تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     21-01-2015

نیا پختونخوا یا نیا عمران خان ؟

عمران خان بالآخر اسی نقطے کی جانب لوٹ گئے ہیں جہاں سے انہیں آ غاز کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ مگربعد از خرابیِٔ بسیار ! مجھ جیسے لکھاری انہیںروز اول سے اس طرف متوجہ کررہے تھے مگروہ کسی اوردنیا میں تھے، ایسی دنیا جس میں خواب پر حقیقت کا گمان ہو تا ہے۔ میں نے ان کے تازہ ترین خیالات سنے تو ایک خوش نوا کو یاد کیا جو انہی کے قبیلے سے تھا :
تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائگانی سے ہوا
خیبر پختونخوا کی صورت میں انہیں ایک تجر بہ گاہ میسر آ گئی تھی۔ جماعت اسلامی جیسا اتحادی بھی جو خیر کے ہر کام میں ان کا معاون ہوتا۔کسی بلیک میلنگ کا خوف نہ'ڈومور‘ کا مطالبہ۔ سیاسی اعتبار سے بیدارترمعاشرہ۔ ایسا معاشرہ جس نے دیگر صوبوں سے زیادہ تجربات کیے۔ مجلس عمل کی انتہا سے اے این پی کی انتہا تک۔2013ء میں اس سماج نے پھر ایک تجربہ کیا۔اس سرزمین پر اگر وہ حکومتی اقدامات کے حوالے سے کوئی اختراع کرتے توعوامی پزیرائی کاپورا امکان موجود تھا۔ افسوس کہ انہوں نے کم و بیش دو سال ضائع کردیے۔ وہ ایسی راہوں پہ چل نکلے جن کی کوئی منزل نہیں تھی۔ اپنی توانائیاں بر باد کیں اورقوم کا وقت بھی۔ ایسا کیوں ہوا؟کیا تحریکِ انصاف میں خود احتسابی کا کوئی نظام ہے؟کیا عمران خان کوئی کمیشن بنا سکتے ہیں جو بتائے کہ انہوں نے کیا پایا اورکیا کھویا؟کیا یہ حب ِعاجلہ ہے جس نے انہیں گھیر لیا؟
میں راولپنڈی کے جس علاقے میں رہتا ہوں،یہ عمران خان کا حلقۂ انتخاب ہے۔ وہ جب تک پارلیمان میں فعال رہے،اسی علاقے کی نمائندگی کرتے رہے۔ انہوں نے میانوالی کی نشست 
پر راولپنڈی کو ترجیح دی۔ اس سارے عرصے میں،اس حلقے کے عوام سے ان کا کوئی براہ راست رابطہ ثابت نہیں۔۔۔ لوگ مرتے ہیں یا جیتے ہیں۔ زندہ لوگوں کو مسائل کا سامناہوتا ہے، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے نمائندگی کرنے والے ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ میرے علم میں نہیں کہ عمران خان نے کسی کی تعزیت کی ہو،کسی کی خوشی میں شریک ہوئے ہوں۔ دوسری طرف میں حنیف عباسی کو دیکھتا ہوں، وہ شادیوں میں شریک ہوتے ہیں اورجنازوں میں بھی۔ لوگ مسائل کے حل کے لیے ان سے رجوع کرتے ہیں اور انہیں مایوسی نہیں ہوتی۔ میں نے ایک بار ان سے راولپنڈی کے سرکاری سکولوں کا ذکر کیا ، ان کا کہنا تھا کہ جب میں خواہش کروں، وہ میرے ساتھ کسی سکول میں جانے کے لیے تیار ہیں۔ اگر وہاں معاملات پہلے سے بہتر نہ ہوئے تو وہ ذمہ داری قبول کریں گے۔ ان کے ذاتی معاون شیخ محمد انورکا رویہ تو حیران کن ہے۔ وہ خود لوگوںکو ایس ایم ایس بھیجتے ہیں کہ انہیں سرکاری محکموں میں کوئی مشکل درپیش ہے تو وہ ان سے رجوع کریں۔
تحریکِ انصاف کا معاملہ چو نکہ رومان کا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ عمران خان کے چاہنے والے اس کی بھی تاویل کریں۔۔۔ جیسے عمران خان ایک عالمی سطح کے رہنما ہیں،کہاں وہ اور کہاں ایک حلقۂ انتخاب کے چھوٹے چھوٹے مسائل ، وہ تو عوامی مسائل کے لیے بڑے پیمانے پر کچھ کرنا چاہتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس استدلال میں ایک حد تک وزن ہے؛ تاہم پارلیمانی جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیںجس میں حلقۂ انتخاب کی اہمیت ہوتی ہے۔ پھر بعض باتیں مقامی کلچر سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔ پشاور کے واقعے نے اس حقیقت کو آشکارکر دیا ہے۔
عمران خان کا پلان ڈی بتا رہا ہے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ یہ ایک نیک شگون ہے جس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ اگر وہ احتجاجی سیاست سے تعمیری سیاست کی طرف رخ کرتے ہیں تو اس میں انہی کا نہیں، پاکستان کا بھی بھلا ہے۔ میں یہ بات لکھتارہا ہوں کہ سیاست میں کامیابی محض اس کا نام نہیں کہ آپ اقتدار تک پہنچ جائیں ، نئی سیاسی روایات کو جنم دینا بھی ایک کامیابی ہے اور شاید اقتدارکے محدود ماہ و سال سے کہیں دیر پا۔ عمران خان کے پاس مو قع ہے کہ وہ پاکستان میں خدمت اورشفافیت کی سیاست کو فروغ دیں۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کو ایک مثال بنا دیں۔ لوگ بچشمِ سر دیکھیں کہ گڈ گورننس کیا ہوتی ہے۔ یہ زیادہ صبر آ زما کام نہیں ہے۔ اب تو صرف تین سال کی بات ہے ، اگر عمران یہ کر گزرتے ہیں تو عوام خود ان کی طرف رجوع کریں گے۔
یہ کلچر اگر فروغ پاتا ہے تومرکزی اور دوسری صوبائی حکومتوں کے لیے بھی ایک چیلنج بن جائے گا۔ شہباز شریف صاحب کے طرزِ حکومت پر کئی پہلوئوں سے تنقید کی جا سکتی ہے لیکن یہ امرِ واقعہ ہے کہ اُن کے تحرک اور کارکردگی نے دوسرے صوبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ سروے یہ بتاتے ہیں کہ وہ دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے زیادہ مقبول ہیں۔ وہاںکے عوام یہ آرزو کرتے ہیں کہ انہیں شہبازشریف جیسا وزیر اعلیٰ ملے۔ بے بنیاد الزام تراشی اورجذباتی استحصال کے بجائے اگرحسنِ کارکردگی کے کلچرکو فروغ ملے تو پھر سیاسی جماعتوں کے مابین مسابقت کا میدان بدل جائے گا۔ اب مقابلہ یہ ہے کہ کون کم نااہل اورکم بد عنوان ہے۔ جب صرف برائیوں کا ذکرکلچر بنے گا تو پھر یہی ہوگا۔ ہمیں اب چھوٹی برائی اور بڑی برائی کی سیاست سے آگے بڑھنا ہوگا۔ عمران خان یقیناً اس میں ایک کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عمران خان کاپلان ڈی، میرا خیال یہ ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین کے لیے زیادہ خطرناک ہوگا۔ گزشتہ پانچ ماہ انہوں نے جو سیاست کی، اس کی تائید کسی سنجیدہ آدمی کے لیے آسان نہیں تھی، الّا یہ کہ وہ سماج کا ادراک رکھتا ہو نہ سیاسیات کا۔ ہمیں بہت سے سنجیدہ لوگ بھی ان کے ہم نوا دکھائی دیے لیکن میرا خیال ہے کہ وہ سیاسی و سماجی حرکیات کے شعور سے فی الجملہ زیادہ واقف نہیں تھے۔ یہ خوش گمانیوںکا سفر تھا جو اب اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔اس دھرنا سیاست کا ایک ہی مثبت نتیجہ نکلا اور وہ عمران خان کی سنجیدہ اور مثبت سیاست کی طرف مراجعت ہے۔ اگر وہ اس مرحلے پر ان لوگوں کی چال سے بچ نکلے جو نوازشریف صاحب سے ذاتی بدلہ لینے کے لیے انہیں تصادم پر اکساتے ہیں تو یہ پاکستانی سیاست کا ایک فیصلہ کن موڑ ہوگا۔
ایک پہلو افتادِ طبع کا بھی ہے۔ سکون سے بیٹھنا عمران کے لیے محال ہے۔ اُن کی شخصیت کے اسی پہلو کو لوگ اپنے اپنے مقاصدکے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان پانچ مہینوں میں ، یہ امید کی جانی چاہیے کہ انہوں نے سیاست میں صبر اور حکمت کی اہمیت کو جان لیا ہو گا۔ میرا احساس ہے کہ شادی سے بھی ان کے مزاج میں ٹھہراؤ آ سکتا ہے۔ ماہرین ِ نفسیات متفق ہیں کہ ایک غیر فطری زندگی، شخصیت میں ایسے مسائل پیدا کردیتی ہے جو ناقابلِ حل ہوتے ہیں۔ امام ابنِ تیمیہ ہماری علمی تاریخ کی ایک جلیل القدر شخصیت ہیں۔ اپنے مخالفین کے بارے میں ان کے رویے میں تشدد ہے، وہ ان کے لیے بہت سخت زبان استعمال کرتے ہیں۔ بعض اہلِ علم کا خیال ہے کہ ان کے ہاں اس عدم توازن کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے شادی نہیں کی۔کیا عمران کے ہاں شدت کا سبب یہی تھا؟اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا۔
عمران خان کی اخلاقی ساکھ کوگزشتہ پانچ مہینوں میں بہت نقصان پہنچا۔ ان کی سب سے بڑی قوت یہی ساکھ تھی۔ معلوم نہیں، انہیں خود اس زیاںکاکتنا احساس ہے۔ انہیں فرصت ملے تو وہ اس کے اسباب پر ضرور غور کریں۔ میں اس بارے میں سوچتا ہوں تو ان کے ہم قبیلہ ایک بے مثل شاعرکو یا دکرتا ہوں۔ عمران کا ذوق ہوتا تو میں انہیں منیر نیازی پڑھنے کا مشورہ دیتا :
بے خیالی میںیوں ہی بس اک ارادہ کر لیا
اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved