تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     26-11-2014

سرخیاں‘ متن اور اظہارِ تعزیت

انتخابات تک کئی کامیابیاں سمیٹ
چکے ہوں گے... نوازشریف 
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''انتخابات تک کئی کامیابیاں سمیٹ چکے ہوں گے‘‘ کیونکہ سمیٹنے کا ہمیں ماشاء اللہ کافی تجربہ حاصل ہے‘ اس لیے کامیابیاں سمیٹنے کا کاروبار بھی انتخابات تک کافی چل چکا ہوگا ،اگرچہ سیٹ اپ کو سمیٹنے کی تیاریاں بھی اندر خانے جاری ہیں اور جس کا جواز غالباً ہم خود ہی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''مارچ سے پہلے بجلی سستی کی جائے‘‘ پیشتر اس کے کہ ایک اور لانگ مارچ شروع ہو جائے‘ اگرچہ بجلی کے مزید مہنگی ہونے کے خدشات زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''عوام کام کرنے اور نہ کرنے والوں کو پہچان چکے ہیں‘‘ کیونکہ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں کہ نہ صرف دور سے نظر آ جاتے ہیںبلکہ دور دور یعنی بیرونی ممالک میں بھی اس کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''پنجاب حکومت علاج معالجے کی سہولیات مزید بہتر کرے‘‘ کیونکہ موجودہ حالات میں تو کسی کا بیمار ہونے کو جی ہی نہیں چاہتا،البتہ ہاضمہ وغیرہ خراب رہنے کی اور بات ہے؛ چنانچہ کھانا کھاتے وقت یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ زندگی کا آخری کھانا نہیں ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میاں شہبازشریف سے ملاقات کر رہے تھے۔ 
اسلامی ممالک کا متحد ہونا نہایت 
ضروری ہے... شہبازشریف 
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ''اسلامی ممالک کا متحد ہونا نہایت ضروری ہے‘‘ اور جس طرح ہمارا پورا خاندان متحد ہے اور حکومت کا سارا بوجھ مل جل کر اٹھایا ہوا ہے‘ اسلامی ممالک کم از کم اس سے ہی سبق حاصل کر سکتے ہیں‘ حتیٰ کہ بھائی صاحب کی طرف سے مختلف محکموں اور کارپوریشنوں کی کلیدی اسامیاں جو خالی رکھی ہوئی ہیں تو صرف اس لیے کہ اگر خاندان کے کسی فرد کے بارے میں پتہ چلے کہ وہ کسی ذمے داری سے محروم ہے تو اسے وہاں اکاموڈیٹ کیا جا سکے تاکہ اتحاد کی یہ روایت مکمل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ''بیانات نہیں‘ عملی اقدامات کرنا ہوں گے‘‘ کیونکہ دل خوش کُن بیانات کا سارا کام ہم نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جبکہ عملی اقدامات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں جن کی برکت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ''جماعت اسلامی کا اجتماع ڈسپلن کا شاندار مظاہرہ ہے‘‘ جبکہ ہمارے ہاں اس کی بے حد کمی ہے جو اسی ایک مثال سے ظاہر ہے کہ گوجرانوالہ میں اگلے روز جس عزیز نے 'رو عمران رو‘ لکھ لکھ کر جو انڈے جمع کر رکھے تھے‘ وہ ان کے استعمال سے پہلے ہی پکڑا گیا اور انڈوں کا نقصان الگ ہوا جو پولیس ساتھ لے گئی۔ آپ اگلے روز لاہور میں عالمی سکالروں سے خطاب کر رہے تھے۔ 
کالاباغ ڈیم اور پاکستان ساتھ 
نہیں چل سکتے... اسفند یار ولی 
اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ ''کالاباغ ڈیم اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے‘‘ بلکہ خود ہمارا بھی پاکستان کے ساتھ چلنا مشکل تھا جیسا کہ دادا جان نے تقسیم ملک کے وقت ہونے والے ریفرنڈم میں قیام پاکستان کی بھرپور مخالفت کی تھی لیکن طوعاً و کرہاً بالآخر ہمیں اس کے ساتھ چلنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ''پرویزالٰہی بتائیں‘ کیا ہم اپنے بچے ڈوبنے دیں؟‘‘ اگرچہ اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے لیکن آخر کہنے میں کیا ہرج ہے‘ مزید یہ کہ جنہوں نے چھوٹے صوبوں کا منہ بند کر رکھا ہے‘ اگر یہ ڈیم بن گیا تو ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ''اگر تعمیر کی کوشش کی گئی تو ہم سڑکوں پر آ جائیں گے‘‘ جس کے لیے صوبائی حکومتوں سے درخواست ہے کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مناسب مرمت کرا دے تاکہ ان سڑکوں پر آ کر بدمزہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ''عمران خان صرف اپنے آپ کو ایماندار سمجھتے ہیں‘‘ اگرچہ کافی حد تک ٹھیک ہی سمجھتے ہیں۔ آپ اگلے روز چارسدہ میں ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ 
لاڑکانہ جلسے سے سندھ کی سیاست پر 
فرق نہیں پڑے گا... منظور احمد خاں وٹو 
پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد خاں وٹو نے کہا ہے کہ ''لاڑکانہ جلسے سے سندھ کی سیاست پر کوئی فرق نہیں پڑے گا‘‘ کیونکہ جو فرق پڑنا تھا وہ پنجاب کی حد تک ہی اتنا پڑ چکا ہے کہ مزید کسی جگہ پڑنے کی گنجائش ہی نہیں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی نشانی اب میں ہی رہ گیا ہوں‘ خدا نظر بد سے محفوظ رکھے‘ آمین۔ انہوں نے کہا کہ ''سونامی کی مقبولیت 30 نومبر کے بعد کم ہو جائے گی‘‘ جبکہ ہماری نامقبولیت میں ماشاء اللہ مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ''عمران خان کا سیاسی قد کاٹھ بھی کم ہونا شروع ہو جائے گا‘‘ اس لیے انہیں مشورہ ہے کہ ہماری طرح ابھی سے ہائی ہیل جوتے پہننا شروع کردیں کیونکہ ہم بھی یہی نسخۂ کیمیا آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''انتخابی مہم غیر معینہ عرصے تک جاری رکھنا ممکن نہیں‘‘ جیسا کہ ہم اپنی طرف دیکھتے ہیں تو ہر چیز غیر ممکن ہی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں‘‘ ویسے تو ہمیں الیکشن سے پہلے پنجاب کے عوام نے بھی یہی کہا تھا‘ اس لیے ثابت ہوتا ہے کہ عوام کی باتوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ آپ اگلے روز لاہور سے معمول کا بیان جاری کر رہے تھے۔ 
جلد سیاست میں آ رہا ہوں‘ کارکن اور 
ہمدرد تیار ہو جائیں... پرویز مشرف 
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ''جلد سیاست میں آ رہا ہوں‘‘ کارکن اور ہمدرد تیار ہو جائیں‘‘ اگرچہ وہ ساری کی ساری خاموش اکثریت جس کے ساتھ ہونے کا میں دعویٰ کیا کرتا تھا‘ عمران خان کے ساتھ جا ملی ہے‘ اور ہمدردوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا؛ تاہم انہوں نے جدھر بھی جانا ہو‘ تیار ہو جائیں کیونکہ اگر اتنے مقدمات میں سے ایک کا فیصلہ بھی خلاف آ گیا تو سیاست میں آنے کی بجائے کہیں اور ہی جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''عوام کو میری ضرورت ہے‘‘ اور عوام کو ہو نہ ہو مجھے عوام کی سخت ضرورت ہے،چاہے وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بچے کھچے ہوئے عوام ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ اصلی ہوں یا نقلی‘ عوام تو عوام ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستان کے حالات انتہائی خراب ہیں‘‘ اور میرا خیال ہے کہ انہیں مزید خراب کرنے کی ضرورت ہے‘ اور اکیلی حکومت یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتی‘ اس لیے اس نیک کام میں میری مساعیٔ جمیلہ بھی شامل ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ''ملک کی باگ ڈور درست قیادت کے حوالے نہ کی گئی تو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ اور خدشہ ہے‘‘ جبکہ میں نے حالیہ فراغت کے زمانے میں بہت عمدہ باگیں اور اعلیٰ درجے کی ڈور تیار کروالی ہے۔ بس زین اور رکابوں کی ضرورت ہے جن کی تیاری کا آرڈر دے رکھا ہے۔ آپ اگلے روز کراچی میں پارٹی کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ 
احمد عقیل روبی بھی ساتھ چھوڑ گئے 
اس ہمہ جہت شاعر‘ ادیب اور مترجم کی وفات پر ان کے پس ماندگان کے علاوہ خود ادیب برادری کے ساتھ بھی تعزیت واجب ہے جن کے درمیان سے وہ خاموشی سے اُٹھ گئے۔ گہرے دکھ اور احساسِ محرومی کے ساتھ ان کے لیے دعائے مغفرت! 
آج کا مطلع 
کہیں اپنے لیے محفوظ اشارہ کوئی ہے 
زیر غور اُس کے ابھی کام ہمارا کوئی ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved