تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     01-11-2014

سرخیاں‘ متن‘ ٹوٹا اور خانہ پُری

پی پی پی اور ایم کیو ایم باہمی مسائل
مذاکرات سے حل کریں... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''ایم کیو ایم اور پی پی پی باہمی مسائل مذاکرات سے حل کریں‘‘ جیسے کہ ہم نے پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنا مسئلہ حل کیا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو سکی اور قادری صاحب دھرنے سے یوں غائب ہو گئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اسی طرح پیپلز پارٹی والے بھی ضرورت مند لوگ ہیں اور اقتدار سے ہٹنے کے بعد مزید ضرورت مند ہو گئے ہیں تو ان کی ضروریات کا خیال رکھنے سے بھی باہمی مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور عزیزالقدر بلاول بھٹو زرداری اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کے لیے برطانیہ یا دوبئی کا رُخ کر سکتے ہیں‘ اللہ اللہ خیر سلا۔ انہوں نے کہا کہ ''نئے صوبوں کے لیے آئین میں طریقہ موجود ہے‘‘ جیسا کہ ہم نے اختیار کر رکھا ہے اور صوبائی اسمبلی نے اس کے خلاف قرارداد بھی منظور کر رکھی ہے‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے‘‘ اور اسی حسن کو دوبالا کرنے کے لیے قادری صاحب کے اختلاف رائے کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور یہ وہ نسخۂ کیمیا ہے جو ہر جگہ کام آ سکتا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔ 
قوم کو تقسیم کرنے والے 
خود تقسیم ہو گئے ہیں... شہبازشریف 
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ''قوم کو تقسیم
کرنے والے خود تقسیم ہو گئے‘‘ اور اس تقسیم سے کچھ رقوم کو ضرب بھی دینی پڑی کہ یہ دھندہ ہمیشہ سے ضرب تقسیم ہی کا رہا ہے۔ اور جہاں تک رقم کا معاملہ ہے تو اس سے بھی سرکاری خزانہ ہی سرخرو ہو رہا ہے کیونکہ ہمارے پاس تو یہاں ایک پائی بھی نہیں ہے اور ساری پائیاں بیرون ملک ہی پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''بے وقت کے دھرنوں سے ملکی ترقی پر اثر پڑا‘‘ جو اس وقت آسمان کو چھو رہی ہوتی‘ بلکہ ہماری حالت بھی بدل چکی ہوتی اور ہمیں بھی اس مفلوک الحالی سے نجات حاصل ہو چکی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں ملک کو بحرانوں سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے پُرعزم ہے‘‘ اور یہ بات ہر تیسرے دن دہرانے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ لوگ اس پر یقین ہی نہیں کرتے‘ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ یقین ہمیں خود بھی نہیں آ رہا‘ اور اگر کبھی تھوڑا بہت آنے بھی لگتا ہے تو لوگوں کی حالت دیکھ کر پھر گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ آپ اگلے روز لندن میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے دیئے گئے ایک استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ 
دھرنوں سے جو کچھ حاصل کرنا تھا‘ 
کر لیا ہے... طاہرالقادری 
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ''دھرنوں سے جو کچھ حاصل کرنا تھا‘ کر لیا ہے‘‘ اگرچہ اس میں حکومت نے کافی دیر لگا دی اور اس سے بہت سارا وقت ضائع ہو گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو وقت کی قدر و قیمت کا کوئی احساس نہیں ہے ورنہ حاصل وصول کا یہ معاملہ بہت پہلے طے کر لیتی کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ میرے اصول کیا ہیں اور میں اُن پر کس قدر مستقل مزاجی سے عمل پیرا ہوتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ''اب اگر دھرنے جاری رہتے تو الٹا نقصان ہوتا‘‘ اور حکومت اپنا ارادہ ہی بدل لیتی کیونکہ اس پر کسی طرح کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ''دھرنا ختم کرنے سے پہلے عمران خان کو آگاہ کردیا تھا‘‘ بلکہ اس کے فوائد سے اسے بھی آگاہ کیا تھا لیکن وہ بات کو اچھی طرح سمجھ نہ سکا۔ انہوں نے کہا کہ ''دھرنا ختم کرنے پر عمران خان کو کوئی اعتراض نہیں‘‘ کیونکہ اسے اچھی طرح سے سمجھا دیا گیا تھا کہ اس طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو آئندہ جلسوں کا خرچہ کیسے پورا ہوگا اور گاڑی کیسے چلے گی جبکہ گاڑی چلتی ہی رہنی چاہیے۔ آپ اگلے روز ٹورنٹو میں ایک مقامی نیوز چینل سے گفتگو کر رہے تھے۔ 
ملک کے بہترین مفاد میں ایک بار پھر 
اخباری اطلاعات کے مطابق الطاف بھائی نے سید خورشید علی شاہ کا لفظ مہاجر کے بارے میں کہے گئے جملوں پر معافی نامہ قبول کر لیا ہے اور اُدھر میاں نوازشریف نے ایم کیو ایم کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران یہ پیشکش کردی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان تلخیاں دور کرانے کے لیے کردار ادا کریں گے؛ چنانچہ ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر ملک کے بہترین مفاد میں کلہاڑی دفن کر دی جائے گی اور دونوں کے درمیان محبت کا دور دورہ ایک بار پھر شروع ہو جائے گا جبکہ الطاف بھائی کی تصنیف کردہ کتاب کا نام بھی ''محبت‘‘ ہی ہے جس کی پچھلے دنوں اسلام آباد میں رونمائی بھی انعقاد پذیر ہو چکی ہے؛ تاہم اس میں تاریخ کا قصور زیادہ ہے جو نہ صرف اپنے آپ کو دہراتی ہے بلکہ اسے اس کی بُری عادت بھی پڑی ہوئی ہے‘ اور جہاں تک سندھ کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کا معاملہ ہے تو اس کی بھی ایک صورت اس طرح سے نکال لی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ چلو‘ اگر الگ صوبہ نہیں بناتے تو سندھ کی حکومت ہی دس سال کے لیے حوالے کردی جائے‘ یعنی بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی! 
اور‘ اب آخر میں یہ خانہ پُری: 
یہیں کہیں پہ نہیں، جابجا سے آگے ہے 
ہوا اک اور بھی جیسے ہوا سے آگے ہے 
کھِلا ہے دل میں کوئی پھول دیر سے، لیکن 
مہک بہار کی سیلِ صبا سے آگے ہے 
مسافروں کے لیے ہے بھی کوئی جائے اماں 
تو وہ کہیں تری مہماں سرا سے آگے ہے 
مغالطہ سا کوئی ہے لگا ہوا دل کو
مطالبہ کوئی تیری رضا سے آگے ہے 
وہ رنگ ابھی نہیں اُترے ہیں میری آنکھوں پر 
وہ رات ابھی مرے خوابِ خطا سے آگے ہے 
کچھ اپنے خاص محبت کے ضابطے ہیں‘ کہ یہ 
معاملہ ہی جزا و سزا سے آگے ہے 
کوئی بتائے کہ اب اس کو کیا کہا جائے 
کہ راہگیر جو ہے رہنما سے آگے ہے 
خوشی تو ہے نئے موسم کی آشیانوں میں 
خبر نہیں ہے کہ بجلی گھٹا سے آگے ہے 
ہم اُن کی بزم کا احوال کیا بتائیں، ظفرؔ 
جو اجنبی ہے وہاں آشنا سے آگے ہے 
آج کا مطلع 
ہوا کے ہاتھ پہ لکھا ہوا معاملہ ہے 
سو، یہ ہمارا تمہارا بھی کیا معاملہ ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved