تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     02-01-2015

رسول کریم ؐ کی شہدا کے بچوں سے محبت!

حضرت بشر بن عقربہؓ غزوئہ احد کے موقع پر بچے تھے۔ ان کے والد گرامی حضرت عقربہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ حضرت بشرؓ اپنا واقعہ سناتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ جنگ کے بعد وہ رو رہے تھے اور حضور نبی کریمﷺ پاس سے گزر رہے تھے۔ آپﷺ نے مجھے روتے دیکھا تو پیار سے پوچھا، میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے؟ میں نے عرض کی، ابا جی شہید ہو گئے۔ اس پر حضورﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنے ساتھ چمٹا لیا، میرے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے، اپنے ساتھ مجھے سوار کر لیا اور فرمانے لگے، بیٹا! خوش ہو جائو، میں تمہارا باپ ہوں اور عائشہ تمہاری امی جان ہیں۔ (تاریخ بخاری و سلسلہ صحیحہ البانی)
قارئین کرام! حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ شہید کا بچہ اپنے گھر کے دروازے پر مدینہ کی گلی میں رو رہا تھا، حضورﷺ سواری پر سوار تھے۔ بچے کو روتے دیکھا تو سواری سے نیچے اترے، بچے کو سوار کیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔یہ ہے رویہ مدینے کی ریاست کے حکمران کا اپنے شہید شہری کے بچے کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کو بچے کا محافظ بنایا ہے، ماں باپ جب اپنے بچے کو سکول میں چھوڑ دیتے ہیں تو ان کے ماں باپ سکول کے سربراہ اور اساتذہ ہوتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے جو بچے تھے، آرمی کے حوالے سے ان کے باپ جنرل راحیل ہیں تو ان کی ماں جنرل راحیل شریف صاحب کی اہلیہ محترمہ ہیں۔ میاں نوازشریف صاحب چونکہ ملک کے سربراہ ہیں، اس حوالے سے وہ پاکستان کے ہر سکول کے بچے کے والد ہیں اور ان کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز ہر بچے کی ماں ہیں۔ جنرل راحیل شریف اور ان کی اہلیہ محترمہ نے حق ادا کیا۔ زخمی بچوں کی عیادت کی اور جنرل صاحب تو اسی دن فوراً کابل پہنچے اور پھر دہشت گردی کے خلاف ہوائی جہاز میں محوپرواز تھے تو توپیں اور بندوقیں بھی اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔ ساتھ جیلوں کے پھندے گردنوں میں کسے جانے لگے۔ یہ سارا عمل جاری ہے اور جاری رہے گا... 
مجرم،جو انتہائوں کو پار کر جانے والے سفاک تھے، کس قدر بزدل تھے، کمزور دل تھے، اپنے آپ کو مسلمان اور مجاہد کہلوا کر اسلام اور جہاد کو بدنام کرتے تھے، معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو مسجدوں اور مارکیٹوں میں مارتے تھے مگر جب پھانسی گھاٹ کو دیکھا تو کانپتے تھے، ٹانگیں بوجھ نہ اٹھاتی تھیں، جیل کے افسروں سے معافیاں مانگتے تھے۔
ہاں ہاں! ان رونے والے بے رحم قاتل درندوں سے تو ابوجہل بہترتھا۔ وہ بدر میں لڑنے آیا تھا اور جب زخموںسے چور پڑا تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کی چھاتی پر پائوں رکھا تھا تو اس نے کہا تھا، چرواہے کے بیٹے! بڑی مشکل جگہ پر چڑھ گیا ہے، اچھا! گردن کاٹنے لگا ہے تو ذرا نیچے سے کاٹنا تاکہ پتہ چلے سردار کی گردن ہے۔ لوگو! یہ فرق اس لئے ہے کہ ابوجہل بچے نہیں مارتا تھا۔ میدان میں لڑا تھا۔ ہمارے دشمن ایسے کمینے اوربزدل ہیں کہ بچے اور عورتیں مارتے ہیں، بے گناہ لوگ مارتے ہیں، اٹھا کر لے جاتے ہیں اور بھتہ مانگتے ہیں اور جب اپنی باری آتی ہے تو ابوجہل جیسا کردار بھی ادا نہیں کر پاتے۔ سوچتا ہوں دلیری میں تو یہ ابوجہل کے قریب بھی نہیں، ہاں کمینگی میں کروڑوں ابوجہلوں سے بڑھ کر ابوجہل ہیں۔ جب کلمہ پڑھنے والا اپنے کلمہ پڑھنے والوں کو کافر کہہ کر مارتا ہے تو میرا مطالعہ اور مشاہدہ یہی کہتا ہے کہ پھر وہ ایسا ہی ابوجہل بنتا ہے۔
قرآن کی ایک سورت ہے، اس کا نام ''نور‘‘ ہے۔ نور کے معنی روشنی کے ہیں، اس روشنی کی پہلی کرن، پہلی آیت ہی معاشرے کو یوں روشنی دیتی ہے کہ ''ثابت شدہ مجرموں کو سزا ملے تو اے مومنو! اگر تم اللہ اور مرنے کے بعد جی اٹھنے کے عقیدہ پر قائم ہو تو ان مجرموں کو سزا دیتے ہوئے تمہارے دل میں نرمی نہیں آنی چاہئے کیونکہ اللہ کے قانونی نظام پر عمل ہو رہا ہے۔ اور یاد رکھو! سزا دیتے وقت مومنوں کا ایک گروہ وہاں موجود ہونا چاہئے‘‘۔
پاکستان میں قانونی نظام تو ختم ہو چکا، جب مجرم دہشت گردی بھی کرتے، جج ان کے خلاف فیصلے سناتے تو وہ ججوں کو قتل کرتے، جیلوں میں جاتے تو جیلوں کو توڑتے اور جب جیلوں میں ہوتے تو دھمکیاں دے کر جیلوں میں سہولتیں بھی حاصل کرتے اور قتل کا کاروبار بھی اپنے بیرونی کارندوں سے جاری رکھتے... مزید سہولت یہ مل گئی کہ سابق صدر آصف زرداری صاحب نے یورپی یونین کے چند تجارتی ٹکوں کی خاطر موت کی سزا ملتوی کر دی۔ میاں نوازشریف نے بھی اسی پالیسی کو جاری رکھا... جی ہاں! سٹیٹ کا یہ تعاون ملنے پر دہشت گرد اور قاتل اور تیز ہو گئے۔ حکمران تو سکیورٹی کے حصار میں تھے۔ عوام اور ان کے بچے مارے گئے اور مارے جا رہے ہیں۔ یہ سب اندھیرا تھا۔ یہ اندھیرا ابھی جاری ہے۔ سورہ نور کی پوری روشنی ہمیں میسر نہیں ہو رہی۔ جن دہشت گردوں کو سزا دی جا رہی ہے۔ انہیں سرعام نہیں دی جا رہی۔ یہی اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے میں رہنے سے جرائم پوری طرح نہیں رکیں گے۔ پوری طرح روشنی میں آنے سے رکیں گے۔ جہاں تک ساڑھے چھ ہزار قاتلوں کا تعلق ہے، ان کے پھانسی گھاٹ تک پہنچنے کا منظر ابھی پوری طرح اندھیرے میں ہے۔
جن قاتلوں کو سپریم کورٹ تک کئی کئی سال لگ کر موت کی سزا ملی، ان کی سزا کو ٹالنا بھی قانون شکنی ہے۔ مقتولوں کے ورثاء میں سے ہر ایک وارث جو دس سے بیس لاکھ خرچ کر کے سپریم کورٹ سے سزا دلوانے میں کامیاب ہوا، اس کے ساتھ ظلم ہے، عدالتی نظام پر عدم اعتماد ہے۔ ہزاروں قاتلوں کو جیل میں رکھنے کا اربوں روپے کا خرچہ عوام کے پیسے سے کیا جا رہا ہے۔ یہ سب غیرقانونی ہے۔ 
آج سے پانچ سال قبل وزیر داخلہ پنجاب رانا ثناء اللہ نے پنجاب اسمبلی میں علماء اور انتظامیہ کی مجلس میں مجھ سے پوچھا، حمزہ صاحب! دہشت گردی کیسے رکے گی۔ میں نے کہا، دہشت گردوں کو سرعام سزائیں دینے سے۔ مجید نظامی مرحوم کے گھر میں شہباز شریف صاحب سے بھی میں نے یہی بات کہی۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع کو بھی میں نے یہی بات سمجھائی۔ پشاور حادثہ سے دو دن پہلے ملک پور میں حاجی اللہ رکھا سابق ایم پی اے کے والد کی وفات پر تعزیتی مجلس میں وفاقی وزیر پیداوار رانا تنویر حسین کو بھی میں نے یہی بات سمجھائی سب ہاں کرتے ہیں مگر عمل کوئی نہیں۔ میاں نواز شریف صاحب یہ کام کریں۔ قاتلوں کے ہاتھوں سے جو یتیم بچے گلیوں میں رو رہے ہیں، ان کے سروں پر میاں نوازشریف اور کلثوم نوازشریف باپ اور ماں بن کر یوں ہاتھ رکھیں کہ قاتل اپنے انجام کو پہنچیں۔ اگر اب بھی یہ سویرا ہماری آنکھیں نہ دیکھیں تو یقین جانیے پھر ہمارے حکمران ہمیں روشنی نہیں دے سکتے، نور نہیں دے سکتے، چراغ ہمارے ہاتھوں پر نہیں رکھ سکتے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved