تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     14-10-2014

ایک دن کا ہفتہ

ایک زمانے سے ہم یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں کام ہو رہا ہے اور ہمارے ہاں کام سے بچنے ہی کو کام کا درجہ دیا جاچکا ہے۔ دنیا بھر میں لوگ رات دن کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں۔ اگر پوچھیے کہ بھائی! رات دن کام کیوں کرتے رہتے ہو تو جواب ملتا ہے زیادہ کام اِس لیے کرتے ہیں کہ زیادہ آرام ملے۔ ہم اب تک سمجھ نہیں پائے کہ زیادہ کام کرکے کوئی کس طرح آرام کرسکتا ہے۔ آرام تو اُسی وقت نصیب ہوتا ہے جب کام کم کیا جائے۔ تو کیا دُنیا بھر میں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے؟ لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے۔ 
دنیا کے امیر ترین شخص کارلوس سلِم (Carlos Slim) نے مشورہ دیا ہے کہ دُنیا کو پریشانیوں سے بچانے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ لوگوں سے زیادہ کام نہ لیا جائے یعنی اُنہیں زیادہ سے زیادہ آرام کا موقع دیا جائے۔ کارلوس سلِم کا مشورہ ہے کہ ورکنگ ویک یعنی کام کا ہفتہ تین دن کا ہونا چاہیے۔ اُن کے مشورے کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ ہفتے میں صرف تین دن کام کیا جائے اور باقی چار دن آرام۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو پُرسکون زندگی بسر کرنے کا موقع اِسی طور دیا جاسکتا ہے۔ 
اِس ایک مشورے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا کے اعلیٰ ترین ذہن بھی سوچ کے معاملے میں ہم سے کتنے پیچھے ہیں۔ جن معاشروں نے بے انتہا اور ہوش رُبا ترقی کی ہے وہ آج پچھتا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ترقی کو ہوش رُبا اِس لیے کہا جاتا ہے کہ پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے لوگ یہ ترقی کے ثمرات دیکھ کر ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ بالکل غلط اندازہ ہے۔ ترقی معاشروں کے اعلیٰ ترین اب تک یہ نکتہ نہیں سمجھ پائے کہ اُن کی ترقی اگر ہوش رُبا ہے تو صرف اُن کے لیے ہے، ہم جیسوں کے لیے۔ ہمارے ہوش بھلا کیوں جاتے رہیں؟ ہمارے حواس سلامت ہیں۔ ہاں، ترقی یافتہ معاشروں کے لوگ ترقی برقرار رکھنے کے لیے ہوش کھوتے جارہے ہیں! غور کیجیے تو یہ خسارے کا سودا ہوا۔ ایسی ترقی کس کام کی جسے برقرار رکھنے ہی میں سب کچھ صرف ہوجائے، ہاتھ سے جاتا رہے؟ 
مرزا تنقید بیگ کو ترقی یافتہ معاشروں سے سخت چِڑ ہے۔ کیوں نہ ہو؟ مرزا کو دُنیا میں اگر کچھ عزیز ہے تو بس آرام۔ اور ترقی یافتہ معاشروں نے اِنسان سے آرام اور سُکون چھین لیا ہے۔ کام اور آرام کے تعلق کو سمجھانے کے لیے مرزا وہی دلائل بروئے کار لاتے ہیں جو تقریباً ہر ''ذی شعور‘‘ پاکستانی کا وتیرہ ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ جو آرام اور سُکون رات دن محنت کرنے سے حاصل ہوتا ہو وہ محض دھوکا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اپنی کایا کو گِھسنے کے بجائے کام سے گریز کرکے آرام کی دولت بٹوری جائے! یہی سبب ہے کہ اُنہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر ڈھلتی عمر کو آرام کے آغوش میں ڈالنے کو ترجیح دی۔ آج وہ جس پُرسکون انداز سے آرام کرتے ہیں اُسے دیکھ کر لوگ (اپنے) دانتوں تلے اُنگلیاں دبا لیتے ہیں! ہم نے تو اُنہیں کئی بار مشورہ دیا ہے کہ کوئی نظر بَٹّو لگالیا کرو، کہیں کسی ''محنتی حاسِد‘‘ کی نظر نہ لگ جائے! مگر مرزا کو کچھ پروا نہیں۔ اُن کا قولِ فیصل ہے کہ نظر کام کرنے والوں کو لگتی ہے، آرام کرنے والوں کو نہیں۔ 
زمانہ کس قدر پیچھے رہ گیا ہے اِس کا اندازہ یوں لگائیے کہ وہ ہم سے کام کے بارے میں کچھ سیکھنے کو تیار ہی نہیں۔ ہم نے تو کام کے بارے میں سوچنے ہی کو کام کا درجہ دے دیا ہے۔ دُنیا دیوانی ہے۔ بس کام کئے جارہی ہے۔ کام کے بارے میں سوچنے کی توفیق قُدرت نے اُسے دی ہی نہیں۔ رات دن کام کرنے سے کس طور بچا جائے، رات دن یہی سوچتے رہنا بھی پاکستانی معاشرے میں ایک نوعیت کا کام ہے! دُنیا ہے کہ مہم جُوئی پر تُلی رہتی ہے، سختیاں جھیلتی ہے تاکہ کام اچھے طریقے سے ہو۔ دُنیا میں اگر عقل ہو تو کبھی ہماری طرف آئے اور ہم سے سیکھے کہ کام کو آسان کیسے بنایا جاتا ہے۔ 
زمانے بھر میں یہ ایک تسلیم شدہ اُصول ہے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی بسر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کیا جائے۔ ہمیں حیرت ہے کہ یہ گِھسا پِٹا تصور دُنیا نے اب تک سینے سے لگا رکھا ہے بلکہ اِسے گلے کا طوق بنا رکھا ہے۔ اہلِ جہاں کو معلوم ہی نہیں کہ کچھ کئے بغیر بھی پُرسکون زندگی بسر کی جاسکتی ہے! اور اِس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ کام کئے بغیر ہی زیادہ پُرلُطف زندگی بسر کی جارہی ہے! 
بہت سے پاکستانیوں کے ذہن میں یہ غلط تصور جڑ پکڑ گیا ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہے گئے ہیں۔ وہ شاید نہیں جانتے کہ ہماری ذہنی ترقی جاری رہی ہے۔ ہم محض کام نہ کرنے کی منزل پر نہیں رُکے بلکہ اِس سے کئی قدم آگے بڑھ چکے ہیں۔ کچھ کئے بغیر جینا تو کسی نہ کسی طور کوئی بھی سیکھ سکتا ہے۔ کوئی ہم سے سیکھے کہ دوسروں کی محنت پر کیسے جیا جاتا ہے! اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ دوسروں کی محنت پر جینا کوئی بہت بڑا کارنامہ ہے تو آپ یقیناً غلطی پر ہیں۔ ہم اِس منزل کو بھی کب کا پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ کام سے محفوظ رہتے ہوئے پُرسکون زندگی بسر کرنے کے ہُنر کا درجۂ کمال یہ ہے کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود سَر ''فخر‘‘ سے بُلند کرکے جیا جائے! 
کام نہ کرکے مزے کی زندگی بسر کرنے کے دیگر معاشروں میں بھی ہوں گے کہ یہ عالمگیر حقیقت ہے۔ مگر ہم نے اِس حوالے سے بہت سے ایسے تصورات متعارف کرائے ہیں جو مزے کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ہمارے ہاں بھی لوگ کام کرنے سے گریز تو کرتے تھے مگر دِل میں خلش بھی محسوس کرتے تھے۔ کچھ نہ کرنے کا دُکھ سا رہتا تھا۔ یہ بہت غلط بات تھی۔ کچھ نہ کرنے پر اگر خلش محسوس ہو تو یقین کرلیجیے کہ ضمیر اب تک سانس لے رہا ہے۔ ضمیر بھی عجیب آئٹم ہے۔ یہ غلط کام سے تو نہیں روکتا مگر اُس غلط کام کا سارا مزا کِرکِرا کردیتا ہے! پُرسکون زندگی بسر کرنے کی طرف جانا ہے تو پہلے قدم پر ضمیر کا گلا کھونٹ دیجیے۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو یہ قدم قدم پر سامنے آتا رہے گا، آئینہ دکھاتا رہے گا اور سارا مزا مِٹّی میں ملاتا رہے گا۔ 
کارلوس سلِم جیسے لوگ ترقی تو کرلیتے ہیں مگر اُنہیں یہ نہیں معلوم کہ پُرسکون زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔ معلوم ہو بھی کیسے؟ کام سے فُرصت ملے تو کچھ سوچیں! کارلوس سلِم کہتے ہیں کہ ہفتے میں تین دن کام ہونا چاہیے۔ وہ کیا جانیں کہ ہم ہفتے میں ایک دن کام کا تصور کب کا متعارف کراچکے ہیں۔ اور ایک دن کا کام بھی وہ جو چُھٹّی کے دن گھر میں بیوی کا ہاتھ بٹاتے ہوئے کرایا جائے! گویا کارلوس سلِم کے مشورے کے مقابل ہم پہلے ہی ایک دن کا ہفتہ متعارف کراچکے ہیں! افسوس کسی نے اُنہیں مطلع کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ 
دوسرے معاشروں میں دفاتر کام کرنے کی جگہ ہوتے ہوں گے۔ ہم نے دفاتر کو تفریحی مراکز میں تبدیل کرکے دِل کا بوجھ اور ضمیر کی خلش دونوں کو دفن کردیا ہے! کام کرنا بہت مشکل کام ہے۔ مگر ہم پر تنقید کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ کام نہ کرنا بھی کچھ سہل نہیں۔ اپنے آپ کو کام سے بچانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اچھا لِکھنا جانتا ہو مگر پوری گارنٹی کے ساتھ بُرا لِکھ کر دِکھائے! یہ ایسا میدان ہے جس میں پاکستانیوں نے بھرپور کامیابی کے کئی جھنڈے گاڑے ہیں۔ اور گاڑے ہی جارہے ہیں۔ آپ نے بھی یہ کہاوت تو سُنی ہی ہوگی کہ کام کریں آپ کے دُشمن۔ ہم نے اِسے عمل کی کسوٹی پر سچ کر دکھایا ہے۔ یعنی اب ہمارے دُشمن ہی کام کر رہے ہیں۔ اب دُنیا بھر میں کام ہو رہا ہے تو کسی کو تو آرام کرنا ہی تھا سو آرام کرنے کی ذمہ داری ہم نے اپنے سَر لے لی ہے! بس اب ع 
دَھڑکن سے کہو خاموش رہے، دُنیا سے کہو آواز نہ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved