تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     21-12-2014

میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا

حیران ہوںکہ اظہار حیرت کس پر کروں؟لال مسجد کے امام مولوی عبدالعزیز پر؟ یا ارباب اقتدار پر؟ مولوی عبدالعزیز صاحب سی ڈی اے کی سرکاری مسجد میں امامت کرتے ہیں۔ تنخواہ بھی ضرور لیتے ہوں گے۔ لیکن وہ پاکستان کے 150 بچوں کو بے رحمی سے شہید کرنے والوں کے بے رحمانہ بلکہ قاتلانہ فعل کی مذمت کرنے کو تیار نہیں۔ سول سوسائٹی کے لوگ اس مولوی کی برطرفی کے لئے مظاہرے کرتے ہیں تو انہیں پولیس اٹھا کے لے جاتی ہے۔ دوسری طرف حکومت ہے‘ اس کی طرف سے اعلانات تو یہ سامنے آتے ہیں کہ اب اس نے ہر قسم کے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی ٹھان لی ہے‘ لیکن مولوی عبدالعزیز اسلام آباد کی مرکزی مسجدمیں بیٹھ کر قوم کے معصوم بچوں کو شہید کرنے والے شقی القلب درندوں کے مجرمانہ فعل کی مذمت کرنے کو تیار نہیں۔ مولوی صاحب پر اس لئے حیرت ہے کہ وہ تنخواہ حکومت پاکستان سے لے رہے ہیں اور پاکستانی فوجیوں کے فرزندوں کو شہید کرنے والوں کے مذموم عمل کو برا نہیں کہنا چاہتے اور ان کا ضمیر یہ بھی برداشت کر رہا ہے کہ جس قوم کے خزانے سے‘ وہ اپنے اخراجات چلا رہا ہے‘ اس کے فرزندوں کی شہادت پر چپ رہ کر‘ وہ قاتلوں کی درپردہ حمایت بھی کر رہا ہے۔ مجھے دونوں پر حیرت ہے۔ پاکستانی حکومت پر اس لئے کہ وہ دہشت گردی کی برملا اور دیدہ دلیری سے حمایت کرنے والے مولوی کو پاکستانی عوام کے خرچ پر ہی پال رہی ہے اور مولوی صاحب پر اس لئے کہ جس کا کھا رہے ہیں‘ اسی کے بچوں کے قاتلوں کی مذمت نہیں کر رہے؟ میں اسے نمک حلالی تو کہہ نہیں سکتا۔ حکومت پر حیرانی اس بات کی بھی ہے کہ ضرب عضب کے بعد‘ دہشت گردوں نے پاک فوج کو اپنا نمبر ایک دشمن قرار دے کر انتقام لینے کے اعلانات کر رکھے تھے‘ لیکن آرمی پبلک سکول جو حساس علاقے میں واقع ہے اور جہاں فوجیوں کے بچے پڑھ رہے تھے‘ وہاں دہشت گرد‘ اتنی آسانی سے داخل کیسے ہو گئے؟ وہ اپنے ساتھ اتنا اسلحہ اور خوراک کیسے لے آئے؟ جو ایک ہفتے سے زیادہ دنوں کے لئے ان کے لئے کافی تھی اور اسلحہ سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کو‘ اتنے ہی دنوں تک وافر تھا۔یہ دہشت گرد‘ سکول تک پہنچنے سے پہلے‘ 8 بارڈر چیک پوسٹوں سے گزر کے آئے تھے۔ انہوں نے اپنی کمیونیکیشن لائن قائم کر لی تھی۔ وہ اپنے کمانڈروں کو باقاعدہ اپنی کارروائی بتا کر‘ ان سے ہدایات لے رہے تھے اور اپنی شناخت چھپانے کے لئے پیراملٹری فورسز کی وردیاں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو چکے تھے۔ کیا میں یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ جس ملک کی فوج‘ دنیا کے خطرناک ترین دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر رہی ہو‘ انہیں موت کے گھاٹ اتار رہی ہو اور میدان جنگ سے چند میل کے فاصلے پر‘ اس کے بچے اتنے غیرمحفوظ ہوں؟ ہم جنگ لڑ رہے ہیں یا ڈرامہ کر رہے ہیں؟ اور ڈرامہ بھی ایسا المناک کہ جس نے دنیا بھر کے اہل دل کو خون کے آنسو رلا دیئے ہوں‘ بھارت جیسے ملک کی پارلیمنٹ نے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی ہو‘ وزیراعظم مودی نے سخت ترین الفاظ میں دہشت گردوں کی مذمت کی ہو۔ انہوںنے اپنے پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں بھی طلبا و طالبات کواظہارغم کے لئے منہ پر کالی پٹیاں باندھ کر خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہو اور اس پر عمل بھی کیا گیا ہو۔ ایسا سانحہ عظیم ‘ جس پر مسجدنبویؐ اور خانہ کعبہ میں دعائیں کی گئی ہوں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پاکستان کی امیدوں کے چراغ بجھانے والوں کو چھ سات گھنٹے تک‘ شہر کے حساس ترین حصے میں بچوں کو نشانے لگا لگا کر گولیاں مارنے کی مہلت دستیاب ہو اور اس طرح کہ وہ ایک ایک بچے سے پہلے پوچھتے کہ تم فوجی کے بیٹے ہو؟ اور پھر اس کے سر میں گولیاں مارتے رہے ہوں۔یہ سب کچھ کیا ہے؟ میری تو سمجھ میں نہیں آ رہا۔ 
ہمارے ملک میںدہشت گردپیدا کہاں سے ہو گئے؟ عوام کے تو یہ روزاول سے دشمن ہیں۔ پھر یہ لاڈلے کس کے ہیں؟ ہمارے شہروں اور قصبوں میں انہیں آزادانہ آنے جانے کی سہولتیں کس نے دے رکھی ہیں؟ انہیں حمایت کس کس کی حاصل ہے؟ ان کی سرپرستی کون کون کرتا ہے؟ وہ کون سے مذہبی لیڈر ہیں جو دہشت گردوں کے کمانڈر کی ہلاکت کو شہادت قرار دیتے ہیں اور پاک فوج کے جنرل کی قربانی کو بھی شہادت تسلیم نہیں کرتے؟ اور ایک صاحب تو ایسے بھی ہیں‘ جن کی پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ ہے اور وہ خود بھی پاکستان کے سرکاری خزانے سے تنخواہ وصول کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ کتے کو شہید کہہ سکتے ہیں لیکن... 
مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستانی عوام تو انتہائی مہذب اور دردِ دل رکھنے والے شہری تھے۔ ہر بے گناہ انسان کے قتل کو گھنائونا جرم سمجھتے تھے۔ جبکہ ممبئی میں154 بے گناہ انسان جن میں عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے سب شامل تھے‘ ان بے گناہوں کی موت پر پاکستان میں کسی نے اظہار غم نہیں کیا اور بعض تو اس پر خوشیاں منا رہے تھے۔ ہمارے بزرگ وہ تھے‘ جن کا اصول تھا کہ ''دشمن مرے تے خوشی نہ کریے‘ سجناں وی مر جانا۔‘‘ ہم تو ایسے لوگ تھے۔ ہمیں ایسا کس نے بنا دیا؟ پاکستان یقینا مسلمانوں کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس وقت تمام مذہبی سیاستدانوں نے بلاامتیاز اس کی مخالفت کی اور پراپیگنڈہ کیا کہ یہ اسلام کے لئے نہیں بنایا جا رہا۔ ان سارے لوگوں کی مسلمانوں کے دلوں میں کوئی عزت نہیں تھی‘ لیکن پاکستان بننے کے بعد یہی لوگ بڑھ چڑھ کر نعرے لگانے
لگے کہ پاکستان اسلام کے لئے بنایا گیا ہے اور پھر قائد اعظمؒ کی دشمنی میں پاکستان کی مخالفت کرنے والے یہی مذہبی سیاستدان بڑھ چڑھ کے ہمیں بتانے لگے کہ پاکستان کس لئے بنایا گیا ہے؟ وہ یہ بھی بتانے لگے کہ پاکستان تو اسلام کے لئے حاصل کیا گیا تھا۔ مجھے اس وقت بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ توقائد اعظمؒ کے پاکستان کو نہیں مانتے تھے۔ قائد اعظمؒ کو نہیں مانتے تھے۔ اب کہتے ہیں پاکستان اسلام کے لئے بنا تھا اور قائداعظمؒ کا نیا پاکستان ہم بنائیں گے۔مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آئی کہ جن لوگوں نے قائد اعظمؒ کے بنائے ہوئے پاکستان پر حکومتیں کیں‘ ان لوگوں نے قائد اعظمؒ کی کردار کشی اور پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کی سرپرستیاں کیوں کیں؟ انہیں یہ موقع کیوں دیا کہ وہ قائد اعظمؒ کے بنائے ہوئے پاکستان کو اپنے تصورات کے مطابق ڈھالیں؟ امریکہ میںتین ہزار افراد کو ہلاک کیا جاتا ہے تو وہاں کی حکومت انتقام لینے کے لئے کئی ملکوں پر چڑھ دوڑی اور اپنے ملک کے اندر اس نے دہشت گردی کا ذکر کرنے والوں کو بھی گرفتار کر لیا اور دوبارہ کسی دہشت گرد کو واردات کا موقع نہیں دیا اور ہم ہیں کہ اپنے فوجیوں اور دیگر اہل وطن کی مسلسل شہادتوں کے بعد‘ جن چند قاتلوں کو پکڑکے سزائے موت سنا دیتے ہیں‘ انہیں آٹھ نو سال تک پھانسی نہیں دیتے اورجنرل راحیل شریف کے کہنے پرکہ ''دشمن نے ہمارے سینے پر وار کیا ہے‘‘ کئی مشاورتی اجلاسوں کے بعد‘ ان دہشت گردوں کا انتخاب کرتے ہیں‘ جنہیں پھانسی دی جاناچاہیے۔ پھانسیوں کا وقت بھی مقرر کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے دو کو پھانسیاں دے بھی دی جاتی ہیں۔ باقی جو پھانسیاں صبح سے پہلے دینے کی تیاریاں تھیں‘ اب نصف سے زیادہ دن گزر جانے کے باوجود ابھی تک نہیں دی گئیں۔ یہ ہمارا عزم صمیم ہے؟ اگر یہی ہے ‘تو میری سمجھ میں نہیں آتا۔ ہم مانیں یا نہ مانیں‘ دہشت گرد یہی کہیں گے کہ ہم نے حکمرانوں کو ڈرا دیا۔ ان کا یہ دعویٰ غلط بھی نہیں ہو گا۔ بھارتی میڈیا نے تو بتا دیا ہے کہ دہشت گردوں نے حکمرانوں کو دھمکی دی ہے کہ ''اگر ہمارے ساتھیوں کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ جاری رہا‘ تو ہم تمہارے بچوں کو بھی مار دیں گے۔‘‘ رحیم اللہ یوسف زئی نے ایک بھارتی ٹی وی چینل پر بات چیت کرتے ہوئے اس خط کی تصدیق کی۔ کیا دنیا میںایسا بھی کوئی ملک ہے؟ جس کی حکومت نے پوری قوم کے مشترکہ مجرموں کو پھانسی دینے کا اعلان کیا ہو اور اس پر عملدرآمدکرتے وقت پیچھے ہٹ گئی ہو؟ مجھے تو اپنے ملک اور اپنی حکومت کے سوا کوئی ایسا ملک اور ایسی حکومت یاد نہیں آ رہی۔ہمارے حکمران دشمنی پیدا کرنے میں دیر نہیںلگاتے۔ ایک ٹیلی فون سن کر افغانستان پہ چڑھ دوڑتے ہیں اور دشمنی کئی کئی عشرے قائم رکھتے ہیں۔اب نہ تو یہ قائداعظمؒ کا پاکستان ہے اور نہ مسلمانوں کا۔ اب یہ قائداعظمؒ اور پاکستان کے دشمنوں کا بنایا ہوا پاکستان ہے۔ ان کے اسلام کا پاکستان ہے اور ان کے اسلام میں ہمارے فوجیوں کے معصوم بچوں کو خون میں نہلانا جائز ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved