تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     11-01-2015

سرخیاں‘متن ‘ کتاب اور ’’ریختہ‘‘

دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور 
تربیت گاہوں کو تباہ کردیا... نوازشریف
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ '' دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تربیت گاہوں کو تباہ کردیا‘‘ کیونکہ میں جب بھی غیر ملکی دورے پر جاتا ہوں ، دہشت گردوں کے ٹھکانے اور تربیت گاہیں اپنے آپ ہی تباہ ہونے لگتی ہیں مثلاً میں بحرین کے دورے پر نکلا ہی تھا کہ یہ تباہی شروع ہوگئی، اسی لیے میں زیادہ تر غیر ملکی دوروں پر ہی رہتا ہوں تاکہ ان کی تباہی جاری رہے، البتہ جب سے میں نے شہبازصاحب کو ساتھ لے جانا چھوڑا ہے، اس تباہی میں کسی قدر کمی آئی ہے، اس لیے آئندہ انہیں ساتھ لے جانے کا عزم کرلیا ہے چنانچہ اس عزم کو بھی ہمارے دیگر عزائم کی طرح پختہ سمجھا جائے جو ہم نے دیگر اہم ملکی مسائل حل کرنے کے سلسلے میں کررکھے ہیں۔ علاوہ ازیں موصوف کچھ عرصے سے کافی کھنچے کھنچے سے چلے آرہے تھے جس وجہ سے انہوں نے میری طرف سے چیف سیکرٹری کی تعیناتی کو بھی مسترد کردیا، ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ '' بھارتی فائرنگ تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہے‘‘ جو ماشاء اللہ کافی بلندیوں کو چھو رہے تھے اور مودی صاحب اس کے لیے جان توڑ کوششیں کررہے تھے اور یہاں سے بھیجنے کے لیے ساڑھیوں کی نئی کھیپ بھی تیار تھی کہ مودی صاحب کی لاعلمی میں چند منچلوں نے سرحد پر فائرنگ شروع کردی جس سے سارا مزہ ہی کرکرا ہوکر رہ گیا۔ آپ اگلے روز مانامہ میں ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔
اپنا روزگار سکیم کرپشن سے ہر طرح
سے پاک ہے... شہبازشریف
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ '' اپنا روزگار سکیم کرپشن سے پاک ہے‘‘ کیونکہ یہ تجربہ کیا جارہا ہے کہ آیا کرپشن سے پاک بھی کوئی منصوبہ کامیاب ہوسکتا ہے یا نہیں ، اور اگر اس میں کرپشن کی صورت حال حسب معمول رہی تو کرپشن کرنے والے یاد رکھیں کہ ان کے جسموں میں کیڑے پڑیں گے جبکہ انہیں اس سے منع کرنا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ حکومت بھی تو انہی کے سہارے چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' خدمت خلق جاری رہے گی‘‘ جس میں عزیز و اقارب بطور خاص شامل ہیں کہ نیکی ہمیشہ گھر سے ہی شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' دھرنوں نے 6ماہ ضائع کردیے‘‘ اور ملک کا بہت نقصان ہوا جبکہ ہم صرف اپنے کام پر ہی توجہ دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ '' پاکستان جلد پُرامن اورخوش حال ملکوں کی صف میں شامل ہوگا‘‘ جبکہ یہ انتہائی خوش حال حکمرانوں کی صف میں ماشاء اللہ پہلے ہی شامل ہے بلکہ تقریباً ٹاپ پر ہے اور جاپانی بادشاہوں کی طرح بھوکا ننگا نہیں ہے کہ بینک میں پھوٹی کوڑی تک نہ ہو جو کہ سارا عقل کی کمی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' ای گورننس ہمارا مشن ہے‘‘ جو کہ عمران خان کے ای پلان ہی کی طرح ہے جس سے موصوف دستبردار ہوچکے ہیں جبکہ ان کا نئی شادی کرنا بھی کافی قابل رشک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ مہربانی کسی پر اور کسی وقت بھی کرسکتا ہے اور ہر ضرورت مند شخص کو اس کی امید رکھنی چاہیے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک اجلاس میں گفتگو کررہے تھے۔
21ویں آئینی ترمیم سیاسی جماعتوں
کا خودکش حملہ ہے...فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''21ویں آئینی ترمیم سیاسی جماعتوں کا خودکش حملہ ہے‘‘ اور دہشت گرد احباب کے مطابق یہ جماعتیں اس حملے کے بعد سیدھی جنت میں جائیں گی، تاہم عاقبت سنوارتے سنوارتے انہوں نے اپنی دنیا ضرور خراب کرلی ہے ،حالانکہ دنیا میں آنے کا مقصد ہی دنیا داری کے سوا کچھ نہیں ہے، اگرچہ خاکسار نے اس طرف کبھی دھیان نہیں دیا اور جملہ مسائل رفتہ رفتہ خود ہی حل ہوتے رہتے ہیں ، اور اگرچہ اس وجہ سے ہماری چھٹی کراکر ہماری جگہ ایم کیوایم والوں کی خانہ پُری کی جارہی ہے جبکہ اس میں بھی ہمارا قصور کم اور وزیراعظم صاحب کا زیادہ ہے کیونکہ اگر وہ تھوڑی سی کوشش مزید بھی کرتے اور خدمت کا کوئی مزید موقع عنایت کرتے یا تھوڑا بہت دست کرم ہی دراز کردیتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی کیونکہ ہماری ضروریات کبھی بھی لامحدود نہیں ہوتیں اور ہم ہمیشہ چادر دیکھ کر ہی پائوں پھیلاتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے پاس چادروں کا جیسے سٹاک ہی ختم ہوگیا ہو جو کہ بجائے خود بہت تشویشناک امر ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے اور کسی بہتر طریقے سے ہمارے ساتھ دوبارہ رابطہ کرنا چاہیے تاکہ اس مسئلے کے حل کی کوئی صورت نکل سکے کیونکہ حکومت کو ہماری دعائوں کی بہرحال ضرورت ہے۔ آپ اگلے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
محبت کا ایک دور اور دوسری کہانیاں
یہ مشہور زمانہ افسانہ نگار موپساں کی 14کہانیوں کا ترجمہ ہے جو سرگودھا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے لیاقت رضا جعفری نے کیا ہے اسے مثال پبلشرز فیصل آباد نے شائع کیا ہے ۔ کتاب کا ٹائٹل اور گیٹ اپ قابل تعریف ہے جبکہ ترجمہ بھی رواں دواں ہے اور ترجمے کا گمان نہیں گزرتا بلکہ اصل کے بہت قریب لگتا ہے۔ میں نے خلاف معمول یہ کہانیاں پڑھ ڈالی ہیں اور شاید یہ میری اپنی کوتاہی ہے کہ مجھے اس میں کوئی غیر معمولی کہانی نظر نہیں آئی، شاید اس لیے کہ شاعری کی طرح کہانی نے بھی اپنا رنگ ڈھنگ کافی حد تک تبدیل کرلیا ہے، بیشک بعد میں آنے والے فکشن رائٹرز کو موپساں نے بطور خاص متاثر بھی کیا۔ تاہم اس مصنف کا نام اتنا بڑا ہے کہ اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ویب سائٹ '' ریختہ‘‘
نئی دہلی سے زمرد ملک اور دیگر ادیبوں نے ریختہ کے نام سے ایک ویب سائٹ جاری کی ہے جس میں میرے کلیات ''اب تک‘‘ کی چاروں جلدوں سمیت کئی ہزار کتابیں بھردی گئی ہیں اور جس کا باقاعدہ افتتاح عنقریب ہونے والا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دنیا کا کم و بیش سارا علم اور ہر طرح کی کتابوں پر مشتمل اس طرح کی متعدد ویب سائٹس جاری کی جاچکی ہیں جن سے صرف ایک بٹن دبا کر استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ علم و ادب کا یہ ایک ایسا کیپسول ہے جسے ماڈرن ٹیکنالوجی کی تہلکہ خیز دین کہا جاسکتا ہے۔
آج کا مقطع 
بات بے بات بگڑ بیٹھتے ہو اُس سے، ظفرؔ 
اس طرح سے تو محبت نہیں کی جا سکتی

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved