تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     21-10-2014

باریاں

کراچی میں پیپلز پارٹی کے بھرپور اور شاندار جلسے کا حاصل چوہدری اعتزاز احسن کی یہ تجویز ہے کہ ''اگر پارٹی میں نئی زندگی پیدا کرنا ہے‘ تو 50سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ‘ پچھلی صفوں میں بٹھانا ہو گا۔‘‘کاش! بلاول بھٹو کے اختیار میں ہوتاکہ وہ مشورے پر عمل کر سکتے۔50سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں‘ جناب آصف زرداری بھی شامل ہیں۔ ع
سمجھنے والے کو بس اک اشارہ کافی ہے
یہ مشورہ انتہائی کارآمد اور مفید ہے۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر پیپلزپارٹی کو دوبارہ عوام میں جانا ہے‘ تواسے نئے چہرے‘ نئے پروگرام اور نئے قائدین کے ساتھ جانا ہو گا۔ بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد‘ بی بی نے ایک طرف پیپلزپارٹی کو انکلوں سے صاف کیا تھا‘ تو دوسری طرف بے شمار مخلص اور جاںنثار کارکنوں کی بھی چھانٹی کر دی تھی۔ پارٹی کی حکومت سے‘ محض ان لوگوں نے فوائد حاصل کئے‘ جو آزمائش اور ابتلا کے دور میں‘ منظر سے اوجھل ہو گئے تھے۔بی بی کارکنوں کے ساتھ مخلص اور ان پر مہربان ہونے کے باوجود‘ ان کے کسی کام نہ آ سکیں۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے اور مخلص کارکنوںکو تو اسی بات پر اعتراض تھا کہ ضیاالحق کے حامیوں اور ساتھیوں کو‘ پارٹی میں جگہ کیوں دی گئی؟ انہیں ٹکٹ کیوں دیئے گئے؟ اسمبلیوں میں کیوں بٹھایا گیا؟ وزارتیں کیوں دی گئیں؟ ایسے تمام کارکن ‘خاموشی سے کنارہ کشی اختیار کر کے بیٹھ گئے۔ پارٹی کے جو سینئر لیڈر‘ کارکنوں کو پہچانتے تھے‘ انہیں بھی قیادت سے دور کر دیا گیا تھا۔خود بی بی شہید کو‘ بھٹو صاحب کی جدوجہد کے زمانے میں ان کے قریبی ساتھیوں اور کارکنوں کو جاننے کا موقع نہیں ملا تھا۔ بی بی شہید کی پارٹی میں‘ بیشتر خوشامدی اور موقع پرست لوگ پارٹی کے مخلص کارکن بن کر پوزیشنیں سنبھال بیٹھے۔چیئرپرسن کے مصاحبین میں‘ انہیں کوئی جاننے والا بھی نہیں تھا۔ 
مجھے یاد آ رہا ہے‘ لاہور کے ان گنت کارکن‘ جو ضیاالحق کے زمانے میں شاہی قلعہ‘ خفیہ عقوبت گاہوں اور جیلوں میں سزائیں بھگت کے آئے تھے‘ زمانہ اقتدار میں انہیں‘ جاننے والا بھی کوئی نہ تھا۔ وہ جاتے‘ تو کس کے پاس جاتے؟ بی بی شہید کے برابر کی بااختیار شخصیت‘ ان کے شوہر آصف زرداری کی تھی۔ ان کا دوردور تک پیپلزپارٹی سے واسطہ نہیں تھا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ اصل کارکن کون ہے؟ اس وجہ سے جو کارکن‘ پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی تھے‘ وہ الگ تھلگ ہو گئے۔ چند ایک جنہیں یاد کر لیا گیا‘ انہیں نوکریاں دے کرسمجھ لیا گیا کہ ان کی خدمات کا صلہ دے دیا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں میں کچھ انکلوں نے بی بی شہید کو ناتجربہ کار سمجھ کر‘ اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کی۔ ظاہرہے وہ نوجوان خاتون‘ جسے خود بھٹو صاحب نے قیادت کے لئے تیار کیا تھا اور ان کی ابتدائی تربیت بھی کر دی تھی، اپنے عظیم والد کے تصورات اور نظریات سے آگاہ تھیں۔ انکلوں نے ''استادی‘‘ دکھانے کی کوشش کی‘ تو بی بی ان سے بھی بیزار ہو گئیں اور ایک ایک کر کے‘ سارے انکلوں کو فارغ کر دیا۔ جنہیں اپنی عزت پیاری تھی‘ 
وہ خود علیحدہ ہو کر بیٹھ گئے۔ میری سمجھ کے مطابق اصل پیپلزپارٹی‘ بی بی کے دور میں ہی پیچھے رہ گئی تھی۔ بی بی نے جو نئی پیپلزپارٹی تیار کی‘ اس کا اصل پارٹی یا اس کے نظریات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ضیاالحق کے طویل دوراقتدار میں‘ پارٹی کے کارکن بری طرح سے پیس کے رکھ دیئے گئے تھے‘ جو اپنی مالی اور سماجی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے‘ ان کی اکثریت اپنے آپ کو آمریت کے لئے قابل قبول بنا چکی تھی۔ جن پارٹیوں نے 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا‘ ان کے بیشتر سرکردہ لیڈروں نے ''غیرجماعتی‘‘ بن کر الیکشن میں حصہ لیا۔ محترمہ ‘ ضیاالحق کی سازش کا شکار ہو کر بائیکاٹ کر بیٹھیں۔ جبکہ دیگر کئی جماعتوں نے اپنے نمائندوں کو غیرجماعتی بن کر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ ان میں جماعت اسلامی سرفہرست تھی۔ بائیکاٹ کے فیصلے پر بی بی شہید کو افسوس ہوا تھا۔ 1986ء میں بے نظیر کی وطن واپسی پر پابندی ختم ہوئی‘ تو وہ پاکستان واپس آئیں۔عوام نے ان کا فقیدالمثال استقبال کیا، لیکن انہیں سیاسی سرگرمیوں کی آزادی میسر نہ آ سکی۔ جب وہ زیادہ سرگرم ہونے لگیں‘ تو غوث علی شاہ نے گرفتار کر کے‘ انہیں جیل بھیج دیا۔ 1988ء میں ضیاالحق کی موت کے بعد انتخابات ہوئے‘ تو پیپلزپارٹی کو ٹکٹ دینے کے لئے‘ انہی امیدواروں کا انتخاب کرنا پڑا‘ جن کی اکثریت مجلس شوریٰ میں رہ چکی تھی اور مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے ٹکٹ ایسے حضرات کو دیئے گئے‘ جنہیں اسٹیبلشمنٹ نے کلیئر کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کے پروگرام پر یقین رکھنے والا کوئی بھی قابل ذکر لیڈر‘ اس لائق نہیں سمجھا گیا۔ ملک معراج خالد جیسے بزرگ ‘سرکاری پوزیشنوں کے لئے چنے تو گئے، لیکن پارٹی سے ان کی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ بی بی کی حکومت برطرف کی گئی‘ تو انہیں نگران وزیراعظم بنا دیا گیا۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ حقیقی پیپلزپارٹی بی بی شہید کے زمانے میں ہی‘ خواروزبوں ہو گئی تھی اور جن لوگوں کوپیپلزپارٹی کے نام پر بی بی شہید نے ساتھ ملایا‘ حقیقت میں وہ پارٹی مخالف طاقتوں سے سمجھوتے کر چکے تھے۔ اقتدار کی ٹیم میں شریک ہونے والوں کی اکثریت‘ دوسرے دور اقتدار تک آصف زرداری کے ساتھی بن جانے والوں پر مشتمل تھی۔ آصف زرداری کا پیپلزپارٹی سے اتنا ہی تعلق تھا اور ہے‘ جتنا منظور وٹو‘ فیصل صالح حیات اور ان جیسے دوسرے لوگوں کا تھا۔ موجودہ پیپلزپارٹی مکمل طور پر ایک نئی پارٹی ہے‘ جو بھٹو صاحب کا نام استعمال کر کے‘ غریبوں کے ووٹ حاصل کر تی ہے اور بھرم رکھنے کے لئے بظاہرمزدوروں اور کسانوں کے حق میں کچھ پالیسیاں بنا لیتی ہے، لیکن مزدوروں کی اصل زندگی پر ان پالیسیوں کا خاص اثر نہیں ہوتا۔ موجودہ 
پیپلزپارٹی‘ حقیقی پیپلزپارٹی سے کتنا دور جا چکی ہے؟ اس کا اندازہ حال میں وزیراعظم نوازشریف کے حق میں پارلیمنٹ کے اندر‘ قرارداداعتماد کی تائید سے ہوتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے حق میں سب سے پراثر اور زوردار جذباتی تقریر‘ پیپلزپارٹی کے اپوزیشن لیڈر‘ سید خورشیدشاہ کی تھی۔ کوئی سوچ سکتا تھا کہ پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا لیڈر‘ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا دم بھرے گا؟ چوہدری اعتزاز احسن نے بے شک کارآمد مشورہ دیا ہے کہ 50سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو پچھلی صفوں میںبٹھا دینا چاہیے، لیکن یہ بات وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ پیپلزپارٹی‘ اصل پارٹی ہے ہی نہیں۔ یہ عملاً ثابت کر چکی ہے کہ اس میں اور ن لیگ میں کوئی خاص فرق نہیں۔ دونوں کا تصور جمہوریت ایک ہے۔ نعروں میں فرق کے ساتھ دونوں کے پروگرام بھی ایک جیسے ہیں۔ درحقیقت انتخابات میں حصہ لینے والی تمام پارٹیاں ایک جیسی ہیں۔ انتخابات اور اقتدار میں حصہ لینے کے لئے‘ سب اپنے اپنے لئے باریاں لینے کی امیدوار ہیں۔ عمران خان‘ جو حال میں سیاسی منظرپر چھائے ہوئے ہیں‘ وہ لگی لپٹی رکھے بغیرکہتے ہیں''تم بہت باریاں لے چکے۔ اب ہماری باری آنے دو۔‘‘ نئی ابھرتی ہوئی عوامی تحریکوں کے دبائو سے‘ موجودہ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھی ہوئی‘ تمام جماعتیںباری لینے کی خاطر‘ آپس میں سمجھوتے کر کے‘ انتخابی میدان میں اترتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ بے شک وہ الیکشن الگ الگ لڑیں‘ مقصد اور منزل سب کی ایک ہو گی اور وہ یہ کہ اقتدار کے نئے امیدواروں کو باری لینے سے روکا جائے۔حد یہ ہے کہ جماعت اسلامی بھی باریاں لینے کے راستے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اسے پورے اقتدار کی باری تو نہیں ملتی، حصے داریاں کر کے‘ کرسی ڈھونڈ لیتی ہے۔ ضیاالحق اور مشرف کے زمانے میں اس نے یہی کیا۔ آج کل بھی صوبہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے ساتھ‘ باری میں حصے دار ہے۔ نوجوان بلاول بھٹو زرداری کو آخرکار اقتدار کی منزل کا مسافر بننا ہو گا۔ بھٹو کے فکر و فلسفے اور سیاست پر عمل کرتے ہوئے‘ وہ باری کے کھیل میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔ باری لینے والوں کے ساتھ مل کر زیادہ حصے داری لینے کی کوشش کریں گے۔ نعرہ لگنا تو شروع ہو گیا ہے ''اب کی باری‘ پھر زرداری۔‘‘بھٹو صاحب کے ساتھ زبردستی نسلی تعلق پیدا کر کے‘ ووٹ لینا مشکل ہو گا۔ عوام کی اکثریت وہی طرزعمل اختیار کرے گی‘ جو قائد اعظم مسلم لیگ کے ساتھ کر رہی ہے۔ قائد اعظمؒ کا سب احترام کرتے ہیں، لیکن یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مسلم لیگ کا قائد اعظمؒ سے وہی تعلق ہے‘ جو ''چوہدری دیسی گھی‘‘ کا دیسی گھی سے ہوتا ہے۔آنے والے انتخابات میں‘ عوام کو صرف یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ملے گا کہ وہ پرانے باریاں لینے والوں کو پھر سے موقع دیں یا نئی باری لینے کے خواہش مندوں کو آگے لائیں؟ جمہوریت کا لغوی یا اصطلاحی مفہوم اپنی جگہ، لیکن زیرعمل جمہوریت میں صرف باریاں لگتی ہیں۔ جمہوریت ہمیں ‘ امریکہ کے زیادہ قریب کر رہی ہے۔ وہاں ایک ہی پارٹی دو ناموں سے باریاں لیتی ہے۔ ہمارے اپنے سیاسی کلچر کے مطابق‘ ایک ہی پارٹی کئی ناموں سے اسی طرح باریاں لے گی‘ جیسے موجودہ حکومت میں سب کو باری مل رہی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved