تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     15-10-2014

کیا سیاسی راہیں مسدود ہورہی ہیں؟

ایسا لگتا ہے کہ سیاسی طبقے کے درمیان کھنچائو کی فضا کا کبھی خاتمہ نہیں ہوگا۔ ابھی ایک معاملہ حل ہوتا ہی ہے کہ دوسرا سر اٹھا لیتا ہے۔ ابھی حکومت کو چیلنج کرنے والا ایک کھلاڑی میدان سے رخصت ہوتا ہی ہے کہ اس کی جگہ کوئی اور داخلی یا خارجی صفوں سے نکل حکومت کے مقابلے میں خم ٹھونک کر آجاتا ہے۔ گزشتہ تین عشروںسے پاکستان کے سیاسی میدان میں سیاسی کشیدگی اور محاذآرائی کی یہی فضا قائم ہے۔ اس کشیدگی کو کون سی چیز قائم رکھتی یا بڑھاتی ہے؟
اس مسئلے کی ایک آسان وضاحت یہ ہے کہ ''کوئی‘‘ ڈوریں ہلاتا ہے اور تمام سیاسی کھلاڑی یا کوئی ایک فریق سامنے آکر موجودہ سیاسی نظام کو اکھاڑ پھینکنے کے درپے ہوجاتا ہے۔ اس وضاحت کے مطابق بظاہر دکھائی دینے والے سیاسی رہنمائوں کی حیثیت مہروںسے زیادہ نہیںہوتی۔ اس مفروضے کو رد کرنا آسان نہیں لیکن یہ مکمل سچائی پر مبنی نہیں ہوتا۔ تسلیم کہ ہمارے طاقتور حلقوں میں ایسے ہاتھ موجود رہتے ہیں جن میں کچھ سیاسی پتلیوں کی ڈور ہوتی ہے ۔ ان کی ذکاوتِ فکری سیاسی نعرے گھڑتی اور زبانِ زدِعام کرتی ہے۔ تاہم اس ضمن میں پاکستان تنہا نہیں بلکہ تمام معاشروں میں کسی نہ کسی سطح پر یہ پتلی تماشا چلتا رہتا ہے ۔ہاں ،یہ سیاسی طبقے کی طاقت، آزادی اور سیاسی حالات کی تفہیم پر منحصر ہے کہ وہ اس نادیدہ دبائو اور غیر مرئی اثر سے کیسے نمٹتا ہے۔ اس کے لیے سیاسی اشرافیہ کے باہم تعاون، ربط اور اتفاقِ رائے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ مل کر طاقت کا توازن قائم رکھ سکیں؛ تاہم پاکستان میں ایسا ربط و ضبط دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس کی بجائے، غیر معمولی عوامل سیاسی نظام کو عدم استحکام، محاذآرائی اور داخلی انتشار کا شکار رکھتے ہیں۔ 
اس پر یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ نسلی طور پر طبقات میں بٹے، گنجان آباد اورسماجی پیچیدگیوں کے شکار ملک کا، جو سیاسی تشددکی تاریخ اور کمزور حکومتی ادارے رکھتا ہو، سیاسی افراتفری اور انتشار کا شکار ہوجانا فطری امر ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے، لیکن یہی تو وہ چیلنج ہیں جن سے سیاست اور جمہوریت نے نبردآزما ہونا ہوتا ہے۔ ان میں یقینا اتنی صلاحیت ہوتی ہے اور ہونی چاہیے کہ وہ اتفاق ِ رائے کے ذریعے کشمکش اور تصادم کی راہ روک کر ریاست کواستحکام کی طرف لے جاسکیں۔ ماضی میں بھی پاکستان کی سیاسی جماعتیں وقت آنے پر مل بیٹھ کر ملک کو مشکلات کے گرداب سے نکالنے کا چارا کرچکی ہیں۔ اس کی بڑی مثالیں1971میں سقوط ِ ڈھاکہ کا سانحہ اور 1973میں آئین کی متفقہ منظوری تھی؛ تاہم ان مثالوںسے ہٹ کر ہمارے سیاسی طبقے کا عمومی ریکارڈ بہت حوصلہ افزا نہیں ۔ ماضی میں بڑی سیاسی جماعتیں تصادم اور ٹانگ کھینچنے کی پالیسی پر گامزن تھیں۔ سیاسی افراتفری کی وجہ سے ہونے والی طالع آزمائی نے ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کو شدید نقصان پہنچایا۔ 
میرے نزدیک اس کی وجہ سیاسی کھیل کے کمزور قوانین اور جمہوریت پریقین میں پختگی کا فقدان ہیں۔ ہمارے ہاں جمہوری حکومتوں کی گورننس پر بھی سوالیہ نشان لگا رہتا ہے۔ حکمران جماعت کا سیاسی طرز ِعمل جمہوری روایات سے لگا نہیں کھاتا۔ حکمران ہارس ٹریڈنگ یا دیگر ہتھکنڈوںکے ذریعے اپوزیشن کو کمزور یا ختم کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، اور اسی کو سیاسی بصیرت قرار دیا جاتا ہے۔ مستحکم جمہوریت میں اپوزیشن کی موجودگی لازمی ہوتی ہے اور حکومت اسے ختم کرنے کی بجائے اپنی کارکردگی کے ذریعے سیاسی فضا کو پرسکون رکھتی ہے۔ اس لیے اپوزیشن کو سیاسی دکان چمکانے کاموقع نہیں مل پاتا۔ اس کے جمہوری عمل پر یقین کی وجہ سے بھی اسے سبوتاژ کرنے سے گریزکیا جاتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ معاشرے میں طاقت کے تمام دھڑے اخلاقی اور سیاسی روایات کی پیروی کرتے ہوئے آئین کی سربلندی پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے سیاسی مفادات کے لیے ملکی آئین اور قانون سے کھیلنے کی کوشش نہیں کی جاتی‘ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا ۔ ہمارے ہاں ادارے اور آئین کمزور اور سیاسی مفادات طاقتور رہتے ہیں۔ عام طور پر ''قومی مفاد‘‘ کی آڑ میں آئینی تقاضوں کو سبوتاژ کردیا جاتا ہے۔ اس سے سیاسی نظام مزید کمزوری کا شکار اور اتفاق ِ رائے ناممکن ہو جاتی ہے۔ جمود کی شکار یہ سیاسی وراثت، جو عصر حاضر کے جمہوری تقاضوں سے نابلد اور مفاہمت سے لاعلم ہے، پرامن انتقالِ اقتدار سے کم وبیش محروم رہی۔ 
اس وقت دامن ِ قیامت سے جڑے دھرنے، جلسے جلوس اور الزام تراشیوں کا سلسلہ، جس کی وجہ سے میڈیا کے گلشن کا کاروبار چلتا رہتا ہے، پاکستان میں سیاسی جمود کی بڑی وجہ ہیں۔ میڈیا کی وجہ سے تمام دنیا پاکستان کی داخلی صورت سے باخبر؛ چنانچہ تشویش کاشکار ہے۔ پی ٹی آئی اورکچھ ایسی سیاسی جماعتیں، جنہیں سیاسی محاذآرائی کی گرد ہی بھاتی ہے، فضا کو صاف ہونے کی اجازت نہیں دیںگی۔ان کی کوشش ہوگی کہ ملکی سیاست غیر یقینی پن کا شکار رہے تاکہ اس گومگو کی کیفیت میں کسی بھی وقت کھیل ان کے ہاتھ آجائے۔ اکثر لوگ اپنی نجی گفتگو میں یہ سوال اٹھاتے سنائی دیتے ہیں ''اب کیا ہوگا؟ یہ سب ڈرامہ کب اور کیسے ختم ہوگا؟ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟‘‘
ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ جمہوری اداروں ، آئین اور پارلیمنٹ پر اعتماد اور اتفاق ِ رائے پیدا کیا جائے۔ اس حوالے سے دو امور کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔۔۔ پارلیمنٹ کی اہمیت سیاسی اکثر یت سے زیادہ ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ کہ اکثریتی پارٹی‘ دیگر جماعتوں کو بلڈوز کرتے ہوئے صرف اپنے ایجنڈے کی تکمیل ہی نہ چاہے بلکہ پارلیمنٹ کو مقدم سمجھتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلے۔ وہ ان جماعتوں کی رائے بھی سنے اور احترام کرے جن کے ارکان کی ایوان میں تعداد کم ہے تاکہ سب کا جمہوری عمل پر یقین مضبوط ہوسکے‘ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار سنبھالتے ہی آمریت کی راہ پر چل نکلتی ہیں۔ اس سے نہ صرف جمہوریت کمزورہوتی ہے بلکہ حکومت کے لیے مخالفت اور مزاحمت کی فضا بھی بوجھل ہوکر اس کا جینا دوبھر کردیتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جمہوری سیاست میں ایسا نہیں سمجھنا چاہیے کہ ایک کا فائدہ دوسرے کے نقصان میں مضمر ہے۔ اس کے برعکس جمہوری عمل کی کامیابی کے لیے افہام و تفہیم اور وسیع القلبی درکارہوتی ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved