تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     12-10-2014

پاک بھارت سیاپا

جب تک ایٹم بم کا ہوّا ختم نہیں ہو جاتا‘ پاکستان اور بھارت میں چخ چخ جاری رہے گی۔ ہم دونوں کو ایٹم بم بنائے ہوئے15سال ہو چکے ہیں۔نہ تو ہم نے ایٹمی برابری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ مکمل احساس ذمہ داری کے ساتھ‘ اپنے تنازعات طے کئے اور نہ ایٹم بم استعمال کر کے‘ ہمیشہ کے لئے جھگڑا ہی ختم کیا۔بھارت کے پاس تو پھر بھی وسائل ہیں۔ وہ مسلسل کشیدگی اور محاذ آرائی کا بوجھ اٹھانے کے لئے‘ ہم سے کہیں زیادہ وسائل رکھتا ہے۔ ہمارے پاس وہ بھی نہیں ہیں۔ ملک کے اندر دہشت گردی‘ بدامنی‘ مسلسل سیاسی محاذ آرائی‘ کرپشن اور مفادات پر مبنی سیاست کی وجہ سے جو تھوڑے بہت وسائل دستیاب ہیں‘ انہیں بھی ہم ضائع کرتے رہتے ہیں۔ اس پر دہشت گردوں اور پڑوسی دشمنوں کی جارحیت سے بچنے کے لئے‘ تیاریوں کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں۔ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ جن ملکوں نے‘ ہم سے بہت پہلے ایٹم بم بنا لئے تھے‘ ان میں پہل کرنے والے یعنی امریکہ نے‘ اس وقت ایٹم بم کا استعمال کر دیا‘ جب مخالف فریق کے پاس یہ بم موجود نہیں تھا۔ لیکن جب سے مختلف ملکوں نے ایٹم بم بنائے ہیں‘ ان میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے یا کسی غیرایٹمی ملک کے خلاف ایٹم بم کا استعمال نہیں کیا۔ حالانکہ کشیدگی رہی۔ جنگیں ہوئیں۔ ایک دوسرے کے خلاف محاذآرائی بھی رہی۔ مگر تباہ کن ایٹمی طاقت کے استعمال کا خیال کسی کو نہیں آیا۔ سوویت یونین اور امریکہ طویل سرد جنگ کے بعد‘ آخر کارسیاسی چالوں اور چالاکیوں سے‘ ایک دوسرے سے نمٹتے رہے۔ لیکن بڑے سے بڑے تنازعے پر بھی‘ ایٹم بم استعمال کرنے کی کسی کو ہمت نہیں پڑی۔ سب جانتے ہیں کہ اس کا مطلب مکمل دوطرفہ تباہی ہے۔ جو سبق ہم سے‘ سینئر ایٹمی طاقتوں نے اچھی طرح سوچ بچار کے بعد حاصل کیا ‘ وہ ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آتا؟ ہم اس فیصلے پر کیوں نہیں پہنچ پا رہے کہ کچھ بھی ہو جائے‘ پاکستان اور بھارت‘ اپنے تنازعات میں ایٹم بم کا استعمال نہیں کر سکتے۔ بھارتی قیادت سمجھ دار ہے۔ اس لئے وہ پہلے ہی یکطرفہ طور پر‘ ایٹمی طاقت کے استعمال میں پہل نہ کرنے کا عہد کر چکی ہے۔ ہم رسمی طور پر تو یہ بات دہراتے رہتے ہیں‘ لیکن ہمارا لہجہ ہمیشہ دھمکی آمیز رہتا ہے۔ 
پچھلے دو تین دنوں میں ہی‘ ہمارے کئی لیڈر‘ بھارتی وزیراعظم کو ''اوئے مودی‘‘ کہہ کر دھمکیاں دے چکے ہیں۔ منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ہمارے وزیرداخلہ نے تو نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں‘ بھارت کو بدنیت اور موقع پرست قرار دیا اور خوب غور و فکر کے بعد انہوں نے‘ بھارت کے جن مقاصد کو بے نقاب کیا‘ وہ یہ تھے کہ بی جے پی کو حالیہ ضمنی انتخابات میں چونکہ شکست سے دوچار ہونا پڑا‘ اس وجہ سے وہ مقبوضہ کشمیر میں‘ الیکشن جیتنے کے لئے جنگی جنون پیدا کر کے‘ رائے عامہ کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے اسی میٹنگ میں انتہائی سادگی سے سوال کیا ''بھارت اب چاہتا کیا ہے؟‘‘ ظاہر ہے‘ جنگ بندی لائن پر اتنی طویل اور زوردار جھڑپیں‘اس وجہ سے تو نہیں ہو رہیں کہ مودی صاحب آموں کی کچھ پیٹیاں اور چند ساڑھیاں لینا چاہتے ہیں۔ جس مک مکا کے ہم عادی ہیں‘ وہ پاکستانی سیاستدان آپس میں ہی کر سکتے ہیں۔ دشمن کو کچھ ''دے دلا‘‘ کر‘ ٹھنڈا نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے ارادے اسی وقت سے ظاہر ہیں‘ جب اس نے سری نگر کے ہوائی اڈے پر‘ فوجی دستے اتارے تھے۔ مزید آسانی کے لئے عرض کر دیتا ہوں کہ ''حضور والا! بھارت ‘ پوری ریاست جموںوکشمیر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ کشمیر پر اپنے قبضے کو قانونی حیثیت دینا چاہتا ہے۔‘‘ اس مقصد کے لئے وہ نصف صدی سے جنگ لڑ رہا ہے۔ درمیان میں کئی مواقع ایسے آئے‘ جب کچھ ''دے دلا کر‘‘ معاملہ طے ہو سکتا تھا‘ لیکن ہماری حکومتوں نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ 1965ء تک تنازعہ کشمیر کا فیصلہ‘ جنگ سے ممکن تھا۔ مگر ہم جنگ جیتنے کی کامیاب منصوبہ بندی کرنے میں بُری طرح فیل ہوئے۔ مذاکرات کے ذریعے آخری سنہرا موقع وہ تھا‘ جب واجپائی نے لاہور آ کر‘ اعلان لاہور پر دستخط کئے۔ اس معاہدے پر‘ کشمیری عوام کی طرف سے بھی کوئی مزاحمت نہ آئی اور پاکستان اور بھارت کے عوام بھی خوشیاں منا رہے تھے کہ ایک دیرینہ مسئلہ حل ہو گیا اور برصغیر کے کروڑوں عوام‘ جنگ کے خطرے سے بچ گئے‘ لیکن چند طالع آزمائوں نے‘ کارگل کا ایڈونچر کر کے‘ نہ صرف بھارت سے بُری طرح مار کھائی بلکہ پاکستانی اور بھارتی عوام نے‘ مدتوں کے بعد‘ جو پُرمسرت امیدیں لگائی تھیں‘ مایوسیوں میں بدل گئیں اور دونوں ملکوں کے عوام میں‘ ایک دوسرے کے خلاف جتنی نفرت پیدا ہوئی‘ وہ 1947ء سے بھی وسیع تر تھی۔ مثلاً اس دور کے فسادات میں‘جنوبی بھارت فسادات سے محفوظ رہا‘ لیکن کارگل کے بعد‘ جب وہاں بھی بھارتی فوجیوں کی لاشیں گئیں‘ تووہ لوگ بھی پاکستانیوں کو بُرا سمجھنے لگے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو‘ عالمی رائے عامہ کی جو حمایت حاصل ہو گئی تھی ‘ کارگل کے ایڈونچر نے‘ اسے بھی لاتعلقی میں بدل دیا اور بھارت یہ پراپیگنڈا کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں جنگ آزادی نہیں لڑی جا رہی بلکہ پاکستان دہشت گردوں کو بھیج کر تخریب کاری کراتا ہے۔ کارگل کے بعد بھی اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اب پاکستان اور بھارت کے مابین دوبارہ باہمی خیرسگالی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے‘ تو وہ تاریخی حقائق سے ناواقف ہے۔ یہ درست ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام‘ بے حد جذباتی اور ان کے باہمی تہذیبی اور ثقافتی رشتوں کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ حالات ذرا بھی بہتر ہوں‘ تو ہم بہت جلد باہمی نفرتوں کو بھُلا کر‘ میل جول شروع کر دیتے ہیں‘ لیکن دونوں ملکوں کے حکمرانوں نے‘ ہمارے درمیان نفرتوں کے جو شعلے بھڑکائے ہیں‘ مستقبل قریب میں وہ ٹھنڈے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ 
تنازعہ کشمیر حل کئے بغیر‘ پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کبھی معمول پر نہیں آ سکتے اور یہ تنازعہ حل کرنے کے لئے‘ ہم جب بھی میز پر بیٹھیں گے‘ حقائق کو انہی حالتوں میں تسلیم کرنا پڑے گا‘ جن میں وہ اس وقت ہوں گے۔وہ حالات ہمیںدوبارہ دستیاب نہیں ہو سکتے‘ جو 1948ء‘ 
1965ء اور 1999ء میں کارگل کی جنگ کے وقت تھے۔ اس کے بعد ہم‘ بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی میں دہشت گردی کے واقعات سے بھی گزرے ہیں۔ ہمارے ماضی میں قدم قدم پر بارودی سرنگیں دبی ہیں۔ وہاں جب بھی کھدائی کریں گے‘ دھماکے ہوں گے۔ نئے حالات پیدا کرنے کے لئے‘ ہمیں نئی سوچوں کو بروئے عمل لانا پڑے گا۔ سب سے پہلے اپنے ذہن سے یہ بے معنی خیال جڑ سے اکھاڑنا ہو گا کہ بھارت نے کشمیر نہ دیا‘ تو ہم ایٹم بم چلا دیں گے۔ ہم ایسا نہیں کر پائیں گے۔ ایٹمی جنگ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں ہوتی۔ یہ پوری انسانیت کے خلاف ہے۔ ایٹمی تابکاری‘ سرحدوں اور موسموں کو نہیں دیکھتی اور جتنی طاقت کے ایٹم بم اب تیار ہو چکے ہیں‘ وہ چلا دیئے گئے‘ تو ایٹمی تابکاری‘ نصف کرۂ ارض تک جا سکتی ہے۔ دنیا کی وہ کونسی طاقت ہے‘ جو ہمیں یہ پاگل پن کرنے کی اجازت دے گی؟ موقع ملے‘ تو احتیاطاً ان دستاویزات کا مطالعہ کر لیں‘ جو ذرا سی کوشش سے دستیاب ہو سکتی ہیں۔ امریکہ کی سابق سیکرٹری خارجہ کونڈالیزا رائس ‘ کانگریس کی کمیٹی میں یقین دلا چکی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہماری پوری نظر ہے اور ہم یہ اہلیت رکھتے ہیںکہ ان کا استعمال روک سکیں۔ بھارت اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ واجپائی والی بی جے پی کو ذہن سے نکال دیں۔ یہ بی جے پی وہ ہے جس نے‘ ایل کے ایڈوانی کو اس وجہ سے پارٹی کے عہدے سے ہٹا دیا کہ انہوں نے بانیِ پاکستان کو قائد اعظم کہہ دیا تھا۔ نریندر مودی نے راشٹریہ سیوک سنگھ کے رضاکار کی حیثیت سے حلف اٹھا رکھا ہے۔جن قوموں کو اپنی عزت و وقار اور مفادات کا خیال ہوتا ہے‘ ان کی قیادت اور عوام یک جان اور دوقالب ہو کر‘ ایک ہی مقصد کے حصول پر تُل جاتے ہیں۔ ایسی قوموں کے لیڈر ‘ مفادات کی جنگیں نہیںلڑتے۔ ہماری سیاسی قیادتوں اور حکومتوں نے ہمیں اس لائق ہی نہیں چھوڑا کہ ہم اپنے کسی بھی دشمن کے ساتھ ٹکر لے سکیں۔ اپنے لیڈروں کے بہکاوے میں مت آئیں۔ جن لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ پرویزمشرف پر مقدمہ چلانے کا نتیجہ کیا ہو گا؟ ان کی فہم و فراست پر بھروسہ کرتے ہوئے‘ ہم بھارت جیسے دشمن سے کیسے ٹکرا سکتے ہیں؟ آج بھی اگر ہمیں لائق اور اہل قیادت مل جائے‘ تو کوشش کی جا سکتی ہے کہ بھارت کو اعلانِ لاہور کے مطابق سمجھوتے پر آمادہ کر لیا جائے۔ مجھے تو اس کی بھی امید نہیں۔ لیکن جیسے سمجھ دار لوگ‘ خودکش بمبار سے بچنے کے لئے‘ اس کی کچھ باتیں مان لیتے ہیں‘ شاید دنیا ہمارے ایٹم بم کی طرف دیکھ کر‘ عزت و آبرو کا بھرم رکھنے کا موقع فراہم کر دے۔ آسانی سے یہ بھی نہیں ہو گا۔ کشمیر کا جب بھی فیصلہ ہو گا‘ ہمارے اس وقت کے توازن طاقت کی مناسبت سے ہو گا۔ آج کی دنیا میں یہ جاننا ذرا مشکل نہیں کہ کون‘ کتنی طاقت رکھتا ہے؟ جس کی جتنی طاقت ہو گی‘ اسی قدر وہ اپنی بات منوائے گا۔ جو کچھ کل مل رہا تھا‘ وہ آج نہیں ملے گا۔ جو آج مل سکتا ہے‘ وہ آنے والی کل کو نہیں ملے گا۔ ہمارا ہر گزرتا دن‘ خسارے میں اضافہ کرے گا۔ یاد کر کے دیکھ لیں‘ ہم کہاں تھے؟ اور کہاں پہنچ گئے؟جن قوموں کے پاس ایٹم بم نہیں ہیں‘ کیا وہ عزت و وقار کے ساتھ نہیں رہ سکتیں؟ جاپان اور جرمنی کے پاس بھی ایٹم بم نہیں ہیں۔ کیا وہ ہماری طرح بے بسی کی حالت میں ہیں؟ طاقت قیادت میں ہوتی ہے۔ طاقت عوام میں ہوتی ہے۔ باقی سب چیزیں ثانوی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved