تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     07-01-2015

کس کی بات کا ہو یقین؟

کچھ واقعات گزر چکے ہیں لیکن ان کی چاشنی اور جذبات میں شدت پیدا کرنے والی حدت ابھی تک بر قرار ہے ۔لاہور میں عمران خان کی بارہ ستمبر کی ہڑتال کی اپیل کے اگلے دن تمام قومی اخبارات کے صفحہ اول پر چار بیانات عوام کو بے یقینی کی دھول چٹا رہے تھے۔لیڈ سٹوری جناب وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیانات کی شکل میں تھی۔ ان کا فرمانا تھا کہ لاہوریوں نے عمران خان کی اپیل کو بری طرح رد کرتے ہوئے دن بھر شہر کھلا رکھا جس پر میں ان تاجروں اور دکانداروں کا شکریہ ادا کرنے کیلئے خود ان کی مارکیٹوں میں جائوں گا( سنا ہے کہ یہ بیان پڑھنے کے بعد ان کی حامی تاجر تنظیمیں تھر تھر کانپنا شروع ہو گئیں)۔ ان کے بیان کے دائیں جانب کچھ نیچے ہمارے وزیر قانون اور اطلاعات ونشریات جناب پرویز رشید صاحب کا فرمان تھا کہ ''طاقت اور زور زبردستی سے عمران خان لاہور بند کرنے کے بعد سمجھ رہے ہیں کہ ان کی ہڑتال کامیاب ہو گئی ہے‘‘۔ ان کے بعد وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، جن کے دائیں ہاتھ زعیم قادری بیٹھے ہوئے تھے ،اپنی پریس کانفرنس میں گرجتے برستے تحریک انصاف کی '' ہڑتال‘‘ کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ''عمران خان کو اگر شرم آتی ہو تو وہ اپنی اس ہڑتال کا انجام دیکھنے کے بعد دوبارہ سیاست کا نام ہی نہ لیں‘‘؟۔ جبکہ رانا ثنا اﷲ کہہ رہے تھے کہ عمران خان کی لاہور میں ہڑتال کی اپیل کا وہی انجام ہوا ہے جو فیصل آباد میں ہوا تھا۔
رنگ بدلناایک محاورہ ہے جو کسی کے تبدیل ہونے یا بدل جانے کے معنوں میں استعمال ہو تا ہے لیکن اگر رنگ جسمانی طور پر بدلے تو اسے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا کہا جاتا ہے۔ ایک حد تک جسمانی طور پر رنگ بدلنا یا بظاہر رنگ بدلنے کو شرمندہ ہونے کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔اکثر سننے میں آتا ہے کہ اس کا ایک رنگ آتا تھا اورایک رنگ جاتا تھا ۔رنگ کا اڑ جا نا یا فق ہونا بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔اب اگر یہ کہا جائے کہ لاہور اور کراچی کی کامیاب اور بھر پور ہڑتال اور پہیہ جام سے نواز لیگ سمیت ''پارلامنٹ ‘‘کے قابضین کا رنگ فق ہو گیا تھا تو خدشہ ہے کہ کچھ خلط ملط نہ ہو جائے۔ جس طرح رنگ بدلنا محاورے کے طور پر استعمال کیا جا تا ہے اسی طرح اپنے الفاظ کھا جانا بھی ایک مشہور محاورہ ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ کل جو کہا اگلے دن اس سے مکر گئے ۔اب یہ عمل عام ہوتا جا رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ یہ عمل اب ایک قومی فیشن بن گیا ہے ۔کسی کا بھی اپنی کہی ہوئی یا لکھی ہوئی باتوں سے مکر جانا پاکستان کی معاشرت، تجارت، سیاست اور صحافت میں ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ لوگ اپنے الفاظ کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں یا کر دیئے جاتے ہیں لیکن بر صغیر
میں دیکھا گیا ہے کہ یہ عمل باقاعدہ ایک عادت کی صورت اختیار کر تا جا رہا ہے اور نشر و اشاعت کی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے اٹی پڑی ہے۔ایک صاحب نے جون1993ء میں اپنے مضمون میں جناب نواز شریف پر32 سنگین الزامات لگائے جو آج بھی اس اخبار کے رنگین صفحہ اول پر موجود ہیں لیکن دنیا کے رنگ دیکھئے کہ آج ان کی ہر ٹاک میں انہی کی مدح سرائی ہوتی ہے۔
بات کریں اگر رنگ بدلنے یا اپنی کہی اور لکھی ہوئی باتوں سے مکرنے کی تو جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کر دیئے ،تب پاکستان میں اس وقت بر سر اقتدار حکمران جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کے حق میں نہیں تھے ، ایسے لوگوں ،جن کی رائے کو اس وقت اہمیت دی 
جاتی تھی ،سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے ذاتی طور پر درخواست کی کہ وہ عوام کو باور کرائیں کہ اس وقت کی ملکی معاشی صورت حال اس بات کی اجا زت نہیں دیتی کہ بھارت کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح امریکہ اورمغربی دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک ہمارے خلاف ہو جائیں گے۔ اس وقت کی حکومت ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے حق میں دلائل دینے کیلئے بعض نامی گرامی دانشوروں کی خدمات بھی حاصل کئے ہوئے تھی جوبڑے اثر انگیز انداز میں قوم کو بتا رہے تھے کہ اگر نا عاقبت اندیش لوگوں کے دبائو میں آ کر ہماری حکومت بھارت کے مقابلے میںجوابی ایٹمی دھماکے کرنے پر مجبورہو گئی تو پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا،جس کا ہمارے جیسا غریب ملک کبھی متحمل نہیں ہو سکے گا ۔جو کچھ اس وقت لکھا اور لکھا یا جا رہا تھا اس وقت کی حکومت کی جانب سے با قاعد ہ سپانسرڈتھا ۔اس قصے کو اب کئی سال بیت چکے ہیں لیکن یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے وہ ''دانشور‘‘ بھی جھٹلا نہیں سکیں گے۔کیا سچ بھی چھپا رہ سکتا ہے؟ نہیں ،کبھی نہیں ،کیونکہ ضمیر کے کچوکے ہر وقت ستاتے رہتے ہیں اور حقیقت بالآخر سامنے آ جاتی ہے۔
ایوان اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے عوام کی اس سوچ کو بدلنے کیلئے ،فوراً جوابی دھماکے کرنے کیلئے بے تاب ہوئی جا رہی تھی ، کچھ دانشوروں کی خدمات حاصل کیں۔ ان میں سے انتہائی معتبر سمجھے جانے والے دانشوروں نے ایٹمی دھماکوں کے خلاف مضامین کا ایک سلسلہ شروع کر دیا جن میں لوگوں کو بتایا جانے لگا کہ ہوش کے ناخن لو ،جذباتی مت بنو ، تمہارے جذبات اپنی جگہ لیکن اس وقت ایٹمی دھماکوں کے نزدیک بھی نہ پھٹکنا ،جو لوگ ایٹمی دھماکے کرنے کی ترغیب دے رہے ہیںاورایٹمی دھماکے کرنے کیلئے دبائو بڑھا رہے ہیں،وہ پاکستان کے دوست نہیں دشمن ہیں۔ مضامین کا یہ سلسلہ بڑھتا رہا اور دوسرے مشہور دانشور بھی ایٹمی دھماکوں کے نتائج اور ان سے پہنچنے والی تکالیف پر نئے نئے مضمون باندھنے لگے۔ان کے الفاظ کے چنائو کو سبھی جانتے اور مانتے ہیں ،اس لیے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ لوگ ان کی تحریر اور تقریر سے متاثر نہ ہوں ماسوائے ہمارے اور استاد گوگا دانشور جیسے چند کند ذہن لوگوں کے جنہیں خدا نے سر تو دیا لیکن اس میں مغز کی مقدار بہت ہی کم رکھی ہے۔
جب بادل نخواستہ اور کلنٹن کی طرف سے '' پانچ ٹیلیفون‘‘ کرنے کے باوجود ایٹمی دھماکے ہو گئے تو حکومتی ٹیم نے سوچا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو ایٹمی دھماکے کرنے پر وزیر اعظم نواز شریف کی دلیری اور ہمت کی داد دینے کیلئے واحد سرکاری چینل کے ذریعے لوگوں کو بتائے کہ کلنٹن کے ''پانچ فون ‘‘ سننے کے با وجود نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کر دیئے ...اور وہ دانشور حضرات جو وزیر اعظم کے کہنے پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے حق میں نت نئے دلائل کے انبار لگاتے رہے ،انہیں ہی اس کمیٹی میں شامل کر دیا گیا...! ‘‘

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved