے لیڈروں پر تو نہیں جاتی، چند سیکنڈ کے لئے حاضرین کے ساتھ بیٹھی خواتین پر جم جاتی ہے۔ جھلکی تو دکھائی دے کر‘ چشم زدن میں غائب ہو جاتی ہے، لیکن مولانا حضرات چند سیکنڈ کی جھلک میں دکھائی دینے والی خواتین کی چھب دل میںبٹھا کر‘ راتوں کی نیندیں حرام کر لیتے ہیں۔ خدا کے یہ بندے‘ اس پر بھی بس کر جائیں‘ توبہت ہے، لیکن وہ اپنی بے چینی کا اظہار بھی کرتے ہیںاور پھر اخباروں میں بھی چھپواتے ہیں۔ ایسے متاثرین کواپنی شکایت لے کر میڈیا میں جانے کی بجائے‘ معالجین کی طرف رخ کرنا چاہیے ۔ صحت یاب ہو کر علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا مطالعہ راتوں کی نیند اڑانے کی بجائے روح کو تسکین بخشے گا ؎
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved