تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     17-10-2014

دھرنے ختم کرو

مسز رابن رافیل کی پاکستان میں ہونے والی ملاقاتوں اور مشوروں کے بعد امریکی سینیٹ کے دو اہم ترین اراکین پاکستان اور افغانستان کے فیصلہ سازوں سے تفصیلی بات چیت کرنے کے بعد واپس وطن جا چکے ہیں۔ ان کی وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل سے علیحدہ علیحدہ ہونے والی ملاقاتوں میں کیا گفتگو ہوئی، یہ تو انہی تک محدود ہے یا ہو سکتا ہے کہ کسی نئے وکی لیکس کو اس بارے کچھ خبر ہو گئی ہو لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال، پاکستان بارے نئے افغان صدر اشرف غنی کا نرم رویہ اور اس تنا ظر میں ایشیائی ریاستوں کے ذریعے حاصل ہونے والے مستقبل کے ممکنہ امریکی مفادات کے حصول کے حوالے سے فیصلے کیے گئے۔ اس کے بعد سب سے اہم ایجنڈا اسلام آباد کے دھرنوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی اور عسکری کشمکش کے بارے میں تھا۔ کراچی کے امریکی قونصلیٹ جنرل کا دھرنے والوں کو دیا جانے والا حکم بھی اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ امریکی اپنے مفادات کی حفاظت کیلئے عوامی رائے عامہ کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں‘ اس لئے دھرنے والوں کو کراچی قونصلیٹ کو مناسب جواب دینا چاہیے تھے کیونکہ اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے دھرنا دینے یا نہ دینے کے مشورے دے؟ 
جناب زرداری کا لاہور میں بیٹھ کر دیا جانے والا یہ بیان بھی بہت کچھ کہہ رہا ہے کہ '' ملک میں عام انتخابات اس وقت ہوں گے جب پی پی پی چاہے گی‘‘ یہ بیان تو یہی ظاہر کر رہا ہے کہ میاں نواز شریف کی سیا سی طاقت کو کمزور ہوتا دیکھنے کے بعد امریکیوںنے اپنا ایجنڈا ان کے سامنے رکھا ہو؟۔ امریکہ جانے سے چند دن قبل یکم اکتوبر کوامریکی سفیر رچرڈ اولسن جب وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کر رہے تھے تو اسی وقت کراچی میں امریکی قونصلیٹ جنرل کی طرف سے دھرنے اٹھانے کا دیا جانے والامشورہ بہت سے سوالات ابھارتا ہے۔ سوچا جا سکتا ہے کہ کیا ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ جب امریکی سفیر وزیر اعظم سے ملاقات میں مصروف تھے تو قونصلیٹ کا مقصد اسلام آباد میں آپس میں طے پاجانے والے کسی ایجنڈے سے عوام کی توجہ ہٹانا ہو؟۔ لیکن کیا میاں نواز شریف امریکی ڈکٹیشن قبول کرلیں گے؟ کیونکہ وہ تو یہی کہتے آ رہے ہیں کہ وہ کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں چل سکتے۔اب یہ ان کا امتحان ہے کہ وہ امریکی ڈکٹیشن لیتے ہیں یا ۔۔۔۔؟میں امریکہ کی ڈکٹیشن نہیں لیتا... میں ہمیشہ اپنی مرضی کرتا ہوں‘ یہ الفاظ وزیر اعظم اپنے عوامی خطابات میں نہ جانے کتنی بار دہرا چکے ہیں۔ وہ کس حد تک امریکہ کے تابعدار یا مخالف تھے‘ اس کا فیصلہ عوامی جلسوں میں کی جانے والی جوشیلی تقریروں سے نہیں بلکہ عمل سے 
ہو گا۔ اگر کسی نے اس جرأت اور سچائی کا اندازہ لگاتاہے تو پھر اسے میاں نواز شریف کے دیئے جانے والے انٹرویوز پر مبنی ان کی کتاب کو دیکھنا ہو گا۔کہی گئی بات سے تو انکار کیا جا سکتا ہے لیکن لکھی ہوئی سے انکار کرنا آسان نہیں۔۔۔۔ او ر سچائی جاننے کیلئے سابق وزیر اعظم کی کہانی ان کی زبانی؛ ''غدار کون ‘‘کا ایک صفحہ ملا حظہ فرمائیں۔۔۔ '' جناب بل کلنٹن صاحب‘ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ یہاں پاکستان میں آپ کو بہت پسند کیا جا تا ہے۔ اگر آپ چا ہتے ہیں کہ آپ کے دیئے گئے ایجنڈے پر عمل کیا جائے تو اس کیلئے میرا پاکستان میں وزیر اعظم رہنا بہت ہی ضروری
ہے۔ یہاں پاکستان میں اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو میرے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر نے کے علا وہ میرے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر ر ہی ہیں‘‘۔ میاں نواز شریف کی اس بات پر جناب بل کلنٹن نے کہا '' آپ پریشان مت ہوں کچھ چیزیں جن کے متعلق آج میں نے آپ سے گفتگو کی ہے پاکستان کی اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو کے ساتھ بات کرنے میں مدد گار ثابت ہوںگی‘‘۔ یہ ہے 22 مئی 1998ء بروز جمعتہ المبارک‘ رات دس بجے امریکی صدر بل کلنٹن سے سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف کی ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے حوالے سے اس گفتگو کے کچھ حصہ کا نا قابل تردید ریکار ڈ۔ اگر اس تناظر میں امریکی سفیر سے ہونے والی ملاقات اورکراچی کے قونصلیٹ کا دیا جانے والا بیان سامنے رکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس دفعہ محترمہ کی بجائے انہوں نے امریکی سفیر کو عمران خان کی شکایت کی ہوگی؟۔
مسلم لیگ نواز کی جانب سے یہ بات ہزاروں بار کہی جاتی ہے کہ ایٹمی دھماکے کرنے سے قبل ہم نے کلنٹن کے پانچ فون سنے ہی نہیں تھے اور ہم نے کلنٹن کو کھری کھری سنائی تھیں۔ اب کچھ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی لیکن اتنا کہنے کی تو اجازت دے دیں کہ امریکی صدر سے اس وقت کی اپو زیشن لیڈر بے نظیر بھٹو کی شکایتیں لگانے اور ان کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کے خلاف مدد مانگنے والوں سے یہ کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہیں؟۔ امریکی صدر کلنٹن اور جناب نواز شریف کی ریکارڈ کی گئی گفتگو کے مطابق میاں صاحب نے مزید فرما یا کہ ''مجھے آپ کے تعلق اور فکر کی تعریف کر نی چا ہیے جس کا اظہار آپ نے مجھے پچھلے دس دنوں میں دو بار فون کر کے کیا ہے۔ میں نے اس کے متعلق اپنے حکومتی ساتھیوں کو بھی بتا دیا ہے۔اب بات گھڑنے میں یدِ طولیٰ رکھنے والوں سے کوئی پو چھے کہ 28مئی کو ایٹمی دھماکہ کرنے سے پہلے جناب نواز شریف خود اپنی زبان سے دس دنوں میں کلنٹن کے صرف دو فونز کا اقرار کر رہے ہیں۔یہ با قی چار فون کہاں سے آ گئے؟۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہر مقرر نے دفاعی اداروں پر تنقید کی اور وزیر اعظم سمیت ان کی پوری کابینہ اس پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتی رہی؟ کیا کسی ملک میں ایسا بھی ہوا ہے ؟ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ کیا بھارتی را اور اس کی دوسری ایجنسیاں پاکستان اور اس کی عوام کو پھول بھیجتی ہیں ؟ حکمران کس کی زبان بول رہے ہیں؟کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے اداروں کو دنیا میں بدنام کر تے پھررہے ہیں ...! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved