تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     11-10-2014

بلاول کا مسئلہ

سیاست میں خاندانی اجارہ داریوں کے لئے‘ جنوبی ایشیا کافی معروف ہے۔ سری لنکا میں بندرانائیکے خاندان‘ پاکستان میں بھٹو خاندان‘ بھارت میں نہرو خاندان اور بنگلہ دیش میں جنرل ضیاالرحمن کی بیوہ اور شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی‘ خاندانی سیاست کی مثالیں ہیں مگر جو مثال پاکستان میں اب قائم ہو رہی ہے وہ قدرے مختلف ہے۔مسز بندرا نائیکے ‘ خاوند کی وفات کے بعد سیاست میں آئیں۔ بیگم خالدہ ضیا اپنے شوہراور بیگم حسینہ واجد‘ اپنے والد کی ناگہانی موت کے بعد۔ بے نظیر بھٹو شہید‘ کو اس وقت سیاست میں آنا ٰپڑا‘ جب ان کے عظیم والد کو پھانسی کی سزا دی گئی ۔بے نظیر کو کم عمری میں ہی سیاسی ذمہ داریاں سنبھالنا پڑیں۔ انہیں اپنا سیاسی مقام حاصل کرنے کے لئے‘ بہت جدو جہد کرنا پڑی۔ والد جیل میں تھے تو وہ ان کے مقدمات کے سلسلے میں‘ بھاگ دوڑ کرتی رہیں۔ ساتھ ہی کارکنوں کو منظم کرنے کی جدوجہد بھی ۔ وہ جیل گئیں تو ان پر یہ المیہ بھی گزرا کہ وہ اپنے والد کی موت کے بعد‘ ان کا چہرہ تک نہ دیکھ سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں انہیں عملی طور پر‘ اپنے والد سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔سیاست ان پر افتادکی طرح آئی لیکن انہوں نے کم عمری اور نا تجربہ کاری کے باوجود پانی میں اترنے کے بعد‘ تیرنا سیکھا۔رہنمائی کے لئے ‘والدین سمیت خاندان کا کوئی بزرگ دستیاب نہیں تھا۔ والد کے بیشتر ساتھی پارٹی کی سرگرمیوں سے لاتعلق ہو چکے تھے او رجو پارٹی سے وابستہ رہے‘ ان کی اکثریت بھی دوغلے پن سے کام لے رہی تھی۔ ایک طرف وہ فوجی حکام کے ساتھ رابطوں میں تھے اور دوسری طرف بی بی کو وفاداریوں کا یقین دلاتے رہتے تھے۔ یہ صورت حال زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے کہ جتنے لوگ آپ کے ساتھ ہوں‘ ان میں سے بیشتر دشمن کے ساتھ بھی رابطے رکھتے ہوں۔کافی عرصے تک‘ انہیں جوڑتوڑ اورسازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ پارٹی کے اندر رہ جانے والوں کے بھی اپنے مقاصد تھے۔ ان میں سے ہر کوئی اس خیال میں تھا کہ بی بی کم عمر ہے‘ ہم بھٹو صاحب کے ساتھ دیرینہ رفاقت کا فائدہ ضرور اٹھائیں گے ۔ پارٹی کی طاقت اور بی بی کی ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کریں گے۔
عملی سیاست کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ‘کافی عرصے تک انکل بنے بیٹھے لیڈروں کی ریشہ دوانیوں سے نمٹتے نمٹتے ‘ بی بی اس ماحول سے بیزار ہو گئیں اور آخر کار انہوں نے فیصلہ کیا کہ کم عمری اور ناتجربہ کاری کی پروا نہ کرتے ہوئے ‘وہ پارٹی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر‘ خود چلائیں گی اورکسی کو موقع نہیں دیں گی کہ انکل بن کر بزرگی کے ناجائز فائدے اٹھائے۔ انکل پنتی سے وہ کس قدر تنگ آئی ہوئی تھیں؟ اس کا اندازہ ایک واقعے سے کیا جا سکتا ہے‘ جب ایک بزرگ سیاست دان نے دوران گفتگو ‘کسی معاملے میں رائے دیتے ہوئے ‘چچا ہونے کا حوالہ دیا تو بی بی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا ''ہم یہاں سیاست پر گفتگو کر رہے ہیں‘ خیالات نہ کسی کے انکل ہوتے ہیں نہ بھائی بہن‘ ہر رائے کا وزن‘ اس کی منطق اور سچائی میں ہوتا ہے‘‘۔وہ بزرگ اس جواب کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ بھری محفل میں اپنی سبکی پر آزردہ ہوئے اورتھوڑے عرصے بعد ہی پارٹی کی سرگرمیوں سے الگ تھلگ ہو گئے۔
یہ اور بات ہے کہ اپنی سیاسی حیثیت منوانے اور کامیاب ہونے کے بعد ‘بی بی نے انہیں اپنے ساتھ ہی رکھا۔ بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا لیکن جب بی بی کو برطرف کر کے‘ اس وقت کے صدر نے‘ مذکورہ بزرگ کو نگران وزیراعظم بنانے کی پیش کش کی تو وہ بڑی خوشی سے حلف اٹھانے پہنچ گئے۔بہر حال اس وقت‘ انکل کے رشتے کا فائدہ اٹھانے والے محتاط ہو گئے یا پارٹی سے لاتعلق۔دوبارہ کسی نے انکل بن کر‘ بات منوانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ واقعات بتانے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ بے شک بی بی نے‘ اپنے والد صاحب کی سیاسی حیثیت کا فائدہ اٹھایا لیکن پارٹی کی قیادت انہیں کسی نے ‘پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی تھی۔میں یہ کہوں تو شاید غلط نہ ہو گا کہ سیاسی وراثت‘ بی بی کے لئے‘ سہارا بننے کے بجائے مشکلات کا باعث بنی۔ سب سے زیادہ تکلیف انہیں خاندان کے بزرگوں نے پہنچائی۔ ان کے دونوں بھائی چھوٹے تھے اور مختلف وجوہ کی بنا پر‘ ملک کے اندر رہ کر‘ بہن کی مدد بھی نہیں کر سکتے تھے۔خصوصاً بھائیوں پر دہشت گردی کے جو الزامات لگائے گئے تھے‘ ان سے اپنے آپ کو لاتعلق ثابت کرنا ‘بی بی کے لئے ایک علیحدہ مسئلہ تھا۔ ان کے دشمنوں نے ہر کوشش کر دیکھی کہ وہ ان کا دہشت گردی میں ملوث ہونا ثابت کریں۔ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بی بی کا سیاسی کردار صاف اور شفاف تھا مگر اس حقیقت کو ثابت کرنے میں‘ انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وقت نے ثابت کیا کہ وہ خود اعلیٰ درجے کی قائدانہ صلاحیتوں کی مالک تھیں۔ سیاسی فہم وشعور ورثے میں نہیں ملا کرتے‘ اس کا انحصار ہر لیڈر کی ذاتی خوبیوں اور اہلیت پر ہوتا ہے۔
سیاست میں خاندانی سرپرستی اور رہنمائی کسی کام نہیں آتی۔ورثے میں صرف نام اور شہرت ملتی ہے۔ باقی سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے۔میں نے موروثی سیاست کی جتنی مثالیں دی ہیں ۔ ان میں کوئی لیڈر ایسا نہیں‘ جس نے اپنے بزرگ کے زیر سایہ‘ سیاست کرتے ہوئے اپنا مقام بنا یا ہو۔ حالیہ دور میں صرف جارج ڈبلیو بش اورراہول گاندھی کی مثالیں موجود ہیں۔ان میں بھی حالات وواقعات کا بہت فرق ہے۔ صرف بش سنیئر نے منصب صدارت تک پہنچنے میں بیٹے کی مدد کی تھی۔ اس کے بعد‘ وہ چاہتے بھی تو بیٹے کی مدد نہیں کر سکتے تھے۔امریکہ کا سیاسی نظام اور روایات بہت مختلف ہیں۔وہاں قائدانہ صلاحیتیں پارٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں کام آتی ہیں۔عوامی مقبولیت کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔عوامی مقبولیت کا فائدہ اسی وقت ہوتا ہے‘ جب صدارت کا امیدوار اپنی پارٹی سے نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔اس کے بعد وہ بطور لیڈر‘ اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کرسکتا ہے۔ جس کو نامزدگی نہیں ملتی‘ اسے پارٹی کے اندراپنی صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں ملتی رہتی ہیں۔جن میں کانگریس کی رکنیت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔اس کے بعد مقامی حکومتیں ہیں۔پارٹی کی قیادت حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا انحصار‘ فرد کی اپنی صلاحیتوں پر ہوتا ہے۔خاندان کا بزرگ یا سینئر سیاست دان‘ مشورے ضرور دے سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ عہدے پر فائز شخص ‘مختلف اداروں کو ان مشوروںکا قائل کر سکے۔ یہ کام اسے خود کرنا پڑتا ہے۔بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جب تک فرد کے اندر اپنی صلاحیتیں موجود نہ ہوں‘ محض سیاسی وراثت سے وہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔امریکہ کا نظام تو اس کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ ہمارے خطے میں سینئر لیڈر‘سیاسی پارٹیوں پر اپنا کنٹرول رکھ سکتے ہیں لیکن اپنے کسی عزیز یا رشتہ دار کو بطور لیڈر نہیں چلا سکتے۔ایسی ایک کوشش کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ راجیو گاندھی کی موت کے بعد‘ ان کی بیوہ نے آنجہانی شوہر کے ساتھیوں کی مدد سے پارٹی چلانے کی کوشش کی لیکن اس میں انہیں ناکامی ہوئی۔راجیو یا ان کی والدہ کے سارے ساتھی‘ اپنی سنیارٹی کے زعم میں سونیا گاندھی کی سیاسی نا تجربہ کاری کا فائدہ اٹھانے میں لگے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس پارٹی سیاسی مرکزیت سے محروم ہو گئی۔جب پارٹی بکھرتی نظر آئی تو نہروخاندان کے چند وفاداروں نے‘ سونیا گاندھی پر زور دیا کہ جب تک وہ پارٹی کی قیادت خود نہیں سنبھالیں گی‘ پارٹی کا متحد اور منظم رہنا مشکل ہے۔انہوں نے پارٹی کی قیادت خود سنبھالی تو انتخابات میں اکثریت حاصل ہو گئی۔اگر وہ خود وزیراعظم بن جاتیں تو پارٹی اور حکومت دونوں کو چلایا جا سکتا تھا لیکن اپوزیشن نے ان کے غیر ملکی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے‘مخالفت کا طوفان کھڑا کر دیا اور وہ وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئیں۔ان کا بیٹا پارلیمنٹ کا ممبر بن سکتا تھا لیکن پارٹی کے سینئر لیڈر اس کی قیادت قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے؛ چنانچہ پارٹی کے اندر سے کسی دوسرے لیڈر کو وزیراعظم بنانا پڑا۔سونیا گاندھی چاہتی تھیں کہ بیٹے کو قیادت کے منصب تک پہنچایا جائے لیکن پارٹی پر مکمل کنٹرول ہونے کے باوجود‘ وہ راہول کو وزارت عظمیٰ نہ دلوا سکیں۔ حالیہ انتخابات میں انہوں نے راہول گاندھی کو نریندر مودی کے مقابل ‘وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنا کر پیش کیا لیکن عوام نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔خود راہول پانچ سال تک پارلیمنٹ میں رہ کر بھی‘ ماں کی سرپرستی کے باوجود ‘اپنی قائدانہ حیثیت تسلیم نہ کرا سکے اور مودی کے مقابلے میں انہیں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بلاول بھٹو کا تجربہ کامیاب ہو گا یا نہیں؟ان کے والد حادثاتی طور پر‘ صدر مملکت بن گئے تھے لیکن عوامی مقبولیت حاصل نہیں کر پائے۔ بہت سے معاملات میں ان کی شہرت منفی ہے‘ جو بلاول کے لئے اثاثہ نہیں‘ بوجھ رہے گی۔ وہ خود ناتجربہ کار اور کم عمر اور دوسرے عملی سیاست میں باپ کی سرپرستی انہیں کیا فائدہ پہنچائے گی؟ فی الحال اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔اگر وہ پارلیمنٹ کے اندر آکر‘ پانچ سال کے سیاسی تجربہ سے گزرتے ہوئے‘ منتخب اراکین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اچھے مستقبل کی امید کی جا سکتی ہے لیکن اگر پارٹی پر‘ ان کے والد کا کنٹرول رہا تو ان کے لئے ‘ اپنی گنجائش نکالنا مشکل ہو گا۔اقتدار کی کرسی‘ فرنیچر کا پیس نہیں‘ جس کی گنجائش میں وسعت پیدا کر کے‘ دو تین آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ نکالی جا سکتی ہو۔اس کرسی پر بیٹھنے والا ‘صرف ایک ہوتا ہے‘ دو نہیں ہو سکتے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved