تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     23-10-2014

مشورہ

اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے:''پس آپ اللہ کی رحمت ہی کے سبب اُن کے لئے نرم ہوگئے اور اگر آپ تُند خو اور سخت دل ہوتے تو وہ ضرور آپ کے گرد سے تتر بتر ہوجاتے، سو آپ اُن کو معاف کردیں اور اُن کے لئے استغفار کریں اور (اہم) امور میں اُن سے مشورہ لیں، پھر جب آپ کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیں تو (کامیابی کے لئے) اللہ پر بھروسا کریں، بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ (آل عمران:159) دوسرے مقام پر ارشاد ہے:''اور ان کے کام باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں‘‘۔ (الشوریٰ:38) 
اہم امور میں دوسروں سے مشاورت کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اور رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر تعلیمِ امت کے لئے صحابۂ کرام سے مشورہ فرمایا۔اِس آیتِ مبارَکہ کے نزول پر آپ ﷺ نے فرمایا تھا:''بے شک اللہ اور اس کا رسول مشورہ سے مستغنی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مشورہ کو میری امت کے لئے رحمت بنا دیا ہے‘‘۔ (روح المعانی، جلد:4،ص:107) ظاہر ہے مشورہ اُن امور میں ہوگا جن کے بارے میں اللہ عزّوجلّ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کے صریح احکام نہ ہوں ، ورنہ اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت ہر حال میں لازم ہے۔ 
رسول اللہ ﷺ نے جنگی امور میں صحابۂ کرام سے مشاورت کی۔ جب بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور کفارِ مکہ کے جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے تو آپ ﷺ نے اُن کی بابت مسلمانوں سے مشورہ کیا کہ اُن سے کیا سلوک کیاجائے، کیونکہ اُس وقت جنگی قیدیوں کی بابت اَحکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ حدیثِ پاک میں ہے:''(بدر کے موقع پر) قیدی لائے گئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟صحابی بیان کرتے ہیں :میں نے کسی شخص کو رسول اللہﷺ سے زیادہ اپنے رفقاء سے مشورہ لینے والا نہیں دیکھا‘‘۔ (ترمذی:1714) اسی طرح غزوۂ احزاب میں آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول فرماتے ہوئے دفاع کے لئے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایااور وہ اچھے نتائج کا حامل رہا، کفار کو نامراد ہو کر واپس جانا پڑا۔
لیکن ظاہر ہے کہ مشورہ اہلِ رائے سے کرنا چاہئے یا اگر معاملہ کسی خاص شعبے سے متعلق ہے تواُس کے ماہرین سے مشورہ لیناچاہئے کیونکہ مشاورت اور اجتماعی رائے میں برکت ہوتی ہے۔ بعض اوقات کسی معاملے میں صحیح اور غلط کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے اور بعض اوقات اگر ایک رائے فی نفسہٖ درست ہے تو دوسری اس سے بہتر ہوسکتی ہے اور تیسری بہترین ہوسکتی ہے۔ کسی مقصدِ خیر کو حاصل کرنے کے لئے ایک سے زیادہ تدابیر (Tactics)ہوسکتی ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ ایک موقع پر اُس وقت کے مخصوص حالات کے تحت ایک تدبیر کارگر ثابت ہوتی ہے، لیکن دوسرے موقع پر وہی تدبیر یا چال ناکامی سے دوچار ہوجاتی ہے۔ اس لئے مختلف مواقع پر ایک سے زیادہ آراء سامنے آنے سے مسئلے کے حل کی احسن صورت نکل آتی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جو بندہ مشورہ لے، وہ کبھی بدبخت نہیں ہوگا اور جو بندہ اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھے وہ کبھی نیک بخت نہیں ہوتا‘‘۔ (الجامع لاحکام القرآن، جلد:14،ص:250) 
رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے خلفاء راشدہ بھی مباح اُمور میں امین لوگوں سے مشاورت کرتے تھے تاکہ مسئلے کے حل کے لئے کوئی آسان صورت سامنے آجائے اور وہ اسے اختیار کرلیں ، ہاں! اگراُن پر واضح ہوجاتاکہ درپیش معاملے کے بارے میں اللہ عزّوجلّ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کے واضح احکام موجود ہیں تو پھر وہ نبی ﷺ کی اِتّباع میں یکسو ہوکر اس پر عمل پیرا ہوجاتے اور کسی اور جانب نہ دیکھتے (کیونکہ جب قطعی طور پر حق معلوم ہوجائے تو پھر کسی اور جانب دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔)، (سنن ابو داؤد: باب المشورہ) لیکن یہ امر بھی لازم ہے کہ جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہو، خیر خواہ ہو، اپنی اور سب کی فلاح چاہتا ہو، دھوکانہ دے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:''جس سے مشورہ مانگا جائے، وہ امین ہوتاہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد:5087) یعنی اس پر لازم ہے کہ دیانت داری سے رائے دے۔ 
سنن ابن ماجہ میں ہے کہ نبیﷺ نے نماز کی جماعت کے لئے لوگوں کو مطلع کرنے کے بارے میں صحابۂ کرام سے مشورہ کیا کہ کیا طریقۂ کار اختیار کیا جائے ، پھر خواب میںایک صحابی کو فرشتے نے کچھ کلمات اِلقاء کئے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پسند فرمایا اورانہی کلماتِ مبارَکہ پر مشتمل اذان کو مشروع کردیا، جو آج مسلمانوں کاشِعار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تمام اہم معاملات میں صحابۂ کرام سے مشورہ کیا کرتے تھے اورہر درست مشورے کو قبول کرتے تھے۔انہوں نے شراب کی حد کے بارے میں صحابۂ کرام سے مشورہ کیااور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشورے پر شراب کی حد اَسّی کوڑے مقرر کی ۔ طواف کے دوران کُچلے جانے کی وجہ سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا:''مومن کا خون رائیگاں نہیں جاتا، اس کی دِیَت بیت المال سے ادا کی جائے‘‘۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اِس مشورے کو قبول کیا اور کہا:''اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا‘‘،یعنی اِس پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ 
اہم امور میں مشاورت کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا شِعار قرار دیا اوررسول اللہ ﷺ کو صحابۂ کرام سے مباح امور میں مشاورت کا حکم فرمایا۔ مشاورت میں برکت ہے، خیر ہے ، اجتماعیت ہے اوراس کے نتیجے میں انسان عُجبِ نفس، خود فریبی اور خود رائی میں مبتلانہیں ہوتا۔ اجتماعی امور میں مشاورت سے سب میں احساسِ شرکت پیدا ہوتاہے اور اجماعی یا اکثری فیصلوں کی ذمے داری سب پر عائد ہوتی ہے اور اس کے نتائج کے ذمے دار بھی سب ہوتے ہیں ، کسی ایک فرد پر تنہا ذمے داری عائد نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں سے مشاورت کا حکم دینے کے بعد فرمایا:''جب آپ (کسی کام کا) پختہ ارادہ کرلیں تو پھر اللہ پر توکل کریں‘‘ ، یعنی پھر یکسو ہوکر اور اللہ پر توکل کرکے اس کام میں لگ جانا چاہئے۔ 
مشورہ کرنے میں خیر ہے مگر ہر حال میں مشورہ ماننا ضروری نہیں ہے ۔ ہمارے ہاںکسی سے مشورہ لیاجائے تو وہ کہتا ہے :''مشورہ دینے کا کیا فائدہ ، کوئی مانتا تو ہے نہیں‘‘۔رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابیہ حضرت بَرِیرہ رضی اللہ عنہا کواپنے سابق شوہر کے ساتھ نکاح میں رجوع کرنے کا مشورہ دیا، انہوں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! کیا یہ آپ کا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں یہ میری سفارش ہے، اس نے عرض کی: پھر مجھے ان سے کوئی حاجت نہیں ہے‘‘۔ (بخاری:5283) رسول اللہ ﷺ نے یہ مثال تعلیمِ امت کے لئے قائم فرمائی تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہر حال میں مشورہ ماننا ضروری نہیں ہے، مشورے کو رَد بھی کیا جاسکتا ہے اور مشورہ دینے والے کو اسے اپنی توہین پر محمول نہیں کرناچاہئے۔ 
یہ چند سطور میں نے اس لئے لکھیں کہ ہمارے ہاں حکمرانوں پر تو شاہانہ مزاج رکھنے کا طَعن کیا جاتا ہے ، جو کسی حدتک درست ہے‘ لیکن مستقبل میں حکمرانی کے امیدوار رہنماؤں کی ذہنی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے ، یعنی سب ہی اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اور عملی طور پر اپنے آپ کو خطا سے محفوظ گردانتے ہیں، اس لئے انہیں صرف وہی مشورہ یا رائے اچھی لگتی ہے جس میں ان کے ہر قول وفعل کی غیر مشروط طور پر تحسین کی جائے اور ان کے کسی اِقدام پر انگلی نہ اٹھائی جائے۔ کوئی کتنی ہی نیک نیتی سے رائے دے یا تنقید کرے،وہ اسے اپنی توہین پر محمول کرتے ہیں ، بلکہ ایک معروف قائد کا ٹِکر میں نے ٹیلی وژن اسکرین پر چلتے ہوئے دیکھا کہ ''مشورہ دینے والے فیس دیں‘‘۔پس یہ مت سمجھئے کہ آپ سے اختلاف رائے رکھنے والا ہر شخص آپ کا دشمن یا آپ کا مخالف ہے، وہ آپ کا خیرخواہ اور آپ کا ہمدرد بھی ہوسکتاہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ منہ پر مدح وستائش کرنے والا ہر شخص آپ کا بہی خواہ ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ''جب تم (کسی کے سامنے اس کی) تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو اس کے منہ پر مٹی ڈالو‘‘۔ (بخاری:7495) 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved