تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     10-01-2015

پانی‘ پانی اور پانی

ایک شخص نہر کے کنارے بیٹھا کہہ رہا تھا کہ کتنا پانی ضائع ہو رہا ہے... کتنا پانی ضائع ہو رہا ہے‘ تو وہاں سے گزرنے والے ایک اور شخص نے یہ سُن کر اس سے کہا: 
''یہ کیا کہہ رہے ہو‘ اور تم کون ہو؟‘‘ 
''میں یہ کہہ رہا ہوں کہ خواہ مخواہ کتنا پانی یونہی ضائع جا رہا ہے...‘‘ اس نے جواب دیا۔ 
''لیکن تم ہو کون؟‘‘ دوسرے نے پوچھا۔ 
''میں شہر میں دودھ سپلائی کرتا ہوں!‘‘ اس نے جواب دیا۔ 
پانی ہم ویسے بھی بہت ضائع کرتے ہیں۔ کچن میں برتن دھوتے وقت ٹونٹی ایسے ہی کھلی چھوڑ دی جاتی ہے‘ یا گاڑی کو دھونے کے لیے پانی کا بے تحاشا استعمال۔ اور یہ نہیں جانتے کہ چند سال بعد ہم اس پانی کے ایک ایک قطرے کو ترسیں گے کیونکہ زیرِ زمین پانی کی سطح روز بروز نیچے جا رہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی ریاست میں چھوٹے چھوٹے سینکڑوں ڈیم بنوا کر اس مسئلے کو حل کیا اور اس طرح پانی کی سطح اوپر آتی چلی گئی‘ لیکن ہمارے حکمرانوں کو کبھی یہ توفیق نہ ہوئی اور پیسہ بنانے ہی میں لگے رہے۔ اور‘ جب ہم پیاسے مرنا شروع کریں گے تو ہمیں تب
احساس ہوگا کہ سب سے بڑی دہشت گردی تو یہ تھی جو ہمارے ساتھ روا رکھی گئی۔ اب ایک اخباری اطلاع کے مطابق وفاقی وزیر پانی و بجلی نے اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ کالاباغ سمیت 7 ڈیموں کی تعمیر کی پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے۔ حکومتی پلاننگ کا سلسلہ تو روزِ اول سے جاری ہے‘ اگرچہ یہ ہمیشہ پلاننگ ہی رہتی ہے؛ تاہم کالاباغ ڈیم کی ہوائی نہ جانے کس برتے پر اُڑائی گئی ہے گویا دوسرے صوبوں سے بھی اس ضمن میں کلین چِٹ حاصل کر لی گئی ہے۔ منقول ہے کہ ایک شخص سے کسی نے پوچھا کہ تمہاری شادی ہونے والی تھی‘ اس کا کیا ہوا‘ تو اس نے جواب دیا کہ اس میں ابھی 50 فیصد کامیابی ہوئی۔ وضاحت مانگنے پر بتایا کہ ہم راضی ہو گئے ہیں البتہ لڑکی والے انکاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت بھی اس سلسلے میں 50 فیصد کامیابی پر ہی اکتفا کر رہی ہے‘ یعنی ع 
اے بسا آرزو کہ خاک شُدہ 
بہرحال‘ اداسی کے اس ماحول میں خوشی کی خبر یہ ہے کہ ہماری صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے جبکہ یہ بھی ایک ارتقائی عمل ہے‘ اگرچہ یہ ارتقا کبھی اوپر کی طرف ہوتا ہے اور کبھی نیچے کی طرف؛ تاہم اس خوشخبری کے لیے ہم آپ کو زیادہ انتظار کی زحمت نہیں دینا چاہتے اور یہ عرض کیے دیتے ہیں کہ ہم رفتہ رفتہ موبائل فون کی ٹیکنیک میں خاطر خواہ مہارت حاصل کر چکے ہیں جو پہلے اس حد تک تھی کہ ہم اس پر آیا ہوا میسج کھول لیتے تھے‘ اگرچہ میسج کرنے جیسی واہیات چیز ہماری سمجھ سے ذرا دور تھی؛ تاہم اب نئی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ہم نے اپنے دس سالہ پوتے کی مدد سے اس
کے شعبۂ میوزک تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے اور جب چاہیں اس میں بھرے ہوئے گانوں سے خود لطف اندوز ہونے میں ماہر ہو گئے ہیں جو کہ زیادہ تعداد میں نہیں ہیں اس لیے بہت جلد اس میں اپنے زیادہ سے زیادہ پسندیدہ گانے بھروانے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں زیادہ تر تو آشا بھوسلے کے ہوں گے‘ مثلاً پان کھائیں سیاں ہمارو‘ آیئے جانِ جاں‘ بیٹھیے مہرباں اور کئی دوسرے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ بھارت ہم پر جس بات میں فوقیت رکھتا ہے تو وہ صرف آشا بھوسلے کی حد تک ہے‘ ورنہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار اس سے زیادہ ہیں بلکہ ہماری فوج بھی ان سے کہیں سپیریئر ہے۔ البتہ تعلیم اور معیشت کی کمی تو ہم رفتہ رفتہ پوری کر سکتے ہیں ماسوائے آشا بھوسلے کے۔ میری رائے میں پاکستان اور بھارت میں بڑا فرق صرف اور صرف آشا بھوسلے کا ہے۔ 
بات پانی سے شروع ہوئی تھی اس لیے پانی ہی پر ختم کرتے ہیں‘ یہ غزل ملاحظہ کریں: 
دروازہ کھولا پانی میں 
پانی ہی بولا پانی میں 
لہریں تھیں چالاک نہر کی 
ڈوب گیا بھولا پانی میں 
میرے بہت قریب سے گزرا 
پانی کا گولہ پانی میں 
جل پری تھی بس ایک اکیلی 
مگرمچھ سولہ پانی میں 
پانی کی فطرت نہیں بدلی 
رنگ بہت گھولا پانی میں 
مجبوراً پیتے ہیں ملا کر 
ہم کوکا کولا پانی میں 
خود میری آنکھوں کے آگے 
اُڑا کوئی شعلہ پانی میں 
نہا رہی خوش طبع لڑکیاں 
ٹولے کا ٹولہ پانی میں 
آپ ظفرؔ ساحل پہ کھڑا تھا 
اُس کا ہنڈولہ پانی میں 
آج کا مطلع 
جھڑپ اور جھگڑا تو ہونا ہی تھا 
محبت میں اتنا تو ہونا ہی تھا 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved