نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیب چیئرمین پہلےفیصلےکرسکتےتھےنہ اب،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- موجودہ حکومت کےہرمحکمےمیں اسکینڈل موجودہیں،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- نیب ترمیمی آرڈیننس سےحکومت نےخودکواین آراودیا،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- مہنگائی،بےروزگاری اورغربت میں اضافہ ہواہے،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- آئینی نظام میں مداخلت ختم ہونےتک یہ ملک نہیں چلےگا،شاہدخاقان
  • بریکنگ :- ہمیں آج تک یہ پتہ نہیں چل سکاہماراجرم کیاہے،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- چیئرمین نیب ہمیں صرف ہماراجرم بتادیں،شاہدخاقان عباسی
Coronavirus Updates

کورونا اور تعلیم ساتھ ساتھ،فزیکل کلاسوں کیلئے کئی راستے تجویز

دنیا فورم

تحریر : میزبان: مصطفیٰ حبیب صدیقی ایڈیٹرفورم رو زنامہ دنیا کراچی رپورٹ:اعجازالحسن عکاسی : محمد مہدی لے آئوٹ : توقیر عباس


شرکاء: سید شرف علی شاہ چیئرمین میٹرک بورڈ۔ ڈاکٹر منسوب صدیقی ،ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ۔عظیم صدیقی، ڈائریکٹر ایجوکیٹر ز ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹس ۔پرویز ہارون ،چیئرمین پرائیویٹ اسکول ایکشن کمیٹی ۔ندیم مرزا چیئرمین اسٹوڈنٹس پیرنٹس فیڈریشن آف پاکستان ۔ شاکر شکور ، ڈائریکٹر تنظیم اساتذہ پاکستان برائے متاثرین سندھ۔ مسز غزل کمال ،انچارج ایس ایم لیاری گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول ۔فون پر گفتگو:(ڈاکٹر سعید الدین ،چیئرمین انٹر بورڈڈا کٹر مسرور شیخ چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ

 جامعات اور کالج اپنے کورس سے پہلے فائونڈیشن کورسز کرائیں ،جس میں بچوں کو ان کی پچھلی کلاس کا کچھ حصہ دوبارہ پڑھایا جائے ،فرسٹ ایئر میں بھی بچوں کو پہلے میٹرک کا کچھ حصہ پڑھایا جائے:  ڈاکٹر سعید الدین

حکومت اپنا کردار ادا کررہی ہے اساتذہ اور والدین بھی کردار اداکریں،متبادل دنوں میں کلاسیں لی جائیں، سرکاری اسکولوں کے مسائل سامنے رکھتے ہوئے پالیسی بنا ئی جائے:   سید شرف علی

  کورونا سے1700 سے زائد نجی اسکول بند ہوگئے۔6ہزار پرائیویٹ اسکولوں کی عمارتیں کرائے کی ہیں،اساتذہ کی تنخواہوں کے مسائل بھی ہیں، حکومت نے فیسوں میں 20 فیصد رعایت دی اس سے بھی لوگوں کو فائدہ ہوا:  منسوب صدیقی

 آن لائن تعلیم میں استاد بچے کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھتا جبکہ فزیکل کلاس میں بچے کومانیٹر کرتا ہے، بچے کلاس میں ٹیچر کی دلچسپی دیکھتے ہوئے یکسوئی سے پڑھتے ہیں جو آن لائن کلاسز میں نہیں ہوتا:  ڈاکٹر مسرور شیخ

حکومت کورونا میں دیگر اداروں کے ساتھ مل کر بہت کام کررہی ہے ۔ تعلیمی سیکٹر میں بھی کام ہورہا ہے لیکن کئی اسکولوں میں ہمارے اساتذہ آج بھی روایتی طریقوں سے ڈسٹر او ر چاک سے پڑھا رہے ہیں:   غزل کمال

تحقیق کی جائے کہ صرف تعلیمی ادارے کیوں بند ہیں،کیا کورونا صرف تعلیمی اداروں میں ہے؟ کیا بچے گلی محلوں میں نہیں کھیل رہے، کیا والدین کیساتھ بازاروں ، شاپنگ مالز میں نہیں جاتے،عظیم صدیقی

سندھ کے تعلیمی نظام میں دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں، محکمہ تعلیم کو سمجھ نہیں آرہا کہ ہمیں کرنا کیا ہے ،کیا منصوبہ بندی ہونی چاہیے جس سے بچوں کی تعلیم تباہ ہونے سے بچ جائے ،آن لائن نظام آنکھوں کا دھوکا ہے:  ندیم مرزا

چین ، برطانیہ اوردیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی میں آن لائن تعلیم کو فروغ نہیں ملا ،وہ لوگ جانتے ہیں آن لائن تعلیم مسئلے کا حل نہیں صرف خانہ پری ہے وہ لوگ بھی فزیکل ایجوکیشن کی طرف گئے:   پرویزہارون

اسکول ڈیڑھ سال بند رہے اس دوران بچے کتابوں سے دو ررہے جب بچہ کتا ب اور اساتذہ سے دور ہوتاہے تو تعلیم کے ساتھ تربیت سے بھی محروم ہو جاتا ہے :  شاکر شکور

فزیکل کلاسز میں بچوں کو ایس او پیز کیساتھ بلائیں،چیئرمین انٹربورڈ،ٹی وی چینلز پر کلاسیں شروع کی جائیں:  چیئرمین میٹرک بورڈ

 کئی سرکاری اسکولوں میں آن لائن تعلیم جاری ہے، ڈی جی پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ،صحت کیلئے آن لائن کلاسیں ضروری،لیکن بچہ ماہر نہیں ہوگا:  چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ

بچوں کے پاس جدید موبائل ہیں لیکن استعمال نہیں جانتے،انچارج لیاری اسکول،یونیسیف کے مطابق آن لائن سے80کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہو جائینگے:    ڈائریکٹر ای ڈی آئی

آن لائن سسٹم فزیکل تعلیمی نظام کا نعمل بدل نہیں ہوسکتا،چیئرمین ایس پی ایف ،آن لائن تعلیم میں صرف اشرافیہ کے بچے مستفید ہوسکتے ہیں :  چیئرمین پی ایس ا ے سی 

  حکومت پرائیویٹ اسکول ٹیچرز کو تحفظ دے :   ڈائریکٹر تنظیم اساتذہ پاکستان 

موضوع:’’کورونا صورت حال: تعلیم کیسے جاری رکھی جائے؟‘‘

 

 

 

 علم وہ دولت ہے جو آدمی کو انسان بناتی ہے،علم دینے والے معلم وہ محسن ہوتے ہیں جو زندگی کا اصل مقصد سکھاتے ہیں، بچے کی نشوونما اور تحریک پیدا کرتے ہیں لیکن یہ سب اسی وقت بہترین انداز میں ممکن ہوسکتا ہے جب بہتر حالات اور ماحول میں استاد اور شاگرد کے درمیان رابطہ بحال رہے ،تاہم گزشتہ دو سالوں میں کورونا نے جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں تعلیم کو بھی شدید دھچکا لگا ہے،دنیا فورم نے اسی لیے ماہرین تعلیم اور والدین کو ایک جگہ بٹھایا اور سوال کیا کہ بتائیں تعلیم کیسے جاری رکھی جائے؟سندھ بوائے اسکائوٹ ایسوسی ایشن نے اپنے مرکزی دفتر میں ہمیں سہولت فراہم کی جہاں ماہرین نے تسلیم کیا کہ آن لائن تعلیم فزیکل تعلیم کا متبادل نہیں ہوسکتی لیکن وقت وحالات نے بچوں کی صحت کیلئے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا تاہم اب وقت ہے کہ تعلیمی نظام کو عمومی حالات کے مطابق واپس لانے کیلئے حکمت عملی وضع کی جائے،

دنیا فورم میں چیئرمین انٹربورڈ ڈاکٹر سعید الدین اور چیئرمین ٹیکنکل بورڈ ڈاکٹر مسرور شیخ خواہش کے باوجود شریک نہیں ہوسکے تاہم بعدازاں دونوں نے بذریعہ فون اپنے تاثرات کااظہار کیا جبکہ چیئرمین میٹرک بورڈ سید شرف علی اور ڈی جی پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ منسوب صدیقی اور دیگر نے شرکت کی۔دنیا فورم کا خلاصہ یہ رہا کہ فزیکل کلاسز کا کوئی نعم البدل نہیں،مختلف تجاویز میں اسکولوں کو دو شفٹوں میں چلانے،یومیہ دو گھنٹے کی کلاسوں اور اتوار بھی اسکول کھولنے کی تجاویز دی گئیں،امید ہے کہ دنیا فورم سے حکومت کو فیصلہ سازی میں آسانی ہوگی اورلاکھوں طلباء اور ہزاروں اساتذہ کا مستقبل محفوظ ہوسکے گا،ہمیشہ کی طرح آپ کی رائے کاانتظار رہے گا۔ شکریہ 

(مصطفی حبیب صدیقی،ایڈیٹر فورم روزنامہ دنیا کراچی)

03444473215

(واٹس ایپ یا کال)،ای میل

mustafa.habib@dunya.com.pk

دنیا: آن لائن کے علاوہ کوئی متبادل تعلیمی نظام ہوسکتا ہے؟کیاکورونا میں بچوں کی صلاحیت متاثرہوئی ؟

 ڈاکٹر سعید الدین : کورونامیں تعلیم اسی وقت ہوسکتی ہے جب آن لائن سسٹم بہتر ہوگا ۔یہ سسٹم ہمارے ملک کیلئے نیا ہے۔ اساتذہ کو آگہی نہیں ہے اس لیے پریشانی ہورہی ہے،ہمیں ٹیچنگ سسٹم میں آن لائن سسٹم کو بہتر کرنا ہوگا۔امتحانی طریقہ کارمیں بھی بہتری آنی چاہیے تاکہ بچے آن لائن امتحان دے سکیں۔کورونا کے ساتھ رہنا ہے تو آن لائن سسٹم کو بہتر طریقے سے رائج کرنا ہوگا۔ بچوں کے حوالے سے بہت احتیاطیں کی ہیں جس کے باعث کورونا سے مرنے والوں میں بچوں کی تعداد ایک فیصد بھی نہیں ہے۔فزیکل کلاسز میں بچوں کو ایس او پیز کے ساتھ بلائیں اور ٹائمنگ کم کردیں تاکہ پڑھائی میں مشکلات نہ ہوں اور نظام چلتا رہے۔گھروں میں بچوں کو اکثر مائیں پڑھاتی ہیں جبکہ باپ روزگارکے باعث مصروف ہوتاہے۔گزشتہ سال کورونا کی وجہ سے امتحان نہیں ہو ا۔اب امتحانی شیڈول آگیا امتحانات بھی ہورہے ہیں ا س کے باوجود بچوں کی خواہش ہے کہ امتحان نہ لیے جائیں اور گزشتہ سال کی طرح پروموٹ کردیا جائے ،کورونا کی وجہ سے بچوں میں پڑھائی کی دلچسپی ختم ہوگئی ہے اور نصاب کم ہونے سے پڑھا بھی کم ہے جس سے صلاحیت میں کمی آئی ہے جو ہمارا بہت بڑا نقصان ہے کہ بچے آگے جاکر کیا کرینگے۔سارا دن فارغ رہنے اور صبح دیر سے اٹھنے سے بچوں کے رویوں میں بھی تبدیلی آئی ، بچہ والدین سے بھی بحث کرنے لگا۔میری تجویز ہے کہ تمام یونیورسٹیز اور کالجز اپنے کورس سے پہلے فائونڈیشن کورسز کرائیں ،جس میں بچوں کو ان کی پچھلی کلاس کا کچھ حصہ دوبارہ پڑھایا جائے ،فرسٹ ایئر میں بھی بچوں کو پہلے میٹرک کا کچھ حصہ پڑھایا جائے۔

دنیا: کورونا میں بچوں کو کس طرح تعلیم دی جائے ،سرکاری تعلیمی اداروں کی کیاصورت حال ہے ؟

سید شرف علی : کورونا نے پوری دنیا کو جکڑا ہوا ہے ہمیں روز مرہ کے سارے کام کرتے ہوئے طلباء کی تعلیم و تربیت کرنی ہے۔ کورونا صورت حال میں بچے زیادہ تر گھروں میں ہوتے ہیں ،والدین پڑھائی کیلئے ان پر خصوصی توجہ دیں ،حکومت سرکاری اسکولوں کے مسائل سامنے رکھتے ہوئے پالیسی بنائے،حکومت اپنا کردار ادا کررہی ہے اساتذہ اور والدین بھی کردار اداکریں،موجودہ صورت حال میں اسکول ،کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔تربیت او ر آگہی کیلئے میڈیا اور دیگر چینلز کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ٹی وی چینلز پر تعلیم کے حوالے سے پروگرام شروع کیئے جائیں تاکہ بچے تعلیم سے جڑے رہیں ۔سرکاری چینل کے ساتھ پرائیویٹ چینلز بھی صبح کے وقت تعلیمی پروگرام شروع کریں۔پرائیویٹ اسکولز بھی تعلیمی یو ٹیوب چینل بناکر بچوں کو تعلیم اور آگہی دیں، اسکولوں میں ڈیجیٹل لائبریریاں بنانی ہوں گی اس سے تعلیم کا معیار بہتر ہوگا۔جہاں کوروناکی صورت حال بہتر ہوتی ہے وہاں کلاسز شروع ہوجاتی ہیں،تعداد کم کرکے متبادل دنوں میں بھی بچوں کو پڑھا یاجاسکتاہے۔حکومت جو بھی منصوبہ بندی کرتی ہے اسی کے مطابق کام ہوتاہے۔

دنیا: ان حالات میں حکومت کو کم وسائل میں کیا فیصلے کرنے چاہییں؟

منسو ب صدیقی : تعلیم کے حوالے سے حکومت بہت کوششیں کررہی ہے۔ حکومت نے آن لائن تعلیمی نظام شروع کردیا ہے جس میں اساتذہ نے تربیت لے کر کلاسز بھی لی ہیں۔ کراچی میں گورنمنٹ کمپری ہینسوا سکول،پائلیٹ ،میجر ضیاء الدین ،لیاری اور شہر میں کئی اسکولوں میں آن لائن تعلیم جاری ہے ۔کئی ادارے اور این جی اوز بھی آن لائن تعلیم میں تعاون کررہے ہیں۔ کوروناکی وجہ سے 2سال میں تعلیمی نظام بہت متاثرہوا ۔ کورونا وباء کے دوران سندھ بھر میں1700 سے زائد نجی اسکول بند ہو گئے ۔6ہزار پرائیویٹ اسکولز کرائے پر چلتے ہیں، اساتذہ کی تنخواہوں کے مسائل بھی سامنے آئے ،اسی دوران حکومت نے فیس میں نرمی کیلئے قانون بھی بنایا کہ 20فیصد فیسوں میں رعایت دی جائے گی اس سے بھی لوگوں کو فائدہ ہوا۔آن لائن تعلیم شروع کی تو کئی اساتذہ کا معلوم ہوا کہ ان میں بچوں کو پڑھانے خاص طورپر آن لائن پڑھانے کی صلاحیت نہیں ہے، کورونا میں پڑھانے کیلئے اساتذہ کی تربیت اور کورسز کرارہے ہیں۔ رائے ہے پرائیویٹ ادارے ہفتے کو بھی بچوں کو پڑھائیں چھٹی نہ کریں۔پرائیویٹ اساتذہ اور عملے سے درخواست کروں گا فوری طورپر ویکسی نیشن کرالیں اس وقت 78فیصد اساتذہ اور اسٹاف نے ویکسی نیشن نہیں کرائی ۔ سندھ میں 13ہزار 988اسکول رجسٹرڈ ہیں،جن میں ایک لاکھ 23 ہزار477 اساتذہ ہیں۔ 30 لاکھ 44 ہزار632 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ کورونا میں اسکول کے ساتھ کوچنگ سینٹر ز بھی بند ہوئے جس سے تعلیم کے ساتھ معاشی نقصان بھی ہوا۔

اسکولز کی بڑی تعداد جسٹرڈ نہیں وہ فوری رجسٹریشن کرالیں تاکہ وہ بھی ویکسی نیشن کراسکیں۔فورم کے توسط سے درخواست ہے حکومت کی طرف سے دی گئی ایس او پیز پر عمل کیا جائے ۔ہماری ویکسی نیشن کئی ممالک سے بہتر ہے ،حکومت بہتر منصوبہ بندی سے ویکسی نیشن کے عمل کو لے کر چل رہی ہے۔ ملک کی 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے،وہاں آن لائن کلاسز کیلئے ساری سہولتیں فراہم کرناآسان نہیں،شہر میں بھی مسائل ہیں انہیں حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔چیزیں بہتر کرنے کیلئے قانون سازی بھی کرنی ہوگی۔اسٹیک ہولڈرز بھی ذمہ داری محسوس کریں سب سے زیادہ ذمہ داری اساتذہ کرام پر عائد ہوتی ہے،یہ ٹیچر نہیں معلم ہیں،جب تک اساتذہ معلم نہیں بنیں گے بچوں کو صحیح تعلیم اور تربیت نہیں ملے گی۔جب تک ہمار ا تعلیمی نظام ایک نہیں ہوگا ہم صحیح نہیں چل سکتے ۔ حکومت ایس او پیز کے ساتھ فزیکل تعلیم کی حمایت کرتی ہے،اس وباء میںسب کو مل کر مشاورت کے ساتھ کام کرناہوگا۔دیہی علاقوں میں ٹی وی کے ذریعے ایجوکیشن دی جائے۔

دنیا:پرائیویٹ اسکول ٹیچر جو معاشی طورپر بد حال ہوچکے ، حکومت ان کیلئے کچھ کررہی ہے؟

منسوب صدیقی :ایسے اساتذہ حکومت کی پلاننگ میں شامل ہیں،رمضان میں ایک نوٹس نکالاکہ ایسے اساتذہ کو کم از کم تنخواہ ہی مل جائے لیکن پھرمعاملا عدالت تک چلا گیا جس کے باعث یہ عمل رک گیا۔اس کے بعد قانون لے کر آئے تاکہ یہ مسائل حل ہوں،کئی اداروں کو پیسے دیئے ،اسکیمیں بھی لے کر آئے،حکومت کوشش کررہی ہے جتنا ممکن ہوسکے لوگوں کی مدد کی جائے۔

دنیا: کورونا میں تعلیم کیسے جاری رکھیں؟ٹیکنیکل ایجوکیشن میں کیاصورت حال ہے؟

ڈاکٹر مسرور شیخ : سب سے پہلے ٹیچنگ میں ٹیچر کے کردار کو سمجھنا ہوگا۔ فزیکل تعلیم ہو یا آن لائن ٹیچر کا کردار ہر جگہ اہم ہوگا۔آن لائن تعلیم کے دوران استاد بچے کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ رہا ہوتا جبکہ فزیکل کلاس میں تعلیم کے ساتھ مانیٹر بھی کررہاہوتاہے اور بچے کلاس میں ٹیچر کی دل چسپی کو دیکھتے ہوئے یکسوئی کے ساتھ پڑھتے ہیں جو آن لائن کلاسز میں نہیں ہوتا۔آن لائن ٹیچنگ میں والدین پر دباؤ بڑھ جاتاہے اگرفیملی کے ممبران بھی کردار ادا کریں تو آن لا ئن تعلیم بھی موئثر ہوسکتی ہے۔ استاد جب بچے کو سامنے کھڑے ہوکر پڑھائے تو اس کے اثرات الگ ہوتے ہیں۔استاد کلاس میں بچوں کا رول ماڈل ہوتا ہے ، بچوں کو محفوظ رکھنا ہے توآن لائن کلاسز ہی کرانا ہونگی،ٹیکنکل ایجوکیشن میں Virtual Reality (VR)کے ذریعے آن لائن ایجوکیشن دی جاسکتی ہے اس میں وڈیو گیم Tranning Packages میںconvert ہوجاتے ہیں ،اور بھی سوفٹ ویئر ہیں جس میں ویلڈنگ ،الیکٹریشن اور دیگر کام بڑی مہارت سے سکھائے جاتے ہیں جس سے بچے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں لیکن جب تک عملی تربیت نہیں کریں گے ماہر نہیں ہوں گے وہ ان کو فزیکل کلاس میں ہی ملے گی۔موجودہ صورت حال میں ہمیں ایسے ٹی وی چینلز شروع کرنے ہوں گے ،ٹی وی پر ورچوئل اسکول کی نشریات شروع کی جائے،ورچوئل یونیورسٹی بن سکتی ہے تو ورچوئل پروڈکشن بھی ہوسکتی ہے یہ چیزیں ممکن ہیں ۔

غزل کمال: حکومت کورونا میں دیگر اداروں کے ساتھ مل کر بہت کام کررہی ہے ۔ تعلیمی سیکٹر میں بھی کام ہورہا ہے لیکن کئی اسکولوں میں ہمارے اساتذہ آج بھی روایتی طریقوں سے ڈسٹر او ر چاک کے ذریعے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔لیاری میں پڑھاتی ہوں وہاں اسکولوں میں بچوں کے پاس آن لائن تربیت ہے نہ وسائل اور نہ ہی ان کو آگہی دی گئی ۔باہر کے ممالک میں بچوں کواسکول اور گھر ہر جگہ آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ہیں لیکن ہمیں آن لائن تعلیم کیلئے اساتذہ اور طلباء کو انٹرنیٹ،موبائل ،کمپیوٹر اور دیگر سہولتیں میسر نہیں۔اپنے اسکول میں پہلی کلاس سے میٹرک تک واٹس ایپ کا گروپ بنادیا ،اس میں بچوں کوباقاعدہ ہوم ورک دیا جاتا ہے ، اس میں 30فیصد بچے آرہے ہیں۔ڈی ای او صاحب رروزانہ چیک بھی کرتے ہیں کہ کون سے اسکول ہیں جہاں آن لائن کام ہورہا ہے۔40فیصد بچوں کے پاس جدید موبائل ہیں لیکن انہیں آن لائن ایپ کا استعمال اور آگہی نہیں جس کی وجہ سے اساتذہ او ر والدین کو بھی دشواری ہورہی ہیں ،اس کیلئے اساتذہ کے ساتھ والدین کی بھی تربیت کررہے ہیں۔

دنیا: آن لائن تعلیم متبادل نہیں توحل کیا ہے؟

عظیم صدیقی :ہمارے آن لائن تعلیمی نظام میں بدقسمتی سے اساتذہ اور بچوں کی تربیت ا ور آگہی نہیں ۔حکومت اور محکمہ صحت کو باقاعدہ تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ا س نظام سے بہتر ہے بچے ماضی میں چلے جائیں جہاں والدین اور گھر کے بڑوں سے تعلیم اور تربیت تو حاصل کرلیں گے۔ یونیسیف کے مطابق اگر آن لائن تعلیم پر زور دیا گیا تو 80کروڑ بچے بنیادی تعلیم سے محروم رہ جائیں گے۔آن لائن تعلیم مسائل کا حل نہیں ، حکومت دیگر اداروں کو تو بحال کررہی ہے لیکن تعلیمی ادارے بند کیے جارہے ہیں۔اس پر تحقیق کی جائے کہ صرف تعلیمی اداروں کو کیوں بند کیا جارہاہے،کیا کورونا صرف تعلیمی اداروں میں ہے؟ ، کیا بچے گلی محلوں میں کھیل کو دمیں حصہ نہیں لے رہے، کیا والدین کے ساتھ باہر بازاروں میں ، شاپنگ مالز میں نہیں جاتے۔ تو پھر اسکولوں کی بندش کیوں؟ گزشتہ ڈیڑھ سال کا ریکارڈ دیکھ لیں ، تمام کاروبار زندگی کو سہولیات میسر ہیں لیکن تعلیمی اداروں کو اس طرح بند کیے گیا کہ جیسے کورونا کی افزائش ہوتی ہی یہی سے ہے۔بچوں کو زبردستی آن تعلیم کی طرف دھکیلا گیا تو مستقبل کا ایک خوفناک معاشی اورنفسیاتی بحران سامنے آسکتاہے،حکومت کو پرائیوٹ اسکولز کا احسان مند ہونا چاہیے کہ یہ جیسے بھی ہیں، صوبہ سندھ کی تعلیمی نااہلی کا بوجھ انہی پرائیویٹ اداروں نے اٹھایا ہوا ہے۔

جو حکومت کی پالیسی کی وجہ سے تباہ ہورہا ہے۔ فلاحی اداروں کے ہزاروں اسکول ہیں ، ان کی فیس کا نظام ہی نہیں ہوتا یا اگر ہوتا ہے تو اتنی بھی نہیں ہوتی کہ ان کا مہینے کے اخراجات پورے ہوسکیں۔ فورم کے توسط سے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بحال کیا جائے ۔ قومی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ بچے آن لائن تعلیم کے دوران کمپیوٹر اور فون کے بہت زیادہ استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے محفوظ رہ سکیں۔ طالب علموں کیلئے آگاہی مہم نہیں چلائی تو کچھ عرصہ بعد اس کے خوفناک طبی اثرات آسکتے ہیں ۔ نصاب کے انتخاب اور طریقہ تدریس کے حوالے سے والدین کو اپنے بچوں کے طریقہ زندگی پر گہری نگاہ رکھنی ہوگی۔ موبائل کا استعمال مکمل طور پر کنٹرول اور کسی ضابطے کے مطابق ہو ورنہ آنے والے وقت میں نہ صرف والدین بلکہ پورا معاشرہ سنگین معاشرتی، اخلاقی ، نفسیاتی اور معاشی مسائل کا شکار ہوگا۔

دنیا: آن لائن نظام کس حد تک کامیاب رہا؟

ندیم مرزا :ابھی تک آن لائن تعلیمی نظام سے فائدہ نہیں ہورہا ہمارا بجٹ تعلیم سے زیادہ تنخواہوں اور پنشن پر لگ رہا ہے۔تعلیم کی طرف توجہ نہیں ۔آن لائن کبھی بھی فزیکل تعلیمی نظام کا نعمل بدل نہیں ہوسکتا۔پرائیویٹ اسکولوں میں 90فیصد آن لائن تعلیم کی تربیت نہیں ،زیادہ تر اسکولز قوانین اور ایس او پیز پر عمل نہیں کرتے ۔سندھ میں صرف 12ہزار اسکولز آن لائن تعلیم دے رہے ہیں ۔کورونا میں سب سے زیادہ نقصان طلباء کا ہو رہا ہے ۔سندھ کے تعلیمی نظام میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ دباؤ برداشت کرسکیں ۔ محکمہ تعلیم کو ابھی تک سمجھ نہیں آرہا کہ ہمیں کرنا کیا ہے ،کیا منصوبہ بندی ہونی چاہیے جس سے بچوں کی تعلیم تباہ ہونے سے بچ جائے ،آن لائن نظام متبادل نہیں آنکھوںکا دھوکا ہے،سب نے تسلیم کیا کہ آن لائن تعلیم 10فیصد بھی نعمل بدل تعلیم نہیں ہوسکتی۔حکومت کو کورونا صورت حال میں شروع دن سے متبادل نظام پر چلے جانا چاہیے تھا۔اس وقت ہمارا تعلیمی نظام بیٹھ گیاہے،ہمارے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نظام ایسانہیں جو آن لائن نظام کو چلا سکے۔

فورم کے توسط سے تجویز ہے کہ میڈیا پر اسکولوں کیلئے چینلز چلائے جائیں جن پر4،4گھنٹے کے سیشنز سے بچوں کو تعلیم دی جائے ۔ ٹیچر اور اسٹاف،وین ڈرائیور، والدین ویکسی نیٹڈ ہوں تما م ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔ہوم اسکولنگ نظام شروع کیا جائے جیسے پہلے گھروں میں والدین او ر دادا پڑھاتے تھے ۔ ہم بھی گھروں میں پڑھا رہے ہیں۔ 2 شفٹوں میں اسکولوں کو چلایا جائے اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ایس او پیز کیلئے حکومت اور پرائیویٹ اسکولز کمیٹی بنالے ہم عمل کرنے کو تیار ہیں۔بد قسمتی سے ملک میں پرائیویٹ اسکولز ملازمین کیلئے سروس اسٹرکچر موجود ہی نہیں ہے۔

دنیا: پرائیویٹ اسکولز کورونا میں بھی فیسوں میں تعاون نہیں کررہے ؟

پرویز ہارون :ہمارا ملک تیسری دنیا کے لوگوں میں شمار ہوتاہے لیکن چین ، برطانیہ اوردیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی میں آن لائن تعلیم کو فروغ نہیں ملا ،وہ لوگ جانتے ہیں آن لائن تعلیم مسئلے کا حل نہیں صرف خانہ پری ہے وہ لوگ بھی فزیکل ایجوکیشن کی طرف گئے ۔ہمیں یہ بات ماننا ہوگی کہ فزیکل کلاسز ہی ہمار ی ضرورت ہے ۔ پرائیویٹ اسکولوں میں بھی صرف8فیصد بچے آن لائن تعلیم حاصل کررہے ہیں،آن لائن تعلیمی نظام میں اشرافیہ کے بچے تو مستفید ہوسکتے ہیں لیکن عام اسکول کا بچہ اس تعلیم سے مستفید نہیں ہوسکتا۔اسکولز بند کیئے جانے سے تعلیم کو مزید مہنگا کیا جارہا ہے،مستقبل میں تعلیم اتنی مہنگی ہوجائے گی جو والدین کے بس سے باہر ہوگی ۔اس وقت صرف لانڈھی میں 50 کے قریب اسکولز بند ہوچکے یہ بچے کہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کا مستقبل کیا ہوگا ،لمحہ فکریہ ہے۔ہمار ی پہلی خواہش سرکاری اسکول میں داخلہ لیناہولیکن وہ بہتر انداز میں بچو ں کو تعلیم دیں جو نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے والدین پرائیویٹ اسکولز کی طرف جاتے ہیں۔ تجویز ہے پرائیویٹ اسکول اتوار کوبھی کھولے جائیں،50فیصد بچوں کو متبادل دنوں میں اور دو ،دو گھنٹے کیلئے شفٹوں میں بھی بلایاجاسکتاہے 

۔۔۔۔

دنیا فورم میں ایڈیٹر فورم نے تجویز دی کہ کیا ایسا سسٹم بن سکتاہے جس میں سرکاری اور پرائیویٹ اسکولز میں کوئی معاہدہ ہوجائے جس کے تحت سرکاری اسکولز کی عمارت اور فرنیچر ہواور پرائیویٹ اسکولز کے ٹیچرز ہوں جو سرکاری اسکولز میں پڑھائیں اور ایسے والدین جو پڑھاسکتے ہیں ان کی تربیت کی جائے تاکہ وہ گھروں میں جاکر پڑھا سکیں ۔ چیئرمین پرائیویٹ اسکول ایکشن کمیٹی پرویز ہارون نے کہا ہم ایساکرنے کو تیار ہیں ۔ چیئرمین میٹرک بورڈ سید شرف علی نے کہا کہ حکومت کا نظام چلانے کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے ایسا نہیں کہ ایک پرائیویٹ اسکول کا ٹیچر سرکاری اسکول میں پڑھائے صرف خانہ پری کرنا نہیں ہوتا ۔ حکومت اور پرائیویٹ اسکولز کوچلانے کے طریقہ کار مختلف ہوتے ہیں ۔ا س پر عمل کیلئے نظام بنانا ہوگا۔

ای ایجوکیشن سے بہتر ہے بچوں کو وڈیولنک سے تعلیم د ی جائے ۔بچے اسکول آئیں گے تو ا س کا زیادہ اثر ہو گا ۔اسٹوڈنٹس پرائیویٹ فیڈریشن آف پاکستا ن کے چیئرمین ندیم مرزا نے کہا کہ کراچی میں237اسکولز بند ہیں،ان کو گود لے کر چلایا جاسکتاہے، ہم سڑکوں پر لوگوں کو کھانا کھلاسکتے ہیں،موبائل دسترخوان چلا سکتے ہیں تو تو بچوں کو تعلیم بھی دے سکتے ہیں۔ کراچی فلاحی اداروں کا شہر ہے کئی این جی اوزسے بات کی انہوں نے کہا ہم تیار ہیں ،حکومت قانون بنادے جس سے گود لینے والے اداراے یا شخص کو آسانیاں ہوں تو اسکول بہترانداز میں چل سکتے ہیں۔

شاکر شکور: کورونا میں تعلیمی نظام ہماری غلطیوں اور خامیوں کی وجہ سے رکا ہوا ہے، بڑی تعداد میں بچوں کے پاس جدید موبائل،انٹرنیٹ اور دیگر سہولتیں نہیں وہ آن لائن تعلیم کیسے حاصل کرسکتے ہیں ۔بچوں سے کہا جاتاہے اسمارٹ موبائل لاؤ توآن لائن تعلیم ملے گی جن گھروں میں کھانے کے پیسے نہیں وہ بچے موبائل کیسے لے سکتے ہیں،جس کے باعث کئی بچے اور والدین نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔بعض اسکول تنخواہ بھی نہیں دے سکتے وہ اسکول کیسے چلائیں گے ؟حکومت کی طرف سے پرائیویٹ اسکول ٹیچر کو تحفظ دیا جائے۔ٹیچر ٹینشن فری ہوگا تو طالب علم کوبھی اچھی تعلیم دے گا۔اسمبلی سے قانون پاس کیا جائے کہ ایسی صورت حال میں اساتذہ اور والدین کی مالی سپورٹ کی جائے تاکہ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔اسکولوں میں ایس او پیز کی اچھی ٹریننگ ہوسکتی ہے جب تک حکومت ان چیزوں میں سنجیدہ نہیں ہوگی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

سائنس کہتی ہے جسمانی نشونما کے بغیر کسی کی تربیت نہیں ہوسکتی ۔اسکول ڈیڑھ سال بند رہے اس دوران بچے کتابوں سے دو ر رہے جب بچہ کتا ب اور اساتذہ سے دور ہوتاہے تو تعلیم کے ساتھ تربیت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاست تعلیمی ادارے بند کرنے میں تو بہت متحرک تھی لیکن تعلیم کو جاری رکھنے میں ناکام ہو گئی۔ آئین کے آرٹیکل 25کے تحت ہر بچے کا بنیادی حق ہے اسے تعلیم دی جائے۔ا س کیلئے ریاستی ادارے اور اساتذہ کو سنجید ہ ہونا پڑیگا۔

دنیا فورم میں والدین کی گفتگو

دنیا فورم میں طلباء کے والدین نے بھی شرکت کی ۔

والد محمد عمران نے کہا کہ کورونا میں اسکول اور اساتذہ کے ساتھ والدین بھی پریشان ہیں۔کورونا میں پرائیویٹ اسکول کارویہ تبدیل نہیں ہوا۔رولز اور ریگولیشن کے مطابق کسی بھی اسکول کو کورس کی کتابیں اور یونیفار م فروخت کرنا منع ہے جس پر عمل نہیں ہورہا بلکہ والدین کوکورس اور یونیفارم جو مارکیٹ میں آدھی قیمت میں مل جاتاہے وہ زبردستی دیا جاتا ہے۔ آن لائن تعلیم کے دوران کبھی ٹیچرز غائب ہوجاتے ہیں تو کبھی نیٹ کا ایشو آجاتا ہے تو کبھی بجلی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے بچوں کو تعلیم نہیں مل رہی،بچوں کو فزیکل کلاس کے ساتھ تعلیم ملنی چاہیے۔

والد عادل انصاری نے کہا کہ آن لائن تعلیمی نظام میں کوئی پڑھائی نہیں ہورہی والدین سے صرف فیسیں لی جارہی ہیں۔میری بچی کوپڑھنالکھنا نہیں آرہا لیکن اسے A Gradeسے پاس کردیا گیا۔بچوں میں قابلیت نہیں آرہی شکایت کروتو کہا جاتاہے آپ کے بچے میں قابلیت نہیں جس سے بچے کی نفسیات پر منفی اثر پڑتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

تعمیراتی صنعت:جدت کی متقاضی،یورپ سے سیکھیں

شرکاء:آفتاب کھوکھر(آسٹریا میں پاکستانی سفیر) فلیمر احمتی(آسٹریا کے آرکیٹکٹ)بذریعہ ویڈیولنک فرحان قیصر(سینئر ڈائریکٹر ایس بی سی اے ) پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین (وی سی سرسید یونیورسٹی برائے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی) پروفیسر ڈاکٹر شبر علی (ڈین فیکلٹی آف سول انجینئرنگ اینڈ آرکیٹکٹ)

قوانین صرف خواتین کے حق میں، مظالم کا شکار مرد بھی!

شرکاء:شکیل خان (رکن گورننگ باڈی آرٹس کونسل کراچی)ڈاکٹر کلیم خان (اورل سرجن،کے ایم ڈی سی)ملکہ خان(صوبائی پروگرام منیجر ،عورت فائونڈیشن)صبیحہ شاہ ( سی ای او ویمن ڈیولپمنٹ فائونڈیشن)ایڈووکیٹ طلعت یاسمین(چیئرپرسن ویمن اسلامک لائرز فورم)فرحت پروین(ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل آرگنائزیشن فار ورکنگ کمیونیٹیزبابر سلیم(سربراہ بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی)ہمایوں نقوی(سماجی رہنما)

جیل میں قید مائیں بہنیں بیٹیاں۔۔ معاشرتی رویوں سے نالاں

شرکاء: شیبا شاہ ،ڈی آئی جی ویمن جیل کراچی ۔ڈاکٹر مسرور شیخ ، چیئرمین سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اقبال النساء، مرکزی نائب صدر ویمن ایڈ ٹرسٹ۔خیرالنساء ایگزیکٹو ممبر ویمن ایڈ ٹرسٹ اور ویمن جیل کی انچارج منجانب ویمن ایڈ ٹرسٹ۔زینب کوآرڈی نیٹر ویمن ایڈ ٹرسٹ۔ڈاکٹر حمیرا رسول ،میڈیکل آفیسر ویمن جیل خواتین قیدیوں کی بڑی تعداد شریک

شارٹ کٹ نہیں۔ صبر ، شکر ، محنت ، لگن۔۔ترقی کے ضامن

شرکاء: سید شجاعت علی ، سابق چیئرمین پاکستان لیدر گارمنٹس اینڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن۔ام سلمیٰ منصور ،رکن مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی آباد،چیئرپرسن باسودہ این کوروائی گروپ آف کمپنیز ۔ پروفیسر ڈاکٹر نصرت ادریس ،ڈین آرٹس فیکلٹی جامعہ کراچی۔ ڈاکٹر سہیل شفیق ، چیئرمین شعبہ اسلامی تاریخ جامعہ کراچی ۔ڈاکٹر سکینہ ریاض، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سوشل ورک۔ڈاکٹر ثمینہ ، لیکچرار نعمان شیخ طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد۔

سعودی جامعات میں پاکستانی طلبہ وطالبات کیلئے وسیع مواقع

شرکاء:(بذریعہ ویڈیو لنک) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے پاکستانی سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) بلال اکبر ۔ مشیر تعلیم نادر عالم ۔ جدہ سے قونصل جنرل خالد مجید ۔پاکستان جرنلسٹ فورم کے چیئرمین امیر محمد خان۔ سعودی عالمی نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رویشد الصحفی کا خصوصی ویڈیو پیغام کراچی سے شرکاء: وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرسروش حشمت لودھی۔ وائس چانسلر اور صدر محمد علی جناح یونیورسٹی ڈاکٹر زبیر احمد شیخ ( بذریعہ وڈیو لنک )۔اساتذہ اور طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد کی شرکت بمقام:کانفرنس ہال این ای ڈی یونیورسٹی کراچی

’’ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘مگر عوام خوف زدہ کیوں؟

شرکاء:انسپکٹر ضیاء اللہ، انچارج پولیس ٹریننگ اسکول گارڈن۔انسپکٹر لبنیٰ ٹوانہ،انچارج وومن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن کراچی۔سب انسپکٹر شبانہ جیلانی۔انسپکٹر غزالہ پروین۔انسپکٹرشجاعت حسین ۔ انسپکٹر سرور۔انسپکٹر فصیح اللہ ۔انسپکٹر خالد مصطفی ۔محمد علی جناح یونیورسٹی شعبہ نفسیات کی لیکچرار مریم فردوس طلباء وطالبات کی کثیر تعداد