تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     12-11-2014

طلوعِ آفتاب سے پہلے

سپین کی کہاوت یہ ہے: سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر پہلے کا ایک لمحہ سب سے زیادہ تاریک ہوتا ہے۔ 
"All executive and judicial authorities through out Pakistan shall act in aid of Supreme Court"۔ یہ دستور کی دفعہ 190 کے الفاظ ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس شق کا اطلاق ارسلان افتخار، ملک ریاض تنازعے پر کیا تھا، جب شعیب سڈل کمیشن تشکیل دیا گیا۔ نہ صرف سول بلکہ فوجداری اختیارات بھی انہیں سونپے گئے۔ توہینِ عدالت کا حق بھی۔ کہیں بھی وہ چھاپہ مار سکتے تھے اور عدم تعاون پر کسی بھی سرکاری افسر کو گرفتار۔ یاد ہے کہ جب ایف بی آر سے بعض دستاویزات کی نقول انہوں نے طلب کیں تو تامّل اور تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس کا سختی سے انہوں نے نوٹس لیا اور حکم دیاکہ ریکارڈ اگر کمپیوٹر میں موجود نہیں تو کاغذات کی فوٹو کاپیاں مہیا کی جائیں۔ نقول سے لدی سامان ڈھونے والی ایک گاڑی وفاقی ٹیکس محتسب کے دروازے پر آ کر رکی اور مطالعے کا آغاز ہوا۔ 
تیس دن کے بعد پیش کی گئی ابتدائی رپورٹ ملاحظہ کرنے کے بعد عدالت نے معاملے کو نمٹا دیا کہ یہ دو افراد کا ذاتی جھگڑا ہے۔ یہ دوسری بات ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ قومی اہمیت کے کسی معاملے کی تحقیق اگر معمول کے مطابق نہ ہو سکے تو عدالتِ عظمیٰ ایک یا ایک سے زیادہ ارکان پر مشتمل تحقیقاتی (Investigative) کمیشن مقرر کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ کیا انتخابی دھاندلی کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا نہیں جا سکتا کہ ملک عدمِ استحکام سے دوچار ہے۔ 
وہ سب کے سب عمران خان پہ کیوں پل پڑے کہ انہوں نے آئی ایس آئی اور ایم آئی کو کارِ تفتیش سونپنے کا مطالبہ کیا؟ 
دستِ سوال دراز کرنے کا ایک عادی تو مجھ ناچیز کی جان کو بھی اٹک گیا۔ ارے بھائی، میرا اب ان معاملات سے کیا تعلق؟ جائو، دربار میں جائو اور دریوزہ گری فرمائو۔ تحریکِ انصاف نے وضاحت کی کہ وہ ایجنسیوں کو کمیشن کا حصہ بنانے کی آرزومند نہیں۔ فقط تحقیق میں ان سے اعانت کی درخواست گزار ہے۔ پھر اس قدر شور و غوغا کیوں؟ فریقین اگر آمادہ ہو جائیں تو آئین کی یہ دفعہ کیوں بروئے کار نہیں آ سکتی؟ 
سرکار کا ردّعمل تعجب خیز نہیں۔ دھرنے کو کمزور پا کر انہیں یہی کرنا تھا۔ سوال یہ ہے کہ بارہ ہفتے قبل وزیرِ اعظم نے سپریم کورٹ سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کس لیے کی تھی؟ 
کہا جاتا ہے کہ عدالتی کمیشن ہمیشہ بے نتیجہ اور بے ثمر رہے۔ جسٹس باقر کمیشن تازہ ترین مثال ہے۔ بجا ارشاد مگر وہ ایک دوسرا قانون ہے۔ 1969ء کا ایک آر ڈی نینس۔ حکومت اس قانون کے تحت قائم ہونے والے کسی کمیشن کی سفارشات تسلیم کرنے کی پابند ہے اور نہ انہیںعام کرنے کی۔ دفعہ 190 کی بات بالکل دوسری ہے۔ فی الواقعہ اگر اتفاقِ رائے ہو سکے تو مشترکہ طور پر عدالت سے درخواست کرتے ہوئے، معاملے کو نمٹا دینے کی مدت کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔ 
ہر بحران میں مواقع چھپے ہوتے ہیں۔ 2013ء کی انتخابی دھاندلی کے خلاف برپا تحریک نے موقع فراہم کیا ہے کہ ملک کو اب ایک شفاف انتخابی نظام فراہم کر دیا جائے۔ یہ سوال اب غیر ضروری ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں۔ مسئلہ اگر موجود نہ تھا‘ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خاں نے یہ کیوں کہا کہ 4 کی بجائے 40 حلقے کھولنے پر وہ آمادہ ہیں۔ کیوں ارشاد کیا تھا کہ ہر حلقے میں 60 سے 70 ہزار ووٹ ایسے ہیں، جن کی شناخت ہی ممکن نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جتنے بھی انتخابی حلقے اب تک کھولے گئے، بڑے پیمانے پر خرابی ان میں پائی گئی۔ اربوں روپے کی مقناطیسی سیاہی کہاں گئی؟ اگر اس کے استعمال کا کوئی فائدہ ہی نہ تھا تو یہ پاپڑ کیوں بیلا گیا؟ پینتیس پنکچروں کے قصے کو الگ رکھیے۔ سب جانتے ہیں کہ کراچی میں الیکشن ہوئے ہی نہیں۔ دیہی سندھ میں بھی بڑے پیمانے کی دھاندلی ہوئی، جہاں نون لیگ اور تحریکِ انصاف نے میدان خالی چھوڑ دیا تھا۔ الیکشن قریب آئے تو پانچ سال حکومت کے مزے لوٹنے والی ایم کیو ایم اپوزیشن میں کیوں جا بیٹھی؟ 
عمران خان کی سادہ لوحی یہ ہے کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کا انہوں نے نام لے کر ذکر کیا۔ تحقیقاتی کمیشن اگر مقرر کر دیا جائے تو اپنی صوابدید کے مطابق وہ کسی بھی سرکاری ادارے اور شخصیت کو کوئی بھی ذمہ داری سونپ سکتا ہے۔ 
محسوس یہ ہوتا ہے کہ باقر رضوی کمیشن ہی ملحوظ نہ تھا۔ تحریکِ انصاف کی قیادت کو ملتان کی داستان معلوم تھی۔ شکست کے اندیشے سے خوف زدہ حکومت نے الیکشن ملتوی کرنے کا ارادہ کیا۔ سپیشل برانچ، سی آئی ڈی اور آئی بی سمیت سول اداروں کو ہموار کر لیا گیا۔ بالکل برعکس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) میں شامل ایم آئی اور آئی ایس آئی نے قرار دیا کہ ملتان شہر میں الیکشن کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں؛ چنانچہ الیکشن کمیشن نے سرکاری درخواست مسترد کر دی۔ جاوید ہاشمی آزردہ تھے۔ انہوں نے مجھ سے یہ کہا: التوا کی درخواست سے حکومت نے میری پوزیشن اور بھی خراب کر دی۔ بعض اخبار نویسوں کا خیال یہ ہے کہ شریف خاندان جاوید ہاشمی کی کامیابی کا آرزومند تھا ہی نہیں۔ ان کے اپنے امیدوار کیا کیا گل کھلاتے ہیں۔ جاوید ہاشمی کے باب میں کمال نجابت کا مظاہرہ ہوا۔ 
عمران خان مخمصے کا شکار ہیں۔ اس بھنور سے باہر نکلنے کے لیے وہ ہاتھ پائوں مار رہے ہیں، جو خود ان کی حماقتوں سے پیدا ہوا۔ دفعہ 190 کے اطلاق کا جو مطالبہ آج وہ کر رہے ہیں، روزِ اوّل وہی کرنا چاہیے تھا اور اسی پر وہ ڈٹے رہتے۔ وہ مگر اکسانے والوں کے فریب میں آ گئے۔ ایک لاکھ موٹر سائیکلوں سمیت دس لاکھ کا جمِ غفیر۔ وہ خواب جو دن کی روشنی میں دیکھے جاتے ہیں۔ آج کل ان کا ذہن کچھ اور بھی الجھا ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شاہ محمود، جسٹس وجیہ الدین، حامد علی خان اور اسد عمر سمیت، سبھی سے وہ ناراض ہیں۔ جسٹس وجیہ الدین نے چند شہروں کی بجائے ملک بھر میں پارٹی کا الیکشن از سرِ نو کرانے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ حامد علی خاں کبھی قابلِ بھروسہ تھے ہی نہیں۔ پارٹی نہیں، وہ اپنی غرض کے آدمی ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عمران خان کی طرف سے جوابی نوٹس بھیجتے ہوئے ایسا موقف انہوں نے اختیار کیا، جو کپتان کے سان گمان میں بھی نہ تھا... اور جسے واپس لینا پڑا۔ شاہ محمود واقعی خطرناک ہیں ۔ اسد عمر والی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ کیا اس لیے کہ نجکاری میں نواز شریف کے نفسِ ناطقہ زبیر عمر اور نیشنل بینک کے صدر کمال عمران کے سگے بھائی ہیں؟ باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ آخرالذکر حمزہ شہباز کا انتخاب ہیں اور انہی کو جواب دہ۔ ایک بادشاہ ہی نہیں، شہزادگان بھی ہیں۔ خاندانِ تیموری سے وہ بڑھ کر ہیں۔ 
تعجب اس پر بھی بہت ہے کہ انتخابی اصلاحات پر زور دینے کی بجائے، تحریکِ انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر مشاورت کو اتنی اہمیت کیوں دی؟ الیکشن کمیشن متنازعہ ہے اور اس کے ارکان کو گھر جانا چاہیے۔ افسر نہیں، وہ جج ہیں اوراس قدر متنازعہ جج کبھی قابل قبول نہیں ہوتے۔ کچھ اور نہیں تو باقی ماندہ تنخواہیں ادا کرکے نہایت احترام سے انہیں رخصت کر دیا جائے۔ جمہوریت خوب لیکن ہر وہ رحمت زحمت بن جایا کرتی ہے، دل کی گہرائیوں سے جسے قبول نہ کیا جائے۔ 
دھرنوں کے سوکھ جانے پر جشن منانے میں حکومت کو تعجیل سے کام نہ لینا چاہیے۔ رحیم یار خان کے جلسے میں ہجوم ناقابلِ یقین تھا۔ کوئی بڑا ہنگامہ کسی وقت بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے پہاڑ ایسی غلطیاں کی ہیں مگر پوری قوم کو سزا کیوں دی جائے؟ 
سپین کی کہاوت یہ ہے: سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر پہلے کا ایک لمحہ سب سے زیادہ تاریک ہوتا ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved