تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     03-11-2014

کون فائدے میں رہا ؟

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے میڈیا کی طرف سے عمران خان بارے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں اپنے ارد گرد کھڑے ساتھیوں کے ہمراہ ایک زور دار قہقہے کی گونج کے ساتھ فرمایا کہ ''عمران خان دو نمبر آدمی ہے جو اپنے علا وہ کسی اور کو عزت دار نہیں سمجھتا۔ سب سے پہلے آپ عمران خان سے جا کر پوچھیں کہ وہ جنرل مشرف کے ہاتھوں کتنے میں بکاتھا؟‘‘ اپنے ایک کرم فرما وکیل کے گھر جس شاندار مرسیڈیز میں بیٹھ کر وہ تعزیت کیلئے آئے تھے‘ حیران کن طور پر اس پر کسی بھی قسم کی نمبر پلیٹ نصب نہیں تھی۔ میڈیا نے قانون کی اس سنگین خلاف ورزی پر ان سے جب سوال کیا تو وہ یہ کہہ کر چلتے بنے کہ یہ سوال مجھ سے نہیں سکیورٹی والوں سے پوچھا جائے‘ کیونکہ نمبر پلیٹ لگانا ان کا کام ہے میرا نہیں۔ چوہدری صاحب! اگر آپ کو اپنے لیے گارڈ آف آنر کا خیال آ سکتا ہے‘ تو وہ گاڑی جو آپ کے گھر کے گیراج میں کھڑی رہتی ہے‘ اسے بغیر نمبر پلیٹ دیکھتے اور اس میں اپنے اور خاندان کے افراد کے ساتھ کہیں بھی آتے جاتے ہوئے کیا آپ اپنے ڈرائیور یا سکیورٹی سٹاف کی جواب طلبی نہیں کر سکتے؟ 
افتخار چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ عمران خان بتائے کہ وہ جنرل مشرف کے ہاتھوں کتنے میں بکا ہے؟ عمران خان اور افتخار چوہدری چونکہ پبلک پراپرٹی ہیں‘ اس لیے دونوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ سچ سچ بتائیں جو انہوں نے اب تک کیا ہے۔ عمران خان نے جنرل مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کی۔ جبکہ افتخارچوہدری صاحب نے بلوچستان ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے جنرل مشرف کے پی سی او کے تحت حلف لیا۔ پھر بلوچستان ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ کے جج بنائے گئے۔ ظفر علی شاہ کیس میں بارہ اکتوبر1999ء کے فوجی اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے جنرل مشرف کو تین سال تک ملک کا فوجی اور سویلین چیف ایگزیکٹو رہنے کی قانونی سند عطا کرنے کے علا وہ یہ فیصلہ بھی دیا کہ جنرل مشرف آئین میں جس قسم کی بھی چاہیں‘ ترامیم کرنے مجازہوں گے‘ گویا جنرل مشرف کے ہاتھ میں فرد واحد کی حاکمیت کا ڈنڈا تھمادیا۔ جب قاضی حسین احمد اور لایئرزفورم کی جانب سے31 دسمبر2004ء کے بعد جنرل مشرف کے فوجی وردی میں رہنے کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن میں چوہدری صاحب نے فیصلہ دیا کہ وہ آرمی چیف اور ملک کے صدر کی حیثیت سے دونوں عہدے رکھنے کے مجاز ہیں تو یہ عجیب و غریب فیصلہ انہوں نے کیوں دیا؟ سپریم کورٹ PLD 2005 میں جنرل مشرف کے دو عہدوں کے خلاف دائر کردہ پٹیشن نمبر13,14,39,40/2004اورپٹیشن نمبر2/2005اورCPLA 927-l‘ کا 13 اپریل2005ء کو فیصلہ سناتے ہوئے جنرل مشرف کو ان دو عہدوں کی قانونی اور آئینی اجازت کیوں دی؟ ہمیں شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر برسانے سے پہلے دیکھ لینا چاہئے کہ کہیں اس سے بھی بڑا جرم ہم سے تو سر زد نہیں ہوا؟ اور وہ جرم جس کے ہم دوسروں کو طعنے دے رہے ہیں‘ کہیں اس کے محرک اور مصور ہم خود تو نہیں؟ اس ملک میں اس سے پیشتر بھی بہت سے افراد چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کا ریکارڈ اٹھا کر ایک نظر دیکھ لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ان میں سے کسی کو بھی جاہ و جلال کی تمنا نہیں تھی لیکن آپ کا دور تو یہی ثابت کرتا رہا کہ ملک میں چیف ایگزیکٹو آپ کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ اگر آپ جنرل مشرف کے بارہ اکتوبر کے اقدام کی اجازت نہ دیتے تو بقول آپ کے ساتھیوں اور ہمدردوں کے ملک کی یہ حالت کبھی نہ ہوتی؟ 
چودھری صاحب! کیا پاکستان میں کسی بھی چیف جسٹس نے اپنے ساتھ سرکاری پروٹوکول کو اس طرح استعمال کیا ؟ آپ کی خدمت میں بھارت کی مدراس ہائیکورٹ کے ایک سابق جسٹس کے چندرکا واقعہ پیش ہے۔ جب وہ اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہوئے تو اس وقت مدراس ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس آر کے اگروال کو لکھے جانے والے اپنے ایک خط کہا ''جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں8 مارچ2013ء کو ریٹائر ہو رہا ہوں۔ آپ سے میری درخواست ہے کہ میرے اعزاز میں ہونے والے الوداعی ریفرنس اور ساتھی ججوں‘ بار کے وکلاء اور ایڈوو کیٹ جنرل کے ساتھ دیئے جانے والے رات کے رسمی عشایئے کا کوئی انتظام نہ کیا جائے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ملک کے عوام کے ٹیکسوں اور دوسری لازمی ضروریات کا پیسہ ضائع ہو‘‘۔ جناب افتخار چوہدری صاحب آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مدراس ہائیکورٹ کے جج کے چندرنے اپنے اعزا ز میں ہونے والی تمام سرکاری تقریبات منسوخ کرا دیں۔ انہوں نے کہا کہ ''ہندوستان کی تاریخ میں 1929ء میں مدراس ہائیکورٹ سے ریٹائر ہونے والے انگریز جج جی ایچ جیکسن نے اپنے اعزاز میں منعقد کی جانے والی تمام خیر سگالی کی تقریبات میں شرکت سے معذوری ظاہر کی تھی‘ اس لیے آج میں بھی کہتا ہوں کہ میں نے اپنی عدلیہ کی سروس کے دوران جو کچھ بھی کیا‘ وہ میرے فرائض میں شامل تھا جس کا میں نے حلف اٹھاتے ہوئے اپنے بھگوان سے وعدہ کیا تھا۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کے بعد پر تعیش عشایئے اور شاندار الوداعی تقریبات کس لیے؟
جسٹس کے چندر نے 9 نومبر2011ء کو جب مدراس ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف لیا تو رسم حلف برداری کے بعد انہوں نے ایک مہر بند لفافہ اس وقت کے چیف جسٹس ایچ ایل گھوکھلے کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ جناب اس میں میرے اور میرے خاندان کے اس وقت تک کے تمام اثاثہ جات کی تفصیل درج ہے۔ اپنی ریٹائر منٹ سے دو دن پہلے اس نے اپنے موجودہ اثاثہ جات کی مکمل تفصیلات قائم مقام چیف جسٹس اگر وال کے حوالے کر دیں اور سات سال تک بحیثیت جج اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جسٹس چندر نے 96000 مقدمات کے فیصلے کیے اور ان کی عدالت کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ ہر ماہ اوسطاََ 1500 مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ اپنی دس گیارہ سالہ مدت ملازمت میں آپ نے کتنے مقدمات نمٹائے؟ اور کیا آپ نے بھی آتے ا ور جاتے ہوئے اپنے اثاثہ جات کی تفصیل دی تھی؟ 
جناب افتخار چوہدری صاحب! آپ کہتے ہیں کہ عمران سے پوچھو کہ میں نے مشرف کو کیسا جواب دیا تھا اور اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ حضور اگر آپ اپنے دائیں بائیں دیکھنے کی کوشش کرتے تو آپ کی بحالی اور عدلیہ کی سربلندی کیلئے عمران خان آپ سے بھی زیا دہ متحرک تھا اور جنرل مشرف کے ہاتھوں اس نے ڈیرہ غازی خان کی جیل کاٹی اور اس کے حصے میں یہی قیمت آئی‘ جبکہ آپ نے کیا حاصل کیا‘ یہ آپ بہتر بتا سکتے ہیں۔ آپ خود ہی بتا دیں‘ فائدے میں کون رہا؟ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved