نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ہم نے جمہوری راستہ اختیارکیا،عامرخان
  • بریکنگ :- آنسوگیس کی شیلنگ سے کارکن جاں بحق ہوا،عامرخان
  • بریکنگ :- مقامی حکومتوں کومضبوط کرنےکےبجائےاختیارات کوسلب کیاجارہا ہے،عامرخان
  • بریکنگ :- تمام جماعتوں نےمتفقہ طورپربلدیاتی ترمیمی ایکٹ کومستردکیا،عامرخان
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی تنہا کیسے فیصلہ کرسکتی ہے،رہنما ایم کیوایم عامرخان
  • بریکنگ :- پولیس نےجوکچھ کیا مقبوضہ کشمیرکامنظرلگ رہا تھا،عامرخان
  • بریکنگ :- پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا،رہنما ایم کیوایم عامرخان
Coronavirus Updates

جنوبی پنجاب میں ذخیرہ اندوزوں نے کھاد کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا، کاشتکار خوار

تجارت

ملتان: (دنیا نیوز) جنوبی پنجاب میں ذخیرہ اندوزوں نے کھاد کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے کھاد نایاب ہونے پر کاشتکاروں کی اکثریت کنٹرول ریٹ پر کھاد کی تلاش کے حوالے سے خوار ہو رہی ہے۔

حکومت نے رواں سال پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف ایک کروڑ ستر لاکھ ایکڑ رقبہ مقرر کیا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں ذخیرہ اندوزوں نے کھادوں کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا ہے جس سے عام مارکیٹ میں ڈی اے پی کھاد کی فی بوری قیمت پچانوے سو روپے ، یوریا کی پچیس سو روپے جبکہ نائٹرو کھاد کی اکسٹھ سو روپے تک پہنچ چکی ہے جس کا کاشتکاروں نے حکومت سے نوٹس لے کر کھاد کی کنٹرول ریٹ پر دستیابی کیساتھ گندم کی امدادی قیمت بھی چوبیس سو روپے من کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

صوبائی وزیر زراعت کا موقف ہے کہ حکومت کو درآمد شدہ کھادوں کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار نہیں تاہم کھاد کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائیاں کر رہے ہیں ۔

ذخیرہ اندوزوں کیخلاف محکمہ زراعت کی کارروائیاں صرف زبانی جمع خرچ ہیں جس کی وجہ سے کاشتکاروں کیلئے گندم کی کاشت بھی مسئلہ بن گئی ہے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں